شکار کے دیوانے…..از کنور مہندر سنگھ بیدی سحرؔ

یوں تو ہمارا سارا خاندان ہی شکار کا شیدائی تھا لیکن والد صاحب تو حقیقت میں شکار کے دیوانے تھے۔ وہ ہر سال جاڑے کے موسم میں ہفتے عشرے کے لیے شکار کی مہم پر جایا کرتے تھے۔ اس مہم میں ہمارے خاندان کے سبھی لوگ شرکت کرتے۔ کل نفری ڈیڑھ دو سو آدمیوں پر مشتمل ہوتی۔ ہاتھی، گھوڑے، اونٹ اور بہلیاں ساتھ ہوتیں۔ ہم لوگ صبح ناشتا کرتے ہی شکار پر نکل جاتے۔ دوپہر کا کھانا پک کر باہر جنگل میں آجاتا اور شام کو پُرتکلف چائے کا دور چلتا۔ رات کے کھانے کے بعد تفریح کے لیے بھانڈ، بھاٹ وغیرہ اپنا کمال دکھاتے اور گیارہ بجے تک یہ سلسلہ جاری رہتا۔
بڑے شکار کے ساتھ ساتھ والدصاحب کو بازوں کے ذریعے چھوٹے شکار سے بڑی دلچسپی تھی۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے درجنوں باز پال رکھے تھے اور اُن کی دیکھ بھال کے لیے اتنے ہی ملازم بھی رکھے ہوئے تھے جو شکار کی مہم میں اپنے اپنے بازوں کے ساتھ ہمارے پاس موجود ہوتے۔ بازو کے ذریعے شکار میں والدصاحب کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ بڑے بڑے راجائوں مہاراجوں سے بھی مقابلہ ہوتا جن میں مہاراجا جنید کا نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ وہ اپنے جنم دن پر ہمیں بلاتے جہاں دوسری تفریحات کے علاوہ باز کے شکار کا بھی مقابلہ ہوتا۔ اس میں والد صاحب کا پلّہ ہمیشہ بھاری رہتا۔
باز نہایت خوب صورت اور بہت بہادر شکاری پرندہ ہے۔ اس نسل کے دو پرندے شکرا اور باشہ بھی ہوتے ہیں، لیکن باز اُن میں سب سے بڑا ہوتا ہے۔ مغلیہ دور میں شاہانِ مغلیہ بھی باز کے شکار سے محظوظ ہوا کرتے تھے۔ باشہ باز سے چھوٹا لیکن تھوڑے فاصلے تک نسبتاً تیز رفتار ہوتا ہے۔ شکرا سب سے چھوٹا ہوتا ہے لیکن دلیری میں سب سے بڑھ کر ہے۔ میں جب دھرم شالہ ضلع کانگڑہ میں تعینات ہوا تو والد صاحب نے حکم دیا کہ کچھ باز پکڑے جائیں۔ چنانچہ میں نے وہاں کے شکاریوں کی مدد سے بہت سے باز پکڑوائے جو والد صاحب نے کچھ دوستوں میں بھی تقسیم کیے۔ اُن میں ایک باز ایسا تھا جو ہمارے ملازم رنگا بازدار کے حوالے تھا۔ رنگا کا باز تیز رفتار ہونے کے علاوہ نہایت اصیل تھا اور بہادر بھی۔
باز کے لیے سب سے مشکل شکار چکور کا ہوتا ہے جو بہت تیز رفتار ہوتا ہے اور پہاڑی دروں میں رہتا ہے۔ ذرا آنکھ سے اوجھل ہوا تو کہیں کا کہیں نکل جاتا ہے۔ عام طور پر دوسری تیسری اُڑان میں باز اُسے پکڑنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ لیکن رنگا کے باز نے کئی بار پہلی ہی اُْڑان میں چکور کو پکڑلیا۔ اس بنا پر دور دور سے بازدار اُسے دیکھنے کے لیے آتے اور اُسے پہلی ہی اُڑان میں چکور کو پکڑتے دیکھ کر حیران ہوتے۔ یہ باز کتے سے ڈرتا تھا نہ آگ سے۔ ان دونوں چیزوں سے جو باز ڈرے وہ شکار کے لیے زیادہ مفید نہیں ہوتا۔ باشہ سردار بازدار کے پاس تھا۔ اس قدر تیزرفتار تھا کہ کوئی پرندہ اس سے بچ کر نہیں جاسکتا تھا۔ والد صاحب اس سے بٹیر اور تیتر کا شکار کرتے۔ وہ باز سے بھی زیادہ تیتر پکڑلیتا۔ ہم ایک بار شیخوپورہ کے علاقے میں شکار کے لیے گئے جہاں والد صاحب نے اسے ایک تیتر کے پیچھے چھوڑا۔ باشہ تیتر پر جھپٹا اور اسے پکڑلیا، لیکن تیتر بہت بڑا تھا، اس نے جھٹکادیا جس سے باشے کا کولہا ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد وہ شکار کرنے کے قابل نہ رہا لیکن کئی برس تک زندہ رہا۔
شکرا سب سے چھوٹا ہوتا ہے مگر بے حد دلیر، اُس کی جسامت فاختہ کے برابر ہوتی ہے مگر وہ اپنے سے دُگنے چوگنے پرندے پکڑلیتا ہے۔ کبوتر، فاختہ، تیتر، حتیٰ کہ کوّا تک پکڑ لیتا ہے۔ میں نے ایک شکرا بازی گر سے خریدا اور سُدھایا۔ وہ دو تین برس میرے پاس رہا اور میں نے اُس کے ذریعے تیتر، بٹیر، فاختہ، کبوتر اور ہریل وغیرہ کا شکار کیا۔ پتاک ایک ایسا پرندہ ہے جو باشے سے بھی بڑی مشکل سے پکڑا جاتا ہے، لیکن شکرا اُسے آسانی سے پکڑلیتا ہے۔ والد صاحب فرماتے تھے کہ اُنہوں نے اتنا اچھا شکرا پہلے کبھی نہیں دیکھا۔
والد صاحب شیر کے شکار پر بھی ہر سال جایا کرتے تھے۔ اس شکار کے لیے مارچ سے لے کر مئی کے آخر تک بہترین موسم ہوتا ہے۔ اس میں بھی والدصاحب کا ریکارڈ آج تک قائم ہے۔ انہوں نے ایک ہی مچان سے چھ شیر مارے تھے۔ پانچ تو وہیں ڈھیر ہوگئے اور چھٹا اگلے روز تھوڑی ہی دور مرا ہوا پایا گیا۔ واقعہ یوں ہے کہ میرے بڑے بھائی جگجیت سنگھ بیدی ولایت سے دو ماہ کی تعطیل پر ہندوستان آئے۔ اُن کی خواہش تھی کہ اس عرصے میں شیر کا شکار کیا جائے۔ چنانچہ یو۔پی کے ایک جاگیردار کے ذاتی جنگلات میں شکار کا انتظام ہوا۔ ہم لوگ حسبِ دستور اپنے عملے کے ساتھ پہنچ گئے۔ اگلی صبح والد صاحب جنگل میں چھان بین کے لیے گئے اور واپس آکر بتایا کہ اس جنگل میں شیر بہت ہیں اور اگر خدا نے چاہا تو پہلے ہی دن کامیابی ہوگی۔
جنگل میں ایک برساتی ندی تھی جس میںکہیں کہیں تھوڑی تھوڑی مقدار میں پانی تھا۔ ندی کنارے آٹھ دس مچانیں بندھوا دی گئیں اور ہم لوگ شام کے پانچ بجے ہی وہاں پہنچ گئے۔ یہ جگہ جانوروں کی گزر گاہ تھی جو تمام رات پانی پینے کے لیے یہاں سے گزرتے تھے۔ یہاں سب سے اچھی مچان میرے بھائی کودی گئی۔ دوسری مچانوں پر ہمارے مہمان بٹھائے گئے۔ دومچانیں بچ گئیں۔ ایک پر والدصاحب مجھے بٹھانا چاہتے تھے اور دوسری پر چھوٹے بھائی سریندر سنگھ کو، لیکن مجھے وہ مچان پسند نہ تھی۔
میری ضد پر میری مچان پر چھوٹے بھائی بیٹھ گئے۔ والد صاحب بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ اور میں اُن کی مچان پر جا بیٹھا۔ ابھی چھ بجے ہوں گے کہ شیروں کا ایک جوڑا چھوٹے بھائی اور والدصاحب کی مچان کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔ ایک پر والد صاحب نے فائر کیا اور دوسرے پر چھوٹے بھائی نے۔ بھائی صاحب نے جس شیر پر فائر کیا وہ زخمی ہوکر سیدھا مچان کی طرف لپکا اور اتنے زور سے گرجا جیسے زلزلہ آگیا ہو۔ مچان تک پہنچنے سے پہلے بھائی صاحب نے اس پر دو فائر کیے اور گرادیا۔ دوسرا شیر جنگل کی طرف بھاگ گیا لیکن اگلی صبح تھوڑے ہی فاصلے پر مُردہ پایا گیا۔ ہم سب بہت خوش ہوئے کہ دن چھپنے سے پہلے شیرمار لیا۔
والد صاحب نے ہم سب کو اپنی اپنی مچانوں پر ڈٹے رہنے کی تاکید کی۔ اُن کا خیال تھا کہ ابھی اور شیر آئیں گے۔ اتفاق ایسا ہوا کہ اُس کے بعد چار شیر اور آئے، سبھی والد صاحب کی مچان کے سامنے۔ وہ سب کے سب ایک ایک فائر میں گرا لیے گئے۔ میرے چچا جو تھوڑی دور ایک مچان پر بیٹھے تھے ہر بار پوچھتے ’’مارا؟‘‘ والد صاحب کہتے: ’’ہاں مارا۔‘‘ آخری فائر پر پھر چچا نے پکار کر پوچھا تو والدصاحب نے جواب دیا کہ ’’ہاں مارا۔‘‘ پوچھا کتنے ہوگئے؟ کہا کہ چار تو یہیں ڈھیر ہیں۔ پانچواں بھی مارا گیا ہوگا۔ اس پرچچا صاحب نے کہا کہ اب ختم کرو۔ جنگل میں جھاڑو دینے تو نہیں آئے۔ اُس وقت صبح کے پانچ بجے تھے۔ ابھی ہم مچانوں سے اترے نہیں تھے کہ دوشیر اور آئے اور وہ بھی والد صاحب کی مچان کے سامنے۔ لیکن والد صاحب نے فائر روک لیا۔ کوئی دو بجے رات ایک شیر میری مچان کے نزدیک بھی آیا تھا۔ میںآدھی رات تک جاگتا رہا تھا۔ اس عرصے میں والدصاحب تین شیر مار چکے تھے۔ میں اس خیال سے کہ اب اور شیر کہاں سے آئیںگے، سوگیا اور اپنے شکاری سے کہہ دیا کہ اب وہ جاگے اور دھیان رکھے۔ چنانچہ جب شیر آیا اور اُس نے آہٹ سنی تو مجھے جگانے سے پہلے تسلی کرنا چاہی کہ کون سا جانور ہے۔ جب اُس نے ٹارچ کی روشنی پھینکی تو شیر ایک دم غرایا، شکاری گھبرا گیا اور ٹارچ اُس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر گئی، اسی وقت میری آنکھ کھل گئی۔ لیکن شیر والد صاحب کی مچان کی طرف جاچکا تھا۔ میںنے سیٹی بجاکر انہیں محتاط کردیا اور تھوڑی دیر میں یہ شیر بھی اُن کی بندوق کا نشانہ بن گیا۔ اس طرح والد صاحب نے ایک رات میں ایک ہی مچان سے چھ شیر مارے جو ایک ریکارڈ ہے۔
صبح جب ہم لوگ مچانوں سے اُترے تو والدصاحب نے طنزاً پوچھا ’’کہو مہندر سنگھ! رات کتنے شیر مارے؟‘‘ یہ میری اُس ضد کی طرف اشارہ تھا جو میں نے شام کو مچان بدلنے کے سلسلے میں کی تھی۔ میں کیا جواب دیتا، شرمندہ ہوکر رہ گیا۔ اتفاق سے بڑے بھائی صاحب بھی اُس رات کوئی شکار نہ کرسکے۔
ایک مرتبہ ہم لوگ شیرکا شکار کرنے گئے۔ ہمیں جس جنگل میں شکار کھیلنا تھا، معلوم ہوا کہ وہاں ایک بہت بڑا شیر ہے جو بہت ہوشیار ہے۔ عام طور پر وہ جنگلی جانور ہی مارتا ہے اور پالتو جانوروں کو نظرانداز کردیتا ہے۔ ہم نے ایک درخت کے ساتھ بھینس کا کٹّا باندھ دیا اور شیر کی آمد کا انتظار کرتے رہے، لیکن ہمارا یہ تجربہ ناکام رہا۔ شیر آنے کو آگیا تاہم کٹّے سے دور دور رہا، اور فاصلہ اس قدر زیادہ تھا کہ اُس پر فائر کرنا بے سود تھا۔ ہم نے اگلے روز پھر اس تجربے کا اعادہ کیا لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے اس شیر کے متعلق جو کچھ سنا تھا درست تھا۔ پھر بھی اُس کی موت ہمارے ہی ہاتھوں لکھی تھی، اور وہ یوں کہ اگلے دن اس علاقے کے گوجروں کی ایک بھینس اور اُس کی جوان کٹیا جنگل میں گم ہوگئیں۔ اُن کے گلوں میں کوئی زنجیر یا رسّی وغیرہ بھی نہ تھی۔ شیر نے یہ سمجھ کر کہ یہ پالتو جانور نہیں ہیں یا شاید وہ بھوکا تھا، ان دونوں کو مارڈالا۔ کٹیا کا تو اُس نے خون پیا لیکن بھینس کا کچھ حصّہ کھایا اور انہیں چھوڑ کر چلا گیا۔ دونوں جانوروں کی لاشوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ تھا، اس لیے میں بھینس کے قریب مچان پر اور میرے چھوٹے بھائی سریندر سنگھ کٹیا کے نزدیک والی مچان پر سرشام ہی بیٹھ گئے۔ میرے ہمراہ ایک شکاری دوست گپتا صاحب بھی تھے۔ مچان پر بیٹھ کر میں نے دیکھا کہ بھینس کی لاش ذرا اوٹ میں تھی۔ میں نے اپنے شکاریوں سے کہا کہ اسے تھوڑا سا سرکاکر میرے سامنے کردیں، لیکن چھ سات شکاریوں کے زور لگانے سے بھی وہ بڑی مشکل سے سرکائی جاسکی۔ اب اندھیرا بڑھتا جارہا تھا۔ میں نے اپنے شکاریوں کو واپس ڈیرے بھیج دیا اور گپتا صاحب کے ساتھ رات بھر کی پہرے داری کے لیے مچان سنبھال لی۔ وہ میرے ساتھ ہرن، تیتر وغیرہ کا شکار تو کھیل چکے تھے مگر شیر کا شکار اُن کے لیے بالکل نیا تجربہ تھا۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ مچان پر بیٹھنے کے لیے سب سے ضروری پابندی یہ ہے کہ شکاری ہلے جُلے نہیں، بات نہ کرے اور اگر کوئی بہت ہی ضروری بات ہو تو کان میں بالکل آہستگی سے کہہ دے، یا محتاط کرنے کے لیے بازو یا پائوں میں چٹکی بھرلے۔
اب سورج غروب ہوئے خاصی دیر ہوچکی تھی اور رات کے جانور بیدار ہوکر اپنی اپنی بولیاں بول رہے تھے۔ لیکن اُن میں سے کوئی آواز بھی ایسی نہ تھی جس سے ظاہر ہوتا کہ شیر آس پاس کہیں نمودار ہوچکا ہے۔ وقت گزرتا گیا۔ رات کے تقریباً دس بجے آہٹ سی ہوئی تو دیکھا کہ ایک بہت بڑا سیاہ رنگ کا جانور بھینس کی لاش کو کھارہا ہے۔ پہلے تو خیال آیا کہ یہ ریچھ ہوگا، مگر اُس کی پھرتی اور ڈیل ڈول ریچھ سے قطعی مختلف تھا۔ اتنے میں کچھ اور جانور نزدیک آئے تو وہ چونکا جس سے پتا چل گیا کہ وہ سور ہے۔ سور کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ وہ گوشت خور نہیں۔ یہ درست ہے مگر وہ مُردار خور ضرور ہے۔ میں نے اس سے پہلے بھی ایک سور کو سانبھر کا گوشت کھاتے دیکھا تھا۔ پانچ سات منٹ گزرے ہوں گے کہ وہ سور ایک دم گولی کی طرح بھاگا۔ ہم اُسے یوں اچانک بھاگتا دیکھ کر حیران ہورہے تھے کہ شیر آگیا اور بھینس کے پہلو میں بیٹھ کر اُسے کھانے لگا۔ میں اپنی بندوق کا رُخ آہستہ آہستہ اُس کی جانب پھیر ہی رہا تھا کہ اُس نے بھینس کو قریب قریب اٹھا لیا اور اسے کھینچ کر چلنے لگا۔ شیر کی غیر معمولی قوت کا یہ منظر ہمیں متحیر کرنے کے لیے کافی تھا کیونکہ جس بھینس کی لاش ہمارے پانچ سات آدمی بمشکل کھسکا سکے تھے اُسے شیر نے اکیلے ہی آرام سے اٹھا لیا تھا۔ میں نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور فوراً ہی فائر کردیا۔
شیر ایک دم گرجا اور چھلانگ لگاکر بھاگ نکلا۔ کچھ دور تو اُس کے بھاگنے کی آواز آئی پھر بند ہوگئی۔ میں نے گپتا صاحب کو بتایا کہ اب ہمیں رات بھر مچان ہی پر رہنا پڑے گا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ شیر ہلکا سا زخمی ہوا ہو اور اترتے ہی ہم پر حملہ کردے۔ ہم دونوں پھر سوگئے۔ صبح چھ بجے کے قریب والد صاحب ہاتھی لے کر ہمارے پاس پہنچ گئے۔ انہوں نے رات کو میرے فائر کی آواز سن لی تھی۔ ہم سب ہاتھی پر بیٹھ کر اُس طرف گئے جس طرف شیر رات کو بھاگتا ہوا گیا تھا۔ ابھی ہم ایک فرلانگ بھی جانے نہ پائے تھے کہ والدصاحب نے شیر کو دیکھ لیا اور بندوق تان لی۔ تاہم فوراً ہی بھانپ لیا کہ شیر مُردہ پڑا ہے۔ یہ شیر واقعی بہت بڑا تھا۔ مجھے اس کے مارنے کی بڑی خوشی ہوئی اور جب اُسے ناپاگیا تو وہ دس فٹ دو انچ نکلا۔
شیر کا رعب اور دہشت کتنی ہوتی ہے اس کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔ ایک بار ہم لوگ گنگاپارگوری بلاک میں شیر کے شکار کو گئے، ہم نے دیکھا کہ جنگل میں ایک نہایت موزوں جگہ پر مچان بندھی ہوئی ہے۔ دریافت کرنے پر وہاں کے ایک شکاری نے بڑی دلچسپ داستان سنائی۔ واقعہ یوں تھا کہ ہم سے تھوڑے دن پہلے میرٹھ سے ایک انگریز فوجی افسر اس جگہ شکار کھیلنے آیا تھا۔ رات کو وہاں بھینس کا ایک کٹا باندھ دیا گیا، جسے شیر نے مار ڈالا اور اُس کا کچھ حصہ کھاکر چلا گیا۔ اگلی شام اس سے کچھ فاصلے پر مچان باندھ دی گئی اور وہ انگریز افسر اُس پر بیٹھ گیا۔ ابھی سورج غروب ہوا ہی تھا کہ شیر آگیا، لیکن اتفاق سے ایک اور نر شیر بھی گشت کرتا ہوا وہاںآنکلا۔ دوسرا شیر پہلے شیر سے بڑا تھا لیکن پہلے نے اپنے شکار کی حفاظت کرنا چاہی۔ جس پر دونوں میں لڑائی شروع ہوگئی۔ دونوں شیر لڑتے ہوئے اس قدر زور سے گرج رہے تھے کہ پورے کا پورا جنگل کانپ رہا تھا۔ شکاری نے اُس فوجی افسر سے کئی بار کہا کہ فائر کریں لیکن وہ بہت زیادہ خوف زدہ ہوگیا تھا۔ بالآخر بڑے شیر نے چھوٹے شیر کو مار ڈالا مگر وہ خود بھی اس قدر زخمی ہوچکا تھا کہ کٹے کی طرف نہیں گیا بلکہ رینگ رینگ کر جنگل میں داخل ہوگیا۔ فوجی افسر اور شکاری نے تمام رات مچان پر گزار دی۔ صبح ہوئی تو فوجی افسر نے شکاری کو ایک سو روپے کا نوٹ دیا اور کہا کہ تم سب کو یہی بتانا کہ صاحب بہادر نے شیر مارا ہے۔ ساتھ ہی اُس نے مرے ہوئے شیر پر فائر کرکے گولی کا نشان قائم کردیا۔ شیر کی کھال اتروائی گئی اور وہ فوجی افسر کھال لے کر میرٹھ چلا آیا اور وہاں اُس نے شیرمارنے کا باقاعدہ جشن بھی منایا۔
چند روز بعد اُس شکاری نے کہیں بک دیا کہ شیر کو فوجی افسر نے نہیں بلکہ ایک دوسرے شیر نے مارا ہے۔ یہ بات جنگل کے ٹھیکیدار تک بھی جاپہنچی۔ قانون کے مطابق جو جانور شکاری کے ہاتھوں نہ مرے، اُس کی کھال اور ہڈیاں جنگل کے ٹھیکیدار کی ملکیت ہوتی ہیں، چنانچہ اُس نے فوجی افسر کو وکیل کی معرفت نوٹس دیا کہ وہ کھال اُسے واپس کردے ورنہ نالش کی جائے گی۔ فوجی افسر بے چارہ بدنامی سے ڈرگیا اور ٹھیکیدار کوپانچ سو روپے دے کر اُس نے معاملہ ختم کردیا

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں