سرزمین انبیاء علیہ السلام فلسطین کا سفر ، اسجد علی خان کا سفر نامہ پڑھیں ( پہلا حصہ )

بچپن سے ارض فلسطین کے متعلق پڑھتے اور سُنتے آ رہے ہیں ، جب بھی گنبد صخرہ نظروں کے سامنے آتا ہے تو دل میں ہمیشہ عجیب سا احساس پیدا ہوتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ مظلوم فلسطینی یاد آنے لگ جاتے ہیں – لیکن یہ کبھی بھی نہ سوچا تھا کہ ایک دن وہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ پاؤں گا۔

تقریباً تین ماہ پہلے اپنے ایک دوست اور اسلامک کلچرل سنٹر ناروے کے سابق نائب امام طیب میاں نے ذکر کیا کہ وہ ایک گروپ کو لے کر فلسطین جانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو تقریباً بیس لوگوں کا ہوگا۔ مجھے بھی پُوچھا اگر پروگرام ہے تو آپ بھی ساتھ چلیں تو میں سوچ میں پڑھ گیا اور اُن سے کہا کہ سوچ کر بتاؤں گا کیونکہ میرا پروگرام پہلے پاکستان جانے کا تھا۔ اس لیے ڈر تھا کہ اگر ابھی ہاں کر دی اور بعد میں گنجائش نہ ہوئی تو مسلہ بن جائے گا –

اُنہی دنوں میں اس حوالے سے اپنے ایک کزن سے ذکر کیا کہ ایک ٹرپ جا رہا ہے فلسطین آپ نے جانا ہے کیا ؟ تو کہنے لگے ٹھیک ہے دو بندوں کا کہہ دو طیب صاحب سے اور ساتھ ہی مجھے پُوچھنے لگے آپ نے بھی جانا ہے؟ تو میں نے کہا ہاں اگر آپ لے جائیں تو😀۔ تو ہنس کر کہنے لگے میں نے تھوڑا لے کر جانا ہے وہ تو طیب صاحب نے لے کر جانا ہے- خیر ان سے نوک جھوک چلتی رہی اور وہ مجھے سپانسر کر کے لے جانے پر تیار ہو گئے –

اللہ اللہ کر کے جانے کا دن قریب آتا گیا اور ہمارا شوق اور تجسس بڑھتا گیا۔ طیب صاحب نے ایک دن میٹنگ رکھی اور سارا پلان سمجھایا اور ساتھ ہی ساتھ اسرائیل میں جو مسائل پیش آ سکتے تھے اُن کا بھی ذکر کیا – جانے سے پہلے کُچھ دوستوں کی آراء تھی کہ اس سفر پہ نہیں جانا چاہئیے کیونکہ اس کا سارا فائدہ اسرائیل کے حق میں جائے گا۔ لیکن دوسری طرف ایک اور آراء تھی پچھلے سال نومبر میں چند علماء کرام طیب صاحب اور مولانا محبوب الرحمان سابق امام اسلامک کلچرل سنٹر ارضِ مقدس تشریف لے کر گئے تو اُنہوں نے یہی سوال مسجد اقصیٰ کے امام صاحب سے کیا تو اُنہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا زیادہ فائدہ اسرائیل کے حق میں جاتا ہے لیکن آپ لوگ یہ بھی یاد رکھیں کہ ادھر جو مُسلمان رہتے ہیں انکو بھی آپ لوگوں کی ضرورت ہے – آپ کے ادھر آنے سے اُنکا حوصلہ بھی بڑھتا ہے اور اُنہیں فائدہ بھی پہنچتا ہے اور اگر مُسلمان ادھر نہیں آئیں گے تو اس کا مطلب وہ مسجد اقصیٰ پر اپنے حق سے دستبردار ہو جائیں گے – لہذا ہم نے دوسری آراء کو اپنایا اور ارض مقدس کی طرف محو سفر ہونے کی تیاری کرنے لگے – ویسے بھی آیک حدیث کے مفہوم کے مطابق مکہ شریف اور مدینہ شریف کے بعد مسجد اقصیٰ ہی ایسا مقام ہی جسے دیکھنے جانے کے لیے آپ نیت کر سکتے ہیں –

اللہ اللہ کر کے بیس اپریل آ گیا اور ہم نے رخت سفر باندھ لیا۔ دن سوا گیارہ بجے اوسلو ائیرپورٹ سے ہماری فلائٹ تھی جو پہلے استنبول جانی تھی اُدھر سے پھر جہاز بدل کر تل ابیب کو جانا تھا۔ ہم تقریباً چار گھنٹے میں استنبول پہنچ گئے وہاں پہ تھوڑا انتظار کیا اور پھر تل ابیب کی فلائٹ کی لائن میں لگ گئے اُدھر ہماری اچھی خاصی تلاشی لی گئی اور پھر ہم جہاز میں سوار ہو گئے۔ استنبول سے تل ابیب تقریباً دو گھنٹے کی فلائٹ ہے۔ تل ابیب ایک جدید اور اسرائیل کا سب سے بڑا ائیرپورٹ ہے جہاں پہ کافی رش تھا۔ اُترتے ہی امیگریشن کی طرف گئے۔

جب میری باری آئی تو میں نے اپنا پاسپورٹ امیگیریشن والے لڑکے کو دیا ویزے کی تو ویسے ضرورت نہیں تھی کیونکہ نارویجن پاسپورٹ پر فری انٹری ہے۔ امیگریشن والے نے تین سوال کر دئیے کیوں آئے ہو ادھر ؟ تو میں نے جواب دیا Holy land کی وزٹ پر آئے ہیں ، پھر پُوچھا والد کا نام کیا ہے ؟ وہ بتایا اور پھر پُوچھنے لگا دادا کا نام ؟ پھر وہ بتایا پھر کہنے لگا آپ کا انٹرویو ہو گا آپ اُدھر سامنے آفس کے پاس انتظار کرو وہاں پہنچا تو آگے ہمارے گروپ کے تین اور لوگ بھی کھڑے تھے بحرحال ہمارا تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ وہاں لگ گیا تب جا کر اینٹری پاس ایشو ہوا۔ اُدھر سے باہر نکلے تو آگے ٹؤر آپریٹر والوں کی ایک یہودی خاتون اور ساتھ ہمارا فلسطینی گائیڈ ہمیں خُوش آمدید کرنے کے لیے کھڑے تھے –

وہ میں ہماری بس تک لے گئے اور ہم تل ابیب ائرپورٹ سے بیت المقدس ( یروشلم ) کی طرف روانہ ہوگئے. تل ابیب سے یروشلم کا سفر تقریباً ایک گھنٹے کی ڈرائیو ہے۔ ہوٹل پہنچے. بہت تھکاوٹ کی وجہ سے جلد ہی نیند آ گئی –

آج جُمعہ مُبارک کا دن تھا رات جب ہوٹل پہنچے تو بہت تھکاوٹ تھی پھر بھی فجر کی نماز کے لیے اُٹھے نماز پڑھ کر سونے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی ، نیند تھی کہ لگتا ہے کہیں بھاگ گئی ہو اس اثنا میں ناشتے کا وقت ہو چلا تو سوچا اب کیا سونا لہذا نہا دھو کر سیدھا ناشتہ روُم میں آ پہنچے جہاں بہت بڑا بوفے لگا ہوا تھا اور دُنیا جہاں کے کئی قسموں کے کھانے سجے ہوئے تھے – کھانے پینے کے معاملے میں مجھ سے ویسے بھی صبر نہیں ہوتا –

جی بھر کر ناشتہ کیا، ناشتے سے فارغ ہوئے تو ہماری بس اور گائیڈ بھی پہنچ گئے۔ جیسا کہ میں نے اوپر بتایا ہے اکہ گائیڈ ایک فلسطینی مُسلمان نوجوان تھا۔ بہت ہی اچھا اور خُوش مزاج ، اُس کے ساتھ بڑی اپنائیت محسوس ہوئی – مُسلمان تو وہ تھا ہی لیکن عیسائیت اور یہودیت بارے بھی کافی علم رکھتا تھا –
ہم سب لوگ بس میں سوار ہوئے۔ اُس نے دن کا پلان بتایا اور ساتھ ساتھ جہاں جانا تھا وہاں کے بارے میں انفارمیشن دی . سب سے پہلے ہم جبل زیتون گئے جو کہ مسجد اقصیٰ سے چند کلومیٹر پہ واقع ہے اُدھر پہنچ کر سب سے پہلے ہم حضرت رابعہ بصری کی قبر مُبارک پہ پہنچے فاتح پڑی۔ وہ جگہ نیچے ایک تہہ خانے میں تھی جو کہ شائد اُس وقت ایک غار ہوتی ہو گی۔

جبل زیتون سے مسجد اقصیٰ کا بہت خوبصورت منظر آنکھوں کے سامنے تھا اور دل کررہا تھا کہ دوڑ لگا کر وہاں پہنچ جاؤں – کوئی گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ جبل زیتون پر رہے۔ اگلی منزل مسجد اقصیٰ تھی اور آج ویسے بھی جُمعہ کا دن تھا تو ہم نے سوچا کہ بہتر ہے جلدی مسجد پہنچیں تاکہ مسجد کے اندر جگہ مل جائے کیونکہ باہر کافی گرمی تھی ، کوئی دس منٹ میں بس نے ہمیں مسجد کے قریب اُتارا جہاں سے تقریباً پانچ سو میٹر چل کر جانا تھا۔

مسجد اقصیٰ کے داخلی دروازوں کی تعداد آٹھ ہے پہلے ایک بیرونی دیوار آتی ہے جہاں پہ بہت بڑے بڑے گیٹ لگے ہوئے ہیں جب ہم اُن میں سے ایک گیٹ سے اندر جانے لگے تو کیا دیکھتے ہیں کہ سامنے چار پانچ اسرائیلی پولیس کے آفیسرز ہتھیاروں سے لیس چاک و چوبند کھڑے تھے اور وہ ہر طرف نظریں گُھما کر دیکھ رہے تھے دیکھ کر عجیب سا منظر لگا- بہر حال ہم سب بیرونی گیٹ سے آندر داخل ہو گئے کوئی رکاوٹ پیش نہ آئی ، اندر داخل ہوتے ہی تنگ سا بازار تھا جس میں فلسطینیوں نے چھوٹی چھوٹی شاپس بنائی ہوئی ہیں گفٹ شاپس ، کینڈی شاپس وغیرہ – جب ہم تین چار سو میٹر اور آگے آئے تو پھر مسجد اقصیٰ کا اندرونی گیٹ آ گیا وہاں بھی اسرائیلی پولیس کے نوجوان کھڑے تھے -جب ہم گیٹ سے اندر داخل ہوئے تو سامنے فلسطینی سکیورٹی کے لوگ بھی کھڑے نظر آئے – ساتھ ہی وضو کی جگہ بنی ہوئی تھی وضو سے فارغ ہوئے تو سامنے گنبد صخرہ کی بارعب عمارت ہمارے سامنے اپنی پُوری آب و تاب کے ساتھ کھڑی مسلمانوں کے ماضی کی یاد دلا رہی تھی۔ ( گنبد صخرہ 692 عیسوی میں خلیفہ خلیفہ عبدل مالک بن مروان نے تعمیر کروایا )چونکہ اُس دن جُمعہ کا دن تھا اس لیے جُمعہ کی نماز کے لیے اُدھر صرف خواتین ہوتی ہیں۔ اس لیے ہم آگے مسجد قِبلی ( مطلب قبلے کی طرف والی مسجد )جسے ہماری لوگ مسجد اقصیٰ بولتے ہیں۔ ( یاد رکھیں کہ ” چار دیواری کے اندر مسجد قِبلی اور گنبد صخرہ کے علاوہ اور بھی کافی سارے مسجدیں اور مصلے موجود ہیں جہاں پر مختلف صحابہ رض یاپھر اللہ کے ولیوں نے نماز ادا کی وہ نشانی کے طور پر اُن کے نام سے منسوب ہیں۔ اور سب کو ملا کر مسجد اقصیٰ بولتے ہیں۔ ( مسجد قِبلی 705 عیسوی میں مروان بن عبدل مالک کے بیٹے نے تعمیر کروائی ) جس میں بعد میں کافی تبدیلیاں آئیں – ( گنبد صخرہ میں بھی پانچ وقت نماز با جماعت ہوتی ہے ) مسجد قِبلی کے اندر داخل ہوئے تو اُدھر کافی لوگ پہلے سے موجود تھے نماز میں ابھی کافی ٹائم تھااور آہستہ آہستہ مسجد بھرتی گئی نماز سے جب فارغ ہو کر باہر نکلے تو صحن میں ہزاروں لوگ موجود تھے جو جُمعہ کی نماز ادا کرنے آئے تھے – انٹرسٹنگ بات یہ تھی کہ اُن میں اکژیت لوگ تُرکی سے تھے بڑے بڑے گروپوں کی شکل میں انتہائی منظم۔ – اُن کے علاوہ ہماری طرح یورپ اور امریکہ سے آئے ہوئے کا فی پاکستانیوں سے بھی ملاقات ہوئی اور ساتھ ساتھ ایک بڑی تعداد انڈین ، ملائی ، انڈونیشین کی بھی تھی-

نماز جُمعہ سے فارغ ہو کر گنبد صخرہ کا اندرونی حصہ دیکھنے کے لیے گئے، سُبحان اللہ کیا خوبصورتی سے ایک ایک انچ پہ کشیدہ کاری تھی کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے۔ مر و خواتین کی کافی تعداد موجود تھی اُدھر۔ بلکل درمیان میں ایک بہت بڑی چٹان موجود ہے جس کا نچلا حصہ خالی ہے اور وہاں بھی نماز کے لیے جگہ بنی ہوئی ہے۔ اکثر لوگ چٹان کے نیچے نفل ادا کرتے ہیں۔ اور اسی چٹان کا آہل یہود دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اُنکی ہے۔ اُن کی تاریخ کے مطابق اسی چٹان کے اُوپر حضرت ابراہیم ع نے حضرت اسحاق ع کو اللہ کے حضور قُربانی کے لیے پیش کیا تھا۔ ( لیکن قُرآن میں تو اللہ پاک نے حضرت اسماعیل ع کے بارے میں فرمایا ہےاور وہی حق ہے ) اہل یہود گنبد کو گرا کر اپنی عبادت گاہ بنانا چاہتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جب اا جگہ ہماری عبادت گاہ بن جائے گی تو ہم اُدھر منہ کر کے سجدہ کریں گے ( اسوقت وہ سجدہ نہیں کرتے ) انشاءاللہ وہ وقت آئے گا بھی نہیں – یہودی یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ جب تک ہمارا قبضہ ادھر نہیں ہو جاتا اور ہیکل سلمانی نہیں بن جاتا تب تک اُن کو دُنیا کی حُکمرانی نہیں ملے گی اور ( تابوت سکینہ ” حضرت موسیٰ ع کے تبرکات ) بھی مسجد اقصیٰ کے آس پاس ہی دفن ہیں –

گنبد صخرہ کے بلکل ساتھ مقام معراج کی نشاندہی کی گئی ہےاور اُس کیساتھ ہی ایک مصلہ موجود ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس جگہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیاء علیہ السلام کی امامت فرمائی تھی – لوگ اُس مصلے پہ نفل ادا کر رہے تھے ، ہم نے بھی وہاں نفل پڑھے – مقام معراج کے بلکل ساتھ ہی ایک کمرہ بنا ہوا جس کے بارے کہا جاتا ہے کہ سُلطان صلا الدین ایوبی رحمتہ الله علیہ نے جب بیت المقدس فتح کیا تو وہ ادھر بیٹھ کر مراقبہ کرتے تھے –

ہماری اگلی منزل وہ چرچ تھا جہاں پہ عیسائیوں مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کو مصلوب کیا گیا تھا ، یہ چرچ تقریباً سترہ سو سال پہلے تعمیر ہو ا تھا اس چرچ کے اندر عیسائیوں کے پانچ مختلف فرقوں کے اپنے اپنے چرچ ہیں – ہم گائیڈ سے پُوچھا کہ ایک چرچ کے اندر پانچ چرچ کیوں؟

تو وہ بتانے لگا کہ ان کے بڑے بھی آپس میں متفق نہیں ہو رہے تھے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کو مصلوب کرنے پر ، کوئی کہتا تھا کہ آخری وقت جب حضرت عیسٰی کو صلیب پہنائی گئی تھی وہ یہاں تھے اور دوسرا کہتا تھا یہاں نہیں وہاں تھے۔ تو آپس میں متفق نہ ہونے کی وجہ سے اپنا اپنا چرچ بنا لیا –

اسی چرچ میں ایک پتھر کا تختہ ہے عیسائیوں کے بقول جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوئی تو اُنہیں اس پتھر پر لٹا کر غسل دیا گیا اور آگے ایک جگہ کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں عیسیٰ علیہ السلام کو دفن کرنے کے لیے رکھا گیا اور اللہ نے اُنہیں آسمانوں پہ اُٹھا لیا ایسے تقریباً چودہ مختلف پوائنٹ ہیں اس چرچ کے اندر-

اس چرچ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ وہی چرچ ہے جب حضرت عُمر رضی الله و تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں مسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا تو اسی چرچ کا پادری اُس وقت بیت المقدس کا حُکمران تھا ، جب حضرت عُمر رضی الله و تعالیٰ عنہ بیت المقدس شہر کی چابیاں اُس پادری سے لینے کے لیے آئے تو اُس پادری نے خلیفہ وقت کو دُور سے ہی پہچان لیا کیونکہ اُس وقت حضرت عُمر رضی الله و تعالیٰ عنہ پیدل چل رہے تھے اور غلام اُونٹ پہ سوار تھا –

جب آپ رضی الله و تعالیٰ عنہ چرچ میں پہنچے تو نماز کا وقت ہو گیا تو پادری نے کہا کہ آپ نماز ادھر چرچ میں ہی ادا کر لی آپ نے جواب دیا کہ نہیں اگر میں نے ادھر نماز پڑھی تو مُسلمان اپنی ملکیت نہ سمجھ ( مطلب ادھر مسجد بنا ڈالیں گے) تو آپ نے چرچ کے سامنے ایک پہاڑی پر نماز ادا کی جہاں پہ بعد میں ایک مسجد بنا دی گئی جس کانام مسجد عمر فاروق رضی الله و تعالیٰ عنہ رکھ دیا گیا ، وہاں ہم نے نفل ادا کیے-

آج کا شیڈول مکمل ہو چکا تھا اُس کے بعد ہم ایک فلسطینی کیفے میں لنچ کرنے چلے گئے وہاں پر ایک فلسطینی نوجوان کام کر رہا تھا اُس سے ہمارے گروپ کے بندے نے سوال کیا کہ تم یورپ یا امریکہ کیوں نہیں چلے جاتے ( مذاق میں ) تو آگے سے اُس نے سوال کیا کہ ” اُدھر اقصیٰ ملے گی ؟ ” تو ہمارے بندے نے جواب دیا کہ نہیں! پھر وہ کہنے لگا ادھر جیوں گا اور ادھر ہی مروں گا لیکن اپنی سر زمین کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گا – ہمیں اُس کی بات اچھی لگی !!!!
کافی تھک چکے تھے اور اب ہوٹل کی طرف واپسی تھی ——

جاری ہے —————

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں