سائنس، ٹیکنالوجی اور مسلمان….(ڈاکٹر عبدالقدیر خان)

تقریباً بیس برس پہلے اسلام آباد میں ورلڈ مسلم کانفرنس نے ایک کانفرنس منعقد کی تھی۔ اس کے روح رواں ہمارے سینیٹر راجہ ظفرالحق صاحب تھے۔ آپ ورلڈ مسلم کانفرنس کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ اس کانفرنس میں کئی اسلامی ممالک کے ماہرین تعلیم نے حصّہ لیا تھا اور سب نے سر جوڑ کر ایک ایسا لائحہ عمل بنانا چاہا جس پر عمل کرکے مسلمان ترقی کرکے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوسکیں۔ میٹنگز ہوئیں اور تمام انجینئروں اور سائنسدانوں نے ایک پروگرام طے کیا جس پر عمل کرکے مسلمان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوسکتے تھے۔ بدقسمتی سے اسلامی ممالک کے حکمرانوں نے اس اہم کام کو نظرانداز کردیا اور ہم وہیں کے وہیں ہیں۔ صرف ترکی، ایران، پاکستان، ملیشیا اور انڈونیشیا نے چند اچھے اقدام کئے ہیں اور چند سمتوں میں ترقی کی ہے، پاکستان نے ایٹمی میدان میں اچھی ترقی کرکے دوسرے اسلامی ممالک کی نگاہوں میں خاصی عزّت حاصل کرلی ہے۔
ایک سائنسدان اور انجینئر کی حیثیت سے میرا یہ خواب رہا ہے کہ تمام اسلامی ممالک میں استحصال سے پاک نظام مملکت ہو۔ یعنی ایک ایسا نظام جس میں رنگ، نسل،مذہب کی بنیاد پر کسی کو فائدہ یا نقصان نہ پہنچایا جائے۔ جہاں مذہبی نفاق نہ ہو، جہاں دولت اور غربت کی بنیاد پر لوگوں سے امتیازی سلوک نہ ہو۔ میری خوش قسمتی ہے کہ میرے اپنے شہر بھوپال میں بالکل ایسا ہی ماحول تھا۔ اور پاکستان بھی شروع کے چند برسوں تک اس لعنت سے پاک تھا۔ موجودہ حالات میں اس قسم کے ماحول کی اُمید کرنا ایک خواب ہی ہے۔میرا اپنا تجربہ ہے کہ:
(1)اگر ہم خود کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنا ہوگی کیونکہ یہ دو چیزیں کسی بھی ملک کی ترقی اور عزّت کا ذریعہ ہیں۔
(2)اگر ہمیں طاقتور ممالک کے جارحانہ اقدام سے خود کومحفوظ رکھنا ہے تو یہ ضروری ہے کہ ہم اعلیٰ و جدید دفاعی ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کریں۔ خدا کا شکر ہے میرے ساتھیوں اور میں نے پاکستان کو یہ صلاحیت دیدی ہے اور اب ہمارے دشمن ماضی کی طرح ہمارے خلاف جارحانہ اقدام کی جرأت نہیں کرسکتے۔
(3)اگر ہم مسلمانوں اور اسلامی ممالک کو بھوک ، بیماری، وبا، قدرتی آفات، جنگ و جدل، جارحیت ، فاقہ کشی سے نجات حاصل کرنی ہے تو واحد حل سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی ہے جو ہمیں اس پسماندگی سے نکال سکتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ سائنس کی ترقی انسانی فطرتِ جستجو کی مرہونِ منت ہے کہ وہ کھوج میں لگا رہتا ہے کہ نئی نئی ایجادات کرے اور دنیا میں ہونیوالے واقعات پر غور و خوص کرے۔ اگرچہ یہ جدوجہد اور کوشش انسانی فطرت کا حصّہ ہے لیکن ہم مسلمانوں پر اسلام کی تعلیمات کی وجہ سے اس میں پیش رفت کرنا، سوچنا، اور قدرتی رازوں کو سمجھنے کی کوشش کرنا ضروری ہے۔ کلام مجید میں انفرادی اور اجتماعی کوششوں پر بہت زور دیا گیا ہے کہ جانو، تحقیق کرو اور سوچو۔ اس میں سمجھدار لوگوں کو اہمیت دی گئی ہے ، جس میں سا ئنٹسٹ اور انجینئرز شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیم کی ریسرچ پر توجہ دینا مسلمانوں کی ترقی کا راز تھا۔ انھوں نے لاتعداد اعلیٰ ایجادات و ترقیاں کیں جبکہ اس وقت یورپ میں سائنس و ٹیکنالوجی کو ایک حرام چیز یا ممنوع چیز سمجھا جاتا تھا۔ مسلمانوں کی سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کی مکمل دستاویزات موجود ہیں۔ انھوں نے دیکھنے، جانچنے اور سمجھنے اور عملی طور پر تجربے کرنے کی ٹیکنالوجی میں بھی مہارت حاصل کرکے علم کو پھیلایا۔اُس زمانے میں ہم کیا تھے اور کتنے اعلیٰ کام، ایجادات، علاج، سرجری وغیرہ کئے تھے اور اب ہماری حالت دیکھئے کہ نہایت پسماندہ قوم بن گئے ہیں۔ کراچی کو دیکھئے غلاظت کے ڈھیر لگ گئے ہیں۔ اب ہمارے یہاں نہ ہی اعلیٰ تعلیمی ادارے ہیں نہ ہی ہم اعلیٰ ریسرچ کررہے ہیں اور نہ ہی ہمارا شمار درمیانی ترقی یافتہ ممالک یا افراد میں ہوتا ہے۔ اگر میرے رفقائے کار اور میں ملک کو ایٹمی قوّت نہیں بناتے تو ہمارا شمار نیپال، سری لنکا اور بھوٹان جیسے ممالک میں ہوتا۔یہ جان کر اور دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ مسلمان تقریباً دنیا کی 20فیصد آبادی کے برابر ہیں اور یہ امریکہ، یورپ اور جاپان سے زیادہ ہیں لیکن سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہماراکوئی حصّہ نہیں۔ تمام مسلمان سائنس دانوں اور انجینئروں کی تعداد بمشکل 50ہزار ہوگی جبکہ مغربی دنیا میں تقریباً ایک کروڑ اعلیٰ سائنسدان اور انجینئرز کام کررہے ہیں۔ صرف اسرائیل میں تقریباً 40 ہزار سائنسدان اور انجینئرز کام کررہے ہیں اور یہ اس ملک کی ترقی و قوّت کی ضمانت ہیں۔ آجکل تقریباً 95 فیصد سائنسداں اور انجینئرز ترقی یافتہ ممالک میں ترقیاتی پروجیکٹس پر کام کررہے ہیں، جاپان میں ان کی تعداد 5 لاکھ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ہر 10لاکھ افراد پر 3ہزار سائنٹسٹ اور انجینئرز کام کررہے ہیں۔ مسلمان ممالک میں یہ تعداد 100فی دس لاکھ ہے۔ یہ ہماری کتنی بدقسمتی ہے کہ اسلامی ممالک میں ایک ہزار افراد پر صرف ایک سائنسدان یا انجینئر ہے اسکے مقابلہ میں روس میں100، مغربی ممالک میں 50اور دنیا میں اوسطاً 4فی ہزار ہیں۔ اسی طرح کہ تقریباً ایک لاکھ کتابوں اور تقریباً 20لاکھ مقالے جو ہر سال شائع ہوتے ہیں اس کے مقابلے میں اسلامی ممالک میں بمشکل ایک ہزار مقالے اور کتابیں شائع ہوتی ہیں اور یہ بھی زیادہ تر پاکستان، ترکی، ایران، مصر اور سینٹرل ایشیائی ممالک میں ہوتے ہیں۔
مسلمان حکمرانوں کی دلچسپی جو وہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں رکھتے ہیں اس قدر کم ہے کہ اس کا ذکر کرتے شرم آتی ہے۔ اسلامی ممالک میں حکمراں دعوے تو بڑے بڑے کرتے ہیں مگر اس مد میں جو رقم یہ خرچ کرتے ہیں وہ کُل آمدنی کا بمشکل ایک فیصد ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ تقریباً 7 فیصد ہے۔ یہ اس کے باوجود ہےکہ کئی اسلامی ممالک میں قدرتی وسائل (قدرتی گیس، تیل، معدنیات) کی کثیر مقدار موجود ہے۔ اس نہایت تکلیف دہ حالت کے باجود جو اسلامی ممالک میں جاری ہے کہیں کہیں روشنی کی کرنیں نظر آرہی ہیں مثلاً پاکستان، ترکی، ملیشیا، مصر، انڈونیشیا، ایران اور سینٹرل ایشیا کے ممالک میں تبدیلی نظر آنے لگی ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ قدرت نے ہمیں وسیع وسائل دیئے ہیں۔ قدرتی وسائل کے علاوہ ہمارے ممالک میں اللہ تعالیٰ نے بڑی آبادی (کام کرنیوالے)، اور اعلیٰ ذہین دماغ بھی بڑی تعداد میں عطا فرمائے ہیں مگر بدقسمتی سے ہمارے اہل اقتدار نے کبھی نہ ہی وسائل کا ٹھیک سے استعمال کیا اور نہ ہی قابل، ذہین، تجربہ کار لوگوں کی صلاحیتوں کا قطعی استعمال کیا بلکہ نااہل لوگوں کو اپنے ساتھ لگا لیا جو نہ صرف نااہل بلکہ کاہل بھی ہیں۔اگر ٹھیک، قابل، تجربہ کار لوگوں کو ذمّہ داریاں دی جاتیں تو کئی اسلامی ممالک آج ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہوتے۔تمام اسلامی ممالک کی اتنی بڑی آبادی اور تقریباً 12.30ملین مربع میل کا رقبہ، تقریباً 29فیصد دنیا کا حصّہ ہوتے ہوئے بھی ہم (اکثریت) پسماندہ ہیں۔
مغربی ممالک تقریباً 40فیصد خام میٹریل اسلامی ممالک سے حاصل کرتے ہیں، تقریباً 60فیصد خام تیل جو کہ تقریباً 70 فیصد تیل کی تجارت، 40فیصد قدرتی گیس، 80فیصد قدرتی ربر اور 75فیصد جوٹ اسلامی ممالک میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ اتنے قیمتی وافر مقدار میں قدرتی وسائل کی موجودگی میں اسلامی ممالک میں سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی کا فقدان ہے۔
اب بھی وقت ہے کہ اسلامی ممالک (مغربی ممالک کی طرح) سر جوڑ کر بیٹھ جائیں اور ترقی کی گاڑی میں سوار ہوجائیں ورنہ یہ گاڑی نکل جائے گی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پسماندہ ممالک رہیں گے جہاں 95فیصد آبادی وسائل سے محروم رہے گی اور 5فیصد خود غرض اہل اقتدار محلوں میں رہیںگے، قیمتی گاڑیاں چلائیں گے اور بزنس کلاس میں دنیا بھر میں سیر و سپاٹا کرتے پھریں گے۔
ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو جلد از جلد جدید سطور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ ہم ہمیشہ اسی پسماندگی کا شکار رہیں گے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں