سودی مسکراہٹ

ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد وہ اپنے گھر جانے کی بجائے اپنی بہن کے گھر چلا گیا ۔قہر کی گرمی 249 حبس زدہ موسم اور اوپر سے روزہ اس نے کسی رکشہ میں جانے کی بجائے اپنی بہن کے گھر پیدل سفر کر نے کا فیصلہ کیا ۔ کیونکہ اس کی جیب میں چند روپے کرائے کے لئے بھی نہ تھے ۔وہ اپنی بہن کے پاس گیا کہ شائد وہ ہی اس کی مدد کر دے ۔لیکن بہن نے جیسے ہی سنا کہ بھائی 8000روپے ادھار مانگ رہا ہے تو جھٹ سے اپنے مسائل کا رونا رونا شروع کر دیا ۔کہ آج کل دکان مندی چل رہی ہے ۔اور آمدن بھی نہ ہونے کے برابر ہے ۔اس دفعہ تو بچے بھی بڑے ناراض ہیں کہ انھیں اس عید پر کپڑے نہیں لے کر دے رہے
۔بچے تو اس آس پر ہیں کہ ماموں کی طرف سے بطور عیدی کپڑے آئیں گے ۔بہنوئی صاحب کی دکان شہر کی مصروف مارکیٹ میں ہے اور جس کی اچھی خاصی آمدنی آتی
ہے اور رمضان میں تو آمدنی میں تین گنا اضافہ ہو جاتا ۔مگر جب بھائی نے ادھار رقم کے لئے سوال کیا تو بہن نے دکان کی مندی کا اس قدر خطرناک منظر وضع کیا کہ بھائی خود شرمندہ ہو گیا 249کہ اس کی بہن کے اس قدر حالات خراب ہیں اور وہ اپنی بہن کی مدد کرنے سے قاصر ۔بہن کے گھر سے واپسی کے بعد لاہور میں مقیم اپنے چھوٹے بھائی کو کال کی مگر بھائی کا نمبر مسلسل بند جا رہا تھا ۔اور
پھر اس نے اپنی بھابھی کا نمبر ڈائل کیا جو بھابھی صاحبہ نے اٹھایا اور لہجے میں شیرینی سمو کر بھابھی صاحبہ نے حال احوال دریافت کیا۔جب اس نے اپنے بھائی کے بارے میں پوچھا کہ بھائی کا نمبر کیوں بند جا رہا ہے تو بھابھی نے بتایا کہ ان کا موبائل خراب ہو گیا ہے اسی لئے نمبر بند جا رہا ہے ۔جب بھائی سے بات بات کروانے کا کہا تو تو بھابھی صاحبہ نے ارشاد فرمایا کہ وہ تو آفس کے کسی کام کے سلسلے میں شہر سے باہر گئے ہیں ۔حالانکہ بھائی صاحب بھابھی صاحبہ کے پہلو میں بیٹھے چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔جب سے بہن سے معلوم ہوا کہ بھائی کو کچھ ادھار رقم چاہیے تو تب سے بھائی صاحب نے اپنا نمبر بند کر دیا ۔اور بیگم کو ہوشیار کر دیا کہ اگر بھائی کی کال آئے تو اسے کہنا کہ میں شہر سے باہر ہوں ۔وہ حالات کا ستایا ہوا شخص جس کی تنخواہ 15000روپے ماہوار تھی
۔15000 روپوں میں عام مہینوں میں بڑا مشکل گزارا ہوتا
کجا کہ رمضان میں تو اخراجات اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف تھے ۔لاکھوں روپے لینے والے یہ نام نہاد تجزیہ کار جب کہتے ہیں کہ رمضان میں سادگی اختیار کریں ۔کوئی انھیں بتائے کہ بچے جب اپنے آس پاس کے گھروں میں مختلف انواع و اقسام کے کھانے بنتے دیکھتے ہیں
اور پھر فرمائش کرتے ہیں کہ انھیں بھی اسی طرح کی افطاری چاہیے تو یقین جانیے کہ والدین کا کلیجہ منہ کو آجاتا ہے جب وہ اپنے بچوں کی چھوٹی موٹی آرزو پوری نہیں
کر پا تے ۔اس رمضان میں تنخواہ کا کچھ حصہ چھٹیاں کرنے کیسبب کٹوتی کی نظر ہوگیا اور باقی رقم سے بس کھینچ تان کے بیس رمضان تک گزارا کیا اور اب خالی بٹوہ منہ چڑا رہا تھا ۔اور رہی سہی کسر بچوں کے عید کے کپڑوں کی فرمائش نے پوری کر دی ۔اس نے سوچا کہ دونوں بہن
بھائی اچھا کھاتے پیتے ہیں کیوں نہ ان سے کچھ رقم ادھار لے لی جائے۔ مگر جیسے ہی دونوں بہن بھائی نے سنا تو فورا
بدک اٹھے اور لگ گئے اپنے اپنے مسائل کو رونا رونے ۔وہ سر پکڑ کر اپنے گھر کے دروازے کے پاس ہی بیٹھا تھا کہ برابر والے حمید چاچا آگئے اور پوچھنے لگ گئے کہ میاں یہاں ایسے کیوں بیٹھے ہو ۔حمید چاچا کے پوچھنے کی دیر تھی
کہ وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ پایا اور اپنی پریشانی کا سبب
حمید چاچا کے گوش گزار کر دیا ۔حمید چاچا نے اسے آصف
سود والے کے بارے میں بتایا249 اور وہاں کا ایڈریس دیا ۔اسے بتایا کہ آصف سود پر لوگوں کو پیسے دینے کا کاروبار کرتا ہے ۔تمہیں جتنی رقم کی ضرورت ہو اس سے ادھار مانگ لینا ۔اور واپسی دو گنا کر دے دینا اگر رقم مقررہ وقت پر ادا نہ کر سکو تو پھر تین گنا رقم کر کے واپس لٹا دینا ۔اور یہ سنتے ہی اس کے مردہ تن من میں جان پڑ گئی آنکھوں کی چمک واپس آگئی ۔ غربت کی چکی میں پسنے کے بعد وہ حلال حرام کا فرق بھول گیا 249اپنی اولاد کو حلال نوالہ
کھلانے والا حرام نوالہ کھلانے پر مجبور ہو گیا ۔ اسے جمعہ کے خطبے میں سود کے بارے دیا جانے والا وعض بھول گیا۔اسے تو صرف اتنا یاد رہا کہ اسے آج اپنے بچوں کے کپڑے خریدنے ہیں اور ان کی مسکراہٹ واپس لانی ہے ۔

تحریر:مدیحہ ریاض

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں