سلسلہ وار ناول سچے موتی…..قسط نمبر دو (۲)

باب : کون تھا مزمل فرقان ؟

حصہ دوم

لکھاری : تحریم ارشد

************

اس نے ناک سے مکھی اُڑائی۔

“ہاتھ کی صفائی ہے اور کچھ نہیں۔”

“اور جو تم کر رہی ہو اسے کہتے ہیں زبان کی صفائی۔”

عایزہ خفگی سے بولی تھی۔ اسنے بےیقینی سے اسے دیکھا “زبان کی صفائی ؟”

“ہاں زبان کی صفائی ۔ تم اسکی تعریف کرنا چاہتی ہو پر یہ تمہاری انا آڑے آ رہی ہے ۔ اور

تم اس انا کو ناپسندگی اور گھٹیا جیسے لفظوں کے لبادے میں بڑی مہارت سے اوڑھ کر ہمارے آگے پیش کر رہی ہو ۔ ہے نہ ۔”

جواباً اس نے بیزاری سے نفی میں سر ہلایا۔

“وٹ ربیش !” اور اب لُولُو بھی رہ نہیں پائی۔

“Hoor He’s a Nice Man !”

(حور وہ ایک اچھا آدمی ہے ! )

اس نے اُکتا کر ہاتھ اُٹھائے۔

“اوکے اوکے جو بھی ہے ۔”

وہ جزیرے پہ پہنچ چکیں تھیں۔ سنہری دھوپ کی نرم گرم کرنیں اس کے مکھن سے چہرے پہ جذب ہو رہیں تھیں۔ دھوپ کے ساتھ ساتھ تیز سرد ہوا چلتی تھی۔عایزہ کسی چھوٹے بچے کی طرح جھومی۔

“اوہ یس میرا خواب تھا یہاں آنا ۔”

“خواب۔”

لُولُو ذرا مسکرائی۔

“اور تمہارا کیا خواب ہے حورعین ؟” “ایک بہترین زندگی جس میں کوئی بھی خامی نہ ہو ۔ نکتے بھر سی بھی نہیں۔ ” “ہوں گڈ ۔” وہ Lake Garden نام کے بنے باغ میں داخل ہو رہیں تھیں ۔وہ جھیل میں بنا ہوا تھا ۔ اور جھیل

پہ پل بنائے گئے تھے۔

بطخیں، بگلیں ،چڑیاں اُڑتے ہوئے چہچہاتی تھیں ۔ وہ باغ جنگلی پتوں سے ڈھکا ہوا

تھا۔ فلیکا میں موسم کبھی سرد لگتا تھا تو کبھی گرم ۔ جھیل میں بطخوں کے گھر بنے ہوئے تھے۔ پُل پر سے لوگ جھیل سے مچھلیوں کا شکار کر رہے تھے ۔وہ جزیرہ ایک قابلِ ستائش جزیرہ تھا ۔جسے ایک تاریخی حیثیت حاصل تھی۔ وہ اب پل سے گزر رہیں تھیں ۔ ُپل کے روبرو جھاڑیوں میں اُنھیں مور اور ہرن بھی دکھے تھے۔ “پتہ ہے حور ہماری زندگی بھی کچھ اس مور جیسی ہے۔ ” “کیا ؟” اس نے شکن آلودہ چہرے سے جھرجھری لی ۔

“لُولُو تم نہ کچھ بھی بولتی ہو۔”

عایزہ نے بھی ناک چڑھاتے نفی میں سر ہلایا۔ “سنو تو سہی ۔ دیکھو یہ کتنا خوبصورت ہے ، پر اس کے پاؤں اتنے ہی بدصورت ۔ جانتی ہو ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ کیونکہ کوئی بھی چیز مکمل نہیں ہوتی ۔ اگر وہ مکمل ہو جائے تو اس شخص میں انا آ جاتی ہے ۔اور وہ انا ہر کسی کو حقیر سمجھنے لگتی ہے۔ زندگی میں کچھ نہ کچھ ضرور ادھورا رہ جاتا ہے۔ مکمل ذات تو صرف اللہ تعالٰی کی ہے اور کسی کی نہیں۔ ”

“تمہیں یہ باتیں کون سکھاتا ہے ؟ ”

اس نے بڑی دلچسپی سے پوچھا ۔

“اور بہترین نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں جن پر گزر ہوتا رہتا ہے ان کا اور وہ ان پر دھیان نہیں کرتے ف۶” سورت یوسف (۱۰۵)

“نشانیاں ! “وہ چونکی۔

“ہاں نشانیاں ! ”

“ہوں۔” اور وہ سر جھٹک کر خاموشی سے چلتی رہی۔

وہ منہدم سفید عمارتوں کو دیکھ رہیں تھیں۔ وہ عمارتیں بمباری سے تباہ تھیں اور ان پر گولیوں کے نشان بھی موجود تھے۔ یہ ۱۹۹۰ کی جنگ کی کچھ نشانیاں تھیں۔ جنگ سے پہلے فلیکا ایک آباد جگہ تھی ۔ ادھر بچوں کے اسکول اور لوگوں کے گھر ہوا کرتے تھے ۔ عراقی قبضے کے بعد ۱۹۹۰ میں فلیکا میں عراقیوں کی حکومت آ گئی تھی اور کویتیوں نے عراقیوں سے نجات کے لیے امریکیوں سے تعاون کیا تھا۔ پھر امریکی فوج نے کویتیوں کے ساتھ مل کر عراقیوں پہ دھابہ بھول دیا اور عراقیوں کو کویت سے مار بھگایا تھا۔ اب فلیکا صرف سیاحوں کی توجہ کا مرکز تھا۔ فلیکی ہر ہفتے فلیکا آیا کرتے تھے ۔البتہ وہ اب وہاں رہتے نہیں تھے۔

“پتہ ہے لڑکیوں مجھے یہ کھنڈرات انسان کی حقیقت بتاتے ہیں۔ ایک وقت تھا یہاں کتنی آبادی ہوا کرتی تھی اور آج یہاں کچھ بھی نہیں ہے۔”

فلیکا کو تاریخی اعتبار سے دیکھا جاتا تھا۔ یہ دوسرے جزیروں سے ذرا منفرد جزیرہ تھا ۔جہاں خوبصورتی سے زیادہ ویران گھر اور کھنڈرات ظلم کی داستانیں سناتے تھے۔

وہ فلیکا کے سمندر پہ ریت پہ ٹہل رہیں تھیں یہاں کی خاص بات یہ تھی کے یہاں سیپوں سے موتی نکلا کرتے تھے ۔ کویتی کویت میں فلیکا ہی سے موتیوں کا کاروبار کیا کرتے تھے۔ ان تینوں نے اپنے لیے ایک ایک سیپ چنا اور عایزہ نے اپنے ناخن تراش کی چُھری سے سب کے سیپ کاٹے۔ اب وہ ریت پہ بیٹھی اپنے اپنے سیب کھول رہیں تھیں۔ بنفشی آنکھوں میں افسردگی پھیلی۔

“میرے میں تو کچھ نہیں ۔”

“میرا بھی۔ ”

“اور میرا بھی۔ ”

اور عایزہ نے غصے سے سیپ ریت پہ پھینکا۔ اب وہ ان کے لیے کھانے کے لیے کچھ لینے گئی تھی۔حورعین گھٹنو پہ تھوڑی گرائے سامنے سمندر میں اس نوجوان کو ہنستے مسکراتے واٹر بائیک چلاتا دیکھ رہی تھی۔ “کیا ہوا ؟” لُولُو نے اسے کہیں کھویا پایا۔ “میرا خواب ٹوٹا ہے !” “کیسا خواب ؟”

“سیپ میں موتی ۔”

“کچھ خواب ٹوٹ جانے کے لیے ہوتے

ہیں۔ ”

(کوئی تو ایسی دنیا ہوگی جہاں خواب خواہشیں ہمیشہ رہ سکیں ۔ وہ مکمل بےشک نہ ہوں پر امید تو ہو ۔)

صبح سے دوپہر ہوئی لُولُو نماز پڑھنے گئی تھی ۔ عایزہ پھر سے سیپ چُننے لگی۔ وہ وہیں ریت پہ بیٹھی تھی۔ تبھی اس نے اس مصری سن رسیدہ عورت کو قرآن پڑھتے سنا۔

“اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے جس میں ایک چراغ ہو۔ وہ چراغ شیشے کے شمع دان میں ہو۔ وہ شیشہ ایسا ہو گویا ایک چمکتا ہوا روشن ستارہ ہے۔ وہ (چراغ) زیتون کے ایسے مبارک درخت سے روشن کیا گیا ہو جو نہ مشرقی ہو اور نہ مغربی۔ اس (درخت) کا تیل ایسا ہے کہ قریب ہے کہ وہ از خود بھڑک کر روشن ہو جائے خواہ اسے آگ کے شعلے نے بھی نہ چھوا ہو۔ یہ نور پر نور ہے۔ اللہ اپنے نور کی طرف جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور اللہ لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کا دائمی علم رکھنے والا ہے۔” سورت نور (۳۵)۔

وہ فوبیے کی شکار نور کی طرف کھینچی چلی آتی تھی ۔وہ بنا پلکیں جھپکے اسے سن رہی تھی۔

“نور کہاں ملتا ہے ؟” اس کے پوتے نے اس سے پوچھا۔

“اندھیرے میں !”

“اندھیرے میں نور کیسے مل سکتا ہے ؟” وہ خاصی کنفیوز ہوئی تھی۔

“اور ہمیں کیسے پتہ چلتا ہے یہ نور ہے ؟”

“جو ہر سو بکھرے اندھیرے کو صرف ایک تجلی سے منور کردے تو سمجھ لینا وہ نور ہے۔”

“اور جسے اندھیرے میں بھی نور نہ ملے ؟”

“تو نہیں بنایا جس کے لیے اللہ نے نور تو نہیں ہے اس کے لیے کوئی نور۔” سورت نور (۴۰)

وہ از خود کہہ پڑی۔

“نور !” وہ آسمان کی سمت دیکھتے اُداسی سے بولی۔ “ابو کہتےہیں قرآن ہماری زندگی ہے۔

لُولُوکہتی ہے قرآن میں ہماری زندگی کی نشانیاں ہیں ۔اور یہ کہتیں ہیں اندھیرے میں نور۔ پتہ نہیں میں قرآن کو کیوں نہیں سمجھ پاتی ۔ لیکن اس کی طرف کھینچی بھی چلی آتی ہوں۔ اوہ اللہ میں تیری کتاب کو کیوں نہیں سمجھ پاتی ؟ ”

کروز کے نکلنے کا وقت قریب

تھا۔ لُولُو مسجد میں عصر کی نماز پڑھنے گئی تھی ۔ وہیں سے وہ تینوں نوجوان نکل رہے تھے۔ عایزہ نے فوراً سے موقعے کا فائدہ اُٹھایا اور مزمل کی طرف بھاگی چلی آئی۔ “ہیلو مزمل میں یاد ہوں نہ اس دن سکول والی ۔اوٹوگراف بھی لیا تھا۔”

وہ ایک ہی سانس میں بولی تھی۔ “السلام علیکم جی یاد ہے۔”

اس کے اس دوٹوک انداز نے اسے تذلیل کر کے رکھ دیا تھا۔ “اوکے بائے!”

وہ یہ کہہ کر مسجد میں جانے لگی ۔

ھادی نے تاسف سے اسے دیکھا۔

“مزمل اتنا ڑُوڈ ۔” اس نے بےنیازی سے ہاتھ جھلایا۔

“خلی ولی !” اور اچانک اس کی نظر اس سیاہ چشمے والی لڑکی پہ گئی ۔

وہ سیاہ چشمے والا آج پہلی دفعہ اس سیاہ چشمے والی خوبصورت دوشیزہ کو دیکھ رہا تھا۔ “نہیں چاہیے !” اسنے کسی بچے کو انکار میں ہاتھ دکھایا تھا۔ جو مٹی کے برتن بیچ رہا تھا۔ “گھمنڈی !”

یہ وہ پہلا لفظ تھا ۔

جو اسنے حورعین سفیان کو پہلی مرتبہ دیکھ کر ادا کیا تھا۔ “کون ؟” ھادی نےتلاش کرتے سامنے دیکھا۔ “وہ چشمے والی !” “گھمنڈی تو ہوگی نہ ایک دم Mankind Angel ہے !”

‏”? Mankind Angel اوہ بھائی یہ کونسی مخلوق ہے ؟”

“حور … ایک دم حور ہے۔”

وہ یہ کہتے اسے دیکھ کر پلٹا۔

“ہاں ہاں بابا انکل ہمارے ساتھ ہی ہیں۔”

وہ لُولُو کے ساتھ چلتے موبائیل پہ بات کر رہی تھی ۔

“جھوٹی !” اور اس نے جھرجھری لی

کروز واپس آ چکا تھا۔ وہ اسے اور ھادی کو اسی سن رسیدہ کی

ویل چئیر سیڑھیوں سے اُتارتے دیکھ رہی تھی۔

وہ ہلکا سا مسکرائی۔

“لوفر !”وہ گھر آ کر صبح کی تھکی چہرے

پہ بازو رکھے پلنگ پہ لیٹی تھی۔ انعمتہ

ساتھ لیپ ٹاپ پہ فیس بک استمعال کر رہی تھی۔ “آج مزمل بھی آیا تھا ؟” “ہوں !” “تو پھر تم نے بھی براہ راست اس کا گانا سنا کیا ؟”

اسنے اسکی آج کے گیت والی وڈیو چلائی ۔

وہ یکدم اُٹھ بیٹھی اور وہ وڈیو دیکھنے لگی ۔

تبھی اس کے موبائیل کی گھنٹی بجی اور اس نے جھٹ سے موبائیل پکڑا ۔اسکرین مسٹر رائیٹ کالنگ بتاتے چہکی ۔ وہ ذرا مسکرائی۔ “تو آگئی ان کو میری یاد۔”

اسنے کال اُٹھائی ۔

“ہیلو السلامُ علیکم !”

” سنا ہے آج آپ فلیکا گئیں تھیں ؟”

وہ طنز کرتے بولا تھا۔ اس نے محظوظ ہوتے ترمیم کی۔” سنا ہے نہیں بلکہ فیس بک سے دیکھا ہے۔” انعمتہ نے اکتاہٹ سے آنکھیں گھمائیں۔ “تو کوئی لڑکا پسند آیا ؟” اس کا چہرہ غصے سے لال پیلا ہوا۔ وہ جتنے ٹھنڈے انداز میں بولا تھا دوسری سمت اتنی ہی آگ لگی تھی۔ “کیا بکواس کر رہے ہو ؟”

“میں تو ویسے پوچھ رہا ہوں۔”

“تم ایسے کیسے میرے کردار پہ انگلی اُٹھا سکتے ہو ؟”

وہ رندھی ہوئی آواز سے کہہ رہی تھی آنکھوں سے گرم گرم آنسوں اُبلنے لگے ۔ انعمتہ نے یکایک گردن اُٹھا کر اسے دیکھا۔ “کیا ہوا ؟”

“جو دل کرتا ہے کرتی ہو جہاں دل چاہتا ہے جاتی ہو ۔ کیا پتہ کیا کیا کرتی ہوگی ؟ اور تمہاری سہیلیاں۔ عایزہ تو لڑکوں کے پیچھے پاگل اور ہاں وہ کویتی ،لُولُو جسکے اپنے دادیال نے بھی اسی نہیں اپنایا ،کیریکٹرلیس ہی تو ہیں ۔ تو جیسی سہیلیاں ہیں تمہاری ویسی تم بھی تو ہو سکتی ہو۔ ”

“حمزہ !” آنسوں لڑھک کے گردن پہ گرنے لگے۔

“دیکھو اگر چاہتی ہو نہ ہمارا رشتہ سہی رہے تو ایسی بدکردار اور خراب لڑکیوں کو چھوڑ دو ۔ میری بہت عزت ہیں یہاں !” پانی سر سے اوپر جانے لگا تھا ۔آنکھوں سے آنسوں خشک ہونے لگے۔ اس نے نفرت سے سامنے دیوار پہ دیکھتے آنسوں پونچھے۔ ” دوسروں کی عزتوں اور کمزوریوں پر انگلی اُٹھا کر دوسروں کو بدکردار ثابت کر کے خود کو خاندانی اور عزت دار گھرانے والا سمجھنے والے خود بھی باکردار نہیں ہو سکتے۔ مجھے شرم آتی ہے تمھیں اپنا دوست بھی کہتے ہوئےبھاڑ۔ میں جاؤ۔

اسنے کال کاٹی ، لیپ ٹاپ اسکرین پہ مزمل کی چلتی وڈیو کو دیکھا۔ “گھٹیا انسان !” اور موبائیل اچکایا کہ انعمتہ نے فوراً سے موبائیل پکڑ لیا۔ “جب کسی پہ بس نہیں چلتا تمہارا تو اپنے بیچارے موبائیل کو پھینک دیتی ہو اور آج اس شریف انسان کو گھٹیا انسان کہہ رہی ہو ۔ گھٹیا انسان یہ نہیں یہ ہے۔ ”

اس نے موبائیل کی طرف حمزہ کا کر کے اشارہ کیا۔ “پچھلی بار تو تمہارے موبائیل کا زیادہ نقصان نہیں ہوا تھا ۔اس لیے میں نے عارف نے پیسے ملا کر ٹھیک کروا دیا تھا ۔لیکن اس بار ٹوٹا تو کام سے جائے گا ۔ لہذا موبائیل کو مارنے سے بہتر ہے اس گھٹیا انسان کو مار ڈالو۔”

اور اسنے بنا کچھ کہے غصے سے اوپر تک کمبل تان لیا۔

************

کمرے میں ہلکی سی زرد روشنی بکھری ہوئی تھی ۔سایڈ ٹیبل پہ لیمپ جلایا ہوا تھا ۔ “سوری نانو !”

لُولُو

ان کی گود میں سر رکھے زور و قطار رو رہی تھی۔

وہ سن رسیدہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے اس کے سنہرے بالوں میں ہاتھ پھیر رہیں تھیں۔ “کوئی بات نہیں میرے بچے، تمہارا کوئی قصور نہیں ہے اس میں۔ ” “پر نانو آپ جانتی ہیں نہ ۔ میں نے آپ سے کبھی کچھ نہیں چھپایا۔” وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔ “تو اب کونسا میری جان نے مجھ سے کچھ چھپایا ہے ؟” وہ بڑی شفقت و محبت سے اسے چپ کروا رہیں تھیں۔ مگر ان نیلی آنکھوں سے آنسوں تو تھامنے کا نام ہی نہیں لیتے تھے۔

“نانو سب میری ماں کو غلط کہتے تھے۔ میرے تایا سب نے میری ماں کو کیا کیا سنایا ۔ پر امی ابو کی کیا غلطی تھی ؟ نانو اُنھوں نے تو شادی کی تھی نہ ۔

امی کا یہ قصور تھا کہ وہ پاکستانی نہیں تھیں ؟ صرف اس وجہ سے ان کی تربیت و کردار پر انگلیاں اُٹھائی گئیں تھیں۔ میں نہیں چاہتی نانو اب وہ لوگ یا کوئی بھی آپ کی پرورش پہ انگلی اُٹھائے۔ ایک دفعہ ہو چکا ہے بار بار نہیں ہوگا۔”

وہ اُداسی سے نم آنکھوں سے کہتی گئی اور وہ اُداسی سے سنتیں رہیں ۔ موتیوں کے لبوں کی ہنسی تو آج فیلکا میں ہی چُھوٹ گئی تھی۔ کون بتائے اُنھیں ؟ کہ ابھی تو اُنھیں کئی کٹھن مرحلوں سے گزرنا تھا۔ کون بتائے ؟ اب آزمائش کا وقت شروع ہونے والا تھا۔ کون بتائے اُنھیں ؟ لیکن کون بتائے ؟

******************

“مجھے یقین نہیں آ رہا بس فئیرویل پارٹی کے بعد ، ہمارے لیے کالج کے دروازے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گے۔”

“عایزے اوور ایکٹینگ بند کرو۔ ”

اپریل کا پہلا ہفتہ شروع ہو چکا تھا۔ بہار ہر سو چھائی تھی۔ وہ سبزے پہ اُداسی سے گفتگو کر رہیں تھیں۔

“تو عرض کیا ہے۔”

اسنے لاپروائی سے ہاتھ جھلایا۔

“اِرشاد اِرشاد۔”

لُولُو بھی ان کے ساتھ ہی بیٹھی قرآن پڑھ رہی تھی۔

“شمع پروانے سے کہہ رہی ہے

شمع پروانے سے کہہ رہی ہے

واہ واہ

حورعین ذرا رومال دینا میری ناک بہت بہہ رہی ہے۔”

“ای یکھ !” اس نے زور سے اس کے منہ پہ ٹیشو پھینک دیا۔ “استغفراللّٰہ !”

اور اسنے قرآن بند کرتے نفی میں سر ہلایا۔

“اچھا تو یہ بتاو ؟ کیا پہن رہی ہو فئیرویل پہ گاوٴن ہی نہ ؟”

اس نے تصدیق کرتے پوچھا۔ “ہاں !”

“اوہ ہاں! عایزہ ،لُولُو اسکارف اُتارو گی نہ ؟” “ہاں میں اُتاروں گی۔” “لیکن میں نہیں اُتاروں گی ۔”

لُولُو کا جواب دو ٹوک آیا تھا۔ “کیوں باجی جی ؟” وہ ذرا چونکی ۔

“لُولُو لڑکے نہیں

ہیں اُتار لو میں بھی تو اُتار رہی ہوں نہ۔ ” “لڑکے نہیں ہے لیکن میل ٹیچرز ،پرنسپل ، وائز پرنسپل تو ہیں

نہ۔ ” “لُولُو وہ ہمارے ابو کی طرح ہیں۔ ”

اور اس نے فٹافٹ قرآن کھولا اور کچھ صفحے پلٹنے لگی۔

“اور نہ کھولیں اپنا سنگار مگر اپنے خاوند کہ آگے یا اپنے باپ کے یا خاوند کے باپ کے یا اپنے بیٹے کے یا اپنے خاوند کے بیٹے کے یا اپنے بھائی کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی عورتوں کے۔”

وہ دونوں اسے سُن ہوتے سن رہیں تھیں۔

“محرم کا دوسرا نام بھروسہ ہے ۔اللہ تعالٰی نے قرآن میں ہمارے لیے ہمارے محرموں کی وضاحت کی ہوئی ہے۔ باپ جیسا یا بھائی جیسا ہونے سے کوئی آپ کا محرم نہیں بن جاتا۔ ”

“تو تم ایسے ہی اسکارف میں آؤ گی ؟ بلکل سیمپل ؟” “ہاں !”

حورعین کو بھی کافی حیرت ہوئی تھی۔ البتہ وہ خاموش رہی۔ قرآن کی آیتیں سنتے ہی وہ ہمیشہ بےبس ہو جایا کرتی تھی ۔ اور آج بھی ہوگئی تھی۔

“پر اس دن سب تیار ہونگیں یار ! سب کتنے اچھے لگ رہیں ہونگیں۔ پلیز تم اسکارف اتار دو نہ۔ ایسے تو تمہاری پکچرز بھی اچھی نہیں آئیں گی۔”

وہ خاصی ہرٹ ہوئی تھی۔

“کیا سیپ میں موتی اپنی قدر کھو بیٹھتا ہے ؟ جو حجابی لڑکی حجاب میں اپنی قدر کھو بیٹھے ؟ مجھے کسی کو متاثر نہیں کرنا کیونکہ حجابی لڑکیاں صرف اللہ کو متاثر کرتی ہیں۔”

یہ کہتے وہ تیزی سے اُٹھی اور آنسوں صاف کرتے باہر کو چل دی۔

****************

“انعمتہ میری ہیلز لانا۔”

وہ سنگار میز کے سامنے عنابی رنگ کے موتیوں سے بھرے شیفون کے گاؤن میں ملبوس ، جھومر

والے جھمکے پہن رہی تھی۔ بالوں کی بیک گومبنگ کی ہوئی اور کچھ لٹیں ماتھے پہ پڑتیں تھیں۔ ” یہ لو ہیلز !”انعمتہ

نے جوتی کا ڈبہ آگے کیا۔ “اچھا !میرا کلچ بھی لے آو۔”

“اچھا !” حورعین نے آج کے دن اسے بھگا بھگا کر اس کا حشر کیا ہوا تھا۔ وہ دوسرے کان کا جھمکا پہنتے ہوئے کہنے لگی۔ “وہ چھوٹے بہن بھائی ہی کس کام کے ؟ جو آپ کے چھوٹے موٹے کام ہی نہ آ سکیں۔” “لو یہ لو کلچ۔ ”

اس نے موتیوں سے بھرا کلچ اسے تھمایا۔ سنگار کے بعد وہ مغروری ناک اُٹھائے بڑے ناز و انداز میں انعمتہ سے پوچھنے لگی۔ “تو کیسی لگ رہی ہوں میں ؟”

انعمتہ موبائیل استمعال

کرتے بڑے آرام سے بولی۔ “بلکل ویمپائیر !”

اور اس کے چہرے کی تو ہوایاں ہی اُڑ گئیں تھیں ۔ یہ اس نے اس موہنی دلفریب سے چہرے کو کیا کہہ دیا تھا ؟ ایک ویمپائیر ۔ اس نے زور سے فرش پہ پاؤں پٹکا۔

“جب کبھی آپکو یوں محسوس ہو کہ آپ کوہِ خوبصورتی کی چوٹی پہ کھڑیں ہیں۔ تو بس ایک مرتبہ اپنے کسی چھوٹے بہن بھائی سے رجوع کر لیں۔ وہ آپ کے سارے شق و شبهے بنا کسی دقت کے دور کر دینگیں۔”

******************

فئیرویل کے بعد بورڈ امتحانات میں وہ اس قدر مصروف ہو گئی کے حمزہ سے اس کی کوئی بات نہ ہو سکی۔ جون کے مہینے کا آغاز ہو چکا تھا اور شدید گرمی پڑنے لگی تھی ۔ کویت میں گرمیوں میں درجہِ حرارت اکثر ساٹھ ڈگری سینٹی گریڈ تک جاتا تھا ۔ چھٹیوں کی آمد آمد تھی ۔اسکول کالج بند ہو رہے تھے ۔ عایزہ کی پاکستان کی فلائٹ تھی ۔ وہ اعلٰی تعلیم کے لیے پاکستان جا رہی تھی ۔ عارف بھی اپنے رِزلٹ کے بعد پاکستان جا رہا تھا۔ اس نے الماری کے پٹ کھولے اور لٹکے کپڑوں کو دونوں ہاتھوں سے کونوں پہ کیا ۔ سامنے لکڑی پہ چھوٹا سا چارٹ لگا تھا جس پہ لکھا تھا۔

“ڈریم لسٹ۔”

(خوابوں کی فہرست۔)

وہ اسکے خواب تھے۔

نمبر ۱ ایفل ٹاور۔

نمبر ۲ لینٹرنز (چراغہ)۔

نمبر ۳ آبشار۔

نمبر ۴ پھولوں کے کھیت۔

نمبر ۵ سیپ میں موتی۔

وہ اُنھیں پڑھ کر مسکرائی۔ “میرے خواب۔” مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ بہت جلد اسکے یہ خواب ٹوٹنے والے تھے۔ وہ سادی سی گڑیا بازو فراک میں ملبوس اس سے ملنے ائیرپورٹ آئی تھی ۔ لُولُو اسے نانو کی خراب طبیعت کے باعث چھوڑنے نہ آسکی تھی۔ “آئی ول مس یو عایزے۔ ” ان دونوں کی آنکھوں میں آنسوں تھے۔ “عرض کیا ہے ۔”

“اِرشاد اِرشاد ۔” آج اسکے اِرشاد کہنے کے انداز میں نہ تو کوئی بے نیازی تھی اور نہ ہی کوئی بیزاری کیونکہ وہ جانتی تھی۔ کہ اب کوئی اسے ایک لمبے عرصے تک شعر سنا سنا کر تنگ نہیں کرنے والا ۔ لیکن کون بتائے اسے ؟ کہ یہ اس کی غلط فہمی تھی ۔ کون بتائے اسے؟ لیکن کون بتائے ؟

“فقط اس لیے میں نے کویت چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا حورعین

فقط اس لیے میں نے کویت چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا حورعین

کہ کوئی پوچھ نہ لے رِزلٹ کا کیا بنا ہے ؟

جواباً وہ ہنس پڑی۔

“بڑا خراب شعر تھا۔ ”

اور وہ جھٹ سے بولی۔

“ہاں مزمل کا جو نہیں تھا۔”

وہ ائیرپورٹ سے عایزہ سے مل کر گھر آ رہی تھی۔ اسنے ڈور نوب گھمایا اور باہر کا دروازہ کھلتا چلا گیا۔ وہ راہداری سے گزرتے لاونج میں چلی آئی ۔ ہر سو خاموشی چھائی تھی ۔ اب وہ راہداری سے پرستان کی طرف بڑھی اور چلتے چلتے رکی ۔

عارف کے کمرے کا دروازہ نیم کُھلا تھا۔ انعمتہ اس کے ساتھ پلے سٹیشن کھیل رہی تھی۔ وہ اُنھیں دیکھ کر مسکرائی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھتے ڈور نوب گھمانے لگی۔

“یہ میرے بچوں کہ ساتھ کیا ہو رہا ہے ؟” وہ چونکی اسے ساتھ والے کمرے سے فرحانہ کی آواز سنائی دی تھی۔ “بچوں ؟” اس کے ماتھے پہ شکنیں اُبھریں اور وہ بدقت سفیان صاحب کے کمرے کی سمت بڑھی۔ دروازہ بند تھا ۔ وہ جھکی اس نے پتلیاں سیکڑ کر قفل منہ سے اندر کا منظر دیکھا ۔ پلنگ کے ایک کونے پہ بیٹھی فرحانہ روئے جا رہی تھی اور دوسری سمت سفیان صاحب بھی افسردہ لگتے تھے۔”تو کیا آج ابو اس لیے بینک نہیں گئے ؟ کیا ہوا ہے ؟” “پہلے عارف اب حورعین۔ ” “میں ؟” اسنے اضطرابی سے اپنے چہرے پہ ہاتھ رکھ لیے ۔”مجھے ؟ میرے ساتھ کیا کیا ہوا ؟” اسکے ہاتھ کپکپا رہے تھے ۔ سفیان صاحب کویت کی مشہور ترین بینک این بی کے میں مینیجر کے عہدے پہ فائز تھے ۔ وہ یونہی کبھی بیماری میں بھی چھٹی نہیں کیا کرتے تھے۔ آج صبح اس کے پوچھنے پہ اسے بس تیز بخار کا بتایا گیا تھا۔ لیکن اس نے غور نہیں کیا تھا ۔

“ہم کیسے بتائیں گے اسے کے حمزہ لوگوں نے معزرت کر کے منگنی توڑ دی ہے۔ حمزہ کا ماننا یہ ہے کہ یہ ایک محض بچپنے میں جذبات میں آکر ، جلد بازی میں لیا گیا فیصلہ تھا۔ میری بیٹی کا تو دل ہی ٹوٹ جائے گا اتنا ظلم ہمارے ساتھ۔ ”

“منگنی کیسے ؟”

وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور لڑکھڑا کے مارے صدمے سے زمین پہ گری۔ اس کے ہاتھ سے پرس بھی چُھوٹ گیا تھا ۔ اسنے دروازے پہ دونوں ہاتھ رکھ لیے ۔ وہ اب دیکھ نہیں رہی تھی۔ وہ اب صرف سن رہی تھی ۔”فرحانہ بس اب آپ ناشکری کر رہیں ہیں۔”

“ارے تو پھر کیا کروں ؟ نہ گھر آئے نہ کچھ کہا ۔ بس آج عابدہ باجی کی فلائٹ تھی تو کل رات کو معزرت کر لی ۔ میری بیٹی کی زندگی ہے ۔ کوئی مذاق ہے کیا ؟” وہ روتے ہوئے کہے جا رہی تھی البتہ وہ خاموش تھے۔ وہ بدقت گہری گہری سانسیں لے رہی تھی ۔اس کے لیے سانس لے پانا مشکل ہو رہا تھا۔ یہ ان پر کیا قیامت ٹوٹی تھی ؟ وہ کیا کہے ؟ کہاں جائے ؟ کیا کرے ؟ وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے موبائیل پرس سے نکالا۔ وہ لڑکھڑاتے ہوئے اُٹھی ۔ وہ اسے کال ملاتی تھی ۔مگر دوسری جانب سے ہر دفعہ وہ کال مسترد کر دیتا تھا۔ “کچھ تو غلط ہے ۔ میں حمزہ لڑتے تھے لڑائی جگڑے تھے۔ مسئلے بھی تھے پر ایسے کیسے ؟” وہ بڑبڑائے جا رہی تھی۔ “میں کیا کروں ؟”

وہ پلنگ پہ بیٹھی چہرے پہ ہاتھ رکھے سوچنے کی کوشش کر رہی تھی ۔ مگر کچھ سوچ نہیں پا رہی تھی۔ اچانک اسنے چہرے سے ہاتھ اُٹھائے۔

“مجھے حمزہ سے بات کرنی ہے ۔ وہ میرا بیسٹ فرینڈ ہے وہ ایسا نہیں کر سکتا۔” یہ کہتے وہ اُٹھی اور اسنے الماری کے پٹ کھولے ۔ اسنے اپنی سیاہ چادر سر پہ اوڑھ لی اور وہ گھر سے نکل گئی”مجھے ایک بار حمزہ سے بات کرنی ہوگی۔” وہ اپنے اپارٹمنٹ کی لفٹ سے نکل رہی تھی ۔ آج سے پہلے وہ اس طرح چوری چھپکے گھر سے کبھی نہیں نکلی تھی ۔ دل لرز رہا تھا ۔ لب خشک پڑ رہے تھے۔ لیکن اسے حمزہ سے بات بھی تو کرنی تھیں نہ۔ اس نے سڑک کی نکر سے ٹیکسی لی۔ آج جمعرات تھی ڈرائیور کی چھٹی ہوگئی تھی۔ وہ نکل چکا تھا ۔ ویسے بھی اسے تو اکیلے ہی جانا تھا ۔ لاکھوں سوالوں ، لاکھوں خیالوں نے اس کے دل و دماغ کو گھیرا ہوا تھا۔ “کیوں ؟ آخر کیوں ؟ کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟” اس کا موبائیل بجا۔

“حمزہ ہوگا۔” لیکن وہ لُولُو تھی اور یوں اس کی امید ٹوٹی ۔ اس نے صبر کا تلخ گھونٹ گلے سے اُتارا اور کال اُٹھائی۔ “سلام یا حبیبتی !”

(سلام اوہ پیاری !) ادھر وہ پستہ میکسی میں ملبوس ہم رنگ اسکارف پہنے، لان میں ان ہی سن رسیدہ عورت کے مقابل بیٹھی تھی ۔ سورج ڈوبنے کو تھا ۔ مدھم نرم کرنیں ان کے لان میں بکھریں تھیں۔ “وعلیکم السلام۔” وہ سبز درختوں کو گزرتا دیکھ رہی تھی۔ “کیسی ہو ؟ آگئی چھوڑ کر اسکو ؟

“کتنی دیر سے کال کر رہیں ہوں مگر بیزی آرہا تھا، تمہارا بھی اور اسکا بھی۔” “ہوں !” ذہن سو سوالوں میں اُلجھا تھا ۔ سبز درخت اس کی آنکھوں سے اوجھل ہوتے جا رہے تھے ۔ لیکن وہ تو کہیں اور ہی تھی۔ “آئی نہیں ابھی تک ؟” وہ پیچھے سے گاڑیوں کا شور سن کر پوچھ پڑی۔ اُدھر سیگنل پہ ٹیکسی رُکی۔ “پتہ نہیں۔ ” اس نے گلے میں پہنی مالا کو انگلیوں پہ لپیٹا۔ “حور کیا ہوا ہے ؟” وہ سمجھ چکی تھی ۔ کچھ تو تھا ۔ کچھ تو تھا جو ٹھیک نہیں تھا ۔ لیکن کیا ؟ “لُولُو میری منگنی ٹوٹ چکی ہے !” اُدھر ٹیکسی چلنے لگی۔ “کیا کیسے ؟ تم کہاں ہو حور ؟” “بچے کیا ہوا ہے ؟” وہ اس کے شکن آلودہ چہرے کو دیکھ کر فکر مند ہوئیں۔ “کچھ نہیں نانو میں آتی ہوں۔” وہ اسے مضطرابی سے دیکھ رہیں تھی ۔ وہ خود کو کمپوز کرتے ذرا فاصلے پہ جھولتے ہوئے جھولے میں بیٹھی۔ “تم کدھر ہو حور ؟” وہ مدھم سی آواز میں بولی تھی ۔ وہ دور سے اب بھی اسے ہی دیکھ رہیں تھی۔ “میں حمزہ سے ملنے جا رہیں ہوں۔” سبز درخت پیچھے رہ گئے تھے۔ وہ بھی کہیں پیچھے رہ گئی تھی۔

“کیوں سب جا رہے ہو ؟ مجھے شروع سے بتاو حور ؟”

“میں اکیلی جا رہیں ہوں ۔ ساتھ کوئی نہیں ہے۔ اس کے امی ابو کی آج یوکے کی فلائٹ ہے ۔ میں اکیلے بات کرنے جا رہیں ہوں۔ ” ٹھندی ہوا کا جھونکا اسکے چہرے کو چھو کر گزرا ۔ پر آج کوئی موسم کتنا ہی دلکش کیوں نہ ہوتا ۔ لیکن اس کے لیے وہ خزاں کا ہی تھا۔

“حور !” وہ بدقت چلائی۔

“تم گھر جاؤ.. تم گھر جا رہی ہو سمجھی ۔تم اس سے ملنےاکیلی نہیں جاؤ گی۔ ”

“پہنچنے والی ہوں … بائے ۔”

“ہیلو ہیلو !” اور یہ رابطہ کٹ گیا۔ “اوہ خداوندا اس نے اسکرین پہ دیکھا۔ آنکھوں کا گوشہ بھیگا تھا ۔ لیکن اسے کمزور نہیں پڑنا تھا ۔ وہ کمزور نہیں تھی ۔ وہ کمزور نہیں تھی ۔ اسے حورعین کو روکنا تھا ۔ وہ اُٹھی اور ان کے طرف بھاگی آئی۔ “نانو .. نانو مجھے جانا ہے۔” “بچے کدھر ؟” “نانو آپ کو مجھ پہ بھروسہ ہے نہ ؟” اس نے جھکتے ان کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے۔

“میری جان خود سے بھی زیادہ۔ ”

وہ ہلکا سا مسکرائی۔

“بس نانو میں جا کر آتی ہوں۔”

سوفی .. میرا پرس لاؤ۔”

اسنے پودوں کو پانی دیتی ہوئی خادمہ کو آواز لگائی۔

وہ ایک فلپینی خادمہ تھی۔ “جی۔”

اسنے شاور نیچے رکھا اور اندر گھر میں گئی۔ وہ ایک کویتی علاقے میں ایک بڑا سا سفید بادامی رنگ کا خوبصورت سا بنگلہ تھا ۔وہاں صرف کویتی رہائش پزیر تھے ۔ لُولُو کے نانا کویت فوج میں تھے ۔اس لیے اُنھیں کویتی حکومت کی طرف سے یہ شاندار سا بنگلہ ملا تھا۔

“یہ لیں مادام !” لُولُو نے جھٹ سے پرس پکڑا اور وہ فوراً سے باہر کا گیٹ عبور کرنے لگی ۔”مصطفٰی رکو۔”

گیٹ کے قریب ان کا ڈرائیور پراڈو اسٹارٹ کر رہا تھا۔ “جی بی بی ؟” “مجھے سالمیہ چھوڑ سکتے ہو ؟ ”

“بی بی مجھے تاخیر ہو جائے گی۔ میں بانو فاطمہ کے کام سے جا رہا ہوں۔”

یہ لُولُو کی نانو کا نام تھا۔ “تم مجھے چھوڑ دو ..بیشک رات کو تاخیر سے آ جانا”

(حورعین کو لے کر اسکے گھر چلی جاؤں گی… ہاں یہ ٹھیک ہے۔)

“ٹھیک ہے بی بی بیٹھیں۔”

“شکریہ مصطفٰی !”

وہ گاڑی میں ساتھ ساتھ اسے کال ملاتی لیکن وہ فون ہی نہیں اُٹھاتی تھی۔ “بی بی سالمیہ میں کدھر ؟” “سالمیہ چلو پھر بتاتی ہوں۔”

(حورعین فون اُٹھاو ! فون اُٹھاو!) اسے حمزہ کا پتہ معلوم کرنا تھا۔ لیکن حورعین کال اُٹھاتی تو بتاتی نہ۔

“عایزہ کو بھی تو ایڈریس پتہ ہے نہ۔”

اسے اچانک یاد آیا تھا ۔ نہیں نہیں یہ اسے یاد نہیں آیا تھا ۔ یہ اس کے رب نے اسے یاد دلایا تھا ۔ وہ عایزہ کو کال ملانے لگی ابھی اسکی فلائٹ میں وقت تھا۔ “ہیلو لُولُو ! ذلیل انسان آئی نہیں نہ۔” وہ ویٹینگ روم میں اپنی فلائٹ کی منتظر تھی۔ “ہیلو ہیلو .. ہاں عایزے آئی ایم سوری۔ ابھی میں جلدی میں ہوں۔حمزہ کا ایڈریس کیا ہے ؟ تم نے بتایا تھا نہ تمہارے ابو کے دوست اسی بلڈنگ میں رہتے تھے؟” “ہاں پر تمہیں کیا کرنا ہے ؟” وہ اچھنبے سے بولی۔ “عایزہ ایڈریس بتاو ؟” وہ تلملائی۔

“اچھا اچھا بتا رہی ہوں۔”

پتہ بتا کر وہ بولی۔

“تو عرض کیا ہے۔”

“عایزہ اپنی بکواس بند کرو۔ تم سے زیادہ بکواس انسان میں نے اپنی ساری زندگی میں کہیں نہیں دیکھا۔”

اور کال کٹ گئی ۔ اُدھر اس نے چونک کے اسکرین پہ دیکھا۔

“ہیں .. یہ کشمیر آج کراچی کیسے بن گیا ؟”

****************

“دام ہر موج میں ہے حلقہ صد کام نہنگ

دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہوتے تک”

(مرزا غالب )

وہ اس کے اپارٹمنٹ کے باہر زور زور سے گھنٹی بجاتی تھی اور اندر سے اس کا دل خوف سے بجتا تھا۔ دروازہ کُھلا۔

“اوہ حور ! ہیلو ۔”

وہ اس کے روبرو کھڑا تھا ۔ وہ ویسا ہی تھا۔ چہرے پہ مسکراہٹ بھی ویسی ہی تھی ۔ وہی آنکھیں تھیں۔ وہی شناسائی تھی ۔ وہ لب بینچے غصے سے اسے دیکھ رہی تھی۔ “یہ سب کیا تماشہ ہے حمزہ ؟” اندر آو آرام سے بات کرتے ہیں ۔” وہ اندر چلی آئی۔ “بیٹھو۔”

وہ اس کے روبرو صوفے پہ بیٹھا تھا۔ “حمزہ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے ۔

یہ کیا تماشہ ہے ؟ خدا کے لیے مجھے سب سچ سچ بتاو۔” اس نے اچھنبے سے آبرو اچکائی۔ “تماشہ ؟” تو کیا حمزہ کچھ نہیں جانتا تھا ؟ پھر سے ایک امید بنی تھی۔

“تماشہ نہیں میری زندگی کا سوال ہے حورعین ۔ میں اپنے اور تمہارے والدین کی طرح ساری زندگی یہاں گُزار دوں؟ نہیں۔” اس نے تمسخر سے نفی میں سر ہلایا۔ “دیکھو تم سے شادی کر کے کیا ارنینگ ہو گی ؟ وہی زندگی وہی سب کچھ۔ میں یو کے ہی رہنا چاہتا ہوں اور وہیں ہی شادی کرنا چاہتا ہوں۔ یو کے میں میری میٹ تھی علیشا۔ ہم دونوں کی سوچ بھی کافی ملتی ہے ساتھ پڑھے ہیں ۔ ساتھ جاب کریں گے اور ساتھ رہیں گے ،اینڈ یو نو وہ میری برابری کی بھی ہے اور تم .. جہاں تک تمہاری بات ہے .. تو آئی ایم سوری ! میں بچہ تھا تب۔” وہ بڑی سادگی سے اسے بتا رہا تھا ۔ اور وہ سامنے خاموشی سے بت بنے اسے سن رہی تھی ۔ مگر اندر ایک طوفان تھا ۔ سمندر کی لہریں زور زور سے موجوں سے ٹکراتیں تھیں۔

“تم بھول جاؤ ، سب ختم کرو اور اگر میرے بنا نہیں رہ سکتی ، تو ویسے ایک پلان ہے میرے پاس ۔ دوسرا نکاح کر لو گی ؟” وہ محظوظ ہوا ۔ اس نے اسے سلگتی نظروں سے دیکھ کر تالی بجائی۔ “تمھیں پتہ ہے حمزہ ؟ تم ایک ناقابلِ تصور کمینے ہو۔” وہ طیش سے اُٹھی۔ “میں سب کو بتاؤں گی ، اصلی وجہ ۔ میں سب کو دکھاؤں گی تمہارا اصلی چہرہ۔ تمہیں پتہ ہے ؟ میرے گھر والوں پہ کیا بیت رہی ہو گی ؟” وہ ہاتھ باندھے لاپروائی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ “تو ؟” “تو میں جا رہیں ہوں۔” “رُکو رُکو ایک مینٹ کچھ دکھانا ہے۔” وہ اُٹھا اور فوراً لاونج سے نکل گیا ۔ وہ وہیں مضطرابی سے اپنے موبائیل کی سمت لُولُو کی کال آتی دیکھ رہی تھی۔

“لو آو سرپرائز ہے تمہارے لیے۔” وہ لیپ ٹاپ پکڑے لاونج میں آیا ساتھ اس کے سیاہ فلیش ڈرائیو لگی تھی ۔ وہ اچھنبے سے لیپ ٹاپ کو گھور رہی تھی۔ اسکرین پہ ایک فائل کھلی۔ “لو دیکھو۔” اس نے لیپ ٹاپ اس کے آگے کیا اور اسنے اسے دیکھتے اس کے چہرے پہ ایک استہزیہ مسکراہٹ اُچھالی ۔ وہ اسکی تصویریں تھیں۔ جو ایڈٹ کر کے حمزہ اور کچھ اور لڑکوں کے ساتھ اتنی مہارت سے بنائی گئیں تھیں کہ کوئی بھی ایک پل کے لیے دھوکا کھا سکتا تھا ۔ وہ لڑکھڑاتے ہوئے پیچھے ہوئی ۔ امید تو ٹوٹی ہی تھی ۔ اب یقین بھی شیشے کی طرح کرچی کرچی ہو کر ٹوٹا تھا ۔ وہ اس سے محبت نہیں کرتی تھی ۔ وہ اس پر بھروسہ کیا کرتی تھی ۔ اور یقین کا رشتہ محبت کے رشتے سے گہرا ہوتا ہے ۔ اب اسنے ایک وڈیو چلائی ۔ وہ اسکول گیٹ کے باہر دو لڑکوں کے روبرو کھڑی ان سے بات کر رہی تھی ۔ وہ اسی روز کی ویڈیو تھی۔ جس روز وہ کویت آیا تھا ۔ وہ بنا پلکیں جھپکے سن ہوتی جا رہی تھی۔ “یہ میں تمہارے ابو کو بھیج دیتا ہوں ، بلکہ انٹرنیٹ پہ ڈال دیتا ہوں ۔ ہاں یہ ٹھیک ہے۔ بڑا غرور ہے نہ اُنھیں اپنی بیٹی پہ۔” اس کے ہاتھ میں موجود موبائیل وائبریٹ ہوتا تھا۔ “بڑا غرور ہے نہ تمہیں خود پر ۔ بہت خوبصورت ہو نہ تم ۔ چلو سب بھی دیکھیں نہ ذرا ۔” وہ تمسخر سے مسکرایا۔ اسنے لیپ ٹاپ صوفے پہ رکھا اور اس کے قریب چلا آیا ۔ فون جل جل کر بند ہوگیا تھا۔ “نہیں نہیں حمزہ یہ جُھوٹ ہے ۔ یہ بہتان ہے۔ حمزہ تم ایسے نہیں کر سکتے ۔ ایسے تو کوئی دشمن بھی نہیں کرتا۔ میں ایسی لڑکی نہیں ہوں۔” “ہاں ہاں میں جانتا ہوں بیسٹ فرینڈ ۔ تم ایسی نہیں ہو۔ تم نے تو آج تک کبھی کسی لڑکے سے کوئی بات نہیں کی ۔ تم نے تو اپنے فیانسے.. اوہ سوری ایکس فیانسے سے بھی کبھی کوئی فضول بات نہیں کی ہے نہ ؟” اور اسنے اپنا ہاتھ اسکے شانے پہ رکھا “حمزہ ۔” وہ پیچھے ہوئی۔

“اوہ بیسٹ فرینڈ میں کچھ نہیں کروں گا ۔ میں نہ بس تمہیں ایک رات کے لیے سٹور میں بند کر کے چلا جاؤں گا اور خوب بدنامی کے بعد صبح آکر تمہیں آزاد کر دوں گا ۔ ریسک نہیں لے سکتا نہ ۔ سوری بیسٹ فرینڈ !”

“نہیں نہیں میں ابو کو کال کروں گی۔” وہ کال ملانے لگی کہ حمزہ نے جھٹ سے اسکا موبائیل چھین کر زمین پہ پھینک دیا ۔ موبائیل کھل کے ٹکرے ٹکرے ہو کر زمین پہ پڑا ہوا تھا ۔ وہ برف بننے لگی تھی ۔ اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آیا تھا۔ وہ بنا کچھ سوچے سمجھے دروازے کو بھاگنے لگی ۔ مگر حمزہ نے اس کا بازو اپنی گرفت میں لیا اور لاونج سے گھسیٹتے اسے راہداری میں لے آیا۔

“گڈ نائیٹ !” یہ کہتے اسنے کمرے کا دروازہ کھول کر اسے اندر دھکیلا اور فوراً سے دروازہ بند کر کے باہر سے تالا لگانے لگا۔ اندر کمرہ گھپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔”حمزہ پلیز دروازہ کھول دو۔ تمہیں پتہ ہے نہ مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے ۔ پلیز حمزہ کھول دو !” وہ چیختے چلاتے دروازے پہ ہاتھ مار رہی تھی اسے کچھ نظر نہیں آتا تھا ۔ وہ ہوا میں ہاتھ یہاں وہاں گھماتے چل رہی تھی۔ کوئی چیز اس کے پاؤں میں آئی ۔چلتے چلتے وہ ڈگمگائی اور گر پڑی ۔ “امی !” اندر سٹور میں دھول مٹی مکڑی کے جالے بنیں تھے ۔ اسے دھول سے الرجی تھی ۔ گرنے کے باعث اس کے ہاتھوں اور چہرے پہ دھول لگی تھی۔ اسنےاپنا ہاتھ چہرے کی طرف بڑھایا مگر کچھ نظر نہیں آیا۔ “مجھے نکالو یہاں سے۔”

“امی ! ابو !” وہ چلائے جا رہی تھی ۔ اسے اندھیرے میں وحشت سی ہو رہی تھی ۔ اس کا دم گھٹنے لگا تھا۔ چہرا پسینے میں بھیگ چکا تھا ۔ وہ سانس نہیں لے پا رہی تھی۔ “آہ” اسے لگا جیسے اس کے پیر پہ کسی کیڑے نے اسے کاٹا تھا۔ آنکھوں پہ سیاہ پردہ گرنے لگا تھا ۔ اس کا سر چکرا رہا تھا ۔ آنکھیں بند ہو رہیں تھیں ۔ آنکھوں کے آگے ماضی کے منظر چلنے لگے تھے۔

“حور تم نہیں جاؤ گی ملنے۔”

“میرا شیر بیٹا۔”

وہ چھوٹی سی گڑیا، گڑیا پکڑے روتے ہوئے سفیان صاحب سے کہہ رہی تھی۔

“حمزہ نے میری گڑیا توڑ دی ۔” وہ بچپن میں ہمیشہ کھیل کر اسکی گڑیا توڑ جایا کرتا تھا۔ آج بھی وہ اس کانچ کی گڑیا کو توڑ گیا تھا۔

“امی ڈسٹنگ کریں نہ آپ کو پتہ ہے نہ مجھے ڈسٹ سے الرجی ہے۔”

“عارف کوکروچ .. مارو اسے !”

سفیان صاحب کی لاڈلی گڑیا جسے بڑے نازوں سے رکھا گیا تھا۔ آج وہ دھول میں لیپٹی تھی۔ جسے کیڑوں مکوڑوں کو دیکھ کر بھی خوف آتا تھا۔ آج وہ ان کے بیچ پڑی تھی۔ اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔ نظر تو کچھ نہیں آ رہا تھا ۔ لیکن پھر بھی وہ رینگتے ہوئے آگے بڑھی۔ شاید کوئی لوہے کی چیز اس کے سر پہ لگی ۔

“امی !” وہ دیوانہ وار چلائی ۔ بڑی ہمت جھٹا کر وہ اب دوسری سمت رینگی۔ “یہ کیا ہے ؟” اس نے خوف سے ہاتھ پیچھے کیا۔ وہاں مکڑی کے جالے تھے۔ سر سے سیاہ چادر اُتر چکی تھی ۔ ریشمی بھورے بال بکھر چکے تھے ۔ سر میں شدید درد اُٹھ رہا تھا ۔ وہ دھول سے کبھی چھینکتی اور کبھی سانس لینے کی کوشش کرتی تھی ۔ اس کی ہمت تمام ہو رہی تھی ۔ آنکھیں نیند میں بےہوشی سے بھرنے لگیں تھیں ۔ اس کی سانسیں اُکھڑنے لگیں تھیں۔

**********************

وہ زینے چڑھتے منزل پہ چلی آئی اور پھولے سانس سے اس کے اپارٹمنٹ کے دروازے کی طرف بڑھی۔ “یہ رہا روم نمبر تیرہ۔”

وہ گھنٹی بجانے لگی ۔ لیکن کسی نے دروازہ نہیں کھولا ۔ وہاں خاموشی تھی ۔ دل ہلا دینے والی خاموشی ۔ اسے یہ خاموشی چبنےلگی تھی ۔ اسنے بے چینی سے گاہے بگاہے دیکھا کہ اس کی نظر اچانک باانداز پہ پڑی سیاہ ہیل پہ پڑی۔ “حور حور کی ہی یہ .. اوہ میرے خدا حور کدھر ہے ؟”

“حارس حارس کو دیکھتی ہوں۔ ” اس نے بھاگ کر لفٹ کا بٹن دبایا ۔ لیکن لفٹ نہیں آئی ۔ وہ اب پھر سے سیڑھیوں سے نیچے گئی تھی۔ “ہیلو ہیلو کوئی ہے ؟” اس نے بیسمینٹ میں آکر چوکیدار کا دروازہ زور زور سے کھٹکھٹایا لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ “حارس بھی نہیں ہے۔” اس کا دل ڈوبتا جا رہا تھا۔ ذہن میں سو الٹے سیدھے خیالات تھے۔ اور لبوں پہ بس ایک ہی بات۔ “اللہ حور کو سلامت رکھنا .. اللہ حور کو سلامت رکھنا۔ ” وہ واپس اس کے اپارٹمنت کی سمت لپکی ۔اس نے ایک دفعہ پھر سے ڈور بیل بجائی ، زور زور سے ڈور نوب گھمایا لیکن.. بے سود ۔ وہ اسے بے بسی سے کال ملانے لگی ۔ کون بتائے اسے ؟ کہ اس کا موبائیل تو اس پار بکھرا پڑا تھا ۔ کون بتائے اسے ؟ لیکن کون بتائے ؟ “آپ کا مطلوبہ نمبر اس وقت بند ہے پلیز تھوری دیر بعد ٹرائے کیجیے۔ ”

آنکھیں بھیگنے لگیں تھیں ۔ موتیوں کی لڑیاں آنکھوں سے ٹوٹ ٹوٹ کے بکھرتیں تھیں ۔وہ بےبسی سے سیڑھیوں میں آ بیٹھی ۔ “اللہ میں بہت اکیلی ہوں .. اللہ .. اللہ میں ایک انجان شہر میں ہوں ۔ میں یہاں کسی کو نہیں جانتی ۔ مجھے کچھ نہیں پتہ ۔ میں کیا کروں ؟ ” وہ چہرے پہ ہاتھ رکھے زور و قطار روئے جا رہی تھی ۔ وہ گھڑیاں ان کے لیے قیامت کی گڑھیاں تھیں۔

*****************

اس گھپ اندھیرے والے کمرے میں کچھ گرنے کی آواز اس کے کانوں میں گونجی۔

اور سوئچ کی چکور ڈبی سے اندر تیزی سے روشنی داخل ہونے لگی ۔ اس ٹوٹی گڑیا کو ہوش آنے لگا تھا۔ اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔ باہر سے جھلملاتی دکانوں عمارتوں کی روشنی اندر داخل ہو رہی تھی۔ “جو ہر سو بکھرے اندھیرے کو صرف ایک تجلی سے منور کردے تو سمجھ لینا وہ نور ہے۔” وہ مصری عورت درست کہتی تھی۔ نور تو اندھیرے میں ہی ملتا تھا شاید یہ اسکی ہی کی ہوئی دعا تھی ۔ جو آج قبول ہوئی تھی۔

“اللہ اپنے نور کی راہ بتاتا ہے جسے چاہتا ہے۔” وہ نیم کھولی آنکھوں سے دھیمے سے بولی۔

“نور ۔” پیاسے کو پانی کی چاہت میں مارا مارا تو دیکھا تھا ۔ مگر کسی کو نور کے لیے تڑپتا آچ پہلی بار دیکھ رہے تھے ۔شاید یہ کہنا بہتر تھا ۔ جو پیاسے کو پانی سے ہو اور حورعین کو نور سے اسے چاہت کہتے ہیں۔

******************

“اللہ اکبّر۔”

“اللہ اکبّر۔”

فضا میں ہر سمت نور پھیلنے لگا۔اس نے آنسوؤں سے بھرے چہرے سے چھت پہ نظریں لگائیں تھیں۔

“اللہ تعالٰی نانو کہتی ہیں آذان کا وقت قبولیت کا وقت ہوتا ہے ۔ کیا واقعی ایسا ہوتا ہے ؟ میں کچھ نہیں جانتی ۔ میں کچھ نہیں جانتی ۔ میں بس یہ جانتی ہوں ۔ وہ نادان ہے وہ نادانی میں یہاں آئی ہے ۔ وہ ناسمجھ ہے ۔ اللہ تعالٰی پلیز پلیز اسے محفوظ رکھنا پلیز۔” تبھی لفٹ کھلنے کی آواز آئی اور اس نے چونک کے دیکھا کہ ایک معمولی سا عام شکل کا نوجوان باہر نکلا۔ وہ اسے پہچان سکتی تھی ۔ وہ حمزہ کا دوست تھا۔ وہ طیش سے اُٹھی۔

“کدھر کدھر کیا ہے حورعین کو ؟ ہاں ؟ تم سب کو اندر کرواؤں گی ۔ ابھی پولیس کو کال کروں گی ۔ کہاں لے کے گئے ہو حورعین کو ہاں ؟” وہ سرخ متورم آنکھوں سے مکھی کی طرح اس پر جھپٹی تھی ۔ اس نوجوان نے گہری سانس لی۔”حورعین کو حمزہ نے سٹور روم میں بند کیا ہے ۔ میرا چھوٹا بھائی عارف کا دوست ہے ۔ حمزہ ہم سب ایک دوست کے گھر اکٹھے ہوئیں ہیں ۔ اس نے جب مجھے یہ سب بتایا تو میں فوراً یہاں آیا ہوں ۔ میں جانتا ہوں حورعین بہت اچھی لڑکی ہے ۔ اور وہ حمزہ ایک بہت ہی گھٹیا اور ایک گھنونا آدمی ہے ۔ یہ دیکھو میں چابیاں لے آیا ہوں۔” اسنے پنٹ کی پوکٹ سے چابیوں کا گھچا نکالا ۔ وہ ُاسے سنتے حواس باختہ ہوئی جا رہی تھی ۔ وہ سانس نہیں لے پا رہی تھی۔

“دروازہ کھولو .. کھولو ۔” یہ کرم بھی اس کے رب کا ہوا تھا۔ اُس نوجوان کا دل اس رب نے موم کیا تھا۔ بیشک بیشک وہ تو بڑا مدبر ہے۔ دروازہ کُھلا وہ بوکھلاہٹ سے اندر چلی آئی ۔ اس نوجوان نے بتیاں چلائیں اور جھومر نے زرد روشنی بیکھیری۔

“حور کا موبائیل۔ ” وہ بھیگی آواز میں یہ کہتے موبائیل کے ٹکرے اُٹھانے لگی ۔ وہ سٹور روم کا تالا کھولنے لگا۔ اور وہ آنسوں پونچھتے اس کے پیچھے

لپکی ۔ اندر وہ بڑے سے نیلے ڈول سے ٹیک لگائے نارمل لگتی تھی ۔ اسے نور مل گیا تھا۔ وہ ٹھیک تھی ۔

“حور !” آواز پہ اسنے گردن موڑی اور وہ فوراً اُٹھی۔ “لُولُو تم ؟” لُولُو نے اسے گلے لگایا۔ وہ دونوں روئے جا رئیں تھیں ۔ یہ کیسا لمحہ تھا ؟ وہ ٹھیک تھی ۔ وہ ٹھیک تھی ۔ وہ سلامت تھی ۔

“تم یہاں کیسے ؟ ”

“میں خود نہیں جانتی حور میں یہاں کیسے پہنچی ہوں ۔ پتہ نہیں ؟ ایک دم سے مجھ میں اتنی ہمت کہاں سے آگئی۔” درست کہتی تھی وہ ۔ وہ ہمت اس نے نہیں کی تھی ۔ وہ ہمت تو اس کے رب کی طرف سے آئی تھی ۔ “چلو نکلو یہاں سے ۔”

اسنے اُنھیں وہاں سے نکال کر تالا لگایا اور لُولُو نے اس سے معزرت کی۔

وہ جا چُکا تھا۔ وہ لُولُو کو ان تصویروں کے متعلق بتا چکی تھی ۔ اور اب وہ سیڑھیوں میں اپنا موبائیل چلانے کی کوشش کر رہی تھی۔ “افوہ چل جاؤ نہ۔”

وہ اسے اپنے ہاتھ پر زور زور سے پٹکتی تھی۔ “حور کچھ نہیں کرے گا وہ ۔ فکر نہیں کرو!”

وہ فون چلاتے چلاتے رُکی۔”میں اپنی جنت کو خفا کر چکی ہوں اب اس کے دروازے نہیں بند ہونے دے سکتی۔”

آنکھوں سے آنسوں گرے ۔”اچھا رُکو میں کال ملاتی ہوں تمہارے گھر !” اس نے اس کے گھر کے نمبر پر کال ملائی ۔ لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ “نہیں اُٹھا رہے۔”

“عارف کو کرتی ہوں !”

“ہیلو .. عارف” رابطہ مل چکا تھا ۔ حورعین کا دل زور زور سے دھڑکا ۔ اس نے فون اسپیکر پہ ڈالا۔ “ہیلو لُولُو۔”

“تم رو رہے ہو عارف ؟”اُنھیں اسکی آواز میں نمی محسوس ہوئی تھی۔ ” لُولُو ابو کو ہارٹ اٹیک آیا ہے.. حورعین کا کچھ پتہ نہیں چل رہا ۔ عایزہ کو ائیرپورٹ چھوڑنے گئی تھی۔ ڈرائیور بھی کال نہیں اُٹھا رہا۔ اس کا فون بھی بند جا رہا ہے ۔ اور تمہارا بھی بزی آ رہا تھا ۔ تمہارے گھر کا نمبر بھی نہیں ہے ..”

“وہ میرے ساتھ ہے۔” اسنے بڑی مشکل سے یہ جملہ ادا کیا تھا ۔ یہ کیسی آفت ٹوٹی تھی ؟ اس پہ مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹتے جا رہے تھے ۔ دل و دماغ سن ہو چُکے تھے۔ “کونسے ہسپتال میں ہو آپ لوگ ؟” وہ برف کے مجسمے کو دیکھتے بولی۔ “ہم آ رہے ہیں۔” کال کٹ چکی تھی ۔ وہ ہاتھ سر پہ رکھے نفی میں ہلانے لگی۔ “میں نے کر دیا اُنھیں بھی خفا ۔ میں نے اپنے ابو کی عزت کو سرے بازار نیلام کر دیا۔ کر دیا۔میں میں کیا کروں گی ؟”

“حور ہسپتال چلو ۔ فل حال ہسپتال چلو۔ وہاں سب کو تمہاری ضرورت ہے۔”

مصطفٰی کے تو آنے میں تاخیر تھی۔ اس لیے اُنھیں ٹیکسی میں ہی جانا تھا ۔ وہ دیوانہ وار سڑک پہ بھاگتی ٹیکسی رُکواتی تھی۔ “حور دھیان سے حور ۔”

وہ اپنے ابو کا بیٹا تھی۔ وہ گھر کا بڑا بیٹا تھی ۔ اور آج اسے گھر کے بڑے بیٹے کا فرض نبھانا تھا۔ لُولُو کا موبائیل بجنے لگا ۔ اسنے جھپاجھپ اسکرین پہ دیکھا۔ “مصطفٰی۔” “اس کی کال اللہ خیر ؟” “ہیلو !” وہ دھڑکتے دل سے بولی۔

“بی بی میرا کام ہو گیا ہے ۔ میں آ جاؤں لینے ؟” یہ راستہ بھی اسکے رب نے بنایا تھا ۔ یہ راہ بھی اس کے رب نے کھولی تھی ۔ وہ کچھ نہیں کہہ پائی تھی ۔ آنکھوں میں بےاختیار آنسوں آئے تھے ۔ کچھ ہی دیر میں مصطفٰی آ گیا تھا ۔ وہ بانو فاطمہ کو کال پر سب بتا چکی تھی ۔ حورعین کھڑکی سے باہر ِدیکھتی تو کسی اور ہی دنیا میں کھوئی تھی۔

سفیان صاحب ایک چھوٹی سی گڑیا کو گود میں لیتے گھماتے تھے، تو کبھی وہ اسے جھولا دلاتے تھے ۔ وہ چھوٹی سی گڑیا کبھی زور سے ان کے بال کھینچتی تو کبھی ان کے آگے پیچھے بھاگتی تھی۔ آج زندگی نے اس اٹھارہ سال کی لڑکی کو اپنوں اور غیروں کے درمیان فرق کرنا سیکھا دیا تھا ۔ کون اپنا تھا ؟ کون غیر ؟وہ یہ جان چکی تھی۔ سراب سے بھری دنیا کی حقیقت آج اس کے سامنے کھل گئی تھی ۔ اب کون بتائے اسے ؟ کہ آگے اس کے لیے ایک اور مصیبت کھڑی تھی ۔ کون بتائے اسے ؟ کہ ابھی تو بہت سے امتحان باقی تھے ۔ کون بتائے اسے؟ لیکن کون بتائے ؟

****************

“مزمل یہ رہی وہ یو ایس بی ۔”اُسی نوجوان نے سمندر کے کنارے ہاتھ میں حمزہ کی ڈرائیو پکڑی تھی ۔اس کے سامنے سیاہ جینز شرٹ میں ملبوس ، ایک دراز قد نوجوان پشت کیے کھڑا سمندر کی لہروں کو زوروں شوروں سے ساحل سے ٹکراتے دیکھتا تھا ۔ افق سے نیلگوں روشنی زمیں پہ اُترتی تھی۔ وہ پلٹا اسنے اس سے وہ ڈرائیو لی اور زور سے سمندر میں اچھال دی ۔ وہ پانی میں ڈبکی کھا کر سمندر میں تدفین ہوئی۔ “نیکی کر اور سمندر میں ڈال۔” “مزمل تم بہت نیک انسان ہو آج وہ لڑکی اپنے گھر ہے تو تمہاری وجہ سے۔ آج انکے گھر کی عزت سلامت ہے ۔ تو تمہاری وجہ سے۔” “بس کرو۔”

اسنے اسے خفگی سے ہاتھ دکھایا ۔

“قسمت کی بات ہے اور انکی قسمت اچھی رہی ۔”

حمزہ اسے بند کر کے اس نوجوان اور اپنے کچھ دوستوں کے ہمراہ کسی ایک دوست کے گھر آیا تھا۔ سبھی دوست لاونج میں بیٹھے تھے ۔ اس کے ساتھ والے صوفے پہ وہ نوجوان بدر بھی بیٹھا تھا ۔ وہ ان سب کو سانحہ حورعین بڑے مزے سے سنا رہا تھا ۔ اور وہ خاموشی سے سن رہے تھے ۔ وہ سفیان صاحب اور عارف کو اچھے سے جانتا تھا ۔ اسکے والد کی سفیان صاحب سے بھی جان پہچان تھی۔ اسے یہ سب اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔ وہ حورعین کو بچانا چاہتا تھا۔ پر وہ کیا کر سکتا تھا ؟ وہاں ایسا کوئی بھی نہیں تھا ۔

جو اسکا ساتھ دیتا۔ اسے وہاں سے نکالنے میں اسکی مدد کرتا ۔ مگر.. مگر ایک شخص تھا ۔ اسے بےاختیار یاد آیا تھا ۔ ایک شخص تھا ۔ جو ہمیشہ اپنا ہو یا کوئی غیر۔ ان کے لیا کھڑا رہتا تھا ۔ ان کے لیے لڑ سکتا تھا ۔ اور وہ تھا مزمل …مزمل فرقان۔ مزمل سے اسکی دوستی سلام دعا تک کی ہی تھی ۔ مگر جب جب اسے اس کی ضرورت پڑی تھی ۔ تو وہ اس کے لیے آیا تھا۔ وہ جھٹ سی اسے میسیج کرنے لگا۔

“مزمل مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔ ضروری کام ہے۔ کسی کے گھر کی عزت کا سوال ہے پلیز ۔”

فوری جواب آیا تھا۔

“آہنہہ خیریت ؟ ہوا کیا ؟”جواب آتے ہی اس نے مزمل کو سارا مسئلہ لکھ بھیجا ۔

“یار یہ لیپ ٹاپ دینا میں ذرا حسنِ حورعین کو پوری دنیا سے آشنا کرواؤں۔”

حمزہ تمسخر سے ڈرائیو کو دیکھ کر مسکرایا۔ وہ لکھنے لگا۔ “مزمل اگر یہ تصاویریں انٹرنیٹ پہ وائریل ہو گئیں نہ تو اس لڑکی کی عزت کا تماشہ بن جائے گا !”

“دیکھو تمھیں ہر حال میں اس لڑکے سے وہ ڈرائیو لینی ہے اور اسکی چابیاں کدھر ہیں ؟ اس کا دھیان بھٹکاؤ کچھ بھی کرو۔”

“تم مجھے پیک کر سکتے ہو ؟ میں یہاں حمزہ کے ساتھ آیا ہوں۔ ” “لوکیشن بھیجو ۔”

“میں وہاں دس مینٹ میں ہوں گا۔”

لوکیشن دیکھتے ہی جواب آیا تھا۔ تبھی لاونج میں خادمہ مشروبات لے آئی۔ وہ لڑکا اس سے گلاس لیتے بےچینی سے حمزہ کو مشروب پیتے دیکھ رہا تھا۔ “کیا کر رہے ہو ؟” اسکرین چمکی۔ “جوس پی رہا ہوں ۔ کیا کروں سمجھ نہیں آ رہا ؟ ” “گرا دو ، گرا دو اس پر ۔ اُٹھا لو یو ایس بی۔”وہ خوف سے سیدھا ہوا اس نے گلے سے تھوک نگلا۔ “دیکھاو مجھے بھی تصویریں۔” “رُکو۔ ”

حمزہ نے یہ کہتے ٹیبل پہ پڑی ڈرائیو اُٹھائی اور لیپ ٹاپ کھولنے لگا کہ … اس نے اس پر گلاس اُلٹ دیا ۔”اوہ.. سوری یار۔”

حمزہ کے ہاتھ سے ڈرائیو چُھوٹ کر زمین پہ گری۔ “ایڈیٹ۔” اس نے بیزاری سے شرٹ جھاڑی۔ “صاف کر لو حمزہ۔”

“ہاں اچھا !” وہ ُاٹھا اور لاونج سے نکلا ۔اس نے پاؤں سے وہ ڈرائیو کھینچ کر ہاتھ میں چھپا لی ۔ اب اس نے گاہے بگاہے دیکھا اور میز سے چابیاں اُٹھائیں۔ “یار میں ایک گھنٹے تک آتا ہوں ۔ میرے ایک دوست کے ابو ہسپتال میں ایڈمیٹ ہیں۔ ابھی اُسی سے بات کر رہا تھا ”

“اچھا ٹھیک ہے پر جاؤ گے کیسے ؟”

“وہ گڑبڑایا۔ “میں.. وہ یار ایک دوست کے ساتھ ..آتا ہوں نہ۔”

جیسے ہی وہ نکلا حمزہ لاونج میں آیا۔ اس نے صوفے پہ دیکھتے آبرو اُچکا کر پوچھا۔

“یہ کدھر گیا ؟”

“کہہ رہا تھا کسی دوست کے ابو کی طبیعت ٹھیک نہیں ہسپتال جا رہا ہوں۔”

“ہوں اچھا۔ ”

“یو ایس بھی کہاں ہے ؟” اس نے میز پہ دیکھا اور پھر جھٹ سے فرش پہ۔ “یہیں ہوگی ۔ پیچھے نہ گر گئی ہو ۔ خادمہ کو کہتا ہوں دیکھ دیتی ہے۔ ویسے بھی چھوڑو ، تم نے اس کے باپ کو تو تصویریں بھیج ہی دی ہیں ۔ وہاں سے ڈال لو انٹرنیٹ پہ ۔ ہماری بلا سے پھر بیشک نہ ملے یو ایس بی۔”

اس کے دوست خاصے بیزار ہوئے تھے۔

“لیکن وہ تو میں نے ڈیلیٹ کردی ہیں ۔ اور وہ میں نے ایک نامعلوم نمبر سے بھیجی تھیں ۔ اب جو ہے یو ایس بی میں ہی ہے۔”

وہ فکرمندی سے کہہ رہا تھا۔ “ایدھر ہی ہو گی ۔ دیکھ لیتے ہیں نہ ۔ اور تم نے یہ کونسے کام پکڑ لیے ہیں۔ مونا آکر دیکھو پلیز۔” اس نے خود کو کمپوز کرتے گہری سانس لی۔ “ہاں چلو مووی دیکھنے کے بعد کرتے ہیں اس کا کچھ۔”

بدر جانتا تھا۔ آج وہ سب دیر رات تک ادھر ہی تھے ۔ تو چابیوں کا خیال تو اسے دور دور تک آنے کا کوئی امکان ہی نہیں تھا ۔ رہ گئی فلیش ڈرائیو ، تو وہ مزمل کے کہنے پر بنا کچھ سمجھے اُٹھا لے آیا تھا ۔ اس نے گاڑی حمزہ کی عمارت کی نیچے روکی۔ “تم نہیں آو گے ؟”

” نہیں میں نہیں آ رہا ۔ تم جاؤ ،کوئی ضرورت پڑی تو کال کر دینا اور سیدھا اس لڑکی کو نکال کر آ جانا اور کوئی فضول حرکت نہیں کرنا سمجھے ؟” جواباً وہ تابعداری سے بولا “اچھا۔”

“روم اور فلور نمبر کیا ہے ؟”

“فلور چار۔ روم نمبر تیرہ۔ ”

وہ گاڑی سے اترنے لگا۔ “اگر اگلے چار مینٹ تک تم نیچے نہ ہوئے .. تو اگلے پانچویں منٹ پہ میں اوپر ہونگا۔” “ٹھیک ہے۔”

وہ خوف سے سر ہلا کر جانے لگا۔ “اور سنو ؟” وہ پلٹا۔ “ہاں ؟”

“کیا نام ہے اس لڑکے کا ؟ ”

“حمزہ۔”

یہ کہہ کر وہ چلا گیا ۔ اور وہ چشمہ لب دبائے بولا۔ “ایک سو ایک دفعہ لعنت تم پہ حمزہ ۔” مزمل کی تاکید کے مطابق جو کے تاکید کم اور دھمکی زیادہ تھی۔ بدر چار مینٹ سے پہلے ہی نیچے آ گیا تھا ۔ وہ فٹافٹ گاڑی میں آ بیٹھا۔ “اب اس یو ایس بی کا کیا کرنا ہے ؟” اس نے حریصانہ نظروں سے اسے دیکھا۔ایک دفعہ دیکھ لیں بہت خوبصورت ہے۔”

اور اس نے غصے سے میکانیکی انداز میں گردن پھیری۔ “اپنی اوقات دیکھانے سے باز نہیں آنا تم ۔ آخر ہو تو تم حمزہ کے ہی دوست نہ۔”

“سوری یار۔”

“شٹ اپ۔”

اور یوں وہ ادھر سے سمندر آئے تھے۔ نیلگوں آسماں پہ اب سیاہ رات کا پہرا تھا ۔ اس کے موبائیل کی گھنٹی بجنے لگی ۔ اس نے پنٹ کی پوکٹ سے موبائیل نکالا ۔ اسکرین پہ ھادی کا نمبر دیکھ کر وہ ایک کنارے پہ چلا آیا۔ “ہیلو موزی بھائی تم کدھر ہے ؟ میں ہادی تمہارا کب سے انتظار کر رہی ہے۔”

“آتا ہوں آدھے گھنٹے تک۔”

اُدھر وہ دونوں، فون اسپیکر پہ ڈالے احمدی پارک میں اس کے منتظر تھے ۔ان تینوں میں سے اگر کوئی بھی اس وقت کہیں بھی غائب ہوتا تو وہ اسی طرح ایک دوسرے کو بلایا کرتے تھے ۔ شام اور رات کو تھوڑی دیر کے لیے اُنھیں احمدی پارک میں حاضری لگانی ہی ہوتی تھی۔

“بھائی میں گل خاتون سے آج اپنی محبت کا Expression کر ہی دیگی !”

“Expression ?”

وہ ہلکا سا مسکرایا۔

“اظہار کر دوں گا۔”

“اچھا بھائی کوئی شیر ہی بتا دو اچھی سی ۔ کوئی ہٹ کر کہ ذرا گل خوش ہو جائے۔” گل خاتون اسکے تایا ابا کی بیٹی تھی۔ جس سے وہ بےانتہا محبت کرتا تھا۔ مگر کبھی کہہ نہیں پایا تھا۔ آج جیسے تیسے کر کے جانے اس نے کیسے اظہارِ محبت کے لیے ہمت جھٹائی تھی۔ “اچھا سوچنے دو۔”

وہ نچلا لب دانت میں دبائے سوچنے لگا۔ اور بولا۔

“تو عرض کیا ہے ۔”

“واہ ! واہ !”

“پہلے سن لو۔” وہ خفا ہوا۔

“اچھا بتاو۔”

“تو عرض کیا ہے۔

آج کلی ہے کل گلاب ہوگا

آج کلی ہے کل گلاب ہوگا

مجھ سے شادی کر لو بڑا ثواب ہوگا۔”

وہ داد دینے لگے ۔

“واہ واہ ! واہ واہ !”

اور وہ سر جھٹکے ہنس پڑا۔وہ ان سے بات کر کے واپس اس کے قریب چلا آیا۔اور اسنے اس کے شانے پہ ہاتھ رکھا۔ “بدر میں تمھیں ڈراپ کر دیتا ہوں ۔ وہاں آرام سے موقع دیکھ کر چابیاں رکھ دینا ۔ نہ تمہیں کچھ پتہ ہے ۔ اور نہ مجھے کچھ پتہ ہے کہ وہ

یو ایس بی کدھر گئی اور وہ لڑکی وہاں سے کیسے نکل گئی ۔ حمزہ کو پتہ چلے گا تو کل تک ہی چلے گا ۔ تب تک وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ شق بھی ہو جائے تو ماننا مت ۔ کچھ بھی ہو جائے تو ماننا مت ۔ کیونکہ اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ اور کل کی کل دیکھیں گیں ۔ زیادہ مسئلہ ہوا تو میری بات کروا دینا ٹھیک ہے۔”

“ٹھیک ہے۔” اور وہ چل دیے۔

****************

وہ بےجان قدموں سے ہسپتال کے کوریڈور میں چل رہی تھی۔ کوریڈور کی ویرانی اور خاموشی اسے کاٹنے کو دوڑ رہی تھی۔ چلتے چلتے وہ دونوں رُکیں۔ ہر آنکھ وہاں اشک بار تھی۔ اس کے روبرو کرسیوں پہ فرحانہ انعمتہ بیٹھیں تھیں۔ انعمتہ اسے چپ کرواتی تھی ۔عارف دیوار سے ٹیک لگائے مایوسی سے سر جھٹکے کھڑا تھا ۔ وہ دلکش سا دکھنے والا چہرہ آج چادر میں لپٹا پژمردہ اور تھکا تھکا لگتا تھا ۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتے فرحانہ کے قریب آئی۔ “امی !” آواز پہ اس نے سر اُٹھایا ۔اس کی آنکھوں میں انتہا کی نفرت دکھائی دی تھی ۔ وہ فرحانہ فرحانہ تو نہیں لگتی تھی۔ “امی !” اسکی آنکھیں بھیگنے لگیں تھیں ۔ وہ اُٹھی۔ “کیوں آئی ہو یہاں تم ؟” ٹوٹی گڑیا کے کانچ کے ٹکروں کے پھر سے ٹکرے ہوئے۔ “امی ! ”

لُولُو نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ دیا۔

“مر گئی ہو تم ہمارے لیے۔” وہ چبتی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ “تمہاری جیسی اولاد ہونے سے بہتر ہے انسان بے اولاد رہ جائے۔”

“امی !” وہ بامشکل بس یہی کہہ پائی تھی۔

“دل چاہتا ہے۔” اس نے ہاتھ اُٹھایا اور اس نے آنکھیں میچ لیں۔ “امی کیا کر رہیں ہیں ؟” اور اس نے چونک کہ آنکھیں کھولیں ۔ عارف اس کے روبرو اس کا ہاتھ تھامے دھیرے سے بولا۔ تو اس کا بھائی تھا ،اس کے لیے اب بھی کوئی تھا۔ “ابو یہاں ہوتے تو کیا آپ کو کبھی ایسا کرنے دیتے ؟” اس نے برہمی سے اس کا ہاتھ جھٹکا۔ “اس سے جسے بات کرنی ہے وہ مجھ سے نہ بات کرے۔”انعمتہ اُٹھی اور ان کی طرف چلی آئی ۔ “امی آپ بیٹھیں۔ ” اسے بیٹھا کر وہ ان کی طرف آئی۔ “مجھے پتہ ہے تم نے کچھ نہیں کیا۔”

“میں یہاں امی کے ساتھ ہوں ۔ تم ان دونوں کو لے کر جاؤ ۔ ہم رات کو بات کریں گے۔” وہ دھیرے سے کہہ کر لوٹ گئی ۔ وہ کبھی عارف کو دیکھتی تھی ۔ تو کبھی دور جاتی انعمتہ کو ۔ وہ گھر کے چھوٹے اب چھوٹے نہیں رہے تھے ۔ان چھوٹوں نے کسی کو بھی تنہا نہیں چھوڑا تھا ۔ نہ اپنی بہن کو اور نہ ہی اپنی ماں کو۔ “چلو ابو کو دیکھ لو ۔” عارف نے آئی سی یو کی کھڑکی کی طرف اشارہ کیا ۔ سفیان صاحب آئی سی یو میں تھے۔ ان کی حالت کافی سنگین تھی ۔وہ تاروں میں لیپٹے ہوئے وينٹی ليٹر پہ بےہوش تھے۔ “ابو !” اس نے شیشے پہ ہاتھ رکھ لیے ۔ اس سے سانس نہیں لیا گیا تھا ۔ دل تو جیسے پھٹ ہی گیا تھا۔ اتنی تکلیف تو اسے اس گھپ اندھیرے میں بھی نہیں ہوئی تھی۔ جتنی ابھی اسے اپنے آئیڈیل باپ کو اس حالت میں دیکھ کر ہونے لگی تھی۔ “حور سب ٹھیک ہو جائے گا۔” لُولُو اس کا شانہ تھپتھپاتی تھی۔ “کچھ نہیں ہوگا۔”

پر کسے ہوش تھی ؟ عارف نے پنٹ کی پوکٹ سے ان کا موبائیل نکالا اور کچھ کھولتے اس کی طرف بڑھایا۔ “یہ میسیج پڑھو اور یہ تصویریں دیکھو۔ ”

“دیکھی ہیں۔”

وہ اُنھیں بنا دیکھتے بولی۔

“کیا ؟” وہ چونکا۔

“گھر چل کر بتاتی ہے۔”

“اچھا میسیج دیکھ لو۔”

اس نے تھڑتھڑاتے ہاتھوں سے موبائیل پکڑا۔ “السلام علیکم۔ یہ پیغام آپکی پرورش کے نام۔ اپنی بیٹی کو ذرا دیکھ لیں کہ آپ کی بیٹی کیا کرتی پھر رہی ہے ۔سر آپ کی بیٹی کتنی خوبصورت ہے اس بات کا علم تو سب کو ہونا چاہیے نہ اور ہاں اور اسکے کتنے عاشق ہیں، اس کا بھی ۔ کوئی بات نہیں آپ فکر نہ کریں ۔میں سب کو بتادوں گا اور میں ان تصاویروں کو انٹرنیٹ پہ بھی ڈلوا دوں گا۔ اوکے جی خدا حافظ ۔”

اس نے جھٹ سے نمبر کی طرف دیکھا۔ تو وہ کوئی نا آشنا نامعلوم نمبر تھا۔ “حمزہ !” وہ طیش سے بولی۔ “حمزہ ؟” اس کے ماتھے پہ بل پڑے ۔”ہاں حمزہ یہ اُسی نے کیا ہے۔”

وہ موبائیل ہاتھ میں دبائے فرش پہ دیکھ رہی تھی۔ “حورعین مجھے نہیں معلوم تم کیا کہہ رہی ہو ، پر میں جانتا ہوں یہ تصویریں جھوٹی ہیں پر ایڈیٹنگ اتنی حقیقت پسندانہ لگ رہی ہے کہ کوئی بھی دھوکا کھا سکتا ہے۔”

اس نے آنکھوں کا کنارا پونچھا۔

(میرے ساتھ تم نے جو کرنا تھا کیا ۔ پر میرے ابو اور میرے گھر والوں کے ساتھ جو تم نے کیا ہے اس کی معافی نہیں ہو گی ۔ مسٹر حمزہ خلیل۔)

اور اس نے موتیوں کی مالا کھینچ دی۔موتی اُچھلتے ہوئے زمین پہ بکھر گئے۔ موتیوں کی مالا ٹوٹ چکی تھی ۔موتی بکھر گئے تھے ۔ اور سفیان صاحب کے گھر کے بھی موتی بکھر گئے تھے۔بچپن میں تو وہ اپنی ٹوٹی گڑیا جوڑ لیا کرتی تھی ۔ مگر آج وہ ٹوٹے ہوئے بکھرے کانچ کو کیسے جوڑتی ؟ اس کا کانچ کا گھر اس کی آنکھوں کے سامنے ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو گیا تھا۔ اور وہ چپ چاپ تماشہ دیکھتی رہ گئی تھی۔ رات ہو چکی تھی۔ ان کی زندگی کی کالی سیاہ رات۔ بکھرے موتی گھر آ گئے تھے۔ لُولُو بھی ان کے ساتھ تھی۔ فرحانہ اپنے کمرے کو بڑھی اور وہ فوراً سے اس کی سمت لپکی۔ “امی میری بات سن لیں !” وہ کمرے میں داخل ہونے لگی کہ اس کے منہ پہ دروازہ بند ہوا ۔ اور وہ ایک دم پیچھے ہوئی ۔ پیچھے سے لُولُو بھاگی آئی۔ “حورعین آنٹی ابھی نہیں سنیں گیں۔”

آج وہ جگمگاتا ٹِم ٹِم کرتا پرستان بھی خاموش اور افسردہ لگتا تھا ۔ ان کے گھر کے سربراہ کی خراب حالت سے وہ گھر بھی واقف تھا ۔ایک دم خاموش۔وہ پرستان میں موجود تھے۔ وہ اُنھیں سب بتا چکیں تھیں۔ “میں حمزہ کو نہیں چھوڑوں گا۔”عارف نے آنسوں پونچھے۔ “اللہ غرق کرے اس حمزہ کو۔”

“پتہ ہے !” اس نے آنسوؤں کا گولا گلے سے اتارا۔ “دھوکے کی سب سے ایذا دہ بات کیا ہوتی ہے ؟ کہ وہ کبھی بھی ہمیں غیر نہیں ،ہمارے اپنے ہی دیتے ہیں۔ ”

“اپنے ؟” لُولُو نے اچھنبے سے اسے دیکھا ۔اس نے اثبات میں سر کو خم دیا۔

“ہوں !” اور اس نے گہری سانس لی۔

“اپنے وہ ہوتے ہیں جو آپ سے منسوب ہوتے ہیں۔ منگنی دو لوگوں کو ایک دوسرے کے لیے محفوظ کرتی ہے اور محفوظ کی ہوئی چیزوں کو عام استمعال نہیں کیا جاتا۔ اُنھیں تو بہت سنبھال سنبھال کے بڑی احتیاط سے رکھا جاتا ہے۔ منگنی محفوظ کرتی ہے ۔ منسوب نہیں ، منسوب تو صرف نکاح کرتا ہے۔”

اس نے اپنی گود میں رکھے ہاتھوں کی سمت دیکھا۔ “لُولُو ابو پچپن میں ایک کہانی سنایا کرتے تھے۔ دو انگوٹھیاں سہیلیاں ہوا کرتی تھیں ۔ ایک لوہے کی اور ایک سونے کی ایک دن سونے والی انگوٹھی نے لوہے والی انگوٹھی سے پوچھا۔ ہم دونوں ہی تو لوہے کی ہتھوری سے پیٹے جاتے ہیں۔ پر تم لوہے لوگ اتنا شور کیوں کرتے ہو ؟ اتنا چلاتے کیوں ہو ؟ تو پتہ ہے لوہے نے کیا کہا ؟”

اس نے گہری سانس لی۔

آنکھوں کا گوشہ بھیگا۔ “جب اپنا ہی اپنے کو مارے نہ، تو درد زیادہ ہوتا ہے۔”

اور آنکھوں سے موتی ہتھیلی پہ ٹوٹا۔ “میں نے سوچا تھا۔ امی گلے لگائیں گیں۔ امی میری بات سنیں گیں۔ مجھے تسلی دیں گیں پر .. ” اور زبان نے اس کا ساتھ نہ دیا ۔اس کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہونے لگا تھا۔ وہ دونوں بہن بھائی اسے خالی آنکھوں سے دیکھتے تھے۔ “تپتی دھوپ سے زیادہ تکلیف ہمیں ہمارے اپنوں کی چھاؤں میں ہوتی ہے ۔ کڑی دھوپ میں تو چبن برداشت ہو جاتی ہے مگر جب خنکی بھی چبنے لگے تو کیا کریں ؟ انسان کسی کے ہاتھوں نہیں ٹوٹتا ۔ انسان اپنے اپنوں کے ہاتھوں ٹوٹتا ہے۔ ہم کیوں اپنی ہی کرتے ہیں ؟ ہمیں جب سمجھایا بھی جاتا ہے پھر بھی ہم درست راہ کا انتخاب کیوں نہیں کرتے؟ زندگی ہمیں کتنے موقعے دیتی ہے ۔ ہم کیوں آنکھ بند کر کے کسی پہ بھی یقین کر لیتے ہیں ؟” اس نے آنسوؤں سے سر جھٹک دیا۔ “تم نے مجھے ہمیشہ سمجھایا لُولُو ۔ ہمیشہ۔ تم نے میرا ساتھ دیا۔”وہ گھٹنوں پہ چہرہ گرائے سن رہی تھی۔ “تم نے آج بھی میرا ساتھ دیا ، اگر کوئی اور ہوتا تو شاید وہ کبھی نہیں آتا ۔ ایک دفعہ سمجھاتا دوسری دفعہ سمجھاتا اور پھر کبھی کچھ نہیں کہتا ۔ میں ہار چکی ہوں ۔ میں بہت بری ہوں۔ میں کچھ نہیں ہوں ۔ ”

“.I am a spoiled brat”

(میں ایک بگڑی ہوئی لڑکی ہوں۔)

“میرا کوئی مستقبل نہیں !”

اس نے یکدم سر اُٹھایا اور سیدھی ہوئی۔ “حورعین جب وہ ذات ابھی تک تم سے مایوس نہیں ہوئی ۔ تو میں کون ہوتی ہوں تم سے مایوس ہونے والی ؟ ٹھیک کہا ۔ تم ایک بگڑی ہوئی لڑکی ہو ۔ تم بہت ضدی ہو پر تم بری نہیں ہو۔ جس نے مجھے ہدایت دی ۔ وہ تمہیں بھی تو ہدایت دے سکتا ہے۔ وہ بھی مجھ سے زیادہ اور وہ چاہے تو مجھے بھی گمراہ کر سکتا ہے ۔غلطیاں سب سے ہوتیں ہیں ۔ میں کون ہوتی ہوں ؟ تمہیں کچھ کہنے والی ؟ تم ہاری نہیں ہو حور ۔ کس نے کہا تم ہاری ہو ؟ ہم تب تک ہارے ہوئے نہیں ہوتے جب تک ہم اپنے اللہ پر سے امید نہ ہار جائیں۔ اللہ پہ بھروسہ رکھو ۔اپنے ایمان کو اپنے خوف سے بڑھ کر سمجھو۔” وہ اُداسی سے مسکراتے پلنگ کی چادر پہ ہاتھ پھیرنے لگی۔ “میرے ابو نے میرا نام حورعین رکھا ۔ صرف میرا نام حورعین نہیں رکھا مجھے حور حورعین کی طرح رکھا۔ ہر خواہش کہنے سے پہلے پوری کی ۔ جب میں پیدا ہوئی ۔ امی کی دادو پھوپھو سے نہیں بنتی تھی۔ ہر روز لڑائی جگڑے ہوا کرتے تھے ۔ امی آئے دن لڑ کے نانو کے گھر چلی جایا کرتیں تھیں۔ پھر ابو نے مجھے اور امی کو کچھ ہی مہینوں میں کویت بُلا لیا ۔ تب ایک خاندان کے ساتھ کویت میں رہنا ، ان کے لیے آسان نہیں تھا۔ خرچے گھر کا کرایا سب کچھ بہت ہوتا تھا ۔ ابو دو دو نوکریاں کرتے تھے۔ اور اوور ٹائم بھی لگایا کرتے تھے۔ ہم چھوٹے ہوا کرتے تھے۔ ایک دفعہ میں نے ابو سے پوچھا ۔ ابو آپ عید کہ لیے کچھ نہیں لیں گیں ؟ تو وہ ہر روز کہتے کل کل ، کل لوں گا اور کل کل کرتے عید آ جایا کرتی تھی۔ لیکن ابو اپنے لیے کچھ نہیں لیا کرتے تھے ۔ اور میں ہمیشہ ان سے پوچھ پوچھ کر بُھول جایا کرتی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ ہمارے حالات ٹھیک ہونے لگے سب ٹھیک ہونے لگا۔ ابو کی اچھی جگہ نوکری لگ گئی اور انھوں نے اوور ٹائم کرنا بھی چھوڑ دیا ۔ پھر اچانک ایک دن پاکستان سے پھوپھو کی کال آئی ۔ انہوں نے بتایا کہ دادو کو ڈوکٹرز نے جواب دے دیا ہے ۔ دادو کسی بھی وقت فوت ہو سکتیں ہیں ۔ اور وہ ابو کو پاکستان بلا رہیں تھیں ۔ میں چھ سال کی تھی ۔ مجھے آج بھی یاد ہے ، گھر میں افراتفری مچی تھی ۔ ابو امی پیکنگ کر رہے تھے۔ میں نے شروع سے یہ دیکھا تھا ۔ دادو امی کو پسند نہیں کرتیں ۔مجھے لگا ابو جائیں گیں تو پھر کبھی واپس نہیں آئیں گے ۔ تو میں نے ڈر کر ابو کا پاسپورٹ اپنے مچھلی کے ٹینک میں پھینک دیا ۔ اور کہا غلطی سے گر گیا میں تو بس پاسپورٹ دیکھ رہی تھی۔ پر پاسپورٹ غلطی سے نہیں گرا تھا ۔ وہ میں نے جان بوجھ کر گرایا تھا۔ ابو نے مجھے کچھ نہیں کہا ۔ پھر ابو نے بھاگ دوڑ کی ، پاسپورٹ بننے دیا لیکن پاسپورٹ کے آنے سے پہلے ہی دادو فوت ہو چکیں تھیں ۔ ابو دادو کو کندھا نہیں دے پائے ۔ ابو ان کے جنازے میں شریک نہیں ہو پائے ۔ ابو دادو کو آخری دفعہ نہیں دیکھ پائے ۔ میری میری وجہ سے۔ کوئی جلا وطنی اپنی خوشی سے کرتا ہے۔ کوئی شوق سے اور کوئی مجبوری سے ۔ اس روز ابو نے ایک غلطی کی تھی اور وہی غلطی آج عارف نے بھی کی ۔ امی مجھے اس روز بھی مارنے لگیں تھیں لیکن اس روز ابو نے روک لیا اور آج عارف نے۔” وہ چہرے پہ ہاتھ رکھ کر پُھوٹ پُھوٹ کے رونے لگی۔ اور وہ تینوں اس کی بات پہ ششدررہ رہ گئے تھے۔ “اللہ نے اتنا ظلم کیا ۔” لُولُو اسے بےیقینی سے دیکھتے بولی ۔

“حورعین ظلم ؟” “ظلم وہ بھی اللہ ؟” “اللہ تعالٰی ہم پر کبھی ظلم نہیں کرتے۔ ظلم تو ہم خود اپنی ذات پہ کرتے ہیں ۔کیا تمہیں آنٹی نے نہیں روکا تھا ؟ کیا تمہیں میں نے نہیں سمجھایا تھا ؟ کہ اس سے بات نہ کرو ۔ تو بتاو حور ظلم کس نے کیا تم نے کہ اللہ نے ؟”

“تمہاری صرف بات ہو چکی ہے لیکن نکاح نہیں۔”

” ہوں زیادہ بات مت کَرنا ویسی بھی کچھ مہینوں تک نکاح ہو جائے گا تو کرتی رہنا۔” اسے یہ سب بےاختیار یاد آیا تھا۔

“حورعین میں نے تمہیں سمجھایا تھا نہ وہ تمہارا ہونے والا شوہر تھا ۔ پر ہوا تو نہیں تھا۔ نامحرم کو محرم کہنے سے وہ محرم تو نہیں بن جاتا۔ اچا بتاو ؟ تمہارے پاس امی ابو ہیں ؟”

اس نے اثبات میں سر ہلایا۔وہ چھٹ پہ تاروں کو دیکھتی پوچھ رہی تھی۔ “تمہارے پاس ایک پیار کرنے والا خاندان ہے ؟ تم کس انسان کی وجہ سے کہہ رہی ہو یہ سب ؟ کس رشتے کے پیچھے ؟ جو بننے سے پہلے ہی ٹوٹ گیا۔ جس کا نام تمہارے نام سے جُڑنے سے پہلے ہی چُھوٹ گیا۔ حور میرے پاس میری نانی کے علاوہ کوئی نہیں ہے ۔ میں نے اپنے امی ابو کو آج سے سولہ سال پہلے کھو دیا تھا۔ میں نے وہ لاڈ پیار سب کھو دیا تھا۔ پر ظلم کا لفظ کبھی بھی اپنی زبان سے نہیں لیا ۔ جانتی ہو کیوں ؟ کیونکہ میرے پاس میری نانو تھیں ۔ مجھے میرے اللہ نے تنہا بےآسرا نہیں چھوڑا تھا ۔مشکل کے ساتھ تب بھی آسانی تھی اور آج بھی آسانی ہے ۔ بس اپنی دل کی آنکھ سے دیکھو۔ ”

وہ موتیوں میں لپٹا چہرہ زخمی سا مسکرایا۔ “حور تمہارے پاس جنت تو ہے ۔ جب وہ روٹھتی ہے تو تم اسے منا سکتی ہو ۔ پر میں کسے مناؤں ؟ تمہارے پاس جنت کا دروازہ تو ہے تم اسے کھٹکھٹا سکتی ہو ۔ پر میں کسے کھٹکھٹاوں ؟ تم اپنے غم بانٹ سکتی ہو ۔ تمہارے پاس بہت خوبصورت اور مقدس رشتے ہیں ۔ حور تم ان کو گلے لگا سکتی ہو ۔ تم معافی مانگ سکتی ہو ۔ بس ایک دفعہ معافی مانگ کر تو دیکھو۔ بکھرے ہوئے رشتوں کو دوبارہ سے جوڑنے کے لیے پہلی سیڑھی ادب کی سیڑھی ہوتی ہے اور ادب کے لیے میں کو مارنا ہی پڑتا ہے۔ جب کبھی تمہیں اپنا آپ کمتر محسوس ہو تو اپنے سے نیچے دیکھ لینا یقین مانو بہت سکون ملے گا۔ ”

کچھ دیر تک پرستان میں خاموشی چھائی رہی اور عارف کا موبائیل بجنے لگا ۔ وہ اسکرین پہ اکتاہٹ سے دیکھتے بولا۔ “اُف دس بار کال کر چکیں ہیں فیفتھ فلور والی آنٹی ۔ ہر بار کہتی ہیں صبر کرو اور اتنا طنز کرتی ہیں۔”

“ایدھر لاؤ ۔” اس نے ہاتھ بڑھایا ۔اور اس نے اسے موبائیل تھمایا۔ اس نے غصے سے سبز بٹن دبایا۔ “ہیلو ! ” “السلام علیم بیٹا۔” “جی وعلیکم۔”

وہ مختصر سا جواب دیتی تھی۔”کیسی ہو ؟” “کیسے ہو سکتے ہیں آنٹی ؟” “یہ ہارٹ شارٹ کی بیماریاں لگ جائیں نہ پھر سہی نہیں ہوتیں ۔ قبر میں پہنچا دیتی ہیں۔ ” “جی بلکل آنٹی آپ کے ابو کو بھی پچھلے سال ہارٹ اٹیک ہی آیا تھا نہ آنٹی۔” “ہاں بیٹا۔ ”

اس سمت وہ تاسف سے بولی۔

“امی کیسی ہیں ؟ بیچاری فرحانہ۔”

“بہت خوش ہیں امی ۔ کیسا ہونا چائیں اور اُنھیں ؟”

“آئے ھائے ایسے کیوں بول رہی ہو ؟ مجھے پتہ چلا تمہارا بھی۔ عابدہ نے اچھا نہیں کیا بہت افسوس ہوا ۔ صبر کرو اپنا غصہ پی جاؤ۔ ” “یہی سب آپ کی بیٹی کے ساتھ ہوتا ، تو پھر پوچھتی میں آپ سے کے کیا کیا پیؤں اور کیا کیا کھاؤں۔ ” “بہت بدتمیز ہو تم۔”

وہ بھڑکی۔ “آپ سے اچھی ہوں۔ ”

وہ چبا چبا کے بولی تھی ۔

انعمتہ نے فوراً اس سے موبائیل لیا۔ “ہیلو آنٹی ۔سوری وہ حورعین بہت اپ سیٹ ہے !” “کوئی بات نہیں بیٹا، بچی ہے۔ اچھا ہم ساتھ ہیں آپ کے خدا نخواستہ

میرے منہ میں خاک میرے منہ میں خاک، کچھ بھی ہو جائے تو ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔” اس نے اس سے موبائیل جھپٹ کر پکڑ لیا۔اور وہ چلائی ۔

“یتیم نہیں ہوئے ہم ۔ اچھی بات نہیں کرسکتیں تو بری بھی نہ کریں اور جی بلکل درست کہا اپنے کہ آپ کے منہ میں خاک ۔ خدا حافظ !” اس نے سرخ بٹن دبا کر موبائیل اس کی گود میں اچھال دیا۔

حرف تسلیِ تو بس ایک تکلف ہے ورنہ

جس کا درد،اسی کا درد

باقی سب تماشائی۔

لُولُو نے اس کا ہاتھ تھاما۔

“حورعین غصہ تھوک دو۔” “تھوکوں گیں ۔ ضرور تھوکوں گیں، لیکن حمزہ کے منہ پہ۔”

آنسوں خشک ہو گئے تھے۔ اب صرف آنکھوں میں غصہ، نفرت اور دل میں انتقام کی تمنا تھی۔عارف موبائیل پہ کچھ دیکھ رہا تھا۔

“میں دیکھ رہا ہوں ویسے انٹرنیٹ سوشل میڈیا پہ کوئی تصاویریں یا وڈیو نہیں آئیں حورعین ۔ کیونکہ اگر آئیں ہوتیں تو اب تک یہاں بہت ہنگامہ ہو جانا تھا۔ حمزہ اتنا بھی نہیں گر سکتا۔”

کون بتائے اُنھیں ؟ کے وہ تصویریں وہاں کیوں نہیں آئیں تھیں۔ کون بتائے اُنھیں ؟کہ اس کے پیچھے کیا راز تھا۔ کون بتائے اُنھیں ؟ لیکن کون بتائے ؟

“میں بھی اب حمزہ کے ساتھ وہی کروں گی جو اس نے میرے ساتھ کیا ۔”

‏”.Tit For Tat ”

(جیسے کو تیسا۔ ) “انصاف عمر کے طرح کرنا چاہیے فرعون کی طرح نہیں۔”

وہ شفاف سا چہرہ بڑی سادگی سے بولا تھا۔

“تم بھی ویسا کروگی تو تم میں اس میں کیا فرق رہ جائے گا ؟ ”

وہ سانس لینے کے لیے رُکی۔

” ہمیں ہماری زندگی کے فیصلے کرنے کا حق ہوتا ہے ۔ اور ہونا بھی چاہیے ۔ ہم ہمارا اچھا بھلا جانتے ہیں پر اللہ اسے ہم سے بہتر سمجھتے ہیں۔ ہم غلطی کر سکتے ہیں۔ اللہ غلطی نہیں کر سکتا۔ ہماری زندگی میں کچھ لوگ خیر و شر کا باعث ہوتے ہیں۔ جن کی موجودگی میں شر اور جانے سے خیر ہوتی ہے۔ زندگی کے کچھ فیصلے صرف اللہ کے ہاتھ میں چھوڑ دینے چائیں کیونکہ کچھ کام صرف اس ذات کے ہی اختیار میں ہوتے ہیں ۔ تم حمزہ کا فیصلہ اللہ کہ ہاتھ میں دے دو۔ وہ عدل کرنے والا ہے وہ عدل کرے گا۔”

“مجھے نہیں پتہ مجھے اس سے بدلا چاہیے ۔ وہ بھی ابھی۔” اس نے ہاتھ ملے۔

“تم جذباتی ہو رہی ہو ۔ وقت سے پہلے کیا ہوا فیصلہ اور کچا دھاگا ایک سا ہوتا ہے ۔ نازک کمزور اور بیکار۔ جو نقصان اور مشکلیں ، ہمیں آج تکلیف دے رہیں ہیں ۔ کل وہی ہمارے لیے مسرت کا سبب بنتیں ہیں۔ یقین جانوں اگر کسی چیز میں ہمارے لیے خیر ہوتی تو اللّٰہ ہمیں اس سے کبھی بھی جدا نہیں کرتا۔”

“ہمارا آج کل سے بہتر ہوگا انشاء اللہ !” تب کی چپ انعمتہ اب بولی تھی اور سب نے نظریں اُٹھا کر بغور اسے دیکھا۔

“ٹھیک ہے ٹھیک ہے لیکن مجھے حمزہ سے ایک دفعہ بات کرنی ہے ۔ مجھے جواب چاہیے اس سے۔ مجھے بدر کا نمبر چاہیے عارف۔ ” وہ دم بخود بول پڑا۔

“کیوں ؟” “مجھے حمزہ سے ملنا ہے۔”

“تمہارا دماغ ٹھیک ہے ؟ اتنا سب کچھ ہو جانے کہ بعد بھی تمہیں اس درندے سے خوف نہیں آتا ؟” اس نے گہری سانس لی۔

“مجھے فرق نہیں پڑتا محبت سے نفرت سے۔مجھے خوف نہیں آتا۔زندگی سے موت سے۔مجھے فرق نہیں پڑتا عزت سے ذلت سے۔مجھے خوف نہیں آتا اپنوں سے غیروں سے۔ مجھے فرق نہیں پڑتا کسی رشتے کے جُڑ جانے سے کسی رشتے کے ٹوٹ جانے سے ۔ مجھے خوف نہیں آتا اندھیرے میں یا اُجالے میں۔ مجھے کسی بھی چیز سے نہ اب کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ ہی کوئی خوف آتا ہے۔”

“ٹھیک ہے لیکن میں بھی چلوں گا تمہارے ساتھ اور اس دفعہ ہم اسے کہیں باہر بُلائیں گے۔” وہ متفق نہیں تھا ۔ لیکن پھر بھی اس نے ہامی بھر دی تھی۔

“میں بھی چلوں گی تمہارے ساتھ۔ ” “اور میں ؟” انعمتہ نے امید سے اُنھیں دیکھا۔ جواباً لُولُو مسکرائی اور اس نے اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے چھوا۔ “تو تم آنٹی کو اکیلا چھوڑ دو گی کیا ؟” اس نے فوراً سے نفی میں سر ہلایا۔ وہ اب اس کی طرف متوجہ ہوئی۔ “چلو حورعین مجھے چلنا ہے بہت رات ہو گئی ہے ۔ مصطفٰی بیچارا نیچے گاڑی میں بیٹھا تھک گیا ہوگا۔ ” وہ اپنا پرس پکڑتے اُٹھی۔ “مت جاؤ لُولُو ۔”

اس کی آنکھیں بھیگیں ۔

آج اس کی کہی ہر بات اسے تقویت بخشتی تھی۔ ایک وہ دن تھا ۔ جب وہ اس کی ہر ہدایت و نصیحت سے بچتی اُکتاتی پھرتی تھی ۔ اور ایک آج کا دن تھا۔ وہ صرف اس ہی کی سننا چاہتی تھی۔ “میں کل آ جاؤں گی ۔ نانو کو بھی دیکھنا ہے اور عارف انعمتہ اسے کھانا ضرور کِھلا دینا اور خود بھی کھا لینا۔”

اب وہ حورعین کی طرف بڑھی۔ اس نے اس کا ماتھا چُوما۔ “اپنا خیال رکھنا !”

لُولُو بھی جا چکی تھی اور عارف بھی گھر سے اس کے ساتھ ہی کہیں نکلا تھا۔ وہ کچھ سوچتے پلنگ سے اُٹھی اور اس نے اپنے سر سے چادر کھینچی ۔اب وہ الماری کے طرف بڑھی اس نے الماری کے پٹ کھولے اور زور سے کپڑوں کو پیچھے کیا۔ انعمتہ چونکی ۔ اس نے زور سے وہ چارٹ پیپر اُتار کر زمین پہ پھینکا۔ “یہ کیا کیا ؟”

“کچھ خواب ٹوٹ جانے کے لیے ہوتے ہیں !” اور وہ کمرے سے نکل گئی۔ اس نے پلنگ سے اُٹھ کر وہ پیپر اُٹھایا۔ “لیکن ہر خواب نہیں ۔ تمہارے یہ خواب ضرور پورے ہونگیں ۔اور میں کروں گی انھیں پورا۔” وہ اسے لپیٹنے لگی ۔ وہ لاونج میں سر پکڑے بیٹھی تھی ۔ اور تبھی وہ چارٹ پیپر رکھ کر لاونج میں چلی آئی۔ “وہ پیپر کیوں اُتارا تم نے ؟ تم ایفل ٹاور نہیں دیکھنا چاہتی کیا ؟” وہ مصنوعی خفگی سے بولی تھی۔ اس نے دھیرے سے سر اُٹھایا۔ “ہماری خواہشیں ہماری قسمت کے آگے سر جھکا ہی لیتیں ہیں۔ پھر ہمارے چاہنے نہ چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ انعمتہ پلیز لائٹ بند کر کے چلی جاؤ ، میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے۔” اس نے تعجب سے اسے دیکھا۔

“تم وہ بھی بند لائٹ میں بیٹھو گی یہاں ؟ ہو ہی نہیں سکتا۔”

“بیٹھ جاؤں گی۔ آج جب میں اندھیرے میں خوف سے تڑپتے ہوئے یہاں وہاں دیکھتی تھی ۔ تو روشنی کو تلاش کرتی تھی ۔ کہ کہیں سے کہیں سے۔ ایک کرن کہیں سے ایک ذرا نور کا مجھے مل جائے۔ پتہ ہے اندھیرے میں کیسا لگتا ہے ؟ گھبراہٹ ہونے لگتی ہے ۔ وحشت سی ہونے لگتی ہے ۔ پھر اس گھبراہٹ سے آپکا دم گھٹنے لگتا ہے ۔ ایسا لگتا ہے ۔ آہستہ آہستہ آپ کا آپکی سانسوں سے تعلق ٹوٹ رہا ہے ۔ ہر سانس پہ لگتا ہے کہ بس یہ آخری سانس ہے ۔ ہر درد پہ بس یہ لگتا ہے ۔ بس ایک آخری بار اور پھر اس درد و خوف سے نجات مل جائے گی ۔ مگر نہیں وہ درد مسلسل آپ کے ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے کبھی نہ ختم ہونے والا درد بن کر ۔ اور پتہ ہے وہ درد کیسا ہوتا ہے ؟ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کھنجروں سے آپ پہ وار ہو رہا ہے ۔ کوئی آپ کو آپ سے چھین رہا ہے ۔ آپ کچھ محسوس نہیں کر سکتے کچھ نہیں کہہ سکتے ، سوائے درد کے سوائے تکلیف کے۔ میں نے اُس وقت بہت نور کو ڈھونڈا ۔ کہ کچھ تو ملے کچھ تو ۔ پھر میں نے اپنے اعمالوں پر ایک نظر دوھرائی ۔ وہاں تو صرف تاریکی ہی تھی ۔ نور تو کہیں بھی نہیں تھا۔ تو پھر مجھے کیسے نور ملتا ؟ میں نے خود کو اس تاریکی میں خود دھکیلا تھا ۔انسان زندہ اندھیرے میں یوں ہے تو مردہ قبر میں کیا ہو گا ؟ میں نے جیتے جی بیہانک موت دیکھی ہے ۔ اس لیے مجھے اب اندھیرے سے ڈر نہیں لگتا۔ ”

“اوکے !” وہ فوراً سے لائٹ بند کر کے راہداری سے بھاگتی بڑی روانی سے کمرے میں آئی۔ اور پلنگ پہ اوندھی گر گئی ۔ اس نے منہ پہ زور سے ہاتھ رکھ لیے ۔ آنسوں ٹِپ ٹِپ گرنے لگے۔

(کیسے ؟ کیسے ؟ اس نے اتنی دیر اس کمرے میں گزارے ہونگیں کیسے ؟ اتنی اتنی تکلیف ؟ وہ لڑکی جو ایک منٹ کے لیے بھی بتیاں نہیں بند ہونے دیتی تھی۔ وہ کیسے وہاں اتنی دیر رہی تھی ؟ کیا زندگی اتنی کٹھن ہوتی ہے ؟ کیا ہم خواب دیکھے بنا نہیں جی سکتے ؟ ہم ایسی خواہشیں کیوں پال لیتے ہیں جنکا ملنا ناممکن ہوتا ہے ؟ یہ نشیب و فراز پستی بلندی کیوں آتے ہیں ہماری زندگی میں ؟ جینے کے لیے صرف سانسیں درکار کیوں نہیں ہوتیں ؟ خلوص،محبت وفا جیسی چیزیں کیوں ضروری ہو جاتی ہیں ؟) وہ خود سے وہ وہ سوالات کرتی تھی ۔ جن کے جوابات تو شاید خود اس کے پاس بھی نہیں تھے۔

اُدھر:-

باہر کا دروازہ کھلا اور لاونج میں روشنی داخل ہونے لگی۔ اس نے آنکھوں پہ ہاتھ رکھ لیا ۔ عارف نے اندر آتے بتیاں چلائیں اور لاونج زرد بتوں سے جگمگانے لگا ۔ اس نے ایک سرسری نگاہ عارف پہ ڈالی ۔ وہ ہاتھ میں پیزے کا ڈبہ پکڑے مسکرا رہا تھا۔ وہ اُٹھی۔ “کیا ضرورت تھی ؟ کتنے پیسے ہوئے ؟ بتاو آدھے آدھے کر لیں ۔”

“اسکی کوئی ضرورت نہیں ۔ یہ میری طرف سے ہے ۔ کیا یاد کرو گی پیچھے سے بھائی کو ؟ کہ اکلوتا بھائی ہے ۔ اور کبھی بھائی نے کچھ کیا ہی نہیں بہنوں کے لیے۔ ” جواباً وہ مسکرائی۔

(اوہ خدا یہ عارف ہے ؟ ہمارا سڑیل عارف ؟) آگے پیچھے جب بھی وہ کچھ منگوایا کرتے ۔ تو برابر کا حساب کیا کرتے تھے ۔ اور اگر گسی ایک کو بھی ایک پیسہ اوپر دینا پڑتا تو سفیان صاحب کا گھر کسی میدانِ جنگ سے کم نہیں لگتا تھا ۔ کھانے کہ بعد انعمتہ عارف لاونج میں تھے۔ وہ کمرے میں پلنگ پہ بیٹھی سنگار میز سے خود کو دیکھ رہی تھی۔

“نہیں نہیں حمزہ یہ جُھوٹ ہے ۔ یہ بہتان ہے۔ حمزہ تم ایسے نہیں کر سکتے ایسے تو کوئی دشمن بھی نہیں کرتا۔ میں ایسی لڑکی نہیں ہوں۔” “ہاں ہاں میں جانتا ہوں بیسٹ فرینڈ۔ ” آنکھیں سرخ ہوئیں۔ وہ اُٹھی اور سنگار میز کے قریب آئی اس نے بغور سنگار کے سارے سامان کو دیکھا۔ ” بہت خوبصورت ہو نہ تم ۔ چلو سب بھی دیکھیں نہ ذرا” اور ہاتھ سے گھسیٹ کر اس نے سب کچھ فرش پہ پھینکا۔ اب اس نے خود کو آئینے میں دیکھا اور نوچتے ہوئے انداز میں چہرے پہ ہاتھ رکھ لیے ۔ یہی حسن اس کی ذلت کا سبب بنا تھا۔ یہی حسن جس پہ اُسے بڑا گھمنڈ تھا ۔ اب اسنے نحوست سے اپنے بازو کو دیکھا اسے خود سے گھن آئی تھی ۔ وہ کیسے اسے اس تاریک کمرے میں پھینک آیا تھا۔ کیسے ؟ کیسے ؟ “تمہاری ہمت کیسے ہوئی کیسے ؟ کیسے ؟” وہ اپنا ہاتھ زور زور سے سنگار میز پہ پٹکنے لگی ۔ وہ رُکی اس نے گہری سانس لی اور الماری کی طرف بڑھی ۔اس نے الماری کے پٹ کھولے اور اپنے کچھ کپڑے نکالے جن میں کچھ کی تو آستینیں ہی نہیں تھیں ۔ اور جن کی تھیں وہ بھی نہ ہونے کے برابر ہی تھیں ۔ وہ اُنھیں زمیں پہ پھینک کر روندنے لگی ۔ روندتے روندتے اس کی نگاہ سایڈ ٹیبل پہ پڑی تصویر پہ گئی۔ وہ طیش سے آگے بڑھی اور اس نے وہ فریم اُٹھا کر فرش پہ پھینکا ۔ کانچ کرچی کرچی ہو کر فرش پہ بکھرا تھا ۔ وہ خود کو کمپوز کرتے آگے بڑھنے لگی کہ .. “آہ !” اس کے پاؤں میں کانچ چُبا ۔ اس نے پاؤں اُٹھایا اور سرخ آنکھوں سے دیکھتے کانچ نکالا۔ “امی !” وہ لڑکھڑاتے ہوئے سرخ قدموں سے آگے بڑھی ۔ اس نے ایک دفعہ پھر سے خود کو آئینے میں دیکھا ۔ اور پھر اپنے چھوٹے چھوٹے گڑیا بازؤں کو ۔ اس نے فوراً سے پلنگ سے چادر اُٹھا کر خود پہ سر تک اوڑھی۔ اسے خود سے بےتہاشا حیا آئی تھی ۔ وہ کیسے ایسے ہی باہر نکل جایا کرتی تھی ؟ وہ جدھر جدھر سے مہکتی گزرتی تھی ۔ ہر کوئی پلٹ پلٹ کر اسے دیکھا کرتا تو اسے اچھا لگتا تھا۔ لیکن اس کی یہی تصویریں یہی حسن ، آج جب ان نامعلوم لوگوں کے ساتھ تصویروں میں جوڑا گیا تھا ۔ تو پھر کیوں اسے بڑا لگ رہا تھا ؟ وہ تو ایسی ہی تھی، بس ساتھ کچھ لڑکوں کا اضافہ ہی ہوا تھا نہ ۔ وہ خود کو چادر میں اوڑھے کپکپاتی تھی۔”وہ میرے برابر کی ہے۔ ” کانوں میں پھر سے اس شخص کی آواز گونجی ۔اور وہ بنا کچھ سوچے واش روم میں بھاگی ۔ اس نے دروازہ بند کیا ۔ اور بیسن کے آگے جھکی۔ اس نے گہری سانس لی اور نلکا کھول کر ہاتھ آگے بڑھایا۔ کھولتا پانی اس کے ہاتھ پہ پڑا۔اور وہ یکدم پیچھے ہوئی ۔اس نے اپنے ہاتھ کی سمت دیکھا۔ اس کا ہاتھ سرخ تھا ۔ ایک دم سرخ ۔ وہ غور سے اپنے ہاتھ پہ نظریں جمائے شاک تھی ایک دم شاک ۔اسے اندھیرا ، شیشے ، آگ سب کچھ یاد آ رہا تھا۔ “اگر ایک گرم پانی کی چھینٹ اتنی بری طرح چبتی ہے تو آگ کیا کرے گی ؟” اس نے گلے سے تھوک نگلا ۔ اچانک بتیاں بند ہوئیں اور وہ زور سے دیوار سے لگ کر چلائی۔ “امی !” آنکھوں پہ سیاہ پردے سے زیادہ خوف تھا ۔ اندھا خوف ۔وہ باہر نکلی اور بتیاں چلیں۔ سامنے عارف تھا۔ “سوری یہ میں گلی کی لائٹ بند کرنے لگا تھا تو غلطی سے ہو گئی !”وہ گھبرا کے بولا ۔اس نے اسے دھکا دیا۔

بھاڑ میں جاؤ۔”

اور بھاگ کر کمرے کا دروازہ بند کرلیا ۔ راہداری میں انعمتہ چلی آئی۔ “کیا ہوا ؟” اور وہ آزردگی سے اسے دیکھ کر بولا۔

“پتہ نہیں۔”

***********************

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں