سائبر حملوں کی نئی لہر…..تمام ممالک تشویش میں‌مبتلا

امریکی اور برطانوی میڈیا کے مطابق حکام نے جمعے کے روز ہونے والے سائبر حملوں کی نئی لہر سے خبردار کیا ہے جس نے بیک وقت دنیا کے متعدد ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہوا ہے مذکورہ حکام نے ان حملوں کا شکار بننے والے افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ ہیکروں کو تاوان کے طور پر رقم کی ادائیگی نہ کریں –

انفارمیشن سکیورٹی کی برطانوی ایجنسی کے مطابق ” ان سلسلہ وار سائبر حملوں میں درجنوں ممالک کے ہزاروں اداروں اور افراد کو نشانہ بنایا گیا ” ایجنسی نے ہدایت کی ہے کہ انفارمیشن سکیورٹی اور اینٹی وائرس سافٹ ویئر پروگراموں کو اپ ڈیٹ کیا جائے –

عالمی سطح پر سائبر حملوں کی اس لہر نے انفارمیشن سکیورٹی کے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جن کے نزدیک ہیکروں نے ممکنہ طور پر وِنڈوز نظام میں موجود کسی سکیورٹی خَلا سے فائدہ اٹھایا ہے – ہیکروں کے ایک گروپ نے کچھ عرصہ قبل امریکی قومی سلامتی کے ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی سے ہیکنگ ٹُولز چُرا کر اسے منظر عام پر لانے کا دعوی کیا تھا-

انفیکشن ورم نامی پروگرام متاثرہ افراد کی کمپیوٹر فائلوں کو بند کرنے کے بعد انہیں بِٹ کوئین کی صورت میں مالی تاوان کی ادائیگی پر مجبور کر دیتا ہے تا کہ یہ فائلیں دوبارہ سے کھل سکیں –

جمعے کی شام سائبر سکیورٹی فَرم ایواسٹ کے ذمے دار جیکب کروسٹیک نے بلاگ پر بتایا کہ اب تک 99 ممالک میں 75 ہزار سے زیادہ حملوں کا انکشاف ہو چکا ہے –

سائبر ہیکنگ کی کارروائی جس میں برطانیہ کے درجنوں ہسپتال بھی نشانہ بنے اس میں وانا کرائی نامی رینسم ویئر کو استعمال کیا گیا۔ اس کے ذریعے کمپیوٹر کو لاک کر دیا جاتا ہے اور پھر لاکنگ کوڈ کو ختم کرنے کے لیے کمپیوٹر استعمال کرنے والے شخص سے تاوان کا مطالبہ کیا جاتا ہے-

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں