شبِ برات کی شرعی اہمیت

اسلامی تقویم میں آٹھویں مبارک مہینے شعبان المعظم کی پندرھویں شب کو آنے والی مبارک ترین رات۔شبِ برات کی شرعی حیثیت کیا ہے؟؟
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے۔
”جب شعبان کی پندرہویں شب آتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوتا ہے، ہے کوئی مغفرت کا طالب کہ اس کے گناہ بخش دوں ، ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا کہ اسے عطا کروں ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے وہ ملتا ہے۔ وہ سب کی دعا قبول فرماتا ہے سوائے بدکار عورت اور مشرک کے۔“
اس حوالے سے یہ رات شب برات کہلاتی ہے رب العزت اپنے بندے کے گناہوں سےپہلے برات کا خصوصی اظہار فرماتا ہے۔زمین سے آسمان تک بھی نامہ اعمال گناہوں سے بھرا ہو تو بخش دیا جاتا ہے سوائے مندرجہ بالا دو گناہوں کے۔
اہل بیت سے اس مبارک رات کے متعلق روایت ہے کہ۔۔۔۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں،
”ایک رات میں نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پاس نہ پایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت البقیع میں تشریف فرما ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں یہ خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے ساتھ زیادتی کریں گے۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے یہ خیال ہوا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی دوسری اہلیہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب آسمانِ دنیا پر جلوہ گر ہوتا ہے اور قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے۔“
(ترمذی، ابن ماجہ، مسند احمد بن حنبل، مشکوٰۃ، مصنف ابنِ ابی شعبہ، شعب الایمان البیہقی)
شب برات کو زیارت اور مغفرت کی رات قرار دیا گیاہے۔ امتِ محمدیہ کے مسلمان سنتِ رسول کی پیروی کرتے ہوئے اس شب قبرستانوں کی زیارت کرتے ہیں۔جہاں وہ اپنے اوردنیاسے پردہ کر جانے والوں کے لئے دعائے مغفرت طلب کرتےہیں۔
خلفائے راشدین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی اس مبارک رات کی فضیلت ثابت ہوئی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے روایت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
”جب شعبان کی پندرھویں شب آئے تورات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو کیونکہ غروب آفتاب کے وقت سے ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت آسمان دنیا پر نازل ہوجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔۔۔۔ ہے کوئی مغفرت کا طلب کرنے والا کہ میں اسے بخش دوں، ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ میں اس کو رزق دوں، ہے کوئی مصیبت زدہ کہ میں اسے مصیبت سے نجات دوں ، یہ اعلان طلوع فجر تک جاری رہتا ہے۔“
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اﷲ عنہما،حضرت معاز بن جبل ، حضرت عوف بن مالک ، حضرت ابو موسی اشعری اور یگرسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
’’ماہِ شعبان کی نصف شب (یعنی پندرہویں رات) کو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے، پس وہ اپنے بندوں کو معاف کر دیتا ہے سوائے دو لوگوں کے: سخت کینہ رکھنے والا اور قاتل۔‘‘
بہت سے مورخین اور علماء نے اسے حدیث ضعف کہا ہے۔
مندرجہ بالا روایات سے شب قدر کی شرعی اہمیت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے۔بعض علماء شب برات کو بدعت شمار کرتے ہیں مگر یہ درست نہیں۔مفتی تقی عثمانی ماہنامہ البلاغ میں لکھتے ہیں کہ
شب قدر کے حوالے سے بعض احادیث سند کے اعتبار سے بیشک کچھ کمزور ہیں اور ان احادیث کے کمزور ہونے کی وجہ سے بعض علماءنے یہ کہہ دیا کہ اس رات کی فضیلت بے اصل ہے، لیکن حضرات محدثین اور فقہاءکا یہ فیصلہ ہے کہ اگر ایک روایت سند کے اعتبار سے کمزور ہو لیکن اس کی تایید بہت سی احادیث سے ہوجائے تو اسکی کمزوری دور ہوجاتی ہے دس صحابہ کرام سے شب قدر کی فضیلت میں روایات موجود ہیں لہٰذا جس رات کی فضیلت میں دس صحابہ کرام سے روایات مروی ہوں اس کو بے بنیاد اور بے اصل کہنا بہت غلط ہے۔ (مفتی تقی عثمانی،ماہنامہ البلاغ)
علماء کے مطابق اگر کوئی ضعف حدیث بہت سے دیگر حوالوں سے ثابت ہو جائے تو حسن کا درجہ پا لیتی ہے۔مندرجہ بالا حوالوں کے پیش نظر اگر کوئی شب برات کی شرعی اہمیت سے انکار کرتا ہے تو وہ اتباع رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم، اہل بیت اور خلفاء راشدین کے فرمان سے روگردانی کرتا ہے جو کسی طور بھی صاحب ایمان کا شیوہ نہیں۔
یہ تو شب برات کی اہمیت تھی اب آتے ہیں نوافل اور روزے کی طرف، اسلامی حوالوں میں اس مبارک رات کے حوالے سے نہ تو نوافل کی کوئی خاص تعدار مروی ہے نا ہی روزے کے فرض یا مستوجب ہونے کا کوئی حکم ہے۔ ہاں مگر 27، 28 کے علاوہ پورے شعبان کے نفلی روزے نبی آخر الزمان سے ثابت ہیں۔
الغرض شب قدر بہت ہی مبارک رحمتوں بھری رات ہے جس کا مقصد امت محمدیہ میں عبادت اور اطاعت کو تحریک دینا ہے۔اس مبارک رات شب بیداری کریں، قبور کی زیارت کریں، نوافل ادا کریں، ایمان کی استقامت کے لئے روزہ رکھیں، اعمال حسنہ کریں، اعمال سئیہ پر صدق سل سے استغفار کریں اور اپنے ایمان کی مضبوطی اور امت محمدیہ کی بخشش کے لئے دعا گو رہیں۔آتش بازی جیسے حرام کاموں سے بچیں۔صدقہ خیرات دیں۔اگرچہ یہ سب کام کسی خاص دن کے محتاج نہیں ہوتے مگر ہمارے ایمان کا یہی تقاضا ہے کہ شرعی اصولوں پر چلیں تاکہ دینو دنیا میں سرخ رو ہو سکیں۔واللہ اعلم با لصواب۔جزاک اللّٰہ خیر کثیرا۔

تحریر:بنتِ باجوہ

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں