سماج کی رول ماڈل 23 سالہ قانون کی طالبعلم لڑکی

ہندوستانی میڈیا کے مطابق ہندوستان کی ریاست کیرلہ کے علاقے ترواننت پورم میں 23 سالہ قانون کی طالبہ نے تیز دھاردار ہتھیار سے ایک سادھو کے پرائیویٹ پارٹ کاٹ دیئے ہیں ، طالبہ کا الزام ہے کہ گزشتہ آٹھ سالوں سے اس کے گھر میں ہی سادھو اس کی آبروریزی کر رہا تھا ، وہ جب 16 سال کی تھی تو ملزم نے پہلی مرتبہ اس کی آبروریزی کی تھی ۔

طالبہ کی طرف سے درج کرائی گئی رپورٹ کے مطابق ملزم سوامی گنگیشا نند کوللم کے پنمانا آشرم کا رکن ہے ، اس کی عمر 54 سال ہے۔ گزشتہ جمعہ کی رات کو ملزم نے ایک بار پھر اس کی آبروریزی کی کوشش کی ، جس کے بعد اس نے ایک تیز دھار ہتھیار سے سادھو کے پرائیویٹ پارٹ پر حملہ کیا – واردات کے فورا بعد زخمی ملزم ترویندرم اسپتال میں علاج کے لئے دوڑ پڑا ، جہاں اس کی سرجری کی گئی ہے ۔ اسپتال کے عملہ کے مطابق ملزم کا پرائیویٹ پارٹ 90 فیصد تک کٹ گیا ہوا ہے اور وہ اس حالت میں نہیں ہے کہ اسے دوبارہ جوڑا جا سکے-

ملزم سادھو کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 376 (عصمت دری) اور پوسکو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ تاہم درج رپورٹ کے مطابق ملزم سادھو نے تھانے میں کہا ہے کہ اس نے خود ہی اپنے پرائیویٹ پارٹ کو کاٹا ہے۔ ادھر کیرالہ کی ریاستی خواتین کمیشن کی رکن پرملا دیوی نے کہا ہے کہ ہمیں اس لڑکی پر فخر ہے، خاص طور پر ایسے معاملات جہاں پر مذہب کے نام پر استحصال ہوتا ہے ، وہاں اس طرح کے معاملات قطعی قابل قبول نہیں ہیں- وہ لڑکی سماج کے لئے ایک رول ماڈل ہے، مقامی میڈیا کے مطابق اس معاملہ میں طالبہ کی ماں کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ طالبہ کے ساتھ ہو رہی زیادتی کی معلومات اس کو پہلے سے تھی ، لیکن اس نے اس کی شکایت نہیں کی – قانون کی طالبہ نے پولیس رپورٹ میں کہا ہے کہ اس کے والد کچھ سالوں سے پیرالائسس کا شکار ہیں – ملزم نے اس کی ماں کے ساتھ بھی جنسی استحصال کیا تھا –

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں