سوئی وہار…ماضی کی عظیم بدھ عبادت گاہ

تا ریخ کسی پر اسرار طریقہ پر اپنے آثار حقیقت قائم رکھتی چلی آئی ہے۔ہندو و پاک کے طول و عرض میں جا بجا یادگاریں ،تا ریخی عمارتیں ، کھنڈرات ،عبادت گاہیں ، پرانے زمانے کے بادشاہوں کے محلات ،باغات اور قلعے پھیلے ہوئے ہیں ۔زمانہ سلف کے مد فون شہر حال ہی میں بر آمد ہو ئے ہیں ۔جن میں ٹیکسلا ، ہڑپہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔بر صغیر میں بدھ مت کی ایک نہایت مشہور و معروف یونیورسٹی سینکڑوں سالوں سے پیوند خاک ہو گئی تھی ۔جس کا نام’’ سوئی وہار‘‘ تھا ان میں سے ایک ہے۔ہڑپہ اور موہنجوڈار ودو ہمعصرشہر تھے اور یہ دونوں شہر ایک دوسرے سے چار سو میل کے فا صلہ پر واقع تھے لیکن ایک ہی تمدن کی نشاندہی کرتے ہیں ۔یعنی موہنجوڈار وسے لیکر ہڑپہ تک ایک ہی کلچر جا ری و ساری تھا ۔جسے ’’سر مار ٹیمرو ھیلر‘‘ہڑپہ کلچر کا نام دیتے ہیں۔ سر زمین بہا ولپور چونکہ اسی علاقہ میں واقع ہے اس اعتبا ر سے یہ ایک نہایت اہم اور قدیم ثقا فتی ورثہ کی مالک کہی جا سکتی ہے۔جس میں پٹن منارہ ، اوچ اور سوئی وہار جیسے قدیم اور ثقافتی مقامات خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔سب سے پہلے’’ سوئی وہار ‘‘کی دریافت کا سہرا کرنل منچن کے سر ہے۔جس نے وہ پیتل کی تختی برآمد کی جس پر کنشک کے عہد کی تحریر کندہ تھی۔اور جس سے پتہ چلا تھا کہ یہ بدھوں کا ایک اسٹوپا ہے۔نالندہ اور ٹیکسلا کی یو نیورسٹیاں بہت مشہور ہوئیں اور سوئی وہار کا نام بھی ان سے کسی طرح پیچھے نہ تھا ۔جہاں دور دراز کے ممالک سے لوگ بدھ مت کی تعلیم اور دیگر علوم پڑھنے کیلئے آیا کرتے تھے ۔حال کہ ایک انگریز مصنف نے(ہسٹری ٹو ڈے لندن )سکندر اعظم کی بہاولپور ڈویژن کے شہر احمد پور کے قریب سوئی (سیوی)قوم کے باشندوں سے ملاقات کا ذکر کیا ۔ہندوستان کا سو راشٹر اور یورپ کا سویڈن اسی نسبت سے مو سوم ہیں اور غالباًً اوچ سے لیکر سیون تک سارا علاقہ اسی سیوی یا سبوئی قوم کا علاقہ تھا اور موجودہ موضع سوئی وہار بھی اسی سبوئی قوم کا ایک گڑھ تھا جو بگڑ کر’’سوئی‘‘ہو گیا۔بدھ مت کی دو عبادت گا ہوں کی باقیات وادی ہاکڑہ میں نمایاں طور پر موجود ہیں ۔ان میں اولین بدھ خانقاہ،بہاولپور شہر سے جنوب سولہ میل دور بہا ولپور ، احمد پور شرقیہ روڈپر سوئی وہار کے مقام پر ملتی ہے۔جبکہ دوسری بڑی عبادت گاہ رحیم یارخاں شہر سے جنوب کی جانب ایک وسیع و عریض شہر پتن منارہ کے ٹھیڑ پر عظیم عبادت گاہ کے ایک مختصر بچے ہوئے حصہ کے شکل میں مو جود ہے ۔جس طرح بر صغیر پاک و ہند میں بدھ مت کے وہاروں میں سے نا لندہ وہار سب سے زیادہ مشہور اور معروف ہے اسی طرح وادی ہاکڑہ میں وہی حیثیت سوئی وہار کو حاصل ہے۔ مہا راجہ اشوک کی بدھ مت سلطنت میں سندھ بھی شامل تھا اور مہا راجہ کنشک کے عہد میں دریا ئے سندھ کے کنارے جو عبادت گاہیں بنائی گئیں تھیں ۔سمہ سٹہ کے قریب واقع سوئی وہار کی بدھ عبادت گاہ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔اس جگہ جواب موضع سوئی وہار کہلاتا ہے۔ عبادت گاہ کے مقام پر قریباً ۲۵فٹ بلند ایک خام مینار کھڑا ہے اور اس کا بہت سا حصہ ٹھیٹر کے اندر دفن ہے ۔یہ بھی مشہور ہے کہ انیسویں صدی کے آواخر میں آنے والے ایک زلزلہ کے نتیجے میں مینار کے اوپر کا آٹھ فٹ کا حصہ زمین پر آگرا ۔ پھر بارشوں کی وجہ سے بھی اس کی مٹی کھرتی رہی اور اس کی بلندی کو پستی کی طرف لاتی رہی۔اس مینار کی بیرونی سطح پختہ اینٹوں سے تعمیر کی گئی تھی جوریلوے لائن کی تعمیر کے دنوں میں ٹھیکیداروں نے ا س کی پکی اینٹیں اکھاڑی تھیں اور روڑی بنا کر ریلوے پٹڑی پر ڈالی تھی۔ یہ اینٹیں نقش و نگار والی تھیں۔مینار کے درمیان ایک خالی کھلی جگہ سے تانبے کی پتری ملی تھی جس پر ’’پالی باختری ‘‘زبان میں مندرجہ ذیل عبارت درج تھی۔
MAHARAJA RAJAD BAJIDALO TAPOA KANSHKA SAMU SER AKADASI SIM IIDI SASSA MASSASA DIWASI ARA WISTI 28, ANTAR DSI BICHHA NAGA DATTASA SEKHA BHATASA ACHA YADMR TAJASASHA ACHARRYA, BHAD PA SASHSATTA YANNAN ARO PHATA ABAD BHINI, DHARD LAJHAN NOO PASKA BALANANDI WAHJA , BAND BALDA JAYA MATHJAAMAMYATI,PARBHANPTA,DETD PIRI WARAMDADA DARAM SUDSATANAN HIRA SEKHIDELAT.

سوئی و ہارسے گوتم بدھ کا جو مجسمہ ملا ہے ۔اس کا ذکر کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ یہ مجسمہ جو جنوری ۱۹۷۲ء میں سو ئی وہار کے ٹھیٹر میں واقع کھودی جانے والی ایک قبر سے اچانک برآمد ہوا اور شکر ہے کہ محفوظ رہا ۔چند دنوں کے بعد اسے حاصل کر کے محفوظ کر لیا گیا۔ساڑھے سات انچ طویل ساڑھے پانچ انچ بلند اور چار انچ موٹی خاکی رنگ کے کچے پتھر کی ایک باریک اینٹ میں تراشے ہوئے اس مجسمے کو سیدھا بیٹھا ہوا دکھا یا گیا ۔اس کے ہونٹوں پر خفیف سی مسکراہٹ ہے جو ایک غیر معمولی بات ہے۔عیسائیت اور اسلام کے بعد دنیا میں سب سے قدیم اور بڑا مذہب بدھ مت تھا جو ہندوستان سے ابھرا اور آہستہ آہستہ افغانستان سے لیکر جاپان تک پھیل گیا ۔مؤ رخ ڈاکٹر احمد حسن دانی کی فاضلانہ رائے پر انحصار کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ بدھ مت عبادت خانہ اور دانش گاہ چارسو سال سے زائد عرصہ تک موجود اور مصروف خدمت رہی اور متذکرہ صدر مجسمہ پانچویں صدی عیسوی کے زمانے میں تیار کیا گیا ہو گا۔سوئی وہار کی باقیات ۲۴ بیگھ اراضی پر محیط نظر آتی ہے ۔اس رقبہ پر یقیناًعمارات تھیں ۔بعض لوگوں کا کہناہے کہ اس مینار کے نیچے بھی کمرہ ہے جس میں بہت بڑا خزانہ ہے اور جس میں سیاہ ناگ پہرہ دیتا ہے اور اس کی لمبائی کئی گز تک ہے ۔مینا ر کے چاروں طرف
قبر ستان کے سلسلے پھیلے ہوئے ہیں اور اور بڑھتے ہی چلے گئے ہیں ۔کئی بار قبروں کی کھدائی کے وقت نیچے سے پختہ فرش نکل آتا ہے یا کوئی برتن وغیرہ جو مختلف میوزیم میں موجود ہیں ۔سوئی وہار کے اسٹوپ کے چاروں طرف چھوٹے چھوٹے کمروں کے نقوش نظر آتے ہیں ۔کھنڈرات میں ایک بڑے کمرے کے نقوش بھی ہیں۔ غالباًیہ کمر ہ گودام کے طور پر استعمال ہوتا ہو گا۔مختلف اوقات میں یہاں کھدائی کے دوران سکے اور دیگر اشیا ملی ہیں۔آئے دن ریسرچ کیلئے لوگ یہاں آتے رہتے ہیں ۔مگر حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے سیاحوں کیلئے کوئی خاطر خواہ بندو بست نہ ہے بلکہ بر صغیر کا یہ قلعہ مفتوحہ علاقہ کا نقشہ پیش کرتا ہوا دکھا ئی دیتا ہے ۔

تحریر: ڈاکٹر عبدالرحمٰن ناصر

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں