سکالر شپ کا حصول یقینی بنانے کے لیے اہم تجاویز

اگر کوئی طالب علم پوچھے کہ اسکالرشپ کسے ملتا ہے؟ تو جوات ہو گا، تلاش کرنے والے کو۔ تعلیم اور تحقیق کے شعبوں میں تلاش کرنے والا، جستجوکرنے والاہمیشہ فائدے میں رہتا ہے۔ پاکستان میں شعبہ تعلیم میں آج کل بہارآئی ہے، جس میں اسکالرشپ کی فصل لہلہا رہی ہے۔
اسکالرشپ حاصل کرنے کے لئے دوچیزیں بڑی اہم ہیں، ایک توجہ اور دوسری مسلسل کوشش۔ توجہ اس لئے اہم ہے کہ جونہی کوئی طالب علم اسکالرشپ تلاش کرنے کے لئے کمپیوٹر پر بیٹھتا ہے تواس کی توجہ ہٹانے کے لئے درجنوں اشتہاری کمپنیاں میدان میں آجاتی ہیں، یہ آپ کی سائٹ کے دائیں بائیں، اوپر نیچے کھلنے والی وہ تصویریں یا اعلانات ہیں،جنہیں بس ایک مرتبہ کلک کرنے کی ضرورت ہے اور پھر ہم ان خوش کن سائیٹس کے سحرمیں کھوکر اصل مقصد بھول جاتے ہیں یاپھرمختلف اعلانات جیساکہ آن لائن ایم اے، بی ایس، پی ایچ ڈی؟ وغیرہ نظرآجاتے ہیں۔
بیرون ملک بھی کئی ایسی یونیورسٹیاں ہیں، جو ایک گھر میں یا گھرکے ایک کمرے میں قائم ہیں۔ جب آپ کسی ایجنٹ کے ذریعے وہاں پہنچتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یونیورسٹی (کمرے) کوختم ہوئے دوہفتے گزرچکے ہیں، اس لئے ایسے خوش کن اعلانات اوراشتہارات پڑھنے اوران پرعمل کرنے سے گریزکریںکیوں کہ یہ صرف وقت کا ضیاع ہے۔
جب آپ کوئی اسکالرشپ تلاش کرنے بیٹھیں تو گوگل میں اسکالرشپ لکھ کرکسی سائیٹ پرمت جائیں، اس سے سینکڑوں،ہزاروں ویب سائیٹس کھل جائیں گی اورآپ کنفیوژ ہوکراپنی توجہ کھوبیٹھیں گے۔ آپ اپنے مضمون یاگریڈ کے حساب سے اسکالر شپ تلاش کریں جیسا کہ میں اگرماس کمیونیکیشن میں پی ایچ ڈی اسکالرشپ تلاش کرنا چاہتا ہوں تو میں گوگل میں جاکرانگریزی میں یوں لکھوں گا www.scholarship phd in mass communication پھراس کے ساتھ ملک کانام اور سن ضرورلکھی تا کہ کسی ایک ملک اورایک مضمون پر فوکس رہے۔ اس ہدایت کی روشنی میں اب ہم اسکالرشپ تلاش کرنے کے لئے گوگل میں یوں لکھیں گے www.phdscholarship in germany 2015 یہ لکھنے سے اس سال کے جرمنی کی یونیورسٹیوں کے اسکالرشپ کھل جائیں گے۔
اگریہ لکھنے سے آپ کی مطلوبہ سائیٹ نہ کھلے تواپنے الفاظ تبدیل کرلیں جیسا کہ scholarship journalism phd in german universities۔ جرمنی کی مثال اس لئے دی جارہی ہے کہ اس ملک میں تعلیم مفت ہے اور اسکالر شپ بے شمار۔ جرمنی ہرسال سینکڑوں پاکستانی طالب علموں کومختلف مضامین میں اسکالرشپ دیتا ہے۔ جرمنی میں بی ایس، ماسٹرز،ایم فل، پی ایچ ڈی کے لئے مختلف یونیورسٹیاں مختلف پروگرام پیش کرتی ہیں۔اس کیلئے یاتودرخواست دینے سے پہلے جرمن زبان سیکھئے یا پھر اگراسکالرشپ مل جائے توآپ کوبعض یونیورسٹیاں خود ہی ایک سال کاجرمن زبان کاڈپلومہ کورس کرواتی ہیں۔ پی ایچ ڈی کے تھیسزانگریزی زبان میں بھی پیش کئے جاسکتے ہیں۔ ڈاکٹرعلامہ محمد اقبالؒ نے بھی جرمنی کی میونخ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی تھی اور اپنا تھیسز انگریزی زبان میں پیش کیا تھا۔ البتہ ان کازبانی امتحان (وائیوا) جرمنی زبان میں ہوا تھا، جو انہوں نے چھ ماہ کی قلیل مدت میں سیکھ لی تھی۔
اسکالرشپ کا ایک بڑا ماخذ ہائیرایجوکیشن کمیشن کی ویب سائٹ ہے۔ اگر آپ وقتاً فوقتاً یہ سائٹ وزٹ کرتے رہیں، توآپ ملکی و غیر ملکی اسکالرشپس کے بارے میں باخبر رہ سکتے ہیں۔ ایچ ای سی تین قسم کے اسکالر شپ پیش کرتا ہے۔ اول فارن اسکالرشپ، دوئم لوکل اسکالرشپ (انڈی جینس)، سوئم نیڈبیس (ضروت مند افراد کیلئے ) اسکالرشپ۔ اگر آپ ایچ ای سی کی ویب سائیٹ وزٹ کریں تووہاں ترتیب وارکئی اسکالرشپس پرمبنی فہرست نظرآئے گی، ان میں فارن فنڈڈ اسکالر شپ، کامن ویلتھ اسکالرشپ،اسکالرشپ فار یونیورسٹی آف کیمبرج، ایم فل لیڈنگ ٹوپی ایچ ڈی اسکالر شپ،انڈی جینس اسکالر شپ،فارن اسکالر شپ، نیڈ بیس اسکالرشپ، اور اسی قسم کئے دوسرے اسکالرشپ شامل ہیں۔
اسکالرشپ کیلئے کسی ایک ملک کی یونیورسٹیوں سے آغازکریں۔ا یک نمونے کی درخواست انگریزی میں بنالیں۔ درخواست میں اپنا مدعا صاف صاف بیان کریں اورلکھیں کہ آپ کو کس کورس،کلاس،کے لئے کتنے عرصے کے لئے اسکالرشپ چاہیے۔ درخواست کے ساتھ اپناسی وی ضرور بھیجیں۔ مختلف یونیورسٹیوں کی سائیٹ چیک کرتے ہوئے فنانشل ایڈ والی سرخی پرکلک کریں اور تفصیلات جانیں۔ اگر وہاں سے معلومات نہ ملیں، یا سائٹ پرفنانشل ایڈوالی سرخی نہ ملے تو انٹرنیشنل سٹوڈنٹ والی سرخی کوکلک کریں۔ آپ مختلف یونیورسٹیوں کی ویب سائیٹ چیک کرتے ہوئے اسکالرشپ،فیلوشپ پربھی کلک کرسکتے ہیں۔ ویب سائٹ کھلتے ہی آپ سے خودکو رجسٹرکرانے کوکہا جاتا ہے، چنانچہ یہاں اپنی رجسٹریشن کرائیں۔ فارم بھرتے ہوئے نامکمل معلومات مت دیں بلکہ پوری معلومات دیں۔
اپنے بارے میں ہربات درست درست بتائیں۔آپ علم کے حصول کے لئے باہر جا رہے ہیں، اس کام کاآغازہی دھوکہ دہی سے مت کریں۔ اسکالرشپ دینے والوں کی اکثریت نے آپ سے بیوی، شوہر، والدین کی ماہانہ و سالانہ آمدنی، بچت، سرمایہ کاری کی تفصیلات پوچھی ہوتی ہیں۔ یہ سب معلومات حقائق پرمبنی ہوں۔ بعض یونیورسٹیوں نے پرسنل سٹیٹ منٹ پوچھی ہوتی ہے۔ اس میں اپنی کامیابیاں، عزائم بتائیں۔ پرسنل سٹیٹ منٹ میں ایسی معلومات مت دیں، جوآپ کے سی وی میں آسانی سے دیکھی جاسکتی ہوں۔پرسنل سٹیٹ منٹ کوارسال کرنے سے پہلے ایک بار پھر ضرور پڑھیں۔ یہ اصل میں آپ کی شخصیت کاآئینہ ہوتی ہے۔
اسکالرشپ دینے والی یونیورسٹی، ادارہ، ریسرچ سنٹر،تنظیم یا فرد آپ کا سی وی اورسٹیٹ منٹ دیکھ کرہی اسکالرشپ دینے یا نہ دینے کافیصلہ کرتا ہے۔ دنیاکی کئی یونیورسٹیوں میں اتھلیٹکس اسکالرشپ بھی دستیاب ہیں۔ ایسے نوجوان طلبہ جوکسی کھیل میں اعلیٰ مہارت رکھتے ہوں وہ یہ اسکالرشپ حاصل کرسکتے ہیں۔ اسکالرشپ کیلئے کم از کم ایک سال پہلے پلان کریں۔ اپنی انگریزی کوبہترین بنائیں کیوں کہ دنیا بھر میں انگریزی زبان میں اعلیٰ مہارت کوہی ذہانت کاپیمانہ سمجھاجاتا ہے۔ امریکہ ، برطانیہ اوریورپ کی یونیورسٹیاں آپ سے انگریزی میں مہارت کا سرٹیفیکیٹ مانگتی ہیں۔ اس کے لئے آپ کوجی آرای (گریجوایٹ ریکارڈایگزامینیشن) یا ٹوفل (ٹیسٹ آف انگلش ایز فارن لینگویج) دیناہوتاہے۔ امریکی یونیورسٹیاں عام طورپراعلیٰ تعلیم کے لئے جی آرای میں ایک سوچھتیس سکورمانگتی ہیں۔
پاکستان میں ہریونیورسٹی، کالج ضرورت مند اور ذہین طلبہ کوتعلیم کے لئے اسکالرشپ دیتا ہے۔آپ گاہے گاہے اپنے کالج یایونیورسٹی، اپنے شعبے، سنٹر کانوٹس بورڈضروردیکھتے رہیں۔مختلف شہروں کی ضلع کونسلیں بھی دوسرے شہروں میں جاکرتعلیم حاصل کرنے والے اپنے ضلع کے طالب علموں کو اسکالرشپ دیتی ہیں۔اس کے لئے آپ کالج یونیورسٹی کانوٹس بورڈدیکھتے رہیں۔اس بارے میں ضروری معلومات اپنے ڈی سی او دفترسے بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔ باخبر رہنازندگی میں کامیابی کے امکانات بڑھا دیتا ہے۔ انفارمیشن کوبھی ایک ریسورس سمجھیں۔ پاکستان کے مختلف ادارے بھی اسکالرشپ دیتے ہیں۔انہیں بھی تلاش کیجئے۔
اگرآپ کی انگریزی کی صلاحیت بہترین ہے توآپ تمام ملکوں میں اسکالرشپ تلاش کرنے کی بجائے دنیاکی پہلی بہترین سویونیورسٹیوں کاانتخاب کریں اور پھراگلی سو۔ امید ہے کہ ان طریقوں پرعمل کرنے سے کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔آپ کواگراسکالرشپ مل جائے توآپ بیرون ملک سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اپنے ملک ضرورواپس آئیں اوریہاں اپنے لوگوں کی خدمت کریں۔ کیوں کہ اس قوم کے دکھوں کے مداوے کے لئے ضروری ہے کہ لوگ ملک چھوڑنے کے بجائے واپس ملک آکریہاں اپنی خدمات دیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں