شام کے رنگ

تم نے مجھ سے پوچھا تھا کہ آپ کو شام پسند ہے ؟
شام اداس لگتی ہے یا خوش گوار؟
تو سنو مجھے شام نہ اداس لگتی ہے نہ خوش گوار لگتی ہے۔
اب تو بس شام آتی ہے اور چلے جاتی جانتی ہو یہ جو شام ہے اس کا اپنا کوئی رنگ نہیں پانی کی طرح بے رنگ ہے۔
جیسے پانی میں رنگ ڈالنے سے پانی اس رنگ کا ہو جاتا ہے اس طرح شام کے کینوس میں انسان رنگ ڈالتا ہے۔
سمندر کنارے ڈوبتا سورج اداسی کے رنگ تب اوڑھتا ہے جب انسان اپنے اندر کی اداسی کو کتھارسس کی صورت میں سورج کو سونپ دیتا ہے۔
یہی شام کا منظر خوش گوار ہوتا ہے جب انسان اپنے اندر کی خوشی کے رنگوں سے شام کو نکھار دیتا ہے۔
یہ انسان ہی ہے جو شام کے بے رنگ کینوس میں رنگ بھرتا ہے کبھی خوشی کے تو کبھی اداسی کے۔
میرے پاس نہ اداسی کے رنگ ہیں نہ خوشی کے بس شام اپنی بے رنگی کے ساتھ آتی ہے اور چلی جاتی ہے……!!

حیدر مجید

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں