سرزمین انبیاء علیہ السلام فلسطین کا سفر ، اسجد علی خان کا سفر نامہ پڑھیں ( دوسرا حصہ )

رات کو نیند تو نہ پُوری ہوئی لیکن پھر بھی تین یا چار گھنٹے سونے سے کافی آسانی ہوگئی نو بجے ہماری بس اور گائیڈ بھی آ گے ، آج ہمارا پروگرام فلسطین کے شہر جیریکو (اریحا) ، مقام نبی موسیٰ ع اور اُسکے بعد بحرمردار ( Dead sea) کا وزٹ اور پھر دیگر مقام –

بس یروشلم( بیت المقدس ) شہر حدود سے جب باہر نکلی تو دائیں بائیں پہاڑیوں پہ بستیاں نظر آرہی تھیں ان میں زیادہ تر وہ بستیاں تھیں جو اسرائیل نے فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ کر کے تعمیر کی ہیں ، گائیڈ نے ہمیں بتایا کہ ادھر جتنی بھی پہاڑیاں ہیں اُن کے نام کسی نا کسی نبی ع کیساتھ منسوب ہیں اسرائیل کا طریقہ واردات یہ ہے کہ وہ پہلے پہاڑی پر قبضہ کرتے ہیں اُس کے اطراف جنگلہ لگاتے ہیں اور ساتھ ہی تعمیرات شروع کر دیتے ہیں پُورے کا پُورا خرچہ اسرائیلی حکومت کرتی ہے جب کنسٹرکشن مکمل ہو جاتی ہے تو اسرائیل سے باہر کے یہودیوں کو وہاں لا کر بسا دیا جاتا ہے اور اُس بستی کا نام پہاڑی کے نام سے منسوب کر دیتے ہیں اور ہر ایسی بستی میں فلسطینیوں کا داخلہ ممنوع ہے-

دُور سے دیکھیں تو یہودی بستی کو پہچانا جا سکتا ہے جدید، خوبصورت اور ہر سہولت سے لیس جبکہ ساتھ ہی فلسطینیوں کی بستیاں ہیں جہاں پر اسرائیل میں ہونے کے باوجود شہری سہولتیں نہ ہونے کے برابر اور جگہ جگہ فلسطینیوں کو چیک کرنے کے لیے چیک پوسٹیں – عجیب سیچوئیشن ہے سمجھ سے بالاتر – ہمارا گُزر ایک ایسی روڈ سے بھی ہوا جس کے دونوں اطراف فلسطینی رہتے ہیں لیکن روڈ پر اسرائیلیوں کا قبضہ ہے اور دونوں طرف دیوار بنا کر فلسطینیوں کا روڈ کی طرف آنا ناممکن بنا دیا گیا ہے- تھوڑا اور آگے نکلے تو روڈ کے اطراف میں تھوڑے تھوڑے وقفے کیساتھ کچھ خانہ بدوشوں کے خیمے نظر آئے جن کے آس پاس کچھ لوگ بھیڑ بکریاں چرا رہے تھے تو ہمارا گائیڈ بتانے لگا کہ یہ بھی فلسطینی ہیں یہ لوگ ہمیشہ سے ایسے ہی رہ رہے ہیں – ان کو ان پہاڑیوں میں دیکھ کر نبیوں کی یاد تازہ ہوتی ہے کہ وہ کیسے انہی پہاڑیوں میں بھیڑ بکریاں چراتے تھے –

جب ہم تھوڑا سفر طے کر چُکے تو روڈ گہرائی کی طرف جانی شروع ہوگئی اچانک ہمارے کان بند ہو نے شروع ہوگئے ایسے ہی جیسے جہاز جب لینڈ کرتا ہے تو کانوں پہ اثر پڑتا ہے ، تو گائیڈ نے بتایا کہ یہ اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ یہ دُنیا کا سب سے گہرائی والا علاقہ ہے جو سطح سمندر سے تقریباً ساڑھے چار سو میٹر گہرائی پہ واقع ہے – سائنسدانوں کے مطابق ہزاروں سال پہلے اس علاقے میں زلزلہ آیا تھا جس کی وجہ سے ادھر کی زمین دھنس گئی تھی – جیریکو شہر اسرائیل کی ہی حدود میں واقع ہے لیکن اُسکا مکمل کنٹرول فلسطینی گورنمنٹ کے پاس ہے ، یہ شہر تقریباً دس ہزار سال قبل مسیح سے آباد ہے ، یعنی اب اس شہرکی عمر 12000 سال سے زیادہ ہو چکی ہے، یہی شہر ہے جہاں سب سے پہلے شہر کے گرد ایک دیوار فصیل کی طرح بناکر شہر کی حد بندی کی گئی تھی –

یہ شہر دنیا کا سب سے قدیم آباد شہر شمار ہوتا ہے ، سارے انبیاء علیہ اسلام یہاں سے گُزرے اور رہے بھی ، اسی کے پہاڑوں پہ شیطان نے حضرت عیسیٰ علیہ کو ورغلانے کی کوشش کی تھی لیکن ناکام رہا – چاروں طرف خُشک پہاڑ اور ریگستان ہے لیکن شہر انتہائی سر سبز و شاداب اور کئی قسم کی پھل اور اناج پیدا ہوتا ہیں یہاں کے مالٹے اور کھجور بہت مشہور ہے ، کافی رونق تھی ادھر یہودیوں کو آنے کی اجازت نہیں ہے –

راستے میں ایک جگہ مقام موسیٰ علیہ السلام ہے ، یہاں پر موسیٰ علیہ السلام نے قیام کیا تھا اُس مقام پر بعد میں مسجد بنا دی گئی – ( ہم سب نے وہاں نوافل ادا کئے)

ہماری اگلی منزل بحر مُردار ( Dead sea) تھا ، بحر مردار دُنیا کا سب سے گہرائی والا زمین کا حصہ ہے جو کہ سطح سمندر سے 450 میٹر گہرائی میں ہے اور یہ سمندر اکیلا ہے – اتنی گہرائی میں ہونے کی وجہ سے انٹرنیشنل سمندر کیساتھ نہیں ملتا اس کا پانی عام سمندر سے دس گُنا کھارا ہے اور اگر بندہ پانی کے اُوپر لیٹ جائے تو ڈوبنے نہیں دیتا ، اور یہ تجربہ میں نے خود بھی کیا – حالنکہ مجھے تیرنا بھی نہیں آتا- ہر سال لاکھوں سیاح ادھر نہانے کے لیے آتے ہیں – بحر مردار کا علاقہ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے اُردن سے چھینا تھا پانی کے بلکل دوسری طرف اُردن کے شہر نظر آرہے تھے –

ہمارا اگلہ مقام ، مقام ابراہیم علیہ السلام تھا ، پھر مقام یونس علیہ السلام اور آخر میں ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش کے برتھ پلیس بیت الحم جانا تھا۔ گروپ کے سب لوگ بہت خُوش تھے۔ اس دن تھوڑی ٹھنڈ بھی تھی –

ہماری بس جونہی یروشلم سے باہر نکلی تو ساتھ ہی غیر قانونی یہودی بستیاں اور ساتھ فلسطینی گاؤں بھی نظر آرہے تھے۔
سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے شہر ” الخلیل ” ( ہیبرون ) پہنچے یہاں پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مسجد اور مسجد کے اندر اُنکی اور اُنکے بیوی بچوں کی قبریں ہیں، جو کہ مسجد کے نیچے کافی گہرائی میں ہیں ، لیکن مسجد میں چند نشانیاں لگائی ہوئی ہیں جن پہ سب کے نام لکھے ہوئے ہیں – اس شہر میں بھی یہودیوں کا کنٹرول ہے ، کافی غُربت ہے – مسلمانوں کو اسرائیل کی طرف جانے کی اجازت نہیں ہے دو تین چیک پوسٹیں کراس کر کے شہر میں داخل ہونا پڑتا ہے-

اس مسجد میں جو ممبر ہے وہ سُلطان نُور الدین زنگی نے بھیجا تھا۔ جب سلطان صلاح الدین ایوبی رح نے بیت المقدس فتح کیا تھا تو اُس وقت شام کے حُکمران نُور الدین زنگی رح نے تین ممبر تیار کروائے جن کی لکڑی میں کوئی جوڑ نہیں تھا – کچھ عرصہ پہلے مسجد اقصیٰ میں ایک یہودی نوجوان دہشت گرد نے آگ لگا دی تھی جس کی وجہ سے ادھر کا ممبر کافی جل گیا جو اب مسجد کے میوزیم میں پڑا ہے۔ اُسکی جگہ اُردن کے بادشاہ عبداللہ نے اُسکی کاپی بنوا کر رکھوائی – جو کہ تقریبا تین ملین ڈالر میں تیار ہوا – اُن میں سے ایک مسجد ابراہیم دوسرا مسجد اقصٰی اور تیسرا دمشق کی مسجد جس میں حضرت عیسٰی علیہ السلام نے آنا ہے –

چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تینوں مزاہب کے لیے محترم ہیں اس لیے مُسلمان ، عیسائی اور یہودی سب ادھر آتے ہیں۔ یہ مسجد کبھی چرچ بنا کبھی مسجد جس کی بھی حکومت ہوتی تھی وہ اس کو تبدیل کر دیتا تھا۔ سُلطان صلاح الدین ایوبی رح کی بیت المقدس فتح کرنے کے بعد سے یہ ہمیشہ مسجد رہی ہے اور آج تک ہے۔ 1994 تک یہودی اور مُسلمان اکٹھے ادھر عبادت کر سکتے تھے لیکن 1994 میں ایک یہودی انتہا پسند نے فجر کی نماز کے دوران فائرنگ کر کے اُنتیس مسلمانوں کو شہید کر دیا اور کافی لوگوں زخمی کر دیااُس یہودی کو لوگوں نے اُدھر ہی پکڑ کر مار دیا ،تب سے یہودیوں اور مسلمانوں کی جگہ علیحدہ کر دی گئی۔ اب جس طرف حضرت یعقوب علیہ السلام کی قبر ہے اُدھر تک یہودی آ سکتے ہیں اور مسجد میں مُسلمان-

مسجد میں جانے سے پہلے بھی یہودیوں کی چیک پوسٹ ہے جہاں سے گُزر کر آگے جانا ہوتا ہے- معاہدے کے تحت سال میں دس خاص دنوں میں یہودی اور مُسلمان دونوں طرف جا سکتے ہیں . مسجد تقریبا بھری ہوئی تھی ادھر بھی تُرک باشندے اکثریت میں تھے -الخلیل کی آبادی تقریباً چھ لاکھ ہے اور اُدھر عربوں کی اکثریت ہے ۔ اُنکی حالت کچھ زیادہ اچھی نظر نہیں آ رہی تھی ، بیروزگاری اور غربت- ہم نے مسجد میں نوافل ادا کیئے –

اس کے بعد ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش بیت الحم کی طرف روانہ ہوئے عیسائیوں کے مطابق اس جگہ پہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تھی ، وہاں پہنچے تو کافی رونق تھی ہزاروں کی تعداد میں عیسائی زائرین وزٹ پہ آئے ہوئے تھے – اُدھر بھی چرچ کے بلکل سامنے مسجد عُمر فاروق رضی الله و تعالیٰ عنہ بنی ہوئی ہے – یہاں ہم نے ظہر اور عصر کی نماز ادا کی پھر چرچ کی طرف گئےاُس چرچ کے اندر بھی عیسائیوں کے مختلف فرقوں کے اپنے اپنے چرچ بنے ہوئے تھے ، کافی رش تھا لمبی لائن تھی اس لیے ہم چرچ کی زیادہ وزٹ نہ کر سکے – بیت الحم بھی فلسطینی اتھارٹی کے انڈر ہے-

آج بہت تھک چکے تھے مزید سفر کے پروگرام کو موخر کر کے واپس اپنے ہوٹل جانا بہتر سمجھا اور واپس ہوٹل چل دیئے
—-

جاری ہے

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں