زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے

زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے

تو محبت سے کوئی چال تو چل
ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے

دل دھڑکتا نہیں ٹپکتا ہے
کل جو خواہش تھی آبلہ ہے مجھے

ہم سفر چاہیئے ہجوم نہیں
اک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے

کوہ کن ہو کہ قیس ہو کہ فرازؔ
سب میں اک شخص ہی ملا ہے مجھے

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں