سلسلہ وار ناول سچے موتی…….قسط نمبر ایک (۱)

باب : حورعین کی کہانی
لکھاری : تحریم ارشد (کویت)

کویت میں دسمبر کی پہلی بارش کے بعد صبح کا سورج آسمان پر طلوع ہو رہا تھا ۔ سورج کی کرنیں بادلوں پر چھا رہیں تھیں ۔ ایسے لگتا تھا جیسے بادلوں پر زری گوٹے کے نقش بیکھیرے گئے ہوں۔ پرندوں کی چہچہاٹ نے صبح کے منظر کو اور بھی دلکش بنا دیا تھا۔
سالمیہ کے (کویت کا شہر) کسی علاقے میں ایک عمارت کی کھڑکی سے سورج کی روشنی گلابی پردوں کو چیڑتے ہوئے کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔ کمرے میں پلنگ پر معصوم سے مکھن چمکدار چہرے والی لڑکی گلابی لحاف میں لپٹی سکون سے سو رہی تھی ۔بھوری بھوری لمبی سیلکی زلفیں،بادامی آنکھیں اور کمان سی پلکیں، اٹھی ہوئی لمبی مغروری ناک اور گلابی ہونٹ گویا جیسے جنت سے حور اتاری گئی ہو۔
” ستاروں جیسی آنکھیں تیری
یہ چاند سا چہرہ
تمہارا سلسلہ کچھ آسماں سے ملتا ہے”
پلنگ پر ارد گرد بہت سے سوفٹیز کھلونے پڑے ہوئے تھے۔ کمرے کی دیواروں کا رنگ جامنی اور گلابی تھا۔ کمرے کی آرائش کا سب ہی سامان جامنی اور گلابی رنگ کا ہی تھا۔سنگار میز پر دوسری اشیاہ کے ساتھ جامنی شیشے کی بوتل کا چراغ تھا۔ جس کے اندر دیے جیسی چھوٹی سی موم بتی جلائی جاتی تھی۔ سنگار میز کے ساتھ دیوار پر پیرس کے ایفل ٹاور کا چمکیلا جامنی اور گلابی رنگ کا بڑا سا اسٹیکر لگا ہوا تھا۔ اُسی دیوار پر جامنی وینڈ چائم ہوا سے ہل رہا تھا ۔ اُسکے حلنے سے جو آواز پیدا ہوتی تھی ۔ ایسے لگتا تھا جیسےکوئی چشمہ بہہ رہا ہو ۔ پلنگ کے سایڈ ٹیبل پر ایک تصویر اسی بھورے بالوں والی لڑکی کی رکھی ہوئی تھی۔ کمرےکی چھت پر چھوٹے چھوٹے ڈائمنڈ اسٹیکرز لگے تھے۔ رات کو وہ اس طرح چمکتے تھے جیسے سارے آسمان کے ستارے اِسی چھت پر روشن کر دیے گئے ہوں ۔ وہ کمرہ کسی پرستان سے کم نہ تھا۔ کمرے کا منظر جتنا پریوں نگری جیسا تھا ۔ اس کے باہر کا اتنا ہی اس کے مخالف گویا کوئی جنستان ہو جیسے۔ کمرے سے باہر نکلتے ہوئے زرد بتیوں میں لمبی سی گلی شروع ہو رہی تھی۔ اس کے ساتھ تھوڑے اور فاصلے پر دو اور کمرے تھے۔ گلی میں بہت سے پھول پودے گملوں میں سجائے قطار میں رکھے گئے تھے۔ اس سے آگے زرد بتیوں سے جگمگاتا ہوا لاونج شروع ہو رہا تھا۔ لاونج کی آرائش کا سامان عام لاونج کے سامان کی ہی طرح تھا۔ زمین پر بڑی بڑی کریم رنگ کی ٹائلیں لگی ہوئیں تھیں ۔ لاونج کے آخری ِحصے میں بڑی سی بالکونی تھی ۔ جہاں سے سالمیہ کا سمندر نظر آتا تھا۔ بالکونی کے قریب ہی کونے میں بڑا سا ڈائینگ ٹیبل تھا۔ ڈائینگ ٹیبل پر ایک دبلا پتلا سا زرد رنگت کا لڑکا جسکی موٹی موٹی آنکھیں اور گنگھرالے بھورے بال تھے۔ دکھنے میں کوئی سولہ سترہ سال کا لگتا تھا ۔ وہ بار بار اپنے برابر میں بیٹھی ناشتہ کرتی لڑکی کو چڑائے جا رہا تھا۔ “اوے موٹو۔” “موٹو موٹو۔” جس کے بھورے بال شانوں تک آتے تھے ۔ رنگت گندمی اور نین نقش کمرے میں سوئی لڑکی سے مشہبت رکھتے تھے۔”بس کرو موٹو مت کھاو پھٹ جاؤ گی۔”وہ لڑکی غصے سے اس لڑکے کو تنبیہ کرتے ہوئے بولی۔ “دیکھوں پےٹو میں تمھیں واڑن کر رہی ہوں ۔ اب نہیں سنوں گی باز آ جاؤ !”مگر وہ لڑکا اس لڑکی کی باتوں کو انسُنا کرتے ہاتھوں کے اشارے سےاور چہرے پر الٹی سیدھی شکلیں بناتے۔ موٹی موٹی بولتے جا رہا تھا۔ “نے نے نے نے نا موٹو۔” وہ مٹھیاں بینچے اپنے غصے کو پچھلے دس منٹوں سے ضبط کرتے وہاں بیٹھی تھی ۔ مگر اب اس کے صبر کا پیمانہ لبریز تھا۔ آخر وہ بھی انسان تھی ۔ اور سب سے بڑی بات ایک لڑکی تھی اور ایک لڑکی کو موٹی بولنا کسی گناہ کرنے کے ہی مترادف تھا۔ آخر اس لڑکی کا صبر اب جواب دے ہی گیا اور اس نے استہزیہ مسکراہٹ کے ساتھ ڈائینگ ٹیبل کے نیچے مکا بنا لیا اور اس لڑکے کے قریب ہو کر چہرے پر ہاتھ رکھا۔
“اوئے سنو !” وہ دھیمے سے بولی تھی ۔جیسے کوئی راز کی بات بتانے لگی ہو۔ اس لڑکے نے بڑی دلچسپی سے سب کچھ بھول بھلا کر کان آگے کیا۔ “ہیں سناؤ ؟” اور اس لڑکی سے جتنا زور سے ہو سکا ٹیبل کے نیچے سے اس لڑکے کے پیٹ پر ُمکا دے مارا۔ “آہ ! ” چونکہ وہ اس حملے کے لیے تیار نہیں تھا ۔اس لیے وہ کرسی سے فرش پر گر پڑا۔ اور اس کے ساتھ ٹیبل پر نارنگی کے شربت سے بھرا ہوا گلاس بھی گرا تھا ۔ اور گلاس کے ٹوٹنے کی آواز کچن تک گئی تھی ۔ وہ ٹوسٹ پر مکھن لگاتے ذرا مسکرائی۔”چک چک الے الے دیکھو تو کون مجھے موٹی بلا رہا تھا خود پےٹو پہلوان۔”لاونج میں۔ “امی امی” نام کا شور مچ گیا تھا۔ “امی دیکھیں انعمتہ نے گلاس تور دیا…. امی !” کچن میں چولہے کے پاس ایک عورت جو سر پر ڈوپٹا لیے چمٹے سے روٹی نکال رہی تھی۔ وہ ذرا موٹی، صاف رنگت کی اور اسکی بھوری آنکھیں تھی ۔ وہ غصے سے لاونج کی طرف دیکھتے چلائی۔ “آ رہی ہوں میں ٹھیر جاو نہ ذرا تم دونوں۔” چولہ بند کر کے وہ آٹے سے بھرے ہاتھوں میں ویسے ہی چمٹا لیے بڑے بڑے ڈگ بھرتے لاونج میں چلی آئی ۔”ہاں ہاں توڑ دو بیٹا شاباش توڑ دو یہ پلیٹ بھی توڑ دو یہ ایل سی ڈی بھی توڑ دو ۔ شاباش بیٹا توڑو توڑو۔تم لوگوں کو ایک مینٹ بھی اکیلا نہیں چھوڑ سکتی میں۔ اس قدر میری جان سختی میں لائی ہوئی ہے ۔ اب میں نے تم دونوں کو لڑتے ہوئے دیکھا تو یہی چمٹے سے پیٹو گےاور اگر میں نے اب ایسا نہ کیا تو میرا نام بھی فرحانہ بیگم نہیں ۔ کام نہیں کرتے ورتے تو بڑھایا بھی نہ کرو ہوہ !” فرحانہ کے موٹے ہونے کی وجہ سے اس کا سانس اکثر ُپھول جایا کرتا تھا۔ عارف نے فرش سے ُاٹھتے اس کی طرف معصومیت سے دیکھا۔ “امی دیکھیں نہ انُو کو مارتا ہے ایسے کوئی بھلا ؟ ” اُسے اپنے بیٹے پر رحم آیا تھا ۔ وہ انعمتہ کو خفگی سے دیکھتے بولی۔ “انُو بڑا بھائی ہے تمہارا مارتا ہے کوئی ایسے ؟ کوئی شرم ہوتی ہے۔”
“کوئی حیا ہوتی ہے۔” عارف جھٹ سے بولا تھا ۔اب کی بار عارف کی باری تھی۔ اسکا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔ “اللہُ اکبّر۔”یہ عربوں کا غصے یا شاکڈ کی کیفیت میں کہنے والا عام فقرہ تھا۔ “آج کل کے بچوں کا تو کوئی حال ہی نہیں ۔کیسے زبان چلتی ہے۔ ہم بہن بھائی تو اپنے اماں ابا کے آگے ہوں بھی نہیں کیا کرتے تھے۔ اور یہ جو تم لڑتے رہتے ہو نہ ہم ساتوں بہن بھائی کی کبھی لڑائی بھی نہیں ہوئی تھی۔ پورا محالا کہتا تھا رازیہ کی تو ماشاء اللہ ماشاء اللہ بڑی نیک اور سعادت مند اولاد ہے۔” وہ سانس لینے کے لیے رکی۔ “اور وہ ملکہ حورعین کدر ہے ؟ اُٹھی نہیں ابھی تک,جاؤ انُو اُٹھاوں اُسے ۔ یہ سب سفیان کی غلطی ہے ۔ کہاں کرتی تھی مت بگاڑیں ِانکو آنے دو اُنکو بھی۔”ان کا خاندان کچھ زیادہ بڑا نہیں تھا۔ یہ سفیان افضل کا گھر تھا ۔ جو ان دنوں کچھ روز کے لیے کسی ضروری کام کے سلسلے سے پاکستان گئے ہوئے تھے۔ ان کی دو بیٹیاں تھیں ۔حورعین،انعمتہ اور اکلوتا بیٹا عارف۔ یہ پاکستانی خاندان کویت میں رہائش پزیر تھا۔کویت عراق اور سعودی عرب کے درمیان خلیج فارس پر مشرق وسطی میں واقع ایک چھوٹا سا صحرائی عربی ملک ہے۔انعمتہ ناشتہ کر کے نیپکین سے اپنا منہ تھپتھپاتے اٹھ کر راہداری میں چلی آئی۔ وہ پرستان کا دروازہ کھول کر اندر آئی ۔وہ پردوں کو ہٹاتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ “صباح الخیر(صبح با خیر) اٹھ جائیں ملکہ حورعین صبح ہو چُکی ہے۔” سنہرے موتی تیزی سے پھوٹ پھوٹ کر پرستان میں داخل ہونے لگے ۔ پلنگ پر سوئی ہوئی لڑکی کا چہرہ روشنی سے چمکنے لگا۔ اس کی نیند اُکھڑنے لگی اس نےاپنے چہرے پر بازو رکھا۔ وہ غنودگی میں تھی۔ “موٹو پلیز ابھی جاؤ مجھے تھوڑی دیر اور سونے دو اور یہ پردہ بھی آگے کردو یار۔ “انعمتہ چہرے پر شریر مسکراہٹ کے ساتھ اپنے دونوں ہاتھوں کو آپس میں ملتے کچھ سوچنے لگی ۔ کچھ بہت ہی خطرناک ۔ وہ سفیان صاحب کے گھر کا سب سے شریر بچہ تھی ۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے گہری سانس لی۔ “ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی۔ کالج سے تو آج چھٹی ہو ہی گئی ہے ۔اب تو ساڑھے آٹھ ہو رہے ہیں ۔چلو سو جاؤ سو جاؤ ۔” پلنگ پر سکون سے سوتی ہوئی لڑکی کو کسی نے جیسے چالیس میگا واٹ کا جھٹکا دیا تھا ۔ وہ میکانکی انداز میں جھٹ سے اُٹھ بیٹھی اور فوراً سے سائڈ ٹیبل پر پڑی ہوئی گھڑی پکڑ کے دیکھنے لگی .. مگر گھڑی تو چھ پندرہ بجا رہی تھی ۔ اُس بنفشی آنکھوں والی لڑکی کے دھوپ پڑتے ہوئے چہرے میں اسکی آنکھیں بلّیوں جیسی لگتیں تھیں ۔ اس کی آنکھوں کا رنگ بنفشی بھورا سا تھا۔ کمال کی کشش تھی ان آنکھوں میں ۔ وہ بّلی جیسی آنکھیں کبھی گھڑی کو دیکھتیں اور کبھی سامنے کھڑی انعمتہ کو ۔ اس نے غصے سے دانت نیچلے لب میں دبائے ، بستر پر سے تکیہ اُٹھا کر اسکی طرف پھینکا۔
“یہ لو مجھے ُالو بناو گی۔”اسنے سامنے سے آتے ہوئے تکیے کو بڑےآرام سے پکڑا۔
“لو بنانے کی کیا بات ہے ؟ وہ تو تم ہو حور۔” وہ باقی پڑے ہوئے تکیے بھی اُٹھا کر اسکی طرف پھینکنے لگی۔
“امی امی اس موٹی کو دیکھیں امی !”وہ غصے سے شور مچا رہی تھی۔
لاونج میں فرحانہ ناشتہ کرتے شور سن کر ُرکی۔ “لو اٹھ گئی حور۔” وہ اور عارف فوراً سے کمرے کی طرف لپکے۔ فرحانہ کمرے میں اندر آتے یہاں وہاں دیکھنے لگی۔ یہ وہ کمرا نہیں تھا ۔جو پرستان جیسا لگتا تھا ۔ چیزیں زمین پر یہاں وہاں ِبکھری پڑیں تھیں ۔ وہ ان دونوں کو ناراضی سے دیکھ رہی تھی۔ “لو ہو گئی شروع دونوں ۔ کبھی سلوک سے دو منٹ بیٹھ جایا کرو ۔ دو ہی تو بہنیں ہو بس۔”
(تو کیا کرکٹ ٹیم ہونی چائیے تھی؟)
انعمتہ دل میں بولی تھی۔
“ہم پانچ بہنیں ہوتی تھیں۔ میں سب سے اتنا پیار کرتی تھی اتنا پیار
اتنا پیار اتنا پیار…” اور حورعین نے بڑے موڈ سے اُس کا جملہ مُکمل کیا۔ “کے آپکو شوگر ہو گئی ہے نہ فرحانہ بیگم ؟ ” فرحانہ کے بچے اس کے ایسے فقروں کو اس لیے مکمل کیا کرتے تھے کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو وہ اینفینیٹی کی طرح کہے جاتی اور رکنے کا نام ہی نہ لیا کرتی ۔ فرحانہ کا پارا ساتویں آسمان کو جا لگا تھا ۔ اُسے صبح صبح حورعین سے اِس بات کی توقع نہیں تھی ۔ اس نے اپنے ہاتھ سے تھپڑ کا اشارہ کیا۔”ابھی ایک پڑ جائے گا نہ تو سارا بی پی شوگر سیٹ ہو جائے گا۔”وہ بڑی بےنیازی سے ساری گفگتو کو انسُنا کرتے پلنگ پر واپس جا بیٹھی ۔ وہ سیل فون پکڑے فیس بک پہ اپنی پروفائیل دیکھ رہی تھی ۔موبائیل کی اسکرین چمک رہی تھی۔ اُدھر ایک سیپ میں پڑے سفید موتی کی تصویر لگی ہوئی تھی۔ جس کے ساتھ پریشیس پرل (Precious Pearl) لکھا ہوا تھا ۔ یہ اس کے فیس بک اکاؤنٹ کا نام تھا ۔فرحانہ حورعین کو شک کی نگاہوں سے گُھورتے ہوئے اس کے سَر پر آ کھڑی ہوئی۔ ” صبح صبح پکڑ لیا اس کو ۔ آگ لگا دونگیں تمھارے موبائیل میں ۔ پورا دن اس کو چپکی رہتی ہو ۔ اب کیا دیکھ رہی ہو ؟”عارف ذرا مسکرایا۔ “اُفوہ ! امی یار ایسے نہیں دوسرے سٹایل میں کہیں۔” فرحانہ ہنس پڑی۔ “جی حور بی بی کیا آپ اپنے تختِ خاص سے اٹھنا پسند کریں گیں ؟ “وہ منہ بسورتے سستی سے پلنگ پر سے ُاٹھنے لگی ۔”اچھا امی۔ ” فرحانہ کمرے سے جاتے جاتے رکی ُاسے کچھ یاد آیا تھا۔ ” اوو ہاں ! عابدہ باجی آج شام کو آ رہیں ہیں۔ وہ حمزہ آ گیا ہے نہ۔ ”
اس کا چہرہ اس کی بات سن کر سرخ پڑنے لگا تھا ۔اسے لگا تھا کہ وہ سانس نہیں لے پائے گی۔ وہ بڑی مشکل سے یہ ہی کہہ پائی۔ ” کون . . کون آ گیا ہے ؟ امی حمزہ آگیا ہے ؟ ” انعمتہ نے اس کے سرخ پڑتے ہوئے چہرے کو دیکھتے عارف کو کوہنی مار کر اسکی طرف دیکھنے کا اشارہ کیا۔ عارف نے اسے دیکھ کر اسے آنکھ ماری۔ “تو امی حمزہ بھائی بھی آرہیں ہیں کیا ؟” وہ محظوظ ہوا تھا۔ “ہاں تو اور۔”اس جملے پر وہ مزید سرخ ہوئی۔
“چلو حورعین تیار ہو جاؤ دیر ہو رہی ہے۔”تب ہی وہ تینوں کمرے سے چلے گئے۔ البتہ وہ اب بھی سُرخ تھی ۔ اس نے فوراً سے کمرے کا دروازہ بند کیا۔ اور دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ لیے ۔وہ شرمانے لگی۔
” فائنلی تم آ گئے حمزہ۔ ”
*************
وہ بالوں کی فرینچ نوٹ بنائے میکسی سے یونیفارم میں ملبوس ناشتہ کر رہی تھی ۔ سامنے چہرے پر کچھ لٹیں پڑتیں تھیں ۔ آنکھوں میں ذرا سا کاجل تھا ‫۔ وہ اپنی بھوری لِٹ کو اُنگلیوں پہ لپیٹتے ہوئے کچھ بےچین لگتی تھی۔
صوفہ پہ انعمتہ عارف
حسبِ عادت ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے۔
“عارف یہ میری جرابیں ہیں ایدھر دو۔” انعمتہ خفگی سے کہتی تھی۔ “یہ میری ہیں۔”عارف جرابیں پہنتے بڑی سادگی سے بولا۔ “انھیں میں لیکر آیا ہوں تو یہ میری ہوئیں تم دوسری لے آو۔”
اس نے غصے سے اٹھ کر پاؤں فرش پر پٹکھا اور اُدھر سے چلی گئی ۔
“چلو چلو بچوں اُٹھ جاو پھر وہ وین والا کہے گا دیر کردی۔”
وہ کرسی کھینچ کر اُٹھی ۔ اُسنے نیلی سویٹر کرسی سے اٹھائی اور پہننے لگی ۔اب اُس نے سفید ڈوپٹا مفرل کی طرح گلے میں لیا۔ وہ بیگ کندھے پر لٹکا کر دروازے کی طرف بڑھی۔ اُس نے دروازہ کھولا۔ سامنے ایک سفید اور بھورے رنگ کی بلّی تھی۔ “امی امی !” وہ یکدم چلائی ۔ وہ اسے سامنے دیکھ کر ششدررہ رہ گئی تھی۔ حورعین سفیان کو بلّیوں سے بہت ڈر لگتا تھا۔ اور کویت کی خاص بات یہ تھی کے یہاں بلّیاں عام دیکھنے کو ملتیں تھیں۔ عقب سے عارف نے آتے ہوئے اسے بھگایا ۔ فرحانہ ریموٹ پکڑے اُنھیں خفگی سے کہنے لگی۔
” ارے یہ کیا صبح صبح شور مچا رہے ہو تم لوگ ؟۔ ساتھ فلیٹوں میں اور لوگ بھی رہتے ہیں کچھ تو خیال کرو ہمسایوں کا۔ “انعمتہ کمرے سے بیگ پہنتے ہوئے باہر نکلی۔ وہ تینوں بہن بھائی فرحانہ کو خدا حافظ کہتے لفٹ میں چلے گئے۔ لفٹ سے نکلتے۔ وہ ایک دوسرے سے کہہ رہیں تھیں۔ “یار انُو آج میں اس پٹھان کی ایک نہیں سنوں گی۔ ” “ہاں یار آج تو میں بھی سنا دُوں گیں۔”
“بک بک بند کرو دونوں۔ ” عمارت سے نکلتے وہ سڑک پار کر کے سامنے کھڑی وین کے قریب چلے آئے ۔ دروازہ حورعین نے کھولا ۔ اسٹیرنگ سیٹ پر ایک کافی عمر کا بوڑھا ضعیف پٹھان خفگی سے اُنھیں دیکھ رہا تھا۔
“تم لوگ کتنا دیر کرتا ہے واللہی ! میں تم لوگوں کو کل سے چھوڑ دی گا۔”
“ٹیک ہے چچا پِھر عم بھی اسی حساب سے تمہارا فیس کاٹے گا۔” دوسری جانب سے انعمتہ نے ُاسی کے پختون لب و لہجے میں برابر جواب دیا تھا۔ حورعین،عارف السلام علیکم چچا کہتے پیچھے کی سیٹ پہ بیٹھ گئے۔ وہ بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئی ۔ وین میں اور بھی بچے تھے ۔ چچا کو انعمتہ کی یہ
بات سن کر بُرا لگا تھا۔ جواباً وہ ناراضی سے بولا۔
“آنے دو تمہاری ابو کو لگائے گا تمہارا شکایت اسکو۔ کب آ رہی ہے وہ پاکستان سے ؟” “ایک ہفتے بعد۔” اور وہ یہ کہتے لب دباتے مسکرائی۔
************
وہ اسکول کی طرف چلے آ رہے تھے ۔ گیٹ کے اوپر پاکستان انگلش اسکول کالج جلیب الشیوخ ، کویت کے نام کا بڑا سا بورڈ لگا ہوا تھا ۔ جلیب الشویخ کویت کے شہر کا نام تھا۔ اُس اسکول میں کےجی سے لیکر بارہ جماعتیں پڑھائی جاتیں تھیں۔ اُس اسکول کا کویت کے دس بہترین اسکولوں میں شمار ہوتا تھا۔ کویت ایک چھوٹا سا ملک ہے جہاں پر شہروں کا آپس میں فاصلہ زیادہ سے زیادہ دو سے تین گھنٹوں کا ہوا کرتا تھا ۔ سالمیہ کا راستہ جلیب سےپینتالیس منٹوں کا کچھ تھا۔
اندر داخل ہوکر انعمتہ اور عارف اپنی جماعتوں کو چل دیے ۔ حورعین اسکول کے گراونڈ میں کھڑی دوسرے طلباء کو ٹہلتے دیکھ رہی تھی۔ اسکول کے گراونڈ کے دو حصے تھے۔ ایک عام سادہ میدان کی طرح جہاں کونے میں ایک باسکٹ بال ہوپ لگایا گیا تھا ۔ میدان کی بائیں طرف کونے میں ایک فٹبال پلے گراونڈ تھا۔ بچے اُدھر فٹبال کھیل رہے تھے۔ کونے میں اُدھر ہی لڑکیاں سبزے پر ٹہل رہیں تھیں ۔ وہ اسکول کا بہترین حصہ تھا۔ گراونڈ کے سامنے سیڑھیاں تھیں۔ جو لمبائی میں لمبی اور چوڑائی میں چوڑیں تھیں ۔ سیڑھیوں سے اُترتے ہوئے ۔ اس کی طرف ایک لڑکی چلی آئی ۔ وہ درمیانہ شکل اور زَرْد رنگت کی سر پہ سفید
اسکارف نفاست سے لیے ہوئے ، یونیفارم پہ اوپر نیلے رنگ کی لیدر جیکٹ میں
ملبوس ایک اسٹامکش سی لڑکی لگتی تھی ۔ وہ اسکے گلے لگی اور اسنے اسکے دونوں گال چومے ۔ یہ عربوں کا ملنے کا انداز تھا۔ “صباح الخیر کیسی ہو حور ؟” وہ ایک پاکستانی لڑکی تھی۔ “ٹھیک۔” وہ مسکرائی۔ “آج پِھر سے لیٹ ہوگئی ؟ ” “ہاں یار اب سالمیہ سے جلیب آنا کونسا آسان ہے عایزہ۔ جب سے ابو کا ٹرانسفر ہوا ہے یہی مسئلہ ہے۔” وہ کافی بیزارگی سے بولی تھی۔
اس نے اس کا شانہ تھپتھپایا۔ ” چلو کوئی بات نہیں پِھر کہاں یہ دن ہونگیں کچھ ہی مہینوں کی تو بات ہے۔” حورعین کے کالج میں آخری مہینے تھے ۔ تب ہی وہ گیٹ کی طرف دیکھ کر مسکرائی۔ “لو لُولُو بھی آ گئی۔ “وہ دونوں اسے دور سے آتا دیکھ رہیں تھیں۔ وہ ایک کویتی پاکستانی لڑکی تھی جس کے ابو کا تعلق پاکستان اور امی کا تعلق کویت سے تھا ۔ دکھنے میں وہ دودھ سی سفید نیلی آنکھیں اور سر پر سفید اسکارف لیا ہوا تھا۔ وہ ان دونوں کے قریب چلی آئی۔ “صبح با خیر لڑکیوں۔” وہ عربی اور انگریزی میں بات کیا کرتی تھی ۔ البتہ اُردو اسے سمجھ میں آتی تھی۔ لیکن بول نہیں سکتی تھی۔ عایزہ نے کچھ سوچتے ٹھوڑی پر ناخن مسلا۔ “چلو حور کا تو مسئلہ سمجھ میں آتا ہے ۔ تم کیوں لیٹ ہو آج ؟ “وہ کچھ تھکی تھکی لگتی تھی۔
اس نے تھکاوٹ سے اپنے سر کو چُھوا ۔ ” اوہ ! وہ نانی کی اپائنٹمنٹ تھی ڈاکٹر کے ساتھ تو بس وہیں تھی .. اور ٹریفک تھی ۔ شارع کھل ہی نہیں رہا تھا۔”شارع عربی میں ٹریفک لائٹ ایریہ کو کہتے ہیں۔ “ہائے گرلز !”
اُن کے عقب سے کسی لڑکی نے اُنھیں پکارا اور وہ پلٹیں۔ وہ لڑکی گوری رنگت کی چہرے پر آٹے کی طرح فیس پاوڈر لگائے کھڑی تھی ۔ اس کی آبروئیں سیاہ اور موٹی موٹی ، ایسی تھیں جیسے چمچ کا اُلٹا حصہ ہو ۔ آنکھوں میں ہرے رنگ کے لینز لگے تھے اور لئینر اس طرح لگا ہوا تھا جیسے پری کے پنکھ ہوں ۔ بال سنہرے رنگ کے ڈائی ہوئے تھے ۔ جن کی اونچی سی پونی ٹیل بنی ہوئی تھی ۔ وہ چلتی پھرتی اپنے آپ میں ایک میک اپ کی دکان تھی۔ حورعین مسکرائی۔ “ہائے شازیہ کیسی ہو ؟” ساتھ لُولُو نے بھی اس سے سلام لی ۔لیکن عایزہ نے تو شازیہ کو دیکھتے ہی ناگواری سے اپنا رخ پھیر لیا تھا۔ وہ شازیہ کو سخت نا پسند کیا کرتی تھی۔ اور شازیہ بھی اُس سے کم ہی بات کیا کرتی تھی ۔ شازیہ ہاتھ باندھے اس سے گِلہ کر رہی تھی۔ “اب میں کامرس کلاس میں چلی گئی ہوں ۔ تو اسکا یہ مطلعب تو نہیں کہ تم مجھے بھول ہی جاو ۔ کبھی کبھی مل ہی لیا کرتے ہیں یار۔ ”
وہ بس مسکرا کر معذرت کرنے لگی اور عایزہ موقع دیکھتے ہی دھیرے سے لُولُو کے کان میں بڑبڑائی۔ ” ہونہہ ! آ گئی پلاسٹک کی گڈی۔ ” اس نے عایزہ کو چُپ کراونے کے لیے زور سے اپنے بوٹ کو اس کے بوٹ پہ رکھ دیا۔ علیک سلیک کے بعد شازیہ وہاں سے چلی گئی اور حورعین اس سے خاصی خفا ہوئی ۔ “عایزے تمھے اس سے سلام لینی چائیے تھی۔ ایسے نہیں کرتے۔” لُولُو بھی اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اسے سمجھانے لگی مگر عایزہ نے کسی کی نہ سنی اور ناک سے مکھی اُڑائی۔ “ہوں یار بس نہ ۔ دیکھو حور … مجھے وہ ذرا بھی پسند نہیں ہے ۔ اور لُولُو تم تو رہنے ہی دو ! تم خود ہی تو کہتی ہو نہ عزت دِل سے کرنی چاہیے صرف زُبان سے ہی نہیں ۔ تو اب کیا مسئلہ ہے ؟ ” اور اس نے تاسف سے سر جھٹکا۔ ” اُف اللہ یہ کیا آئیٹم ہے؟” ******************
دسمبر کی سخت سردی میں کلاس میں انگلش کا لیکچر چل رہا تھا ۔ وہ ایک مخلوط تعلیم
‏(Co-Education)
سائنس گروپ کے طلباء کی جماعت تھی ۔جس کے دائیں ہاتھ پر لڑکیاں اور بائیں ہاتھ پر لڑکے بیٹھے اپنے اپنے دفتروں پر لیکچر تیزی سے نوٹ کر رہے تھے۔ وہ تینوں پہلی سیٹ پر اس انداز میں بیٹھیں تھیں کے لُولُو ان کے درمیان میں تھی۔
کلاس میں استاد موجود کتاب سے پڑھ رہے تھے۔”مسز وکٹ کے ہاں چپس گھنٹوں خوابوں میں کھویا رہتا کبھی اپنے پاؤں کو دیکھتا اور یاد کرتا کس پاؤں سے کیترین سے ملاقات کا بہانہ بنا تھا۔ ” اس جملے کے سنتے ہی عایزہ نے فوراً سے اپنے دفتر کے پیچھے کچھ لکھ کر لُولُو کو کوہنی ماری ۔ اور دفتر اس کے آگے کر دیا ۔ وہ اس کے دفتر پر لکھے ہوئے الفاظ پڑھنے لگی۔
” اللہُ اکبّر یار یہ چپس کچھ تو اپنی عمر کا خیال کر لیتا بے حیا۔ “اس نے اسکی بات کو نظر اندازِ کرتے ہوئے حورعین کی طرف دیکھا ۔ جو قلم لب میں دبائے کسی سوچ میں گم تھی۔ وہ کچھ پریشان لگ رہی تھی ۔ اب اسنے عایزہ کو کوہنی مارتے ہوئے اس کی طرف دیکھنے کا اشارہ کیا ۔ عایزہ اسے دیکھ کر اپنے دفتر پر کچھ لکھنے لگی اور پھر لکھ کر اسنے وہ دفتر اس کے آگے کر دیا۔ لُولُو نے تب ہی اپنے پاؤں سے اس کے پاؤں کو ہلایا ۔ تو وہ دفتر کی طرف متوجہ ہوئی ۔ اُدھر ایک شاعری لکھی ہوئی تھی ۔ عایزہ اکثر ایسی شاعری کیا کرتی تھی ۔
“پیر بابا عرض کرتے ہیں
دِل ہے سچا اور دماغ ہے کچا
پیر بابا عرض کرتے ہیں
دِل ہے سچا اور دماغ ہے کچا
واہ واہ
تیری شکل پہ بجے ہیں کیوں بارہ
کیا بات ہے بچہ ؟ ”
وہ شعر پڑھ کر ذرا سا مسکرائی اور لکھنے لگی۔
“کچھ نہیں حمزہ آ گیا ہے۔”
لکھ کر دفتر اسنے لُولُو کو دے دیا ۔ اُنھوں نے پڑھ کر خوشی سے اسے دیکھا اور پِھر لُولُو نے لکھ کر واپس دفتر اسے دے دیا ۔ جس پر لکھا تھا۔ ” اوہ واہ ! یہ تو اچھی خبر ہے تو پِھر پریشان کیوں ہو ؟” اس نے لکھا۔ “اس نے مجھے بتایا بھی نہیں آخری دفعہ ہماری بات پچھلے ہفتے ہوئی تھی ۔ اسکے امتحان تھے تو میں نے بھی میسیج نہیں کیا ۔ یہ تو آج صبح امی سے پتہ چلا۔” یہ لکھ کر دفتر لُولُو کی طرف کر دیا اور لُولُو نے پِھر واپس لکھ کر اس کی طرف۔ ” تم کچھ زیادہ سوچ رہی ہو،شاید وہ تمہیں سرپرائز دینا چاہتا ھو۔ حور تم بھی نہ رائی کا پہاڑ بنا لیتی ہو۔”اس نے پڑھ کر مسکراتے ہوئے۔ “ھم ہاں۔” لکھ دیا اور وہ تینوں پِھر سے لیکچر نوٹ کرنے لگیں۔
********************
دو سال پہلے:-

وہ ہلکے پیچ رنگ کی نیٹ کی میکسی میں ملبوس تھی۔ جو نیچے سے پھولتی تھی ۔ گلے میں اسنے لمبی سی سفید موتیوں کی مالا اور ہاتھ میں بھی موتیوں کی بریسلیٹ پہنی ہوئی تھی۔
( اسے موتی بہت پسند تھے۔ ) بالوں میں پیچھے کلپ لگا کے اُنھیں ایک طرف کیا ہوا تھا اور نیچے کرلز ڈلے تھے۔ آنکھوں میں کاجل لگا ہوا تھا ۔ وہ دو سال پہلے بھی ویسی ہی دکھتی تھی ۔ وہ شیرٹن ہوٹل کے میرج حال میں کسی شادی کی تقریب میں کولڈ ڈرنک پی رہی تھی ۔ یہ ہوٹل کویت کے شاندار ہوٹولوں میں سے ایک تھا ۔ وہ حال بے حد خوبصورت تھا زَرْد بتیوں میں چمکتا ہوا، حال کے چھت پر عین وسط میں ایک بڑا سا جُھومر لگا ہوا تھا ۔ سامنے اسٹیج پر ُدلہا دُلہن کو بٹھایا گیا تھا ۔دلہن کے ساتھ والی کرسی پر سے ایک خوش شکل نوجوان اٹھتے ہوئے اسکی طرف چلا آ رہا تھا۔ وہ حمزہ تھا ۔ حمزہ خلیل ۔ دراز کد ، زَرْد رنگت ، چھوٹے چھوٹے سیاہ بال، آنکھیں بڑی بڑی ،کریم رنگ کی شلوار قمیض اور اوپر نیلے رنگ کی واسکٹ میں ملبوس کافی ہینڈسم لگتا تھا ۔وہ اُن دنوں ُچھٹیوں پر کویت اپنی بہن کی شادی پر آیا تھا۔ حمزہ اور حورعین کے گھر والوں کے آپس میں ُپرانے تعلُقات تھے۔ وہ دونوں خاندان ایک دوسرے کو کافی عرصے سے جانتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ دونوں بچپن کے دوست اور پہلے ایک دوسرے کے ہمسائے بھی رہ چکے تھے۔ حمزہ اس کے مقابل والی کرسی پہ آ بیٹھا اور ہلکا سا مسکرایا۔ “کیسی ہو حور ؟ تم تو بَدَل ہی گئی ہو ۔ باے دا وے اچھی لگ رہی ہو ! ” اس نے جواباً مسکرا کر بس اتنا ہی کہا۔ “تھینکس ٹھیک ہوں۔” اور خاموشی چھا گئی۔
“تم اتنا اجنبیوں کی طرح کیوں بیہیو کر رہی ہو ؟”حمزہ نے خاموشی توڑی تھی۔ “ہم بچپن کے دوست ہیں ساتھ کھیلا کرتے تھے ۔ ایک ساتھ بڑے ہوئے ہیں۔” وہ خفگی سے کہہ رہا تھا۔ “اس نے آگے ہوتے ہوئے کرسی کھینچ کر گاہے بگاہے دیکھا۔ “دیکھو حمزہ ! ” وہ دھیرے سے بولی۔ “تم آج بھی میرے بہت اچھے دوست ہو پر اب ہم دونوں بڑے ہو گئے ہیں ۔ میچور ہیں اور ہمارا معاشرہ اس دوستی کو کسی اور سینس میں لیتا ہے ۔ مجھے امید ہے تم سمجھ گئے ہو میں کیا کہنا چاہ رہیں ہوں ۔ بہتر ہے ہماری دوستی علیک سلیک تک ہی رہے۔ ” وہ کچھ دیر تک خاموش رہا۔ اُس نے گہری سانس لی۔
“حور میں .. میں یہ کنفیس کرتا ہوں کہ مجھے تم بچپن سے ہی بہت اچھی لگتی ہو ۔ پر تب ٹھیک وقت نہیں تھا۔ وقت تو اب بھی ٹھیک نہیں ہے اور اس سب میں ابھی کافی وقت ہے ۔ لیکن میں آج .. میں اپنی فیلنگز نہیں چھپا سکتا اور تمھے یہ کہہ رہا ہوں ۔ آئی رئیلی لوہ یو۔ کیا تم مجھ سے شادی کروگی ؟ میرا انتظار کرو گی ؟ ” وہ ذرا کنفیوز لگتا تھا اور پریشان بھی یہ کہہ کر اس نے اپنی واسکٹ کی پوکٹ میں لگا ہُوا گلاب نکالا اور اس کے چھوٹے سے سنہرے رنگ کے کلچ کے قریب اس اندازِ سے رکھا کہ کوئی نا دیکھ سکے۔
” روز فور آ روز ۔”
( ایک گلاب کے لیے گلاب۔ ) وہ حیران کن نظروں سے میز پر پڑے گلاب کو دیکھ رہی تھی ۔ وہ شاکڈ تھی ایک دم شاکڈ۔ اس نے دھیرے سے گاہے بگاہے دیکھا۔ وہ گڑبڑائی۔
” حمزہ یہ سب کیا ہے ؟ یہ . . . یہ ناممکن ہے ۔ یہ نہیں ہو سکتا ۔ تمہیں پتہ ہے نہ امی ابو میری شادی میری پھوپھو کے بیٹے سے کرنا چاہتے ہیں ۔ تو پِھر کیا ُتک بنتی ہے اس بات کی ؟ مجھے تم سے اس احماکانہ حرکت کی توقع نہیں
تھی۔ ” وہ دبے دبے غصے سے بولی تھی ۔ وہ کب سے اسے ہی دیکھ رہا تھا اور ذرا سنجیدہ لگ رہا تھا۔ ” حور لِیسن ٹو می میں سب جانتا ہو پر تم ذرا غور کرو۔ تم ایک ایسے لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہو جس سے تم تین یا چار دفعہ ملی ہو ٹھیک سے جانتی تک نہیں ہو یا اُس سے جسے تم بچپن سے جانتی ہو تم شادی کے بعد کہاں رہو گی ؟ وہ تو یہاں نہیں آسکتا ہو پاؤگی اس کے ساتھ ایڈجسٹ ؟ کیونکہ ویزاز تو بند ہیں اور تم انکل کی كفالت سے نکل جاو گی ، تو تم بھی یہاں نہیں رہ سکتی ۔ فیصلہ تمہارا ہے۔ میں انتظار کروں گا تمھارے جواب کا ۔” یہ کہتے وہ کرسی کھینچ کر اٹھا اور وہ سامنے پڑے گلاب کو دیکھتی رہ گئی ۔
(کچھ دنوں بَعْد)
وہ دونوں خاندان والے اکثر باہر اکٹھے تفریح کے لیے جایا کرتے تھے۔ وہ سب کویت ٹاورز پر آئے تھے۔ کویت ٹاورز کویت کے شہر شرق میں تِین ٹاورز کا ایک گروپ ہے۔ ان ٹاوروں کے آگے سے ہی کویت کا سمندر شروع ہوتا ہے ۔ یہ کویت کی متاثرہ کن جگہوں میں سے ایک جگہ ہے ۔ سہ پہر کا وقت ختم ہو رہا تھا۔ سورج غروب ہونے کو تھا۔ آسْمان پہ بادلوں پر ہلکی ہلکی سرخی بکھری ہوئی تھی ۔ انعمتہ اور عارف سمندر کنارے ریت کا گھر بنانے میں مصروف تھے۔ وہ کھڑی اُفق پہ دیکھ رہی تھی۔ سمندر کی لہریں بار بار اس کے پیروں کو آکر چھوتیں تھیں ۔ ساتھ میں زمین پہ وہ پتھر پکڑے ریت پر کچھ لکھ رہا تھا۔ اس کی اچانک نظر اس پر گئی ۔ اس نے اچھنبے سے اسے دیکھا۔
” کیا کر رہے ہو حمزہ ؟”وہ پیچھے کو ہُوا تو ادھر اسکے اور حورعین کے انگریزی نام کے پہلے حرف ایچ کے ساتھ دِل بنا ہُوا تھا۔ وہ دیکھ کر ذرا مسکرائی اور موبائیل سے اسکی تصویر ُاتارنے لگی۔ ” دس اِز سو سویٹ آف یو ۔” جواباً اس نے مسکرا کر اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
” تم سے کم ہی مائے شوگربن۔ ” وہ اُس سے محبت نہیں کرتی تھی ۔ مگر ُاسے پسند ضرور کرتی تھی ۔ کہیں نا کہیں وہ حمزہ کے لیے مستقبل کے حوالے سے راضی ہو گئی تھی۔ یونہی دن گزرتے گئے اور حمزہ کی چھٹیاں ختم ہونے میں کچھ ہی روز رہ گئے تھے۔ وہ کسی کیفے میں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ ” تم خوش ہو نہ حور ؟ اداس مت ہونا۔ بس دو سال کی بات ہے۔ میری انجینرنگ ہوجائے گی ۔ تو میں کویت واپس آ جاوں گا ۔ تم بی اے کر لینا اور آگے بھی پڑھنا چاہتی ہو تو پڑھتی رہنا۔ امی آج کل میں آنٹی سے بات کر لیں گیں ۔”وہ رکا اور کچھ سوچنے کے بعر پھر سے کہنے لگا۔
“اچھا ایک بات پوچھوں ؟ ” وہ کافی پیتے رکی۔
” ہاں ایک نہیں دو پوچھو ۔”
” مجھے مس کروگی ؟”جواباً وہ مسکرائی اور تھوڑی پر ناخن مسلنے لگی ” عامممم… بلکل نہیں !” اس نے برہمی سے شکل بِگاڑی کہ اتنے ہی میں باہر سے انعمتہ اور عارف بھاگتے بھاگتے آئے۔ سانس پھولی ہوئی اور عارف تیزی سے بولا۔ ” حور حور ۔حمزہ بھائی ۔ُاٹھو ،امی ابو آنٹی انکل ایدھر ہی آ رہے ہیں۔ اگر آپ دونوں کو اس طرح دیکھ لیا تو اگلے بیس سالوں تک آپ کی ہونے والی ساس نہیں ماننے والی۔ ” وہ جھٹ سے اٹھی۔ ” اوہ نو اب کیا ہو گا ؟ ” البتہ وہ بڑے اطمینان سے اُٹھا۔ اس نے گہری سانس لی۔ “ریلیکس ریلیکس ہم تو یہاں سب کے لیے کافی لینے آئیں ہیں نہ۔”
*****************
بریک کا وقت تھا۔ وہ گراونڈ کی سیڑھیوں میں چیپس کھاتے دھوپ سیک رہیں تھیں۔ گراونڈ میں طلباء ٹہل رہے تھے۔ سیڑھیوں کی دوسری سمت بچے ٹفن بکس لیے كھانا کھا رہے تھے۔
“تو بتاو حور اب آگے پھر کیا
پلین ہے ؟ ” عایزہ ذرا محظوظ ہوئی تھی ۔اس نے بے نیازی سے شانے اُچکائے۔
“کیا پلین ہونا ہے ؟”
“کچھ نہیں حمزہ آ گیا ہے وہ لوگ سیکینڈ اِیر کے بَعْد نکاح کَرنا چائتے ہیں۔ اور پِھرباقی پڑھائی کے بَعْد شادی۔”
وہ ٹہر ٹہر کے کہہ رہی تھی۔ کہ اچانک رکی ۔ اسے کچھ یاد آیا۔
” پتہ ہے آج حمزہ آئے گا ۔” وہ چہکی۔
” ہوں زیادہ بات مت کرنا ویسی بھی کچھ مہینوں تک نکاح ہو جائے گا تو کرتی رہنا۔ ” اس نے ناک سے مکھی اُڑائی۔
” او کم آن یار، بچپن کے دوست ہیں ہم ۔یہ کوئی ارینج میرج تھوڑی ہونے والی ہے سب کرتے ہیں۔ ” اور لُولُو نے اُداسی سے سر جھٹکا۔
(ہممم سب کرتے ہیں۔ )
“اچھا تو حور کیسا لگ رہا ہے ؟ فائنلی وہ آ ہی گیا ۔” وہ مسکرا کر گراؤنڈ کی طرف دیکھنے لگی ۔ وہ شرما رہی تھی پر بتانا نہیں چاہتی تھی ۔ اس لیےاسنے رخ پھیر لیا۔ عایزہ چپس کا پیکٹ پھینک کر ہاتھ جھاڑنے لگی۔ “پتہ ہے حور مجھے تمہیں دیکھ کر ایک شعر یاد آ رہا ہے۔” وہ فوراً سے اسے ُاکتاہٹ سے دیکھتے بولی۔
“ناو واٹ ؟ “لُولُو ذرا مسکرائی۔
“ارشاد ارشاد۔ ”
” تو عرض کیا ہے۔
گال ٹماٹر
ہونٹ چکندر
انگلیاں بھنڈی
گال ٹماٹر
ہونٹ چکندر
انگلیاں بھنڈی
واہ واہ
میرے دوست آپ انسان ہیں کہ سبزی منڈی ؟”
” واہ واہ عایزے استاد کیا بات ہے آپکی۔”اس نے اپنا کالر اُچکا کر حورعین کو دیکھتے فخریہ انداز میں آبروئیں اُچکائیں ۔ اور وہ ہاتھ باندھے بڑی بےنیازی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“یار عایزے تم اتنے اچھے شعر سناتی ہو ۔ آج میں بھی کچھ عرض کروں گی تمھارے لیے۔ ” جواباً وہ خوشی سے بولی۔ “ہاں ہاں ضرور !” اس نے گلا کھنکارا۔ “اہم …”
“تو عرض کیا ہے۔
ویسے تو زندگی میں کچھ نا پایا اسنے
جب دفن ہو گئی تو شاعرہ کے بھاگ جاگے
ویسے تو زندگی میں کچھ نا پایا اسنے
جب دفن ہو گئی تو شاعرہ کے بھاگ جاگے
وہ سادگی میں ان کو دو سامعین سمجھی
بس آٹھویں غزل پر منکر نکیر بھاگے۔”
لُولُو اپنی ہنسی دبانے کی کوشش کر رہی تھی۔ مگر ناكام رہی اور اس کے ہاتھ پہ ہاتھ مارتے ہنسنے لگی۔
البتہ وہ غصے سے اسے منہ بسورتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
” اب اتنے بھی ُبرے شعر نہیں ہوتے میرے ۔جاو میں تم سے نہیں بولتی۔ ” لُولُو نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا۔
” اوہو عایزے مذاق کر رہی تھی وہ ۔ کیا ہو گیا ہے ؟ ” ” تم پورا دن پکاتی رہتی ہو میں نے کبھی کچھ کہا ہے تمھے ؟ آخر کہاں سے لاتی ہو ایسے فضول شعر ؟”
اور وہ ساری گفتگو بھلا کر جوش سے بتانے لگی۔ ” یہ شعر نہ میں، میں مزمل فرقان کے پیج سے پڑھتی ہوں۔ وہ تین دوستوں کا گروپ ہے انٹرٹینر سینگر ہیں ۔ویڈیوز بناتے ہیں۔ ”
اوہ پلیز۔” اس نے جھٹ سے بیزارگی سے اسے ہاتھ دکھایا۔ “میں ایسے فضول لوگوں کے پیج نہیں دیکھتی۔ کوئی کام دھام ہوتا نہیں ان کے پاس ۔ نا کام نا کاج دشمن اناج۔”عایزہ نے ناراضی سے اسے دیکھا۔
“دیکھو اسے کچھ نہیں کہو وہ تو فری ٹائم میں یہ سب کرتا ہے ۔ اور وہ فارغ نہیں ہے ۔ وہ تو انٹیریر ڈیزائنر ہے ۔ جاب کرتا ہے اور پتہ ہے اس کی پینٹینگ بھی بہت اعلٰی ہے ۔ اور ہاں یو کے سے پڑھ کر آیا ہے ۔ اور وہ ہینڈسم بھی بہت ہے۔ ” وہ کھوئے ہوئے بولے جا رہی تھی۔ لُولُو نے موضوع بدلنا چاہا۔ “اچھا بس کرو یہ مزمل نامہ ۔ تم بتاو کیا پلین ہے آگے تمہارا ؟ ”
” میں . . میں تو پاکستان جاوں گی ۔سافٹ وئیر انجینرنگ کے لیے۔ ”
“انشاہ اللہ۔” وہ دونوں مسکرائیں۔
“اچھا میری چھوڑو ۔ تم بتاو لُولُو ؟ تم کیا کرو گی ؟” ” میں تو کہیں نہیں جا رہی۔ میں یہیں کویت میں رہوں گی ۔ نانو کے پاس۔ تم لوگوں کو پتہ تو ہے امی ابو کے انتقال کے بَعْد میرے پاس ان کے سوا کوئی نہیں ۔ نہ انکے پاس میرے سوا کوئی۔ تایا لوگ ہیں یہاں ۔پر کیا
فائدہ ؟ “اس نے تاسف سے سر جھٹکا۔ “وہ تو ابو سے سارے تعلق تور ُچکے ہیں۔ امی ابو کی شادی کے بعد سے ہی۔” لُولُو دو سال کی تھی ۔ جب اس کے والدین کا سڑک حادثے میں انتقال ہو گیا تھا۔ عایزہ نے تسلی دیتے اس کا شانہ تھپتھپایا۔ ” دفع کرو تایا کو ۔کچھ نہیں ہوتا ۔ موڈ کیوں اوف کرتی ہو ؟ چھوڑو۔ ”
“چلو سب چھوڑو۔ حور بی بی آپ بتائیں ؟ آپ کیا کریں گی ؟ ” وہ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنسائے چہکی۔ “میں .. میں لکھوں گی گیلی مٹی کی خوشبو پر ، پھولوں کے کھلنے پر ، برف باری پر ، قوسِ قزح پر ، پرندوں کے پنکھ پھیلا کر اُڑنے پر ، سورج کے ڈھوبنے پر، چاند کی چاندنی پر ، سِتاروں کے ٹمٹمانے پر ، جھرنے کی بہتی ہوئی سریلی آواز پر ، میں لکھوں گی آسماں پر، زمیں پر میں بس ..” عایزہ نےاس کا فقرہ مکمل کیا۔
“لکھنا چاہتی ہوں۔”لُولُو کچھ سوچتے ہوئے بولی۔
“تو تم پاکستان جاو گی ؟”وہ اُداسی سے مسکرائی۔
” نہیں یار یہیں انسٹیٹیوٹ سے ۔”کویت میں میٹرک اور ایف-اے کے امتحانات فیڈرل بورڈ اسلام آباد کے ذریعے دیے جاتے تھے ۔ البتہ اعٰلی تعلیم کے لیے کچھ انسٹیٹیوٹ ہیں جو پنجاب، علامہ اقبال اور وڑچیول جیسی یونیورسٹیوں کے ذریعے بی-اے ایم-اے کرواتے تھے۔
” اوہ کیوں ؟”
“بھول گئی کیا ؟” عایزہ نے اسے انگلی دیکھاتے یاد کروایا ۔ماضی کی کچھ تلخ یادیں اُدھر بیٹھے تازہ ہونے لگیں ۔ وہ فرش پر بیٹھی فرحانہ سے کہہ رہی تھی۔ ” امی مجھے پاکستان جانا ہے سیکینڈ اِیر کے بَعْد یہاں کچھ نہیں ہے ۔میں وہاں جاکر پڑھنا چاہتی ہوں ۔”
“حور تم نہیں جا رہی۔” فرحانہ ٹی وی اسکرین پہ نظریں جمائے بولی۔ ” اور یہ کیا بیکار کی ضد لگا رکھی ہے ؟ جو کَرنا ہے یہیں کرو اور سیکینڈ اِیر کے بعد کچن میں کام پر لگو ۔تم نے کونسی جاب کرنی ہے ؟ اور ہمیں ضرورت بھی نہیں ہے۔”
” امی مجھے نہیں سیکھنے کام ۔ عارف بھی تو جائے گا نہ ۔ پِھر میں کیوں نہیں ؟”اس نے ٹی وی بند کیا اور گہری سانس لی۔ “حور تم لڑکی ہو اور وہ لڑکا ہے ۔ اب تمہاری ہر ضد نہیں چل سکتی ۔حمزہ کے لیے ہم مان گئے ہیں ۔ کیا یہ کم تھا ؟ اور اب پاکستان بھی جانے دیں تمہیں ؟ ” فرحانہ کو راضی کَرنا ناممکن تھا ۔ اس نے بھی حالاتوں کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا تھا ۔ ماضی کا وہ منظر دھندلا ہونے لگا تھا۔ وہ اُدھر ہی سیڑھیوں میں بیٹھی تھی ۔ بریک کا وقت ختم ہو چکا تھا ۔ گراونڈ آہستہ آہستہ کر
کے خالی ہونے لگا ۔ لُولُو اپنے ہاتھ جھاڑتے اُٹھی۔ “کس کا پیریڈ ہے ؟”حورعین بیزارگی سے پوچھ رہی تھی۔ “حولی قرآن۔” “بھائی میں تو نہیں جا رہی۔” عایزہ نے دونوں ہاتھ اُٹھا لیے۔ “میں بھی نہیں جا رہی بھلا یہ کونسا ہمارے کورس کا حِصہ ہے ؟” لُولُو نے گہری سانس لی۔ “ہم یہاں صرف کورس کور کرنے نہیں آتے کچھ سیکھنے بھی آتے ہیں ۔ کچھ آداب ہوتے ہیں ۔ حولی قرآن کے پیریڈ والی باتیں ہی آخرت میں ہمارے کام آئیں گیں۔ اگر آج اِس کتاب سے منہ موڑ لو گے تو اُس روز یہ بھی تم سے منہ موڑ لے گی ۔ اس کے علاوہ اسکول کالج ہمیں انسان بناتا ہے۔” وہ کافی سنگین لہجے میں ان سے کہہ رہی تھی۔ “تو پہلے ہم کیا جانور تھے ؟”عایزہ ہنس پڑی ۔ اور اس نے کڑی نگاہ سے اُنھیں دیکھا۔
“ابھی بس دعوعہ کیا ہے انسان ہونے کا تم نے ۔ کام انسانوں والے کوئی نہیں۔”اس نے ناک سے مکھی اُڑائی۔
“وٹ ایور میں تو نہیں آوں گی۔ ” “ایک دن ضرور آو گی۔”وہ بھیگی آواز میں یہ کہہ کر وہاں سے چل دی ۔ اور حورعین وہیں سے اُسے دور جاتا دیکھتی رہی ۔
*******************
آدھا دن گزر چکا تھا۔ تازی تازی صبح باسی ہونے لگی تھی ۔ عارف بینچ پر بےدلی سے بیٹھا سامنے کھڑے استاد کو سن رہا تھا۔ وہ کتاب سے پڑھتے ہوئے طلباء کو کچھ تاکید کر رہے تھے۔ کچھ دنوں ہی میں ان کے میڈ ٹرم امتحانات شروع ہونے والے تھے۔ اسنے کچھ سوچنے کے بعد سامنے کھڑے استاد کو ُپکارا۔
ایکسکیوز می سر !”وہ کتاب سے نظریں ہٹا کر بولے۔ “یس عارف ؟”اور عینک ناک سے اُٹھائی۔
” سسس سر مے ائی گو ٹو واشروم پلیز ؟” وہ رک رک کے پوچھ رہا تھا ۔ اور ذرا خوف ذدہ لگتا تھا۔ “نہیں کلاس کے بعد۔”وہ دو ٹوک انداز میں بولے اور کتاب کی طرف پھر سے متوجہ ہو گئے۔ اس نے کئی بار کوشش کی ۔کئی دفعہ منت سماجت کی کہ اس کی سن لی جائے مگر وہ نا کام رھا۔ اس نے آخری بار کوشش کے لیے معصوم سا چہرہ بنایا۔
“سر پلیز ایمرجینسی ہے !” “نو۔”اس بار بھی جواب نا کی صورت میں ہی ملا تھا ۔ اب یہ معاملہ عارف کی برداشت سے باہر تھا ۔ اس کے بینچ کے ساتھ ہی کلاس کی کھڑکی تھی۔ وہ بنا کچھ سوچے سمجھے کھڑکی پھلانگ کر باہر کو نکل گیا ۔ اور وہ استاد کھڑے غصے سے کھڑکی کی سمت دیکھتے رہ گئے ۔ اور طلباء ان کے غصے سے سرخ پڑتے ہوئے چہرے کو۔
*******************
کلاس میں فیزکس کا لیکچر چل رہا تھا۔ یہ آخری پیریڈ تھا ۔ عایزہ شدید بوریت اور بےدلی سے اُنھیں دیکھ رہی تھی۔ وہ تیزی سے اپنےدفتروں پر لیکچر نوٹ کر رہیں تھیں۔ اچانک کچھ سوچ کر اسنے اپنا دفتر پکڑا اور پیچھے کچھ لکھنے لگی۔ لکھنے کے بعد اس نے اپنا دفتر ان دونوں کے آگے کیا ۔ انھوں نے فوراً سے پڑھنا شروع کیا۔
“عرض کیا ہے۔
گلاب كے کانٹے نا دیکھو ، دیکھو اس کے پھول
گلاب كے کانٹے نا دیکھو ، دیکھو اسکے پھول . . . .
واہ واہ
ڈائیریکشن آف کرنٹ اِز گیون بائے فلیمنگز لیفٹ ہینڈ رول۔” وہ شعر پڑھ کر مسکرائیں اور دوبارہ سے لکھنے لگیں۔ اتفاقاً کلاس میں یہی موضوع چل رہا تھا۔ اب وہ لُولُو کے کان میں دھیمے سے کہنے لگی۔ ” کتنا اچھا ہوتا اگر درخت آئنسٹائین پر ہی گر جاتا۔ ” وہ ٹھٹکی اس نے اسے حیرت سے دیکھا۔
” عایزہ آئنسٹائین نہیں نیوٹن ۔ تم فیزکس کی سٹوڈنٹ ہو اور اگر یہ بات تم کسی اور کے سامنے کہہ دیتی تو چُلو بھر پانی میں ڈھوب مرنے کا مقام
ہوتا۔ “اس نے ناک سے مکھی ُاڑائی۔ “اوہو جو بھی ہے یار !” اتنے میں کلاس کا دروازہ کسی نے کھٹکھٹایا ۔ ادھر وہی عارف کے استاد تھے ۔ جن کی کلاس کے دوران عارف کا کھڑکی پھلانگنے والا واقعیہ پیش آیا تھا۔ وہ حورعین کو پرنسپل آفس لیکر جانے آئے تھے ۔ ساری کلاس اسے تجسس سے دیکھ رہی تھی۔ وہ گھبرا کر ان سے یہ کہتی ہوئی ادھر سے جانے لگی۔ “میرا بیگ لیکر پرنسپل آفس کے باہر انتظار کرنا۔” وہ استاد کافی غصے میں لگ رہے تھے ۔ وہ کوریڈور میں ان کے پیچھے چل رہی تھی ۔اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
* * * * * * * *
پرنسپل صاحب کے دفتر کے باہر وہ عارف کو کان سے پکڑے کھڑی تھی۔ “عارف انف از انف تمہاری کتنی دفعہ شکایتیں آ ُچکیں ہیں ۔ میں نے ہر دفعہ امی سے چھپایا ہے لیکن تمہاری حرکتیں دن بھر دن بھرتی ہی جا رہیں ہیں ۔ آج تو میں امی کو سب بتا کر ہی رہوں
گی۔ “اس نے اپنا کان چھڑایا اور پیچھے کو ہُوا۔ ” جاؤ بتاو میں نہیں ڈرتا کسی سے بھی ۔ میں بھی امی کو بتا دوں گا کہ تمہارے موبائیل میں جو نمبر حمنہ کے نام سے محفوظ ہے نہ ۔ وہ کوئی حمنہ شمنہ نہیں۔ وہ حمزہ ہے ۔ پِھر میری تو جو ہوگی سو ہوگی تمہاری بھی خیر نہیں ھوگی بچوُ ۔” اسے فرحانہ نے منگنی کے بعد سے حمزہ سے بات کرنے سے منع کیا تھا ۔ مگر وہ پھر بھی اس سے چوری بات کر لیا کرتی تھی ۔ جس کا علم صرف انعمتہ اور عارف کو ہی تھا۔ اس کا غصہ مزید بڑھنے لگا۔ “دھمکی کسے دے رہے ہو تم ہاں ؟ تم فیلیر ہو ایک نمبر کے۔ ” تب ہی انعمتہ اور لُولُو اس کے عقب میں چلیں آئیں۔” سپلیوں کے پیپر دے دے کر پاس ہوئے ہو ۔ کبھی میری اور انعمتہ کی کوئی شکایت آئی ہے ؟ اس بار تمھے لاسٹ وارننگ ملی ہے ۔ اگلی بار تمھے سیدھا سسپینڈ کیا جائے گا اور میں تمھے نہیں بچاوں گی ۔ سمجھے ! ” لُولُو نے اس کا ہاتھ اپنی گرفت میں لیا اور اسے ایک طرف لے جانے لگی۔ “کیا کر رہی ہو حور ؟” وہ رکی ۔اس نے غصے سے اس کا ہاتھ جھٹکا۔ “سمجھا رہی ہوں اور کیا کرنا ہے ؟ نظر نہیں آ رہا ؟”اس نے گہری سانس لی اور اپنے ہاتھ اس کے دونوں شانوں پر رکھے۔ “نصیحت پھولوں کی طرح کرنی چاہیے کانٹوں کی طرح نہیں ۔ کسی کی توہین کر کے جواب میں یہ کہنا کہ ہم تو نصیحت کر رہے تھے۔ تو وہ کہاں کی اور کیسی نصیحت ہوئی ؟ جو دوسرا شخص ہماری بات سن بھی رہا ہو گا ۔ وہ تو پھر وہ بھی نہیں سنے گا اور مزید بگڑ جائے گا۔ اس سے ہم یہ ثابت کر رہے ہوتے ہیں کے ہمیں کسی کو ٹھیک کرنے سے پہلے اپنے آپ کو ٹھیک کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔” وہ سانس لینے کے لیے رُکی۔ “اگر اب میں بھی تمھے یہ سب تمہارے چھوٹے بہن بھائی کے سامنے کہتی ۔ تو تمھے کیسا لگتا حور ؟ ہو جاتی نہ تمہاری توہین۔” اسنے اسکے ہاتھ اپنے شانوں سے ہٹائے۔
“سمجھانے کے لیے تھینکس بٹ نو تھینکس۔”اور وہ اسکول گیٹ کی طرف بڑھنے لگی ۔ایسی ہی تھی وہ غصے کی تیز دل کی نرم انتہا کی ضدی ۔کسی بات پہ اڑ جاتی تو اڑ جاتی اور پھر اسے سمجھانا بیکار تھا۔ کیونکہ وہ اپنی ہی کرتی تھی ۔ گیٹ سے باہر نکلتے اُس کی نظر دو لڑکوں پہ گئی۔ وہ گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑے تھے۔ وہ حمزہ کے دوست تھے۔ اس کے ساتھ انعمتہ عارف بھی تھے۔
“تم لوگ جاو چچا کے پاس ۔ میں ایک مینٹ میں آتی ہوں۔”
“عممم ..ٹھیک ہے مگر ایک شرط پر !”
“کیا ؟” وہ بیزاری سے بولی تھی۔
” تم بھائی کی شکایت امی کو نہیں لگاو گی۔” بھلا کوئی کہہ سکتا تھا ؟ یہ وہی بہن بھائی ہیں جو صبح سویرے ایک دوسرے کی جان کے دشمن بنے تھے ۔ “اچھا اچھا اوکے ! نہیں بتاتی۔” اس نے با مشکل غصہ ضبط کیا ۔ عارف فاتحانہ انداز میں مسکرایا۔ “چلو انُو۔” ان کے جاتے ہی وہ ان دونوں لڑکوں کی طرف بڑے بڑے ڈگ بھرتے چلی آئی۔ “اسلام علیکم بھائی۔ حمزہ نہیں آیا ؟” وہ جلدی سے پوچھ رہی تھی۔ “وعلیکم السلام نہیں وہ نہیں آیا۔” اور وہ مایوس ہو کر لاکھوں سوال لاکھوں جذبات دل میں لیے وین کو چل دی۔
“آخر وہ مجھے کیوں بتا کر نہیں آیا ؟”
************
” سر تا قدم زُبان ہے جو شمع
گوہ کہ ہم
پر یہ کہاں مجال جو گفتگو کریں”
ڈنر کا وقت ہونے والا تھا ۔ وہ سنگار میز کے روبرو موتیوں کی مالا پہن رہی تھی۔ وہ سیاہ رنگ کی سادی سی فراک میں ملبوس تھی۔ بال کیچر میں آدھے کھلے اور آدھے بند تھے ۔آنکھ میں اس نے اب سرمے کی سلائی بھری۔ انعمتہ پلنگ پہ بیٹھی محظوظ ہوتے بولی۔ ” اوہو کیا بات ہے۔”لیکن اسنے اس کی بات کو نظر اندازِ کرتے پلنگ پہ پڑا سیاہ ڈوپٹا اُٹھایا۔ اور ایک طرف شانے پہ رکھا۔ اب وہ بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھی ۔ پلنگ پہ پڑے سوفٹیز میں سے اسنے گلابی رنگ کا ٹیڈی بیئر اٹھایا اور مسکرائی۔ وہ ٹیڈی بیئر ُاسے حمزہ نے کسی میلے میں اسٹال پر سے جیت کر دیا تھا ۔ وہ ماضی کے خوشگوار لمحوں کو یاد کر کے مسکرا رہی تھی ۔ اسکے اسکول میں ہر سال ایک میلا لگا کرتا تھا۔ اُدھر ایسے کئی اسٹالز لگتے تھے ۔ جہاں کھیل جیتنے کے بَعْد انعامات ملا کرتے تھے ۔ “حمزہ مجھے بھی چائیے وہ ٹیڈی بیئر ۔تم کھیلو گے پلیز ! “وہ ذرا مسکرایا۔ “عینی تھنگ فور یو۔اور یہ تو بس ایک چھوٹی سی گیم ہے۔”
“ُسنیے ُسنیے مہربان قدردان اپنے دل کی دھڑکنوں کو تھام لیجیے کیونکہ حمزہ بھائی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ تشریف لا چکے ہیں۔ ” عارف اعلان کر رہا تھا۔ اسنے چونک کر یکدم اسے دیکھا اور ماضی کی یادوں کا بُلبُلا کہیں دور فضا میں ُاڑ گیا ۔ وہ فوراً سے کمرے سے باہر کو بھاگی اور راہداری میں آ رُکی ۔ وہ پردوں کے پیچھے سے چوری چھپکے لاونج میں دیکھ رہی تھی ۔ وہ فرحانہ کی بات سن رہا تھا ۔ وہ بالکل ویسا ہی تھا۔ اور کافی سمارٹ اور ہینڈسم لگ رہا تھا ۔ فرحانہ سے گفتگو کرتے کرتے اس کی نظر پردے کے پیچھے کھڑی حورعین پہ پڑی ۔ وہ اسے دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا ۔ وہ بنا مسکرائے کمرے کو لوٹ گئی ۔ فرحانہ کے مقابل والے صوفے پہ عابدہ اور خلیل صاحب بیٹھے تھے ۔ عابدہ درمیانہ شکل کی ساونلے رنگ کی عورت تھی ۔ اور خلیل صاحب چہرے پہ مونچھے ڈنر سوٹ میں ملبوس باوقار لگتے تھے۔ حمزہ ۔عابدہ اور خلیل صاحب کا اکلوتا بیٹا تھا اور ان کی اکلوتی بیٹی مریم ، جو شادی کے بعد لنڈن میں ہوتی تھی۔ تھوڑی دیر بَعْد ہی عارف اس سے کہنے لگا۔ “آئیں حمزہ بھائی میں آپکو اپنی نیو گیمز دکھاتا ہوں۔” “شیور۔” وہ یہ کہتے اُٹھا اور عارف کے ساتھ راہداری میں چلا آیا ۔ وہ کمرے میں جانے سے پہلے رُکا۔ ” ذرا رُکو تمہاری بہن کو دیکھ لوں بہت خفا لگتی ہے ۔” وہ کمرے میں پلنگ پر رخ پھیرے بیٹھی مصنوعی خفگی سے دوسری سمت دیکھ رہی تھی ۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا اور اندر چلا آیا۔ وہ ہاتھ باندھے مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا۔ “اہم اہم کوئی بہت ناراض ہے ؟ ”
” کسی کو آنے سے پہلے بتانا چائیے تھا ۔” وہ ویسے ہی رخ پھیرے ناراضی سے بولی تھی ۔اس طرح اُس کی اٹھی ہوئی مغروری ناک اور بھی پیاری لگتی تھی ۔ ایسے لگتا تھا جیسے کوئی ملکہ ہو ۔ اگر اس کے گھر والے اسے ملکہ کہا کرتے تھے ۔ تو کچھ غلط نہیں کہا کرتے تھے ۔ وہ واقعی میں ملکہ ہی تھی۔
وہ ایک دوسرے سے کچھ دیر تک گفتگو کرتے رہے۔ اب سارے گلے شکوہے دور ہو چکے تھے۔ حمزہ کو اسے منانا آتا تھا۔ وہ کتنا بھی خفا کیوں نہ ہوتی ۔ وہ اسے منا ہی لیا کرتا تھا۔ وہ ساتھ ساتھ اپنا سیل فون چیک کرتا رہتا۔ اسے اسکی یہ عادت سخت ناپسند تھی۔ اسنے فوراََ جھپٹ کر اسکا سیل فون چھین لیا۔ ”چھوڑ دو اسکی جان۔ پھر دیکھ لینا اسے۔”جواباً وہ سیل فون واپس لیتے ذرا غصے سے اسے ڈانٹنے لگا۔ “حور یہ کیا بدتمیزی ہے ؟ تمھے میں نے کئی دفعہ سمجھایا ہے نہ ۔ اس طرح فون مت چھینا کرو ۔ انسان کی کوئی پرایویسی ہوتی ہے۔”وہ اکثر اسے ایسے ہی ڈانٹ دیا کرتا تھا۔ اس وجہ سے انکی کئی دفعہ بحث ہو چکی تھی۔ اور آج بھی ہو گئی تھی۔ اسے تو اسکی ڈانٹ سننے کی عادت ہو چکی تھی ۔ البتہ اسکا موڈ بہت خراب ہو گیا تھا۔اسکے بعد انکی آپس میں کوئی بات نہیں ہوئی اور وہ اُٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا ۔ وہ اداسی سے دروازے کی سمت دیکھتی رہی۔ (آج بھی لڑائی۔) شاید لُولُو درست کہتی تھی اسے اس سے زیادہ بات نہیں کرنی چاہیے تھی ۔پر کون سمجھائے اسے ؟ لیکن کون سمجھائے ؟ *************************
وہ بالکونی میں بیٹھی شانوں پر شال لپیٹے اُفق پہ ٹمٹماتے ستاروں کو دیکھ رہی تھی۔ وہ لوگ جا چُکے تھے۔ “ایک دو تین ۔ گیٹ ریڈی۔” عارف انعمتہ نے ایک دوسرے سے یہ کہہ کر ڈائینگ ٹیبل کی کرسی کھینچی اور ان دونوں نے کھانے پر دھابہ بول دیا۔ “اللہُ اکبّر کبھی کھانا نہیں ملتا کیا تم دونوں کو ؟ جو ایسے کرتے ہو۔” وہ دونوں لاپروائی سے بغیر سنے کھائے جا رہے تھے۔ “پتہ ہے ہم بہن بھائی تو اتنے سلیقے سے کھانا کھاتے تھے اتنے سلیقے سے اتنے سلیقے سے …” اس کا بہن بھائی نامہ دوبارہ سے کھل چکا تھا۔ جواباً انعمتہ کولڈ ڈرنک پیتے بولی۔ “کہ پوری بارات آکر کھانا کھا سکتی تھی۔ ہے نہ امی ؟”
(دوسری جانب)
وہ اداس ، دل ہی دل میں خود سے گفتگو کر رہی تھی۔ “کیا میں ایڈجسٹ کر لونگیں ؟ ” “ہاں ہاں ! حور کر لو گی سمجھوتا تو کرنا ہی پڑتا ہے نہ رشتوں میں ۔ اب اس کی عادت ایسی ہے تو کیا ہو سکتا ہے ؟” تب ہی اس کے موبائیل کی گھنٹی بجنے لگی ۔ اسنے چونک کہ اس امید سے موبائیل پہ دیکھا کے حمزہ ہو لیکن وہاں ملِک صاحب کالینگ لکھا آرہا تھا ۔ یہ دیکھ کر اس کا دل دُکھا تھا ۔ملِک صاحب سفیان صاحب کا نمبر تھا۔ وہ ایسے ہی ُاول جلول ناموں سے نام محفوظ کیا کرتی تھی ۔ جیسے فرحانہ کا ۔”ماما بئیر۔” لُولُو کا۔
“اسلامی بہن۔” اسنے فون ُاٹھایا۔ “السلام علیکم ابو۔”آنسوؤں کا گولا گلے سے ُاتارا اور دل میں سب دبائے اسنے یہ الفاظ ادا کیے۔ “جی ابو میں ٹھیک۔” وہ بات کرتے کرتے لاونج میں چلی آئی۔ حال احوال کے بعد وہ فرحانہ کو فون پکڑا کے اندر کمرے کی طرف جانے لگی۔ عارف نے آبرو اچکاتے اشارہ کیا۔
“اسکو کیا ہوا ہے؟ ” اسنے لاپروائی سے چانے اُچکائے۔
“پتہ نہیں شاید لڑائی کی ہوگی .. اس کریلے سے۔” اس نے کمرے میں آکر زور سے دروازہ بند کیا اور پلنگ پر اوندھی لیٹ گئی۔ اس نے پاس پڑے گلابی ٹیڈی بئیر کو غصے سے زمین پر پھینکا۔ “احمق حمزہ۔” غصے میں لیٹے لیٹےکب اس کی آنکھ لگ گئی کہ اسے پتہ ہی نہ چلا اور جب آنکھ کھلی تو کمرہ گپ اندھیرے میں ڈھوبا ہوا تھا۔ چھت پر ستاروں جیسے اسٹیکرز جگمگا رہے تھے۔ “آہ امی ! ” وہ فوراً سے چلاتے ُاٹھ بیٹھی۔ برابر میں لیٹی انعمتہ نے لحاف سے چہرہ نکالا ۔ وہ سو نہیں رہی تھی ۔ بلکہ موبائیل استعمال کر رہی تھی۔ رات کے وقت وہ بہن بھائی فرحانہ کے خوف سے اسی طرح موبائیل استمعال کیا کرتے تھے۔” ُاف ! تمہارے فوبیے مجھے کسی دن قبرستان پہنچا دیں گے۔”یہ کہتے اسنے ساتھ سایڈ ٹیبل پر سے لیمپ جلایا۔ فوبیا یونانی زبان کے لفظ فوبس سے نکلا ہے ۔ جس کے معانی نفرت اور خوف کے ہیں۔ فوبیا ایک انتہائی خوف کی کیفیت یا کسی خاص صورتِ حال کی ناپسندگی کو کہتے ہیں۔ حورعین بھی کچھ ایسے ہی فوبیوں کا شکار تھی۔ “اب یہ کونسا فوبیا ہے؟ ” وہ اس کی طرف متوجہ ہوئی۔انعمتہ نے دوبارہ لحاف میں سے منہ نکالتے سرگوشی کی ۔”Nyctophobia یعنی اندھیرے سے ڈر۔ آخر تمھیں ہوتا کیا ہے حور؟” وہ کافی تجسس سے پوچھ رہی تھی۔وہ بیڈ کراون سے ٹیک لگاتے مضطرابی سے بولی۔ “پتہ نہیں یار میں بیان نہیں کر سکتی اپنی کیفیت…. بس لگتا ہے کہ میرا دم گٹ جائے گا ۔ مجھے اندھیرے میں وحشت سی ہونے لگتی ہے۔” انعمتہ نے لاپروائی سے دوسری سمت رُخ پھیر لیا۔اس نے بھی شانے اُچکا کر سایڈ ٹیبل پر سے اپنا موبائیل ُاٹھایا۔ اسکرین کی روشنی اس کے چہرے کو چمکانے لگی ۔ وہ واٹس ایپ پہ حمزہ کے آخری بار آن لائن کا وقت دیکھ رہی تھی ۔جو آدھے گھنٹے قبل بتا رہا تھا ۔ اس نے موبائیل پٹکھتے ہوئے انداز میں سایڈ ٹیبل پہ رکھا۔ “ہونہہ۔ پتہ نہیں کونسی اماں
سے لگا تھا۔ ” اور اسنے خفگی سے بڑبڑاتے ہوئے لحاف اوڑھ لیا۔ اگلا دن جمعے کا دن ۔ یعنی چھٹی کا دِن تھا۔ اُنکی صبح ذرا تاخیر سے ہوئی تھی۔ عارف سفید رنگ کے دِسداشاہ میں ملبوس، جمعے کی نماز کے لیے گھر سے نکل رہا تھا۔ دِسداشاہ عرب ممالک کے مردوں کا روایاتی لباس ہے ۔ جو میکسی کی طرح طویل سا ہوتا ہے۔ فرحانہ لاونج سے کمرے کی طرف جا رہی تھی۔ وہ پرستان والے کمرے میں چلی آئی۔ ” اُٹھ جاو جمعے کا دن ہے ۔ پورا دن سو کے گزار دیتی ہو ۔ کوئی ثواب نہیں ہوتا تم دونوں کو۔ لوگ جمعے کے دن جمعہ پڑھتے ہیں۔ عبادت کرتے ہیں ۔ لیکن تم لوگوں کا جمعہ تو ایسے ہی نکل جاتا ہے۔” اللہ اللہ کر کے وہ دونوں بہنیں سُستی سے اُٹھ بیٹھیں۔ “کیا امی ؟ چھٹی کا دن ہے اُس دن بھی آپ سونے نہیں دیتیں۔ ” انعمتہ آنکھیں مل رہی تھی۔ فرحانہ نے ناراضی سے اُسے دیکھا۔ “مجھے پتہ ہے ساری رات موبائیلوں پر لگے ہوتے ہو۔ کیا مجھے نہیں پتہ ہوتا ؟ سب پتہ ہے مجھے میری ناک کے نیچے کیا ہو رہا ہوتا ہے ۔ وہ الگ بات ہے میں کچھ نہیں بولتی۔ وقت پر سوئے ہو تو صبح کبھی اِتنی تاخیر سے نا اُٹھو۔ ہمارے وقتوں میں تو ہم بہن بھائی اتنی جلدی سو جایا کرتے تھے۔ اتنی جلدی اتنی جلدی ….” حورعین موبائیل استمعال کرتے رُکی۔
(اُف نوٹ اگین امی۔) “اتنی جلدی اتنی اتنی جلدی ..” انعمتہ اُکتائی۔ “کہ نیند ہی نہیں آیا کرتی تھی .. ہے نہ امی ؟” “ہوں ہاں … چلو ُاٹھو ۔ عارف کو میں نے کہا ہے ۔ آتے ہوئے لبنانی خبص لے آئے گا ۔ تھوڑی دیر تک لگاتی ہوں کھانا۔ ” “مجھے نہیں کھانا۔میرے لیے ایرانی خبص منگوانا تھا۔” خبص عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی روٹی کے ہیں۔ ایرانی روٹی کویتیوں کی روایاتی روٹی تھی ۔ جسے ایک خاص تندور میں لگایا جاتا تھا۔ “کوئی بھی خبص آئے۔ مجھے کچھ نہیں کھانا۔ میرا کوئی موڈ نہیں۔ ” فرحانہ کو غصہ چڑھا۔ “تو کیا کھانا ہے اپنے حور بی بی ؟” “پیزا۔” وہ فٹافٹ سے بولی تھی۔ حورعین کا بچپن سے ایک ہی مسئلہ تھا۔ اور وہ یہ تھا کہ وہ باہر کے کھانوں کو گھر کے کھانوں پر ترجیح دیا کرتی تھی۔
“کیا ہے ایسا پیزے میں حور ؟ جو تم کھا کھا کر نہیں تھکتی ؟” “اوہ امی پیزا پیزا۔ کیسے بتاوں ؟ میرے لیے کیا ہے پیزا۔” وہ کسی معصوم سے بچے کی طرح کہہ رہی تھی۔ “اچھا !” فرحانہ ہنس پڑی۔ “شام کو فیفتھ فلور والی باجی نےسورت مزمل پڑھانی ہے تم دونوں آو گی ؟” “امی وہاں پڑھائی نہیں بلکہ غیبت کمیٹی زیادہ کھلتی ہے۔”حورعین نے ناک سے مکھی ُاڑائی۔ “پچھلی بار جب میں گئی تو آنٹی بِلقیس کہہ رہی تھیں فلاع کا سیٹ دیکھا ہے نکلی ہے ۔ سونے کا پانی چڑھایا ہے سونے وونے کا کوئی نہیں ۔اور بینش کا میک اپ دیکھا ہے اللہُ اکبّر جیسے کِسی شادی پے آئی ہو اور فلاع کو دیکھو لگتا ہے منہ بھی دھو کر نہیں آئی۔ اس لیے ہم دونوں میں سے تو کوئی نہیں جا رہا۔” “مرضی ہے تم دونوں کی میں کیا کروں ؟ ہونہہ !” اور وہ کمرے سے نکل گئی۔
***************
“عارف دوسرے والا فیلٹر … ہاں ہاں یہ مکھی والا۔” وہ لاونج میں کسی Application سے سیلفیاں بنا رہے تھے ۔ مقابل والے صوفے پہ فرحانہ اُنھیں خفگی سے دیکھ رہی تھی۔ “ہمیں اللہ تعالٰی نے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے اور تم لوگوں کو یہ خود کو کتّے بلّی بنا کر کیا حاصل ہوتا ہے ؟” انعمتہ لاونج میں چلی آئی ۔
“امی سٹایل ہے۔”
“ایک تو یہ بچوں کا سٹایل نہ۔”اسنے غصے سے سر جھٹکا۔ تب ہی اس کے سیل فون کی گھنٹی بجی اور موبائیل کی اسکرین چمکنے لگی ۔ حورعین نے فوراً سے جگمگاتی اسکرین کو دیکھا۔ “اسلامی بہن۔” وہ لُولُو کا میسیج تھا۔
“اور ان کو بہکاوں گا اور ان کو امیدیں دِلاوں گا اور ان کو سیکھلاوں گا کہ بدلیں صورتیں بنائی ہوئی اللہ کی ف۶ اور جو کوئی بناوے شیطان کو دوست اللہ کو چھوڑ کر تو وہ صریح نقصان میں۔”
سورت النِّسَاء آیت نمبر ۱۱۹ ۔ “حورعین شیطان نے اللہ تعالٰی سے ان کی بنائی ہوئی چیزوں میں ردوبدل کا وعدہ کیا تھا۔ تو تم بتاؤ ؟ آج ہم لوگ اپنی شکلوں کو خراب کر کے کیا کر رہے ہیں ؟” اس نے موبائیل بند کرتے لب غصے سے بینچے اور موبائیل زور سے صوفے پر پٹکھ دیا ۔ لُولُو نے یہ پیغام اُسکی بھیجی ہوئی تصاویرات کے بعد بھیجا تھا ۔ لُولُو کی باتوں کا جواب جب بھی اُس کے پاس نہیں ہوا کرتا تھا ۔ تو وہ ایسے ہی کیا کرتی تھی ۔ لُولُو ہمیشہ اُسے لاجواب کر دیا کرتی تھی اور آج بھی اسنے اسے لاجواب کر دیا تھا۔ دوپہر شام میں ڈھل چکی تھی ۔ سرد ہوا برفیلا موسم ہر سمت اداسی چھائی تھی ۔وہ بالکونی میں بیٹھی اپنا موبائیل پکڑے ہر گھنٹی پہ موبائیل کو اس امید سے دیکھتی کہ شاید حمزہ ہو،اب حمزہ ہو پر کبھی لُولُو کا پیغام ہوتا یا عایزہ کا۔ انتظار کر کر کے وہ تھک چکی تھی ۔ آخر کار اسنے تھک کر حمزہ کو پیغام لکھنا شروع کیا کہ.. رُکی۔
“یہ کیا کر رہی ہو حورعین ؟” اس نے خود سے سوال کیا۔ “تم کیوں میسیج کر رہی ہو ؟ ہر بار تم ہی کیوں جُھکو ؟ ہر بار میں ہی کیوں پہل کروں ؟ ” یہ کہتے اسنے پیغام مٹایا اور گیلری کھول کر تصویریں دیکھنے لگی۔ وہ مسکرائی پرانی تصاویروں کے ساتھ ساتھ اسے اپنے بچپن کی پُرانی یادیں بھی یاد آئیں تھیں۔ حمزہ اس کے بال کھینچ رہا تھا ۔ وہ گڑیا ہاتھ میں گڑیا پکڑے اپنے بال چھڑاتے شور مچاتی تھی۔ “حمزہ تم بہت گندے ہو ۔چھوڑو میرے بال ۔”
“پہلے کہو تم ہار گئی۔” وہ محظوظ ہوا ۔
وہ سرخ چہرے سے احتجاجاً چلائی ۔
“یہ چیٹینگ ہے۔”
“آج کے بعد میں تمہارے ساتھ کبھی نہیں کھیلوں گی۔
” You’re the worst worst friend.”
(تم ایک بدترین بدترین دوست ہو۔)
بچپن کی میٹھی میٹھی یادیں کہیں پیچھے چُھوٹ گئیں۔ وہ وہیں بالکونی میں بیٹھی موبائیل بند کرنے لگی۔
” کیا بچپن اتنی جلدی گزر جاتا ہے؟ اور ہم کچھ نہیں کر پاتے ۔ کاش ہم اُن پریوں کِھلونوں کی دنیا میں واپس جا سکتے۔ ساری مشکلوں مصیبتوں کو یہیں چھوڑے وہاں رہ سکتے۔ جہاں کُچھ چوکلیٹس کھلونوں سے آنسوں رُک جایا کرتے تھے۔ اگر ہماری باقی کی زندگی پھر سے ویسی ہی ہو جائے تو کیا حرج ہے ؟ کاش ایسا ہو سکتا۔ ” اور اس نے گہری سانس لے کر سر جھٹکا۔
“کاش۔”ہفتے کا دن یونہی کالج کے ٹیسٹ وغیرہ کی تیاری میں مصروفیت میں گزر گیا۔ اتوار کی سرد صبح کی سنہری دھوپ کی کرنیں ہر سو پھیلیں تھیں۔ وہ سہیلیاں سبزے پر بیٹھیں تھیں ۔بچے فٹبال کھیل رہے تھے۔لُولُو ہاتھ میں پوکٹ سائز قرآن پکڑے اپنا قرآن پڑھ رہی تھی ۔ عایزہ کانوں میں اِیر فون لگائے ایم پی تھری پہ کوئی گیت سن رہی تھی ۔ حورعین نے یونہی اپنی میکسی کی جیب سے موبائیل نکالا اور اسکرین پہ دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی ۔اس نے قرآن کو چُومتے بند کیا اور ایک دم چونکی۔ “تم بھی موبائیل لاتی ہو حور ؟” اس نے بڑی بے نیازی سے شانے اُچکائے ۔
“تو کیا مسئلہ ہے ؟ میں کیوں نہیں لا سکتی ؟” “پر یہاں اِجازت نہیں ہے پکڑی گئی تو تم سے لے لیا جائے گا !” “تو یہاں تو اُردو بولنے کی بھی اجازت نہیں ہے مگر ہر کوئی اردو پنجابی بول رہا ہوتا ہے ۔ جگہ جگہ لکھ کر لگایا ہے سپیک انگلش،انگلش میڈیم سکول تو جیسے وہاں کوئی نہیں پکڑتا۔ کچھ نہیں کہتا یہاں بھی کچھ نہیں کہے گا۔” لاجواب ہونے کی باری اب لُولُو کی تھی ۔ وہ کچھ دیر تک یونہی اسے دیکھتی رہی اور پھر اس نے مسکرا کر پوچھا۔
“کیا بات ہے صلح ہو گئی ؟” “ہوں ہاں ہو گئی !” وہ موبائیل پہ ٹائپ کرتے مصروفیت سے بولی تھی۔
“گڈ !” اس نے کچھ سوچتے سر کو جنبش دی۔ “حورعین ؟” “ہاں ؟ ”
“What is your last seen of Quran ?”
وہ لکھتے لکھتے رُکی۔ وہ شاکڈ بھی تھی اور شرمندہ بھی۔ اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ کیا کہتی ؟ شاید چار پانچ ماہ قبل رمضان میں یا کب ؟ اِس کا ٹھیک ٹھیک جواب تو خود اس کے پاس بھی نہیں تھا۔ “کیا ہوا نہیں یاد ؟ ” وہ دم بخود اسے چپ کر کے سن رہی تھی۔
“روز واٹس ایپ کا تو لاسٹ سین بدلتا ہے ۔ لیکن قرآن کا نہیں ۔ روز موبائیل پہ تو اپنے دوست احباب کے میسیج دیکھ لیا کرتی ہو کبھی قرآن کھول کر اللہ تعالٰی کا میسیج بھی دیکھا ہے ؟ ” اب اسے اس پر خوب غصہ چڑھا۔ ” لُولُو دوست احباب سے مراد حمزہ ہے ۔سمجھتی ہوں تمہارا Taunt میں ۔ آئی ڈونٹ نو ؟ کیا مسئلہ ہے تمھے اس کے ساتھ ؟” وہ دبے دبے غصے سے کہہ رہی تھی۔ اور وہ خاموشی سے سب سن رہی تھی۔ “جب دیکھو یہ نہ کرو وہ نہ کرو ایسے نہ کرو ویسے نہ کرو !” اس کی آواز بلند ہوتی جا رہی تھی۔
“میری بات تو سنو حور۔”
“شٹ اپ ! شٹ اپ !” عایزہ نے شور کی وجہ سے ایک دم چونک کے کانوں سے آلہ نکالا۔ “کیا ہوا ؟” وہ اُٹھ کر ادھر سے باہر نکل گئی اور وہ آزردگی سے اسے جاتا دیکھتی رہی۔
(تم کتنا بدل گئی ہو حور۔ )
****************
دو سال پہلے :-
وہ کلاس میں اس سے کہہ رہی تھی۔
“تمہاری صرف بات ہو چکی ہے لیکن نکاح نہیں۔ اِس لیے اب حمزہ سے بات نہیں کرنا۔”وہ دفتر پہ لکھتے لکھتے رُکی اور لاپروائی سے بولی۔
“سب کرتے ہیں ۔کیا مسئلہ ہے لُولُو؟”
“مجھے کیا مسئلہ ہو گا ؟بس یہ نہیں ٹھیک !” اس نے آبرُو اُچکا کر سوالیاں نگاہوں سے اسے دیکھا اور بولی۔
“کیوں ؟” وہ پھر سے لکھنے لگی۔
“جو چیز حرام ہوتی ہے ۔ وہ حرام ہوتی ہے ۔ چاہے آپ کریں یا سب اور جو چیز حلال ہوتی ہے ۔ وہ حلال ہوتی ہے ۔ چاہے صرف آپ کریں یا کوئی بھی نہیں۔” وہ رُکی اس نے ایک کڑی نگاہ اس پہ ڈالی۔ “بس ! بس ! اب اگر تم نے حمزہ کے متعلق مجھے کوئی بھی لیکچر دیا ۔تو تمہاری میری دوستی ختم ۔اِز دیٹ کلیئر ؟” وہ چبا چبا کے بولی تھی۔کتنا خوبصورت اور شفاف چہرہ تھا۔ جس پر نہ کوئی خفگی تھی اور نہ ہی کوئی ناراضی ۔کیا کوئی اتنا کومل دل بھی ہو سکتا تھا ؟ اسنے گہری سانس لی۔
“تم مجھے کچھ بھی کہہ دو میں تمھے سمجھاؤں گی ۔چاہے تم کچھ بھی کرو۔ تم میری سہیلی ہو۔”
“اور تم مجھ سے دوستی ختم نہیں کرنا چاہتی ۔رائیٹ ؟ سو چپ رہو۔” اور وہ مایوسی سے سر جھٹک کر اپنے دفتر پہ لکھنے لگی۔ اُسے سمجھانا ناممکن تھا۔ بھلا وہ حورعین ہی کیوں ہوئی ؟ اگر وہ اپنی نہ کرتی۔ چھٹی کے وقت وہ اس کے پیچھے گراونڈ میں تیزی سے چلی آ رہی تھی۔ “حور تم نہیں جاو گی۔”
“یار وہ اس بار آیا ہوا ہے ۔ کیا ہو گیا ہے ؟ ویلنٹائنس ڈے ہے ۔ پچھلی بار وہ نہیں تھا ۔ یہ پیچھے ہی تو لورز پوائنٹ ہے۔” لورز پوائنٹ اسکول کی پچھلی سائیڈ پہ پارکینگ کی جگہ تھی ۔ جہاں پر اکثر لڑکیاں لڑکے ملا کرتے تھے ۔اس لیے اس جگہ کو لورز پوائنٹ کہا جاتا تھا۔ وہ اسکول گیٹ سے نکلنے لگی کہ لُولُو نے زور سے کھینچ کر اس کا ہاتھ اپنی گرفت میں لیا۔ “کیا ہے ؟” وہ کسی بدتمیز بچے کی طرح بولی تھی۔
“جس سے محبت کرتے ہیں اُسے پارسا رکھتے ہیں اپنی عزت بناتے ہیں ۔ نہ کہ تنہا سڑکوں پہ ملاقات کے لیے بلایا کرتے ہیں ۔ اب تم نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو میں خود آنٹی کو کال کروں گی۔” وہ بڑے اطمینان سی بولی تھی اور اس کا دماغ بھک سے اُڑ گیا تھا۔
“یو نو وٹ ؟ تم میری دوست نہیں ہو ۔ تم میری دشمن ہو دشمن …
‏.I Hate You” “اگر اِسے دشمنی کہتے ہیں ۔ تو مجھے دشمنی بھی قبول ہے ۔اینڈ آئی لوہ یو مائے بیسٹ فرینڈ۔ ” اس نے غصے سے ناک سکوڑی۔ “ہونہہ !” اور گراونڈ کی طرف مڑ گئی۔ اسنے مسکرا کر اسے جاتا دیکھا۔
“تم کچھ بھی کہو۔ میں تمھے کبھی کچھ غلط نہیں کرنے دوں گی۔”
“.By hook or by crook”
**************
لڑائی جگڑے کے کچھ ہی دیر بعد وہ واپس پہلے کی طرح نارمل ہو جایا کرتیں تھیں۔ حولی قرآن کا پیریڈ شروع ہو چکا تھا۔ اس سے قبل فزکس کا پیریڈ تھا۔ اس لیے حورعین اور عایزہ باہر نہیں نکل سکیں اور اُنھیں حولی قرآن کی کلاس لینی پڑی ۔ کلاس میں استاد اندر چلے آ رہے تھے۔ چہرے پہ داڑھی پنٹ کوٹ میں ملبوس وہ ایک مہزب اور پر وقار استاد لگتے تھے۔ “جو فجر پڑھ کر نہیں آیا وہ کھڑا ہو جائے۔” وہ ہمیشہ بچوں سے یہی پوچھا کرتے تھے ۔ تقریباً سب ہی طلباء بیٹھے تھے۔ کوئی اکا دکا ہی ہوگا جو کھڑا تھا۔ حورعین اور عایزہ بھی بیٹھیں رہیں ۔ البتہ وہ نماز پڑھ کر نہیں آئیں تھیں۔ اور لُولُو کو یہ بات کھٹکی تھی۔ وہ تشویش کرتے مشکوک سے انداز میں بولی۔
“تم دونوں واقعی نماز پڑھ کر آئی ہو ؟” ان دونوں نے بڑی معصومیت سے اثبات میں سر ہلایا۔ لیکن وہ اپنی سہیلیوں کو خوب اچھے سے جانتی تھی۔ اس نے اپنا قرآن میز سے اُٹھایا۔ “کھاو قسم اس پر ہاتھ رکھ کر ،کے تم دونوں فجر پڑھ کر آئی ہو۔” “کیوں ؟” حورعین نے اچھنبے سے اسے دیکھا۔ “کیونکہ تم اس پر ہاتھ رکھ کر جُھوٹ نہیں بولو گی۔”
“نہیں پڑھی۔” اس کی آواز میں شرمندگی اُبھری تھی۔ “لیکن میں نے پڑھی ہے !” عایزہ جھٹ سے بولی۔ “تو پھر کھاو قسم۔” اس نے قرآن آگے گیا اور یوں اس کے چہرے کی چمک پھیکی پڑی۔
“جھوٹ کیوں بولا ؟”حورعین کو غصہ چڑھا تھا مگر وہ ضبط کر گئی۔ “یہ اتنی بڑی بات نہیں۔” یہ کہتے اس نے پوکٹ سے موبائیل نکالا اور بیگ میں رکھ کر چھپکے سے استمعال کرنے لگی۔ وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔ موبائیل پہ مسٹر رائیٹ نام کی چیٹ کھلی تھی ۔ یہ حمزہ کا نمبر اُس نے اس نام سے اسی دن محفوظ کیا تھا جس دن عارف نے اسے فرحانہ کو بتا دینے کی دھمکی دی تھی۔ “حور ؟” “ہوں ؟” “مسٹر رائیٹ ایسے نہیں ہوتے۔” وہ کاپی پر مسٹر رائیٹ بار بار ایک دوسرے کے آگے آگے لکھ رہی تھی۔ وہ شکل بگاڑ کر بولی۔
“تو کیسے ہوتے ہیں مسٹر رائیٹ ؟” وہ ذرا مسکرائی۔ وہ اب بھی لکھ رہی تھی۔ “مسٹر رائیٹ کبھی بھی اللہ کو خفا نہیں کرتا ۔ مسٹر رائیٹ تمھیں اللہ سے کبھی بھی دور نہیں کرتا اور اگر وہ تمھیں اللہ سے دور کرے اور اللہ کو خفا کرے تو وہ مسٹر رائیٹ نہیں مائی ڈئیر وہ مسٹر رانگ ہوگا۔”
اسے پھر سے غصہ چڑھا تھا ۔ اس نے سرخ چہرے سے اسے دیکھ کر دیوار کی سمت رُخ پھیر لیا اور وہ اداسی سے اسے دیکھ کر ان استاد کی طرف متوجہ ہو گئی۔
وہ نماز نہ پڑھ کر آنے والے طلباء کو اسکی اہمیت بتا کر بیٹھاتے،آج کا موضوع شروع کرنے لگے تھے۔
***********
سہ پہر شام میں ڈھل چکی تھی ۔ پرندے آسماں پہ اُڑتے اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ نیلے آسماں کی ہلکی ہلکی نیلی روشنی اندر کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔ کمرہ نیم اندھیرے میں ڈھوبا ہوا تھا۔ جامنی شیشے کی بوتل میں موم بتی جل رہی تھی۔ وہ پلنگ پہ لیٹی مضطرابی سے کبھی دائیں کڑوٹ لیتی تو کبھی بائیں۔ “مسٹر رائیٹ۔ مسٹر رائیٹ۔” “اللہ کا میسیج۔” “لاسٹ سین۔”
“What is your last seen of Quran ?”
اس کے کانوں میں بار بار لُولُو کے اُٹھائے سوال گونجتے تھے۔
“مسٹر رائیٹ ۔ مسٹر رائیٹ۔” “اللہ کا میسیج۔” “لاسٹ سین۔” وہ ایک دم اُٹھ بیٹھی اور چلائی۔
“خاموش خاموش !” “بس چپ بس پلیز چپ !” وہ اُٹھی اور فوراً سے کمرے سے بھاگتے واش روم میں بھاگی آئی ۔اس نے نلکا کھول کر زور زور سے چہرے پر ٹھنڈا یخ پانی پھینکا۔ ایک سیکینڈ کے لیے تو جیسےاس کی سانس ہی رک گئی تھی۔ اس نے گہری سانس لی اور خود کو آئینے میں دیکھا۔ وہ وضوء کر کے تر آستینوں سے باہر نکلی تھی۔
اس کے چہرے سے پانی کی بوندیں ٹِپ ٹِپ کرتے گر رہیں تھیں ۔ اس نے کمرے میں آتے پلنگ پر سے سیاہ چادر اُٹھائی اور سر پر اوڑھنے لگی۔ وہ اپنے کمرے سے نکلتے ساتھ والے کمرے کی طرف بڑھی ۔ اس نے ڈور نوب گھمایا اور کمرے کا دروازہ کُھلتا چلا گیا ۔یہ کمرہ فرحانہ کا کمرہ تھا۔ دروازہ کھلتے ہی کمرے میں روشنی داخل ہونے لگی۔ وہ اندر چلی آئی ۔اس نے الماری کے پٹ کھولے اور سب سے اوپر والے خانے سے قرآن پکڑا۔ قرآن لے کر وہ پرستان والے کمرے میں چلی آئی۔ وہ سفیان صاحب کا قرآن تھا ۔ وہ روزانہ گھر میں قرآنِ کریم کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ آج کل وہ ان دِنوں پاکستان تھے تو ان کی عدم موجودگی میں کسی نے بھی قرآن پڑھنا تو دور کے بات اسے دیکھنا تک گوارا نہیں کیا تھا۔
وہ نچلا لب دانت میں دبائے قرآن کھولنے لگی۔ “لیٹس سی کیا میسیج ہے۔” اس نے کچھ صفحے پلٹے۔
” کیا انھوں نے ملک میں سیر نہیں کی پھر ان کے ایسے دل ہوجاتے جن سے سمجھتے یا ایسے کان ہو جاتے جن سے سنتے پس تحقیق بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں اندھے ہو جاتے ہیں۔” “دل اندھے ؟آنکھیں اندھی نہیں ۔ کیا کیا لکھا ہے؟ مجھے تو کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا۔ اُفوہ !” وہ کچھ گڑبڑائی ۔ اس نے کچھ صفحے اور پلٹے۔ “وہ نا مانے گیں اس کو جب تک نہ دیکھ لیں گے عزاب دردناک۔” “کیوں میں نے کیا کیا ہے ؟ جو عزاب درد ناک۔”
وہ اُلجھی۔ “بےشک تیرے رب کی پکڑ سخت ہے۔”اس نے جھرجھری لیتے قرآن بند کیا۔ “احمق لُولُو ۔ اللہ کا میسیج کدھر سے ؟یہ تو ہماری مذہبی کتاب ہے۔ بھلا اس میں کیا میسیج ہوگا ؟”
اور اس نے شانے اُچکا کر سر سے چادر کھینچی۔
**********
اس نے سرگوشی کی۔
“وہ والی بُک دکھانا۔” اور لُولُو نے پاس پڑی کتاب اُٹھا کر اسکی طرف بڑھائی ۔ لائبریری پیریڈ چل رہا تھا ۔ ساری کلاس لائبریری میں موجود تھی ۔ ہر سو خاموشی چھائی تھی ۔ طلباء خاموشی سے اپنی کتابیں پکڑے کتابی کیڑا بنے تھے۔ اس پیریڈ کے کامرس کے استاد آج اسکول نہیں آئے تھے، تو کامرس کے طالباؤں کو لائبریری ہی بلا لیا گیا تھا۔ شازیہ اس کے روبرو بیٹھی ایک صفحے پہ کچھ لکھنے لگی اور لکھ کر اسنے وہ صفحہ اس کے آگے کر دیا۔ اس نے کتاب سے نظریں ہٹائیں اور بے یقینی سے صفحے پہ دیکھا۔ “شیکسپئیر رومیو جولیٹ ہاں !” اس نے بس مسکرا کر سر کو خم دیا۔ وہ یہی پلے پڑھ رہی تھی ۔شازیہ نے پھر سے کچھ لکھا اور صفحہ آگے کر دیا۔ ” اور تمہارا بوئے فرینڈ کویت آگیا ہے نہ ؟” اس نے یہ پڑھتے ہی کتاب بند کی اور ساتھ میں بیٹھی لُولُو کے ہاتھ سے قلم کھینچا۔ وہ ایک دم سے اس کی طرف متوجہ ہوئی اور دیکھا کہ وہ زور زور سے دبا دبا کر لکھ رہی تھی۔ “Fiance منگیتر۔” ساتھ مسکراتا چہرہ بنایا۔ “جی ہاں وہ کویت آچکا ہے۔ خیر تم بتاؤ ؟ وہ تمہارا پھوپھو کا بیٹا کیسا ہے ؟ ببلو نام ہے نہ اسکا ۔ اوہ ہاں ! وہ تو منگیتر ہے نہ تمہارا۔ ہاں ہاں یاد آیا ۔ ابھی بھی ویسا ہی موٹا ہے کیا ؟ ہاہاہاہا۔” یہ لکھ کر اسنے صفحہ شازیہ کو پکڑا دیا ۔ وہ کاغذ پکڑے بڑی دلچسپی سے پڑھنے لگی اور پڑھتے پڑھتے اس کا چہرہ سُرخ ہونے لگا۔ اسے لگا تھا جیسے حورعین نے چند جملوں کے ذریعے اس کے چہرے پہ زور دار تماچہ ہی دے مارا ہو ۔ وہ خاموشی سے کتاب کھول کر پڑھنے لگی۔ لُولُو کو یہ سب اچھا نہیں لگا تھا۔ وہ اسے یونہی تاسف سے دیکھتی رہی ۔ پیریڈ کے اختتام کے بعد وہ دونوں گراونڈ میں چلی آ رہی تھیں۔ سرما کی سرد دھوپ گراونڈ میں بِکھری ہوئی تھی۔ عقب سے عایزہ بھاگتے ہوئے چلاتی آ رہی تھی۔
“حورعین !” “لُولُو !” “مر جاؤ تم دونوں مجھے چھوڑ کر آگئی۔”گراونڈ میں خاموشی کے باعث آواز ان کی سماعت سے ٹکرا کر گونج رہی تھی ۔ وہ بھاگتی ہوئی آئی اور پھولی ہوئی سانس سے اس نے ان کے خفا بھرے چہرے کو دیکھا۔ “عرض کیا ہے۔”
“اِرشاد اِرشاد۔”
لُولُو اس کے سردی میں بھی پسینے سے شرابور چہرے کو دیکھ کر ہنس پڑی ۔ اور حورعین نے بے نیازی سے سر جھٹکا۔ وہ
چلنے لگیں۔
“آج اپنی محبت کو نیا موڑ دیا اس نے
میرے لیے لڑکیاں چھیڑنا چھوڑ دیا اس نے
پہلے روتی تھی میں منہ کھول کر
اب میں روؤں نہ تو آگے والا دانت توڑ دیا اس نے
اس نے سرگوشی کر کے کان میں کہا “بات سننا”
کان پاس کیا تو باجی بول دیا اس نے
سردیاں آئی تو مالٹے لایا میرے لیے
مالٹے کھا کر آنکھوں میں چھلکا نچوڑ دیا اس نے
بےوفائی کی حد بھی دکھا دی اس بد بخت نے ،
ملنے گھر گئی تو کام والی بول دیا اس نے۔”
لُولُو بدقت مسکرائی۔
“کیا بات کیا بات ۔”
حورعین نے گہری سانس لی۔
“مزمل فرقان میں تمھیں گولی مار دوں گی۔”عایزہ یک دم جوش سے پوچھ پڑی۔
“تم نے مزمل کو دیکھا ہے ؟” جواباً اس نے بےنیازی سے ہاتھ جھلایا۔
“شوق نہیں !” وہ فٹبال پلے گراونڈ میں آکر لُولُو کے ساتھ بینچ پر بیٹھی ۔ عایزہ کویتی بچوں کے ساتھ فٹبال کھیلنے چلی گئی تھی۔ “حورعین ؟” وہ ہمیشہ کی طرح موبائیل استمعال کرتے مصروفیت سے بولی۔
“ہاں ؟” “تم نے آج ٹھیک نہیں کیا لائبریری میں۔ ” “کم آن وہ یہی ڈیزوہ کرتی تھی۔” اس نے نفی میں سر ہلاتے گہری سانس لی ۔
” یہ جو تکبر ہے نہ دیمک کی طرح ہوتا ہے ۔ یہ دھیرے دھیرے ہمیں حسد کے ذریعے کھاتا چلا جاتا ہے۔ انسان کے سب دوست احباب ،رشتوں کو اندرونی طور پر کھوکھلا کر دیتا ہے ۔ اور پھر ہماری ذات میں جو ذات باقی رہ جاتی ہے ۔وہ یہ میں ہوتی
ہے ہماری کسی نا کام کی میں۔ ” “لُولُو فخر نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے ۔ اب انسان خود پہ فخر بھی نہیں کر
سکتا ؟ ” وہ چڑی تھی۔
“کر سکتا ہے بلکل کر سکتا ہے ۔ لیکن تکبر اور فخر میں ناخن برابر فرق ہوتا ہے ۔ فخر کرنے والا کسی کو کمتر نہیں سمجھتا ۔ فخر کرنے والا اپنے ساتھ دوسروں کو بھی کامیاب ہوتے دیکھنا چاہتا ہے ۔ جبکہ تکبر والا خود سے آگے کسی کو نہیں دیکھ سکتا۔ تکبر میں خودی جیسے الفاظ آجاتے ہیں اور جب میں آپ کی زندگی میں آ جائے تب ہم ہمارے اپنوں جیسے لفظوں کے وجود مٹنے لگتے ہیں ۔ اور یہی میں اللہ کو خفا کر دیتی ہے ۔ خود پہ فخر ہونا چاہیے تکبر نہیں۔ ” “میں فٹبال کھیلنے جا رہی ہوں۔” وہ بینچ سے اُٹھی اور عایزہ کے قریب جانے لگی۔ اس نے اداسی سے پیچھے سر پھینک کر آنکھیں موند لیں۔ “اُف!”
دسمبر کا پہلا ہفتہ اپنے اختتام کو
پہنچنے والا تھا۔ صبح کا سورج بادلوں میں کہیں دور چھپا ہلکی ہلکی بارش کے ساتھ طلوع ہوا تھا ۔ ٹھنڈی ٹھنڈی فضا میں ٹھندی ٹھنڈی بارش کی بوچھار تھی ۔ بارش کے سبب گراونڈ میں سبزہ بھی نہا کر نکھرا نکھرا لگتا تھا۔ وہ بھوری لٹ کو کان کے پیچھے اڑستی ۔ لیکن ہوا کے جھونکے سے وہ ہر مرتبہ آگے آ کر جھولتی تھی۔ لُولُو اور وہ کافی غور سے عایزہ کو کسی فوجی افسر کی طرح ہاتھ میں نکلی پسٹل پکڑے ٹہلتا دیکھ رہیں تھیں۔ “مشن پیزا ہٹ !” “یس میم۔”اُنھوں نے اسے سیلوٹ کیا ۔
“تو جیسے کہ ہم جانتے ہیں۔ پرسوں سے ناویں دسویں کے امتحانات شروع ہونے والے ہیں اور پورے سکول کو ساڑھے یارہ بجے چھٹی ہوا کرے گی ۔ اور ایک دن پیپر اور ایک دن چھٹی ہوگی ۔ حتی کہ چھٹی والے دن بھی ساڑھے یارہ ہی چھٹی ہوا کرے گی۔”
لُولُو نے تذبذب سے پوچھا۔
“تو ؟”
جواباً حورعین ہاتھ باندھے بڑے آرام سے بولی ۔
“تو ہم پیزا ہٹ جائیں گے۔” “اتنی دور !”وہ گھبرائی۔
“کوئی دور نہیں ہے۔ ” عایزہ نے ناک سے مکھی اُڑائی۔ “بس ایک سڑک ہی تو پار کرنی ہے۔” “اب نا نہیں کرنا تم …لاسٹ اِیر ہے ہمارا۔” “نانو سے پوچھوں گی۔” وہ متفق نہیں تھی۔ “تم نانو سے پوچھو گی ؟کے ہم سکول کے بعد اکیلے پیزا ہٹ جائیں ؟ “عایزہ شکل بگاڑتے تمسخر سے ہنسنے لگی ۔ حورعین نے نفی میں سر ہلایا ۔ “چھوڑ دو ۔اس سے کچھ نہیں ہوگا۔” “ہاں سہی کہا اس نے بزدل ہی رہنا ہے۔” “کچھ نہیں کر سکتی یہ !” “کر سکتی ہوں میں ۔ مجھے انڈر ایسٹیمیٹ مت کرو۔”اسے شدید غصہ چڑھا تھا۔ “میں جاؤں گی ۔ ضرور جاؤں گی پر نانو کو سچ بتا کر۔”انھوں نے اسے اچھنبے سے دیکھا۔ “وٹ آر یو سیریس ؟” حورعین نے گہری سانس لی۔ “چھوڑ دو عایزے یہ مروائے گی ہمیں۔” “ہاں یار کون گھر والوں کو بتاتا ہے ؟ ” “اگر ہم اپنے دل کی بات اپنی فیملی سے نہیں کریں گے ۔ تو کس سے کریں گے ؟” “یار ایک جھوٹ سے کیا مسئلہ ہے ؟” وہ جھنجھلائی تھی۔ “ایک جھوٹ بولنے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ لیکن اس ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے سو جھوٹ بولنے سے ضرور مسئلہ ہو سکتا ہے۔” “ٹھیک ہے ٹھیک ہے اب تم دونوں بحث مت کرو ۔ جو دل چاہتا ہے کرو ۔سچ کہو یا جھوٹ۔ پر تم چلو گی۔” عایزہ نے ساری بات کو رفع دفع کیا۔ “تو ڈن۔” اس نے آگے ہاتھ بڑھایا۔ اور ان دونوں نے بھی اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ دیا۔ “ڈن۔”
***********
“کتنی دفعہ کہا ہے خود سیکھ لو چوٹی بنانا۔” فرحانہ اس کی چوٹی بنا رہی تھی۔ وہ اسکول ہمیشہ فرینچ نوٹ بنا کر ہی جایا کرتی تھی ۔ وہ سر جھکائے خاموشی سے سرد فرش پر موبائیل استمعال کر رہی تھی۔ “آہ !” فرحانہ نے اس کے بال کھینچے۔ “تھوڑی دیر چھوڑ دو گی اپنا بیزنس ؟” بال بناوا کر اسنے میز سے اپنا بیگ اُٹھایا۔ “اچھا امی میں نکل رہی ہوں۔ دوپہر پونے دو ہی آؤں گی۔” وہ چونک کر اچھنبے سے پوچھنے لگی۔
“کیوں امتحان کی ٹائیمنگ نہیں ؟” وہ جھٹ سے بولی۔
“نہیں امی وہ اگلے پیپر سے ہوگا۔”
(سوری امی آج پیزا پارٹی ہے۔)
اس نے کچھ سوچتے سر کو جنبش دی۔
“اچھا !” یہ حورعین نے کہا تھا اور ادھر فرحانہ نے یقین کر لیا ۔ معصوم ہو تو کوئی پھر فرحانہ جتنا۔
سردی کی شدت ذرا کم تھی ۔ سنہری دھوپ نے اپنے رنگ جلیب میں بِیکھیرے تھے ۔وہ چھٹی کے وقت اپنے شانوں پر بیگ لٹکائے سڑک پار کر رہیں تھیں ۔ لُولُو عایزہ نے اپنے اسکارف کے کنارے سے نقاب کر لیا تھا ۔ البتہ حورعین نے بس سر پر ڈھیلا ڈھالا سا ڈوپٹا لیا تھا ۔ اُس نے اُنھیں دیکھتے جھرجھری لی۔ “اللہُ اکبّر ! تم دونوں نے کیسے نقاب کیا ہے ؟ مجھے تو اس ڈوپٹے میں ہی اتنی کوفت ہو رہی ہے۔” ” اوہ بہن ہمارا یہ شہر ہے۔ ہم دونوں یہاں رہتے ہیں۔ کسی جان پہچان والے نے دیکھ لیا نہ ۔تو اپنے پیروں پہ گھر تک نہیں جا پائیں گے۔” “کئی سال یہ میرا بھی شہر رہا ہے ۔پر میں تم دونوں کی طرح ڈرپوک نہیں ہوں۔” “اللّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ….”
لُولُو اسکول سے آدھے راستے تک مسلسل آیت الکرسی کپکپاتے ہوئے پڑھ رہی تھی۔ “عایزے اس کو دیکھو یہ تو مر ہی جائے گی۔” “لُولُو بس کرو یار دیکھو ہم پہنچ گئے ہیں ۔ بس ایک مینٹ کی بات ہے اور وہ رہا پیزا ہٹ۔” عایزہ اس کا شانہ تھپتھپاتے اسے تسلی دے رہی تھی ۔ عایزہ کے کہے ہوئے کے مطابق وہ تینوں ٹھیک ایک مینٹ بعد پیزا ہٹ کے سامنے کھڑیں تھیں ۔عایزہ پیزا ہٹ کے بورڈ کو دیکھ کر فاتحانہ انداز میں مسکرائی ۔ اُدھر بیزا ہت لکھا ہوا تھا ۔ عربی زبان میں چونکہ پ اور ٹ نہیں ہوتا اس لیے اردو کے الفاظ جو پ او رٹ سے شروع ہوتے ہیں۔ وہ عربوں کے ب اور ت میں پڑھے جاتے ہیں۔ عایزہ چھوٹے بچوں کی طرح اُچھل رہی تھی۔
“اوے بلے بلے۔” وہ ہمیشہ جذباتی ہو کر خوشی یا غم کی کیفیت میں جوش سے اُردو بولتے بولتے پنجابی بولنے لگ جایا کرتی تھی ۔لُولُو کے ساتھ ایڈوینچر پر آکر اس کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانا ہی نہیں تھا۔ لُولُو بھی مسکرا کر ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔ “تمہارا یہ پینڈوپن ختم ہوگیا ہے ؟ تو اندر چلیں ؟” وہ اپنی ازلی بےنیازی سے بولی تھی۔ “اوکے ! تو پیزا ہٹ مشن کو پورا کرنے کے لیے ،
ہمارے کچھ قوانین اور اصول ہیں ۔ سو لیفٹینینٹ لُولُو اینڈ حورعین۔ فولو می۔ ” “روجر کیپٹن عایزہ۔”عایزہ دروازہ کھول کر اندر چلی آئی اور اس کے عقب میں وہ دونوں ۔ اندر ہر سو خاموشی چھائی تھی ۔ تمام میز کرسیاں خالیں تھیں ۔ تب ہی ایک ویٹر ان کے روبرو چلا آیا اور مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔ “گڈ آفٹرنون مادام۔” وہ ایک اسٹامکش سا لڑکا تھا ۔ عایزہ اسے دیکھتے ہی مصنوعی بےہوشی سے دل پہ ہاتھ رکھ کر پیچھے کو گری۔ “ہائے ! اتنا سونا ویٹر۔” اور اسنے اپنا سارا وزن لُولُو پر ڈال دیا ۔ حورعین نے زور سے اس کی پشت پر تھپڑ رسید کیا۔ “بدتمیز!” “احمق!” اور لُولُو نے اسے سیدھا کرتے اپنے بوٹ کو اسکے بوٹ پہ مسلا ۔وہ سیدھی ہوئی ۔ اس نے خود کو نارمل کیا۔ “تو پہلا اصول ۔جب بھی بیٹھو.. تو ہمیشہ کونے والی سیٹ پر بیٹھو۔” وہ پھر سے کیپٹن عایزہ بن گئی تھی۔ تھوری دیر بعد ہی وہ ویٹر کاپی لیے آڈر نوٹ کر رہا تھا۔ “کن نا سونا تینو رب نے بنایا ۔کن نا سونا۔” عایزہ اسے دیکھتے گن گنا رہی تھی ۔اس نے اچھنبے سے اسے دیکھا۔ “سوری مادام ؟” وہ ایک عرب لڑکا تھا۔ اس لیے پنجابی تو اسے سمجھ آنے سے رہی ۔ لُولُو مسلسل اس کے بوٹ پہ بوٹ رکھتی۔ مگر مجال ہے جو وہ لڑکی باز آئی تھی۔ وہ آڈر دے چکیں تھیں ۔ ویٹر اُنھیں سلاد کی پلیٹ دے چکا تھا ۔ عایزہ اُٹھی ۔”اصول نمبر دو ۔سلاد کی پلیٹ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو۔ ہم سلاد کو برج خلیفہ کی بلندی تک پہنچا کے ہی رہیں گے۔ اصول نمبر تین ۔سلاد ڈالتے شرمانا نہیں ۔یہ تو بلکل مت سمجھنا کہ ہم کوئی چوری کر رہے ہیں۔ سلاد کو ایسے ڈالنا ہے جیسے مالِ غنیمت لینے جا رہیں ہو ۔ پیٹ بھر جائے ۔ آنکھیں نہیں بھرنی چاہیں۔ ” انھوں نے کیپٹن عایزہ کی تاکید کے مطابق ٹھیک ویسا ہی کیا تھا جیسا اس نے کہا تھا۔ تہہ پہ تہہ لگاتے ان کی پلیٹ میں سلاد، کافی حد تک بُرج خلیفہ کی بلندی پر، پہنچ ہی گیا تھا۔
(کچھ دیر بعد)
لُولُو نے کولڈ ڈرنک کا بڑا سا گلاس پیچھے کیا۔ “بس اور نہیں پی سکتی ۔ یہ بہت بڑا گلاس ہے۔” اور ان دونوں کے چہرے پر شریر سی مسکراہٹ اُبھری۔ “ہوں کوئی نہیں۔”حورعین نے نیپکن سے منہ تھپتھپایا اور عایزہ نے نمک دانی اُٹھائی۔ “تو اصول نمبر چار ۔جب بچی ہوئی کولڈ ڈرنک نا پی جائے ….تو ان میں نمک مرچیاں ڈال دو۔”اس نے نمک مرچ گلاس میں اونڈھیل دی اور لُولُو کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ اس کے لیے یہ سب کافی عجیب اور نیا تھا۔ ” اللہُ اکبّر یہ کیوں کیا ؟” جواباً عایزہ بڑے مزے سے بولی۔
“تاکہ کوئی اور نہ پی سکے۔” “وہ تو ویسے بھی کوئی نہیں پیتا ۔ یہ ایک بہت ہی فضول حرکت تھی۔” “اصول اصول ہوتے ہیں اور ایک بہترین انسان وہی ہوتا ہے جو ہمیشہ اپنے اصولوں اور قوانین پر قائم و دائم رہے۔” اس نے تاسف سے نفی میں سر ہلایا۔ “نہایت ہی بیوقوفانہ قِسم کے اصول ہیں تمہارے۔” “چپ کرو تم دونوں ۔ چلو پیسے نکالو۔” عایزہ اپنے چھوٹے سے پرس سے پیسے نکالتے بولی ۔
“یار حورعین رُبع دینار ہے ؟ میرے پاس نہیں ہے۔ ربع خود ڈال دو۔” اس نے غصے سے اسے دیکھا۔ “میں ..” اور کچھ کہتے کہتے رُکی۔ ” ہوں اچھا۔ ” “اصول نمبر پانچ ۔ویٹر کو ٹیپ ضرور دینی چائیے، چاہے وہ پانچ فلس ہی کیوں نہ ہو۔”اس نے بل بک میں پانچ فلس رکھے۔ اور بک ویٹر کو پکڑائی ۔ وہ کافی حیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔ کیونکہ پانچ فلس کویت کا سب سے چھوٹا سکہ ہوا کرتا تھا ۔ ویٹر کے جاتے ہی اس نے ٹیبل پر پڑی کیچپ کی بوتل اُٹھائی اور بیگ میں رکھتے لُولُو کو دیکھ کر معزرت خانہ انداز میں مسکرائی۔ “ہی ہی عاداتاً مجبور !” “عایزے باز آ جاو۔”
وہ دبے دبے غصے سے کہتی خفگی سے حورعین کو دیکھنے لگی۔ “یہ میرا کام نہیں واللہ۔” اس نے فوراً سے دونوں ہاتھ اُٹھائے۔ “عایزہ بوٹل واپس رکھو۔”اس نے کسی ضدی بچے کی طرح ہاتھ باندھے اور نفی میں سر ہلایا ۔
“آہنہہ !” “پر کیوں ؟” “پیسے دیے ہیں۔”دو ٹوک انداز میں جواب آیا تھا۔ “خالی پیزا کے۔” “ایسے ہی پیزے کے ؟کیچپ کے بنا بھی کوئی پیزا پیزا ہوتا ہے ؟” وہ ایک کے بعد ایک سوال کا جواب بڑی ڈھٹائی سے دے رہی تھی ۔ کچھ دیر یونہی ان کے درمیان بحث بازی کے بعد لُولُو ہتھیار ڈالتے اُٹھی ، کیونکہ وہ سمجھ چکی تھی کہ عایزہ اشتیاق سے اسکی غلطی تسلیم کروانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ وہ باہر نکل رہیں تھیں۔ ادھر کوئی نوجوان شیڈز لگائے گاڑی کے بونیٹ پہ بیٹھا تھا۔ عایزہ کی اچانک اس پر نظر گئی ۔ اسنے پتلیاں سیکڑ کر دیکھا اور حورعین کا شانہ تھپتھپانے لگی۔ “اوئے اوئے !حمزہ کا دوست اظہر اظہر ۔یہ سکول کے باہر بھی آتا ہے نہ ؟یہ وہی ہے نہ۔ ” وہ اتنی زور زور سے چلا چلا کر کہہ رہی تھی ۔ کہ اب وہ لڑکا بھی ان کی طرف متوجہ ہوگیا تھا ۔ اس نے چشمہ اتار کر گھور کر حورعین کو دیکھا ۔ اور وہ سانس نہیں لے سکی تھی۔ اسنے اس کا ہاتھ اپنی گرفت میں لیا اور فوراً سے سڑک پار کرنے لگی۔ “سپیکر میں بول لینا تھا۔” وہ اس کی اس حرکت پہ خاصی خفا ہوئی تھی ۔”بتائے گا اب وہ جا کر حمزہ کو۔” لُولُو نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔
“تو تم کیا حمزہ کو بتا کر نہیں آئی ؟ ” “اسے کیا بتانا ہے ۔وہ کون ہے میرا ؟ ” “منگیتر ہے تمہارا۔”
“تو منگیتر ہی رہے نہ شوہر نہ بنے۔” “ویسے وہ تمھیں کچھ کہے گا تو نہیں ؟” وہ اب ذرا فکرمند ہوئی تھی۔
“نہیں اس نے کیا کہنا ہے ؟”
وہ حمزہ کی طرف سے بے فکر تھی مگر اُسے گمان تک نہیں تھا کہ حمزہ کیا کرنے والا تھا۔ کون بتائے اسے ؟کہ وہ کیا کرنے والا تھا ؟ کون بتائے اسے ؟ لیکن کون بتائے ؟ شام کو وہ پلنگ پر اوندھی لیٹی لیپ ٹاپ پہ کوئی فلم دیکھ رہی تھی۔ رات ہونے کو تھی۔ “حور چائے پیو گی ؟” انعمتہ نے کمرے سے نکلتے پوچھا “نہیں۔
Green Tea with one Teaspoon Honey.”
(سبز چائے ایک چائے کے چمچ شہد کے ساتھ۔) جواباً وہ ذرا مسکرائی۔
“شیور !” لیپ ٹاپ کے قریب پڑا اُس کا موبائیل بجنے لگا ۔ اس نے جھٹ سے موبائیل پکڑا اور جلتی اسکرین کو دیکھ کر مسکرائی ۔ اسکرین مسٹر رائیٹ کے نام سے چہکتی تھی۔ اسنے سبز آپشن پہ ٹچ کیا اور موبائیل کان سے لگایا ۔ “ہیلو !” “تم نے اس لڑکے سے کیوں بات کی ؟” وہ حمزہ تھا ۔ اور بےحد غصے سے طیش میں کہہ رہا تھا ۔ وہ اس کے کہے یہ الفاظ سن کر ششدررہ رہ گئی تھی ۔ وہ کوہنیوں کے بل اُٹھ بیٹھی۔ “یہ کیسے بات کر رہے ہو ؟ مینرز کدھر ہیں تمھارے ؟”
“شٹ اپ۔جسٹ شٹ اپ ۔مجھے اس نے بتایا ہے۔”
اس کا دل ڈھوبتا جا رہا تھا۔ وہ گڑبڑائی۔ “دیکھو حمزہ تمھیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔” “بکواس نہیں کرو !” “میں کہہ رہی ہوں نہ آئی سویر ۔ میں نے بس سمر اور سمیر سے بات کی تھی ۔ وہ بھی اس دن جس دن تم کویت آئے تھے۔ وہ بھی تمہارا پوچھنے کے لیے۔” وہ بےبسی سے اسے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ “میں اس کی بات نہیں کر رہا ۔میں اظہر کی بات کر رہا ہوں۔” “حمزہ .. میں نے ..” “جہاں جانا چاہتی ہو جاو۔ پر میری ایک عزت ہے ۔اسے خدا کے لیے برباد مت کرو۔” اس کی آنکھیں غصے سے ُسرخ ہونے لگیں تھیں ۔ ضبط کی رسی چھوٹتی دکھائی دے رہی تھی۔ “حمزہ ..” “مجھے تمہاری ایک نہیں سننی۔” “خاموش خاموش !” اور رسی چھوٹ کے ٹوٹی۔ اس جانب خاموشی چھا گئی۔ “میری بات اب غور سے سننا۔ اب میں بولوں گی۔ اور تم سُنو گے ۔ جتنا بکنا تھا بک ُچکے ۔ پہلی بات میں کہیں بھی جاؤں .. تمھے بتا کر جانا ضروری نہیں سمجھتی ۔ منگیتر ہو منگیتر ہی رہو ۔ شوہر بننے کی ضرورت نہیں ۔ دوسری بات ۔ میں نے کہا نہ میں نے کوئی بات نہیں کی ۔ ماننا ہے تو مانو نہیں ماننا تو بھاڑ میں جاو ۔ اینڈ لاسٹ بٹ نوٹ دا لیسٹ۔ اگر تم نے آئیندہ اس انداز میں مجھ سے بات کی یا میرے ساتھ اس روائیے سے پیش آئے۔ تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا ۔ تمہارے امی ابا کی جاگیر نہیں جو کچھ بھی کہو گے اور میں سن لوں گی .. سمجھے؟”
“کر لیتا ہو میں تمہارا علاج ۔”
وہ چبا چبا کے بولا تھا۔
“باسٹرڈ!” یہ کہتے اس نے موبائیل دیوار پہ دے مارا اور وہ زمین پر کھل کر بِکھر گیا ۔ وہ غصے سے گہری گہری سانسیں لے رہی تھی۔”ہاہ ! یہ بھی گیا ؟ ”
انعمتہ دروازے میں کھڑی دو مگ پکڑے ، پاؤں میں پڑے موبائیل کے ٹُکروں کو دیکھ رہی تھی ۔ وہ جب بھی اپنا غصہ ضبط نہیں کر پاتی تھی تو یونہی موبائیل دیوار پر دے مارا کرتی تھی۔ “یہ دو سالوں میں دوسرا موبائیل ہے تمہارا ۔ اُس پر بس نہیں چلتا تو موبائیل کا کیا قصور ہے ؟ ابو کے پیسے کیوں برباد کر رہی ہو ؟” اس کا غصہ اب غم اور غم سے آنسوؤں میں بدلنے لگا تھا ۔آنسوں ٹِپ ٹِپ گرنے لگے تھے۔ بنفشی آنکھوں میں ایک اداسی سی پھیل گئی تھی ۔ وہ حمزہ کی اس حرکت پر کافی رنجیدہ ہوئی تھی۔ اس نے بنا کچھ کہے خود پر منہ تک لحاف اوڑھ لیا۔ وہ جب بھی اُداس ہوا کرتی تھی تو یونہی بستر میں گم ہو جایا کرتی تھی اور آج بھی ایسا ہی ہوا تھا ۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ انعمتہ کا اسے یوں دیکھ کر دل دُکھا تھا۔ “حور بی بی گرین ٹی ؟”اس نے اس کا موڈ ٹھیک کرنا چاہا۔ اور ایک رندھی ہوئی آواز لحاف میں سے آئی۔ “نہیں پینی۔
“اس نے مگ سایڈ ٹیبل پہ رکھ دیا اور آزردگی سے گردن موڑ کر بکھرے موبائیل کے پرزو کو دیکھا۔
(تم مر کیوں نہیں جاتے کریلے ؟)
وہ کھڑکی کی طرف بڑھی نیلی شام ہر سو چھائی تھی۔ آج اُفق بھی افسردہ لگتا تھا ۔ اس نے نظریں اُٹھا کر افق پہ دیکھا۔ “اللہ تعالٰی آپ کے پاس تو اچھے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے نہ ۔پلیز آپ اُس کریلے کو ہماری زندگی سے لے جائیں اور حورعین کے لیے کوئی اچھا سا پرنس چارمنگ بھیج دیں ۔ وہ کریلا ہمیں بہت ہرٹ کرتا ہے ۔آپ کو پتہ ہے ؟سب کہتے ہیں کتنی پرفیکٹ فیملی ہے ..
پر اللہ تعالٰی دور سے تو پتھر بھی حسین لگتے ہیں پر وہ موتی تو نہیں ہوتے نہ ! یہاں کچھ پرفیکٹ نہیں ہے اللہ تعالٰی۔” آنکھیں بھیگنے لگیں۔ اس نے آنکھوں کے کنارے سے آنسوں پونچھے۔ کون بتائے اسے ؟ کہ اس کی یہ دعا جلد قبول ہونے والی تھی۔ کون بتائے اُنھیں ؟ کہ ان کی زندگی میں جلد ایک شہزادہ آنے والا تھا ۔ کون بتائے اُنھیں ؟ لیکن کون بتائے ؟
****************
“السلامُ علیکم !”وہ دروازہ کھول کر دن بھر کی تھکی ہاری سر جھکائے لاونج میں چلی آئی۔ “وعلیکم اسلام میرے بیٹے۔” اس آواز پر اس کی دن بھر کی تھکن ایک سیکنڈ میں غائب ہوئی اور اس کا چہرہ چمکنے لگا ۔ صوفے پہ سفیان صاحب بیٹھے شلوار قمیض میں ملبوس ،چہرہ کلین شیو اور آنکھیں تو ہوبہو حورعین جیسی ۔ حورعین کی آنکھیں اُن ہی پہ تھیں ۔ وہ ایک کافی مہذب اور خوش اخلاق قسم کے انسان تھے ۔ وہ صبح کی فلائٹ سے اس کے اسکول جانے کے بعد کویت پہنچے تھے۔ وہ بے یقینی سے انھیں دیکھ کر مسکرائی۔ “ابو !” اور فوراً سے بھاگ کر ان کے ساتھ آ لگی ۔ انھوں نے اسے ساتھ لگاتے اسکا ماتھا چوما۔ “آگیا میرا شیر بیٹا۔” وہ ُاسے بیٹا ہی بلایا کرتے تھے۔ حورعین کی پیدائش سے قبل سفیان صاحب کی امی کو بیٹے کی امید تھی لیکن بیٹی کی پیدائش کے بعد فرحانہ کافی غمزدہ ہوئی تھی اور سفیان صاحب ہمیشہ اس سے یہ کہا کرتے تھے۔ “اگر بیٹیاں ہونے میں کوئی خامی ہوتی
تو میرا رب کبھی بھی نبیے کریم ﷺ کو چار چار انمول موتی عطا نہ کرتا۔ اگر بیٹے گھر کا ہاتھ ہوتے ہیں تو بیٹیاں گھروں کا دل ہوتیں ہیں۔ ” فرحانہ کے سفیان صاحب کی امی اور بہنوں سے اختلافات کے
سبب ان کی ایک دوسرے سے نِب نہ سکی اور حورعین کی پیدائش کے کچھ ہی عرصے بعد اسے کویت بلا لیا گیا تھا ۔ تب سے وہ ان کے ساتھ کویت میں ہی تھی ۔
“ابو میرے تو ذہن سے ہی نکل گیا تھا کے آپ آنے والیں ہیں۔” ذہن میں ہوتا بھی کیسے ؟ وہاں تو پرسوں کی حمزہ سے ہوئی بحث گھوم رہی تھی۔ “کوئی بات نہیں ۔اور کیا کیا ؟ اپنی امی کو تنگ تو نہیں کیا ؟” وہ اپنے ساتھ صوفے پہ اسے بیٹھاتے پوچھ رہے تھے۔ وہ کچن کی طرف دیکھتے محظوظ ہوئی۔
” ابو ہم ؟ ہم ؟ ہماری یہ مجال ہم امی کو تنگ کرے ؟ ” فرحانہ مسکراتے کچن سے ہنڈیاں بھونتے لاونج کے سارے منظر کو دیکھ رہی تھی۔
“گُڈگرل۔”
تبھی عارف لاونج میں آتے تمسخر سے بولا۔ “آ گیا آپ کا بیٹا ؟ .. ابو !” جواباً وہ مسکرائے۔ “تو تم بیٹی بن جاو ۔ ویسے کوئی حرج تو نہیں بیٹی بننے میں ؟” وہ دونوں آبروئیں اُچکا کر چہکی۔
“ہاں ہماری پیاری سی عارف بیٹی۔ ” “عارف بیٹیاں تو بیٹا بن جاتی ہیں ۔بس بیٹے ہی بیٹی نہیں بنتے۔ ” اس نے خفگی سے اُنھیں دیکھا اور تیزی سے لاونج سے نکل گیا۔ “اوہو عارف بیٹی ناراض تو مت ہو۔”وہ اسے چڑاتے ہوئے اس کے پیچھے لپکی اور وہ ہنستے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگے۔ “کوئی حال نہیں ان بچوں کا۔”انھوں نے ٹی وی چلایا۔ “دُکھا دیا نہ میرے بیٹے کا دل اپنے۔” وہ ہاتھ باندھے ناراضی سے اُنھیں دیکھ رہی تھی ۔ وہ ذرا مسکرائے۔ ” میں نے ؟ میں نے کہاں دل ُدکھایا بیگم ؟ ” وہ فرحانہ کے برعکس نرم مزاج تھے ۔ سنگین سے سنگین مسئلوں کو بھی غصے لڑائی جگڑے سے حل کرنے کے بجائے تحمل سے بات کرنے کو زیادہ ترجیح دیا کرتے تھے۔ “آپ بچوں میں فرق کرتے ہیں سفیان۔ عارف محسوس کرتا ہے اس بات کو ۔اس طرح تو وہ احساسِ کمتری کا شکار ہو جائے گا۔ ” کچھ سوچتے انھوں نے گہری سانس لی۔ “فرحانہ وہ بھی میرا بچہ ہے اور مجھے میرے تینوں بچے بہت عزیز ہیں ۔ لیکن حورعین حورعین ہے میں کیا کر سکتا ہوں ؟ کوشش کرتا ہوں .. مگر ایک بچہ تو ایسا ہوتا ہے نہ ۔ جو آپ کے زیادہ قریب ہو ۔ میرے لیے وہ بچہ حورعین ہے۔ میرا مسئلہ بھی حضرت یعقوب سا ہے میں مجبور ہوں۔ ” انھوں نے بےبسی سے شانے اُچکائے۔

” کہیں آپ کا مسئلہ میرے بچوں کے درمیان بنی اسرائیل والا حسد نہ پیدا کر دے۔”اور وہ بس خاموش رہے۔ حورعین کو بگاڑنے میں سب سے بڑا اور صرف اور صرف واحد ہاتھ سفیان صاحب کا تھا۔ آخر وہ ان کی پہلی، لاڈلی اور چہیتی اولاد جو تھی۔
**************
“عارف بیٹی ،عارف بیٹی خفا ہو ؟” وہ دونوں بہنیں اسے کافی دیر سے بیٹی بیٹی کہتے چھیڑ رہیں تھیں ۔ سفیان صاحب اخبار پڑھ رہے تھے۔ “ابو دیکھیں نہ یہ مجھے کیا کہہ رہی ہے۔ ” “عارف وہ بڑی ہے کہہ سکتی ہے۔”
“اور انعمتہ ؟”اسنے شکل بگاڑی۔
“وہ چھوٹی ہے ۔وہ نہیں کہے گی تو کون کہے گا ؟ کہنے دو۔” اور وہ روہنسا ہوکر بولا ۔
“ہاں ہاں اور میں بیچ والا ہوں ۔ اس لیے میں صبر کروں۔ ” وہ بس مسکرائے اور اخبار پڑھتے رہے۔ “عارف بیٹی ،عارف بیٹی۔” اور وہ دونوں پھر سے شروع ہو گئیں ۔ وہ کب سے ہاتھ باندھے صبر کرتے ہوئے یونہی ٹی وی دیکھ رہا تھا کہ … اس نے یکدم جھپٹ کر حورعین کے بال پکڑ لیے۔ “آہ !” “اب بول بول نہ ذرا۔ ” “میرے بال چھوڑو نہیں تو مکا مار دونگیں۔ ”
“عارف چھوڑو بہن کو۔”وہ فوراً سے اخبار چھوڑ کر اسے ایک طرف کرنے لگے ۔ لاونج میں شور بلند ہونے لگا ۔ ان کی آوازیں گھر سے باہر جانے لگیں تھیں۔ فرحانہ بھی شور کے سبب لاونج میں آ گئی۔ “اللہُ اکبّر عارف ! بڑی بہن کو مار رہے ہو ؟”
وہ اپنے بال پکڑے چبتی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔ ریشمی بھوری زلفیں مرجھا سی گئیں تھیں۔
“درد ہو رہی ہے حور؟” انعمتہ نے اس
کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ فرحانہ سختی سے بولی ۔
“معافی مانگو ۔بڑی بہن ہے تمہاری۔”
“کتنی بڑی ہے ؟ بس ایک سال ہی نہ ؟سر پر چڑھایا ہوا ہے آپ لوگوں نےاسکو۔”
“عارف آپی بولو۔”
اُنھوں نہ یہ کہتے، نرمی سے اس کی پشت تھپتھپائی۔
“نہیں بولوں گا۔ویمپائیر ہے یہ ویمپائیر۔
آنکھیں دیکھیں ہیں اسکی ؟ویمپائیر جیسی۔” “ویمپائیر ہوگے تم ۔میں تمہارا منہ توڑ دونگیں۔” وہ اسے انگلی دکھاتے تنبیہ کر رہی تھی۔ “اور تم کیوں نہیں بولو گے آپی ؟ میں تو کوثر کو ہمیشہ ہمیشہ ہمیشہ …” “آپا بلاتی تھی کہ پورا خاندان بھی اُنھیں آپا بلانے لگا ۔ہے نہ امی ؟” وہ اُکتایا تھا۔ “سفیان دیکھ لیں اسے۔ ” وہ گرجے۔ “عارف!” اور لاونج میں خاموشی چھا گئی۔ ” ابھی کرتے ہیں یہی تمہارا علاج۔” “چلو لڑکیوں۔” اور وہ تینوں لاونج سے نکل گئیں ۔وہ جا چکیں تھیں۔ اب وہ سفیان صاحب کے ساتھ ہاتھ باندھے بیٹھا تھا ۔ اُنھوں نے اُسے مصنوعی خفگی سے دیکھا۔ “مجھے کیوں پھنساتے ہو تم بچے؟ میرے سامنے اپنی امی کو کہہ دیتے ہو …پھنس میں جاتا ہوں۔ اگلی بار سے میرے سامنے نا کہنا۔ ” وہ ہنس پڑے اور اس نے بھی ہنستے ہوئے اُنھیں ساتھ لگایا۔ “اوہ ابو یو آر دی بیسٹ ۔”بےشک وہ ایک بہترین باپ تھے۔
***********
وہ دھوپ دان میں بخور جلائے پورے گھر میں لیکر اسے گھما رہے تھے۔ اسکی تیز خوشبو اور دھوئیں نے عجیب و غریب سا ماحول بنا دیا تھا ۔گویا کوئی مزار ہو جیسے۔ بخور ایک چھوٹی سی اینٹ جیسی خوشبو والی لکڑی ہوتی ہے، جسے دھوپ دان میں کوئلے سے جلایا جاتا ہے۔ بخور عرب ممالک میں مذہبی تہواروں، شادیوں بیاہوں کی تقریبوں اور جمعے کے روز گھر کو مہکانے کے لیے لگائی جاتی ہے۔ عربیوں کا ماننا تھا کہ اس کے جلانے سے گھر میں جنات کے سائے نہیں آتے، اس لیے وہ اسے جمعے کے روز جلایا کرتے تھے۔ کئی سالوں سے سفیان صاحب نے کویت میں رہ کر کویتیوں کی کچھ عادات و روایات کو اپنا لیا تھا۔
اس خوشبو سے ان کی لاڈلی کو الرجی تھی۔ لیکن جب فرحانہ اپنے بچوں کو اُٹھانے میں ناکام رہتی.. تو آخری حربہ یہ بخور کی خوشبو اور دُھواں ہی ہوتا تھا۔ جس میں وہ سالوں سے کامیاب ثابت ہوتے تھے۔ لاونج سے نکلتے وہ ان کے کمرے کے باہر آ کھڑے ہوئے۔ اندر کمرے میں سویا مکھن سا چہرہ نیند میں بےچین ہونے لگا تھا۔ اس نے چہرے سے لحاف ہٹایا اور یکدم اُٹھ کر چھینکی۔ کمرے میں بخور کی خوشبو اور دُھواں ہر سمت پھیل چکا تھا۔ اس نے چھینکتے کھانستے دروازہ کھولا اور لاونج کی طرف بڑے بڑے ڈگ بھرنے لگی ۔ اس کے
پیچھے سے ہی عارف اور انعمتہ بھی چلے آئے۔
“ابو خدا کا واسطہ ہے اس کو بند کر دیں۔”وہ بڑے اطمینان سے بیٹھے ٹانگ پہ ٹانگ رکھے ۔اُنھیں دیکھ کر مسکرائے۔ “ماشاء اللہ اُٹھ گئے میرے بچے؟” “ابو کیوں جلائی ہے اپنے یہ ؟” اس نے خفگی سے ان سے پوچھا تھا۔ “جب گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو انگلی ٹیڑھی ہی کرنی پڑتی ہے۔ تمہاری امی تم تینوں کو دس آوازیں لگا چکی تھی ۔اگر اُٹھ جاتے تو میں کبھی ایسا نہ کرتا ۔ حتی کہ میں اسے تمہارے کمرے کے قریب تک نہ لاتا۔ ”
ان کا اپنے بچوں کو سنبھالنے کا انداز ذرا مختلف تھا ۔ انکا ماننا تھا کہ لڑکپن میں بچوں کو نرمی سے بغیر کسی ڈانٹ ڈپٹ کےسمجھا بجھا لینا چائیے، لیکن فرحانہ کو کون سمجھائے ؟ وہ جب تک دو چار اپنے بچوں کو سنا نہ لیتی یا کچن سے جوتی چپل پھینک نہ لیتی تو اسے تو دم ہی نہیں آتا تھا۔
“اچھا ۔ آج خلیل صاحب کے ساتھ، باہر رات کو ڈنر ہے ہم سب کا۔” اس کا چہرہ جو چھینکنے سے گلابی تھا وہ فوری سے سرخ ہوا ۔ وہ جب بھی حمزہ کے گھر والوں کے آنے کی خبر سُنا کرتی تو اسکا یہی حال ہوا کرتا تھا۔ وہ خاموشی سے میکانیکی انداز میں لاونج سے نکلنے لگی اور وہ اسکے پیچھے پیچھے ،محظوظ ہوتے گفتگو کرتے۔
“ویسے انُو کون کون آ رہا ہے ؟”
“کہا تو ہے ابو نے ،خلیل انکل کے ساتھ ڈنر ہے۔” “اچھا مجھے لگا آنٹی عابدہ بھی ہوں گی۔”
“اور شاید حمزہ بھائی بھی ۔ ہے نہ عارف ؟”وہ یہ سب دیکھ کر ہنس پڑے اور اُنھوں نے نفی میں سر ہلایا۔
“بچے نہ۔”
وہ لاونج میں آکر ان کے مقابل والے صوفے پہ بیٹھتے بولی۔
“اُٹھا دیا اپنے ؟ ” اور وہ میز سے اخبار پکڑنے لگے۔
“نہیں میرا خیال ہے ابھی بھی سو رہیں ہیں۔ ”
وہ خفا ہوئی۔”اُٹھ گئے ہیں ۔ دیکھ لیا ہے میں نے ،نظر خراب نہیں میری۔جواباً وہ ذرا مسکرائے۔
“اچھا !” فرحانہ نے ٹی وی چلایا۔ “مت دیکھا کرو یہ انڈین ڈِرامے۔” وہ برہمی سے اسکرین کی سمت دیکھتے بولے تھے۔
وہ ہمیشہ اپنے بچوں اور فرحانہ کو
ایسی کئی نصیحتیں کیا کرتے تھے ۔ مگر مجال ہے جو وہ ان کی بات سن لیتے۔
شام کو وہ دونوں خاندان والےکسی ریستوران میں ایک ساتھ آئے تھے ۔ وہ سنہرے رنگ کا کلچ پکڑے ،پیلی اے لائن قمیض پہ بالوں کا جوڑا بنائے کافی دلکش لگتی تھی ۔اس ریستوران کے کیبن پرانے کویتی گھروں کے طرز سے بنائے گئے تھے۔ “کیسی ہو ؟” وہ دھیرے سے بولا تھا۔ وہ کیبن کی طرف جا رہے تھے۔ لیکن وہ کچھ نہیں بولی ۔ ڈنر کے بعد وہ واش روم کے لیے کیبن سے نکلی۔ “ایکسکیوز می !” اور حمزہ بھی اُٹھا ۔ گھر والوں کے سامنے وہ حال احوال کے علاوہ اور کوئی زیادہ بات نہیں کیا کرتے تھے۔ “ابھی تک ناراض ہو ؟” “میرے پاس اور کوئی کام نہیں کیا ؟ جو تم سے ناراض ہونگیں ؟ ” وہ اسے چبتی نگاہوں سے دیکھتے مسکرائی۔ “آئی ایم سوری۔ مجھے پتہ ہے مجھے تم سے ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی ۔” وہ اسکے پیچھے پیچھے چلا آ رہا تھا۔ وہ رُکی ۔اس نے گردن موڑ کر اسے دیکھا اور گہری سانس لی۔ “کوئی بات نہیں۔ بات ختم۔”نہ لہجے میں خفگی تھی نہ پہلے جیسی اپنائیت ۔ وہ ہموار سے لہجے میں اس سے گفتگو کر رہی تھی۔ وہ ذرا مسکرایا۔
“آئی لوہ یو !” اور وہ بنا کچھ کہے
واش روم میں چلی گئی۔ وہ کبھی بھی اس بات کے جواب میں اسے کچھ نہیں کہا کرتی تھی۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ واش روم سے باہر نکلی۔ وہ وہیں کھڑا تھا۔ “تم گئے نہیں ؟”
“نہیں۔ ” “حورعین ؟” وہ کچھ سوچتے بولا۔
“ہمم ؟”
“کیا تم مجھ سے محبت نہیں کرتی ؟”
اس نے بڑی بے نیازی سے شانے اُچکائے۔
“نہیں محبت تو نہیں کرتی۔ میں تم سے کتنی دفعہ کہہ تو چکی ہوں .. ہم اچھے دوست ہیں ۔ رہی بات محبت کی تو وہ تو شادی کے بعد بھی ہو جائے گی ۔ فل حال یہ کہنا بہتر ہے .. کہ تم میرے فیانسے اور بہت اچھے دوست ہو۔” وہ یہ کہہ کر آگے بڑھی، کہ وہ بولا۔
‏”? Attitude ”
اور وہ پلٹی ۔ اس نے بےنیازی سے نفی میں سر ہلایا۔
“آہنہہ ! Dignity”
جواباً وہ سادگی سے بولا ۔
“اوکے ایز یو وِش۔” اور وہ اندر چلی گئی ۔ وہ خفا ہوا تھا ۔لیکن کسے پروا تھی ؟
انعمتہ عارف کے امتحانات کے بعد اس کے امتحان تھے۔ دسمبر کا مہینہ پڑھائی کی مصروفیت میں گزرا۔ امتحان کے بعد اسکول سے اُنھیں موسمِ
سرما کی تعطیلات ہو چُکی تھیں ۔سردی کی شدت پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئی تھی ۔وہ بالوں کا رف سا جوڑا بنائے ،لاونج میں پاؤں ہیٹر کے آگے کیے بیٹھی تھی۔ دیوار پہ آویزاں گھڑی بارہ بجانے ہی والی تھی۔ اسے حمزہ کے میسیج کا انتظار تھا۔ بس کچھ منٹوں میں اسکی آٹھاروی سالگرہ، شروع ہونے والی تھی۔
ٹھیک بارہ بجے گھر والے اسے سالگرہ کی مبارک باد دینے لگے۔ایک دم سے اس کے موبائیل کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔ اس نے جھٹ سے موبائیل پکڑا۔ لیکن وہاں حمزہ کا پیغام تو نہیں تھا ۔وہ واٹس ایپ گروپ پر عایزہ اور لُولُو کے پیغامات تھے۔
“تو عرض کیا ہے۔
اِرشاد اِرشاد۔
تم تو نہیں کہو گی چلو میں ہی کہہ دیتی ہوں۔ ”
ساتھ ہنستا ہوا چہرہ بنا تھا۔
“ڈبے میں ڈبا، ڈبے میں کیک
ڈبے میں ڈبا ،ڈبے میں کیک
خدا کرے ہو جاؤ تم .. اٹھارہ سے ایک سو ایک !”
وہ بے اختیار مسکرائی۔ “مزمل نے تھوڑی دیر پہلے ہی فیس بک پہ پوسٹ کیا ہے ۔ آج ھادی غفار کی بھی سالگرہ ہے نہ۔” “ھادی غفار؟”اس نے اچھنبے سے اسکرین پہ دیکھا۔” اب یہ کونسا نمونہ ہے ؟ ” آج اسے پہلی مرتبہ مزمل فرقان کا کوئی شعر پسند آیا تھا۔ کون تھا مزمل فرقان ؟ جو بن جانے بن دیکھے بھی اس کے چہرے پہ مسکراہٹ بکھیر گیا تھا ۔
مسکراتے چمکتے چہرے کی جوت مدھم ہونے لگی ۔اسے دوبارہ سے یاد آیا ۔ حمزہ کا تو کوئی پیغام نہیں تھا۔ حمزہ تو کہیں بھی نہیں تھا ۔ سب کچھ تو تھا۔ سب نے تو مبارک باد دی تھی ۔ بس ایک اس نے ہی تو نہیں دی تھی۔ وہ مایوسی سے سر جھٹک کر کمرے میں جانے لگی۔
“اس بار بھی بھول گئے۔” انعمتہ عارف ڈائینگ ٹیبل پہ کٹوری ہاتھ میں لیے ،آئس کریم کھا رہے تھے۔ “لگتا ہے آج بھی کریلے نے وِش نہیں کیا۔” عارف نے اسے اداسی سے جاتا دیکھا۔
جواباً اس نے ہوا میں ہاتھ جھٹکا۔
“دفعہ کرو ہے ہی گھٹیا آدمی !”
“تو کیا اچھا آدمی ہونا چاہیے ؟ اس بدتمیز کے لیے ؟” وہ محظوظ ہوا تھا۔
“بڑے بدتمیز ہو تم ویسے۔”
جواباً وہ ہنس پڑا۔
“اچھا ! ویسے کیسا ہونا چائیے اچھے آدمی کو ؟”
“وہ جسکی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے لیے روئے۔ وہ جو اپنے سے پہلے اس کی خواہشوں کو ترجیح دے۔ وہ جو محبت سے بڑھ کر اسکی عزت کرے۔ وہ جو خود سے بڑھ کر اس پر یقین کرے۔ وہ جو ہر وقت اس کے ہاتھ کو تھامے رکھے۔ وہ جو ہمیشہ اس کے لیے کھڑا رہے ،اور وہ جو اسکی قدر کرے ۔ ایسا ہوتا ہے اچھا آدمی۔ ایک اچھا انسان اور ایک اچھا جیون ساتھی۔” وہ چمچ منہ کے قریب روکے اسے کافی سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا۔
“بکواس نہیں کرو۔ ڈیزنی فلمیں دیکھ دیکھ کر پرنس چارمنگوں نے تمہارا دماغ خراب کر دیا ہے ۔ ایسا حقیقی زندگی میں نہیں ہوتا سمجھی؟”
“تم نے خود پوچھا تھا کہ اچھا آدمی کیسا ہوتا ہے ۔
تو میں نے بتا دیا، اب تمھیں پسند نہیں آیا، تو میں کیا کروں ؟ ہونہہ ! ” وہ کرسی کھینچ کر آُٹھی۔
اور عارف شانے اُچکا کر بڑبڑایا۔ “مجھے کیا ؟ اچھا آدمی ہو یا گھٹیا۔”
************
گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ بیٹھا ایک برف سی سفید رنگت کا نوجوان ،جس کے سنہرے بال ماتھے پر ایک طرف پڑتے تھے ۔ کلین شیو چہرا ،گہری سبز آنکھیں اور ناک کے قریب چھوٹے چھوٹے بھورے بھورے دبے تھے ۔ وہ اپنے برابر والی سیٹ پہ کسی لڑکے سے کہہ رہا تھا۔
“تمہارا دماغ کام کر رہی ہے ؟ دیکھو مزمل کو اگر اس بات کا پتہ چل گئی نہ تو وہ تمھیں ڈائی کر دیگی.. میں مزمل سے جھوٹ نہیں بول سکتی۔”
“یار شیر خان کچھ نہیں ہوگا۔ تم مجھے یہ این جی او کے پیسے دے دو ۔میں تمھیں ان ہے دوگنے کر کے لوٹا دوں گا ۔ میرا بھی فائدہ ہو جائے گا اور تمہارا بھی ،اور مزمل کو کچھ پتہ بھی نہیں چلے گا۔” کویت کے کسی این جی او (NGO)میں مزمل فرقان اور اسکے کچھ ساتھی دوست،ماہوار اپنی تنخواہ سے کچھ پیسےبھجوایا کرتے تھے ۔ مزمل اس ماہ این جی او نہیں جا سکا تو اسنے جمع کی رقم شیر خان کو دے دی تھی۔
شیر خان ایک بھولا بھالا سیدھا سادا سا انسان تھا ۔ جسے جو کہہ دیا جاتا تھا وہ اسی پر یقین کر لیا کرتا تھا۔ وہ متفق نہیں تھا۔ پھر بھی کچھ سوچتے اسنےاپنے پاس پڑے سیاہ بیگ کی زپ کھولی، اور پیسے نکال کر اسے تھمائے ۔ “دیکھو شہباز ۔جیسے دے رہی ہے ویسے ہی لے گی بھی ۔اوکے۔” شیر خان کی گفتگو کے لب و لہجے میں، اردو کا استمعال کم اور انگریزی کا زیادہ ہوا کرتا تھا۔ اس کا ماننا تھاجتنی انگریزی بولی جائے ، انسان کی اُتنی ہی قدر کی جاتی ہے ۔اِس لیے انگریزی نہ آنے کے باوجود بھی وہ ٹوٹی پھوٹی انگریزی کو ،اردو کے ساتھ ملا کر بولا کرتا تھا۔ “دیکھو میں ایک ٹاک بتا دیتی ہے۔ مزمل کا غصہ بہت خطرناک ہے۔ وہ غلط چیز برداشت نہیں کرتی۔” “دیکھی جائے گی ۔”اس نے لاپروائی سے ہاتھ جھلایا اور چابی اگنیشن میں گھمائی۔
*********
“امی اس لڑکے کی وڈیو دیکھیں۔”
انعمتہ
کرسی کھینچ کے بیٹھی۔ اور اسنے فرحانہ کے آگے موبائیل کیا ۔ وہ عینک لگائے چاول صاف کر رہی تھی۔ “کون ہے یہ ؟”وہ رُکی اور اسنےغور سے اسکرین پہ دیکھا۔ “کتنا پیارا بچہ ہے۔”وہ ہلکا سا مسکرائی۔ “مزمل .. مزمل فرقان ہے یہ۔” قریب میں ٹی وی دیکھتی حورعین نے چونک کہ اسے دیکھا۔ اسے دیکھ کر یوں لگتا تھا جسے ُاسے تو سانپ ہی سونگھ گیا ہو۔ “اور یہ لڑکی کون بنا ہے ؟” فرحانہ ہنستے ہنستے پوچھ رہی تھی۔ “شیر خان اور یہ دوسرا ھادی غفار !”
یہ ویلنٹائینس
ویک چل رہا تھا ۔ موسمِ سرما کی تعطیلات تمام ہو چکی تھیں۔ وہ کافی دیر تک فرحانہ کو اسکی دوسری وڈیوز دکھاتی رہی اور حورعین بیزارگی سے ان دونوں کو دیکھتی رہی ۔ اب فرحانہ کچن کے کاموں
میں مصروف ہو گئی ،تو انعمتہ
اس کی طرف چلی آئی۔ “لو ! تم بھی دیکھو۔” “میں نہیں دیکھتی۔ “وہ فٹافٹ سے اُٹھی اور لاونج سے نکلنے لگی۔ “ہاں ہاں !تم اسے اس لیے نہیں دیکھنا چاہتی نہ ،کہ کہیں تمھیں اس پر کرش نہ ہو جائے ۔ہے نہ ؟ہے نہ ؟”
“انوُ بکو مت !” اور وہ بنا پلٹے اسے یہ کہہ کر پرستان میں چلی آئی۔ اس نے زور سے کمرے کا دروازہ بند کیا ۔ اور ٹیک لگا کر دھیرے دھیرے بیٹھنے لگی۔ “مزمل فرقان ،مزمل فرقان ،مزمل فرقان۔”
وہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں کوفت سے مسلنے لگی ۔ آخر کون تھا مزمل فرقان ؟ جس کے نام سے بھی اسے کوفت ہونے لگتی تھی ۔آج کل وہ جہاں بھی جاتی۔ جس سے بھی ملتی ،تو اسے بس ایک ہی نام ،ہر کسی کی زبان سے سننے کو ملا کرتا تھا ۔اور وہ نام تھا مزمل فرقان ۔ جانے وہ کون تھا ؟ کیسا تھا ؟ کہاں تھا ؟ کون بتائے وہ کیسا تھا ؟ کون بتائے ؟ لیکن کون بتائے ؟
************

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں