شخصی آزادی کو دورِجدید میں درپیش خطرات

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو خود مختار و آزاد پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ جب انسانوں کو پیدا کرتا ہے تو اسے نیکی اور بدی کے راستے میں سے اپنی مرضی کا راستہ اختیار کرنے کا حق دیتا ہے۔اب یہ انسان پر ہے کے وہ کونسا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔پھر یہ کہنا درست ہوا کے ہمیں پیدا کرنے والے رب نے ہمیں شخصی آزادی کاحق پیدا ئش کے روزِاوّل سے ہی دے دیا۔ سوال یہ ہے کہ آج کے جدید دور میں ایک عام سے عام انسان کو بھی قانون بہت سے حقوق دیتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی انسان اپنے آپ کو خطرے میں گھرا محسوس کرتا ہے؟انسان نے روزاوّل سے ہی اپنے حقوق کی جد و جہد کی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج کے جمہوری دور میں انسان آزادی کی سانسیں لے رہا ہے۔لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ ابھی جو میں نے خطرات کی بات کی کیا میری یہ بات آزادی کی سانسوں سے لغا کھاتی ہے؟ ’’سوات ٹائمز‘‘ میں لکھاری ’’رقیہ غزل‘‘ اپنے کالم ’’حسبِ موقع‘‘ میں جمہوریت کے متعلق لکھتی ہیں:

’’سیاسی طور پر دیکھا جائے تو دنیا میں دو قسم کے جمہوری نظام رائج ہیں ایک وہ کہ جس میں اخلاقی قانون سے بالا تر ہو کرخودساختہ نظریہ ضرورت کے تحت دوسروں کو آزاد دیکھنا چاہتا ہے۔ اگرچہ یہ سوچ ذاتی مفادات کے ہی اردگرد گھومتی ہے۔اس سوچ میں شخصی آزادی سلب کرنے کے ساتھ اپنے خود ساختہ نظام کی بھی ترویج ہو تی ہے اور دوسرا وہ جو اخلاقی قانون کے تابع ہو کر آزادی اور جمہوری عمل سے سرفراز ہونا چاہتا ہے۔اس سے آمرانہ طرز کا تصور ابھرتا ہے۔یعنی یہ طے ہوا کہ جمہوری عمل کی جو خود ساختہ شکلیں ہمیں نظر آتی ہیں ان میں نہ جمہور کے لیے جگہ ہے اور نہ حریت کا کوئی وجود ہے‘‘

رقیہ غزل کی تحریر پڑھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کے بیشتر انسانوں کے پاس ابھی بھی شخصی آزادی نہیں ہے اور ساتھ میں شخصی آزادی کو درپیش خطرات پر بھی روشنی ڈالتی ہیں۔
قدیم زمانے میں انسانوں کو اپنی پسند ناپسند اختیار کرنے کا بھی حق نہیں تھا۔ مثلاََ برصغیر میں ہی دوسرے طبقے کا لوگوں کو ریشم کا کپڑا اور یہاں تک کے اپنی پسند کا کھانا کھانے کا بھی حق نہیں تھا۔ ظالم بادشاہ اپنے مفادات کے لیے عوام کے حقوق غصب کرنے میں بھی عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ آج کے دور کے انسان کے پاس اپنی پسند اختیار کرنے کا حق ہے لیکن پھر بھی اسکی شخصی آزادی کو خطرات ہیں۔ آج کل دنیا میں دہشت گردی کا ہر طرف خوف پھیلا ہوا ہے تو ایسی صورتِ حال میں کچھ منفی عناصر انٹرنٹ کا استعمال کر کے لوگوں کے آئی ڈی پروفائل کی ذاتی معلومات لے کر منفی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اب تک اسے بہت سے واقعات سوشل میڈیا کی دنیا میں بیان ہو چکے ہیں کہ جن مین کسی کی ذاتی تصاویرنکال کر انہیں فوٹو شاپ یا کسی بھی سافٹ ویئر سے ایڈیٹ کر کے اپنے مضموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا،کسی کی معلومات اکٹھا کر کے اسکی کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کا ڈ یٹاچوری کر کے رقم نکالنا وغیرہ وغیرہ۔اب تو حد یہ ہو گئی ہے کہ اگر کسی شخص کے ساتھ حادثہ ہو جائے تو لوگ بجائے اسکی مدد کرنے کے اس حادثے کی ویڈیو بنانے لگ جاتے ہیں وہ بھی اس حادثے کے شکار شخص کی اجازت کے بغیرتو کیا بغیر اجازت کسی کی معلومات اکٹھی کرنا اور کسی کی ویڈیو یا ریکارڈنگ کرنا اخلاقیات اور شخصی آزادی کے منافی حرکت نہیں ہے ؟ درج زیل میں شخصی آ ز ا د ی کو در پیش خطر ا ت کے متعلق معلو ما ت د ی گئی ہیں:
سوشل میڈیا اور شخصی آزادی:
بظاہر تو یوں لگتا ہے کے سوشل میڈیا جیسے فیس بک، ٹوئیٹر اور واٹس ایپ نے لوگوں کے بیچ کے تعلقات مضبوط کیے ہیں۔ اب لوگ اپنی رائے کا اظہار بذریعہ سوشل میڈیا میں ویڈیو اور سٹیٹس اپڈیٹ پوسٹ کر کے کر سکتے ہیں۔اب آزادیِ رائے کا اظہار ااتنابڑھ چکا ہے کہ بجائے لوگ ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھیں اسکے بدلے تنقید کرنے لگتے ہیں۔تنقید کی حد تک تو بات ٹھیک ہے کیونکہ تنقید اگر کسی کو بغیر نقصان پہچائے کی جائے تو اس میں کوئی مضائکہ نہیں لیکن کچھ خراب ذہنیت کے لوگ کسی شخص کوسوشل میڈیا کے ذریعے حراساں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ تو ایسے میں حراساں
شخص کی انفرادی آزادی ختم ہو جاتی ہے۔وہ چند لوگوں کے ڈرانے دھمکانے پر اپنی مرضی سے کہیں آجا نہیں سکتا اور اپنی مرضی کے لوگوں سے مل جل بھی نہیں سکتا۔وہ ڈرا سہما شخص بلیک میلر کی باتوں کو ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے اور ایسے میں بلیک میلر اپنے مفادات پورے کرتا رہتاہے۔حراساں شخص اس صورتِ حال سے تنگ آکر یا تو خود کشی کر بیٹھتے ہیںیا لمبے عرصے تک نقصان کا شکار رہتے ہیں۔سوشل میڈیا کا استعمال کر کے لوگ جعلی معلومات دے کر دوسرے لوگوں کو بیوقوف بناتے ہیں۔اب تو ایسے کئی گروہ پکڑے جا چکے ہین جو لوگوں کی ذاتی معلومات لے کر انھیں پریشان کرتے ہیں اوراکثر یہی لوگ بڑی بڑی رقمیں اور قیمتی سامان چرا کر بھی رفو چکر ہو جاتے ہیں۔ان سب منفی عناصر کی وجہ سے لوگوں کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔

مارکیٹنگ اور شخصی آزادی:
ٹیکنالوجی کی وجہ سے لوگ اپنی اشیاء اور خدمات اب مزید آسانی اور سہولت کے ساتھ خرید اور بیچ سکتے ہیں۔ اسی ٹیکنالوجی کی بدولت اب تحقیق کا شعبہ بھی کافی ترقی کر چکا ہے۔تحقیق کار اب آرام سے گھر بیٹھے لوگوں سے آن لائن اپنا سوالنامہ پر کروا سکتے ہیں اور نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو یہ اعتراض ہے کہ ریسرچ کے نام پر بہت سے لوگوں کو ذاتی معلومات دینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔کئی لوگوں کو یہ بھی اعتراض ہے کے مارکیٹنگ لوگوں کی پسند نا پسند پر حاوی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر کوئی بھی شخص اپنے سامنے کوئی بھی چیز بار بار دیکھے تو وہ شخص اس چیز کو خریدنے پر تیار ہو جاتا ہے۔انہی لوگوں کا کہنا ہے کہ کسی کی پسند نا پسند پر حاوی ہونا بھی شخصی آزادی پر قدغن لگاتا ہے۔ اب بہت سے سوالنامے لوگوں سے ذاتی معلو مات نہیں لیتے کیونکہ لوگوں میں شعور آگیا ہے اور قوانین بھی سخت ہو گئے ہیں۔ فیس بک کا سب سے زیادہ مشہور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے۔ یہاں بھی جب سے لائک بٹن کے علاوہ غصے،اداسی ہنسی اور حیرانگی کے بٹن لانچ ہوئے ہیں تو لوگوں کو اس سے اپنے احساسات کے اظہار کا مزید موقع ملا ہیں وہیں ان ہی بٹنوں کی وجہ سے مارکیٹیئرز کو لوگوں کی رائے جاننے میں مدد ملی ہے اور مارکیٹیئرز ان کی مدد سے مارکیٹ میں لوگوں کی ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کر کے اپنے استعمال میں لا کر اپنے یا اپنی کمپنی کے مفادات جن میں منافع خوری سب زیادہ ہے کو پورا کرتے ہیں۔ تو کیا محض اپنی کمپنی کے منافع کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچانے کے لیے لوگوں کی ذاتی معلومات اکٹھی کرنا کیا شخصی آزادی پر روک نہیں لگاتا۔ جی بالکل لگاتا ہے۔ کیونکہ لوگوں کی ذاتی معلومات کے لحاظ سے کمپنی اپنی پراڈکٹ بناتی ہے اور مارکیٹیئرز اسے اس طرح بیچتے ہیں کہ لوگ اپنے دماغ سے سوچنے کے بجائے مارکیٹیئر کی سنتے ہیں اور انہی کی بتائی ہوئی اشیاء خرید لیتے ہیں۔ اس طرح لوگوں کی سوچ محدود کر کے نفسیاتی طور پر ان کی شخصی آزادی کو چوٹ پہنچائی جاتی ہے۔

معاشرہ اور شخصی آزادی:
انسان اپنے ارد گرد کے ماحول کا اثر لے کر پروان چڑھتا ہے اور اپنے ماحول میں گھل مل جانے کے لیے دوسروں کی خوشی کا بھی خیال رکھتا ہے۔ اور دوسروں کو خوش کرنے کے لیے کبھی کبھی اس حد تک آگے چلے جاتے ہیں کہ ہر کام دوسروں کی مرضی سے کرنے لگتے ہیں اور اسی چکر میں انسان اپنی شخصی آزادی کہیں کھونے لگتا ہے۔مثال کے طور پر آج بھی پاکستان،بھارت،بنگلادیش اور دیگر تیسری دنیا کے ممالک میں کئی لوگوں کو اپنی مرضی کا پہناوا پہننے کی اجازت نہیں لڑکوں کو تو صرف زنانہ لباس پہننے سے روکتے ہیں لیکن کوئی لڑکی مردانہ تو کجا جینز شرٹ پہن لے یا سر میں دوپٹہ نہ لے تو معاشرے میں مرد کیا عورتیں بھی اس لڑکی پر جملے کستے ہیں اور اس لڑکی کا جینا حرام کر دیتے ہیں اور بد فعلی بھی کرتے ہیں اور جواز لڑکی کے کپڑوں کو بناتے ہیں۔ اور اس طرح وہ لڑکیاں اپنی مرضی کپڑوں کے معاملے میں ہی کیا کسی معاملے میں بھی اپنی مرضی نہیں کر پاتی اور ساری عمر بس دوسروں کے دل و دماغ سے سوچتی ہیں پھر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ محض جنس کی بنیاد پر پہناوے پر پابندی لگا دینا شخصی آزادی پر پابندی لگا دینے کے برابر ہے۔ آج بھی ہمارے معاشرے میں لوگ اپنی پسند کی شادی نہیں کر سکتے اور اگر اپنی پسند کا اظہار کر دیں تو قتل و غارت ، جائداد سے عاق کر دینے اور تعلقات توڑنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ایسے میں لڑکا،لڑکی بھاگ کر شادی کر لیتے ہیں یا حالات کے آگے سر جھکا لیتے ہیں۔ اورکچھ لوگ کسی کی محنت کی کمائی لوٹنابھی اپنا حق سمجھتے ہیں جبکہ شخصی آزادی ہمیں ہر گزکسی کو نقصان پہنچانے کہ نہیں کہتا۔ انہیں فرسودہ خیالات کی بھینٹ کچھ عرصہ پہلے سوشل میڈیا سٹار قندیل بلوچ بھی چڑھ گئی۔ اسکے بھائی نے اسے اس لیے مار دیا کیونکہ وہ اپنی کمائی بھائی کو نہیں دیتی تھی۔ ارشادِ ربانی ہے:
’’مرد کی کمائی میں اسکا حصہ ہے اور عورت کی کمائی میں اسکا حصہ ہے‘‘ (القرآن)
آج بھی ہمارے معاشرے میں پسماندہ طبقے کے لوگ اپنی مرضی سے نہیں جی سکتے کیونکہ ان کو روایات نے اس قدر جکڑا ہوا ہوتا ہے کہ انہیں روایات کی پاسداری کے سواکسی اور بات کا ہوش ہی نہیں رہتا۔ اس ہمارے معاشرے میں ونی اور کاروکاری جیسی رسمیں شخصی آزادی کو چھیں لیتی ہیں۔
اسی بات پر عبید اعظم اعظمیٰ کا شعر پیشِ خدمت ہے:
ؔ دل میں نہ رکو خواہشو تیزی سے گزر جاؤ
حساس علاقے میں ٹھہرنا انہیں اچھا
اب ایک اور مثال ملاحظہ کیجئے ہمارے معاشرے میں عورت اپنی مرضی سے کہیں آ جا نہیں سکتی۔ ایک ہی گھر میں بہن کو شام سے پہلے گھر آنے کو کہا جاتا ہے اور اگر نہیں آئی تو گھر والے آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں جبکہ اسی گھر میں بھائی رات دو بجے گھر آئے تو کوئی مسلۂ نہیں۔ ہمارے ہاں بہت سے طلباء و طالبات بڑے شہروں میں پڑھنے کے لیے آتے ہیں اور ہاسٹل یا کرائے کے گھر وں میں رہتے ہیں۔ وہیں سے ان طلباء و طالبات کے برے دن شروع ہو جاتے ہیں آنے جانے کے اوقات مخصوص کر کے ان پر پہلے ہی پابندی لگا دی جاتی ہے اور ساتھ میں اگرساتھ میں غلطی سے کسی کو اپنے کرائے کہ گھر میں ساتھ لے آؤ تو مالک مکان تو کیا سارا محلہ اس بات کو غلط رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں اور ایسی صورت میں یا تو طلباء مار پیٹ برداشت کرنی پڑتی ہے یا کرائے کا گھر چھوڑ کر جانا پڑتا ہے۔ اسطرح کسی کا کہیں آنا جانا محدود کرنا اور ملنے جلنے پر پابندی لگانا بھی شخصی آزادی کے خلاف ہے۔جسکا ذکر میں پہلے ہی کر چکی ہوں۔
سو صرف ٹیکنالوجی ہی نہیں ہمارے معاشرتی رویئے بھی دوسرں کی اور اپنی شخصی آزادی پر روک لگا رہے ہیں۔

تحریر:‌تحریم شعیب
معاون: کامسیٹس لٹریری سوسائٹی

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں