شمسی توانائی ، موجودہ توانائی کے بحران میں متبادل توانائی کا بہترین زریعہ

شدید گرمی کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہوئی ہے – لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے رات کو مکمل آرام کرنا ممکن نہیں ہوتا جسکی وجہ سے دن کے معمولات درست طریقے سے سر انجام نہیں پاتے اور پھر کئی معاشرتی مسائل جنم لیتے ہیں –

توانی کے موجودہ بحران میں متبادل ذرائع کی طرف جانے کا روجحان بڑھ رہا ہے ان ہی متبادل ذرائع میں سے ایک ” شمسی توانی ” بھی ہے جسے عام طور پر سولر پینل سے حاصل کی گئی توانائی بھی کہا جاتا ہے – موجودہ ملکی حالات میں متبادل توانائی کا یہ زریع لوڈشیڈنگ سے نجات کا واحد حل بنتا نظر آ رہا ہے ، جو کہ سورج کی بدولت طویل عرصے تک کے لیے کارآمد بھی ہے –

شمسی توانائی کے ذریعے بجلی حاصل کرنے کے لئے ہمیں صرف ایک مرتبہ سرمایہ کاری کرنا پڑتی ہے جبکہ کے اس کے نتیجہ میں ایک طویل عرصہ کے لئے توانائی کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے – دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی توانائی کے مقابلہ میں سورج کی روشنی سے 36 گنا زیادہ توانائی حاصل ہوسکتی ہے اور ہمارے ہاں خوش قسمتی لگ بھگ سارا سال سورج ماموں اپنا چہرہ دیکھاتے رہتے ہیں –

سولر پینل کی اقسام
ایک سولر پینل مختلف چھوٹے چھوٹے سولر سیلز کا مجموعہ ہوتا ہے ۔ ان سولرسلز کو ایک بڑی شیٹ پر لگا کر بجلی حاصل کی جاتی ہے اس سولر پینل کو پی وی یعنی فوٹو وولٹیک پینل کہا جاتا ہے – سولر سیل کی عمومی عمر 20 سے 25 سال تک ہوتی ہے –

سولر سیل کی بنیادی طور پر تین اقسام ہیں

1 مونو کرسٹلائن سیل

2 پولی کرسٹلائن سیل

3 تھِن فلم/ایمارفیس سیل

مونو کرسٹلائن
اس کا ایک سیل سیلیکون کے ایک کرسٹل سے تیار ہوتا ہے۔ یہ سیل عموماً کالے رنگ کا ہوتا ہے اور تھوڑی روشنی میں بھی کام کرتا ہے۔ مونو کرسٹلائن سیل پر پڑنے والی روشنی میں سے 18 فیصد جذب کر کے اس سے بجلی بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سولرسیل میں یہ سب سے مہنگا ہوتا ہے –

پولی کرسٹلائن
اس کا ایک سیل سیلیکون کے بہت سے کرسٹلز کو ملا کر تیار کیا جاتا ہے – پولی کرسٹلائن سیل عام طور پر نیلے رنگ کا ہوتا ہے اور کہیں کہیں اس میں دوسرے رنگوں کی لہریں یا دھبے بھی دیکھے جاسکتے ہیں-پولی کرسٹلائن اپنے اوپر پڑنے والی روشنی میں سے تقریباً 15 فیصد جذب کر کے اس سے بجلی بناتا ہے اور یوں اگر اس سیل کی جسامت مونوکرسٹلائن جتنی ہو تو پھر مونو کرسٹلائن سیل کی نسبت یہ سیل کچھ کم بجلی پیدا کرے گا-

تھن فلم یا ایمارفیس سیل
تھن فلم یا ایمارفیس سیل بھی کہا جاتا ہے اور کچھ لوگ اسے سولر فلم بھی کہتے ہیں ۔ ایمارفیس سیل سیلیکون کرسٹلز کے بجائے ایمارفیس سیلیکون سے بنایا جاتا ہے۔ یہ سیل عام طور پر سیاہ رنگ میں ہوتا ہے۔ تھن فلم سیل اپنے اوپر پڑنے والی روشنی میں سے 10 فیصد جذب کر کے اس سے بجلی تیار کرتا ہے اور یوں اپنے حجم کی مناسبت سے سب سے کم بجلی بناتا ہے۔ مگر اسکے باوجود بہت سی ایسی جگہوں پر استعمال ہو سکتا ہے جہاں دیگر دونوں اقسام کارآمد ثابت نہیں ہوتیں۔

شمسی توانائی کے لئے سولر پینل کے بعد دوسری سب سے اہم چیز بیٹری ہوتی ہے ، چاہے خشک ہو یا تیزابی – بیٹری پینل سے حاصل شدہ توانائی کو ذخیرہ کرتی ہے اور سورج غروب ہونے یا کم روشنی کی صورت بیٹری میں ذخیرہ کی گئی توانائی انورٹر کی مدد سے 220 واٹ بجلی میں خودبخود تبدیل ہو کر کارآمد ہوتی ہے –

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں