شان مصالحہ کا اشتہار اور عوامی فکر

دنیا جتنی تیزی سے ترقی کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے اتنی ہی تیزی سےفہم و شعور کم ہوتا جا رہا ہے۔ہر دور میں دانشور و ادیب معاشرے میں شعور اجاگر کرنے کی کاوشوں میں سرگرداں رہے ہیں۔دور حاضر کے انسانوں کی اکثریت قول و فعل میں تضاد رکھتی ہے۔معاشرہ پستی کی جن اتھاہ گہرائیوں میں‌ڈوبا جا رہا ہےاس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔اپنے ملک پاکستان کو ہی دیکھ لیں۔ماشاءاللّٰہ یہاں کی عوام مضبوط قوت ارادی رکھتی ہے مگر شعور میں فقدان کی بدولت بدقسمتی سے اس قوت ارادی کا بے دریغ استعمال ان کاموں میں ہو رہا ہے جو کسی طور بھی مفاد کے زمرے میں نہیں آتے۔معاشرہ اس قسم کی بہت سی مثالوں سے بھرا ہوا ہے۔ہم کسی کی ذات پر تنقید کا کوئی حق نہیں رکھتے جب تک اپنی اصلاح نہ کر لیں۔مگر ہم ایسا چاہتے ہی کب ہیں۔ہر کوئی صرف اپنے آپ کو صاحب عقل سمجھتا ہے۔ انسان اس وقت تک صاحب عقل نہیں ہو سکتا جب تک اپنے علم سے شعور حاصل نہ کرے۔انسان میں شعور نہ ہو تو سبق آموز موادبھی اس کی بے عقلی کے سبب اپنی اہمیت کھو بیٹھتا ہے۔
پچھلے دنوں ٹی وی پر ایک مصالحے کا ایڈ دیکھا۔جس کی ویڈیو سے ہر حقیقت پسند پاکستانی کی طرح ہمیں بھی کچھ پہلوؤں سے اختلاف تھا۔مگر مثبت پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے خاموشی اختیار کرنا مناسب سمجھا۔ پھر کیا دیکھتے ہیں کہ اپنے ہی ملک میں بنائے گئے اس ایڈ کو لوگوں نے طنزومزاح کے وہ وہ رنگ دے کر سوشل میڈیا کی زینت بنایا ہوا تھا کہ اکثریت کی ذہنی حالت پر بھی شبہ ہو رہا تھا کہ واقعی صاحب عقل ہیں یا نہیں۔۔۔۔ہماری قوم کا یہی المیہ ہے کہ ہر چیز کو اس اس زاویے سے بگاڑتے ہیں کہ انسان کو شرم محسوس ہوتی ہے۔پھر ہم کہتے پھرتے ہیں کہ دوسری قومیں ہماری عزت نہیں کرتیں۔۔۔۔ارے کہاں کی عزت کیسی عزت!!!عزت دینے والی ذات تو خدا کی ہے مگر اس ذات نے انسان کو یہ شعور بھی عطا کیا ہے کہ وہ چاہے تو اپنے مثبت کردار سے عزت حاصل کرے چاہیے تو کم ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے عزتوں کی فہرست میں شامل ہو جائے۔۔۔جب ہم خود ہی اپنی قوم کی عزت نہیں کریں گے تو غیر کیا خاک کریں گے۔جب تک اپنی ذات کو فہم وفراست کے قواعد سے اگاہی نہیں دیں گے ہمارا یہی حال رہے گا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ جس معاشرے میں جہالت بسیرا کرتی ہو وہاں شعور رکھنے والوں کی زندگیاں اجیرن ہوتی ہیں۔عزت دار قوموں کی صف میں کھڑے ہونے کے لئے تبدیلی کا آغاز فرد واحد دے کرنا پڑتا ہے۔جس طرح قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے،تنکا تنکا اکٹھا ہو کر آشیانہ بنتا ہے،موتی موتی پرو کر مالا تشکیل پاتی ہے اسی طرح فہم کا ذرا ذرا شعور کو بیدار کر کے ایک صاحب عقل انسان بناتا ہے ۔یہی صاحب عقل انسان عزت دار معاشرے کے ضامن ہوتے ہیں۔کسی دانشور نے کیا خوب کہا ہے،
“شعور ذات یہی ہے کہ میں نہیں ہوں”
جب انسان کو اس بات کا ادراک حاصل ہو جائے کہ ہمارا ہر ہر سوچ و افکار، قول و فعل ہر لمحہ ایک ہمیشہ رہنے والی ہستی کی نظر میں ہوتے ہیں تو فہم و فراست کی منازل طے کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

تحریر: بنتِ باجوہ

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں