شیرمیسور ٹیپو سلطان…..راکٹ کا موجد

20 نومبر، 1750ء —————————مئی 4 ، 1799ء
جب ٹیپو سلطان پیدا ہوئے تو والد ،سلطان حیدر علی نے ایک اولیا بزرگ’’ ٹیپو مستان‘‘ کے نام پرٹیپو رکھا تاہم سلطان حیدر علی اپنے والد فتح محمد نام کی نسبت سے پورا نام’’ فتح علی ٹیپو ر‘‘رکھا ۔اپنے والد کی طرح ٹیپو سلطان بھی انگریزوں کے خلاف پرسرپیکار رہے۔جنہوں نے (سلطان حیدر علی) جنوبی ہند میں 50 سال تک انگریزوں کو بزورِ طاقت روکے رکھا اور کئی بار انگریزافواج کو شکست فاش دی۔شیر میسور ٹیپو سلطان،علم دوست حکمران اور عظیم سپہ سالار تھے، راکٹ (فوجی راکٹ) کے موجد بھی ٹیپو سلطان ہیں۔
برصغیر میں راکٹ سازی کا آغاز اور اس کا استعمال پہلی بار 1799 میں کیا گیا اور یہ راکٹ ٹیپو سلطان کی فوج نے مخالف فوج کے خلاف استعمال کئے۔ راکٹ سازی اور اس کا استعمال اگرچہ 13 ویں صدی میں سب سے پہلے چین میں ہوا اور اس کے بعد یورپ میں بھی اس کو ترقی دی گئی مگر یہ راکٹ سائز ، بناوٹ، محفوظ ترین استعمال اور رزلٹ کے حوالے سے دنیا میں اپنی پہچان نہ بنا سکا۔ شیر مسور ٹیپو سلطان نے جب فرنگی افواج کے خلاف اپنا بہترین ہتھیار راکٹ استعمال کیا تو برصغیر سے باہر اس کی حقیقت آشکار ہوئی اور انگریزوں نے خود بیرونی دنیا میں اس کا ذکر کیا اس کو اس وقت کا دنیا کا کامیاب اور جدید ترین جنگی ہتھیار قرارپایا۔سلطنت خدادا میسور اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی اتحادی فوج کے درمیان 1772میں ’’سرنگا پٹم‘‘ میں لڑی گئی دوسری جنگ میں یہ ہتھیار استعمال کیا گیا ۔شیر میسور کی کمان میں سلطنت خدادا میسورکی بہادر فوج نے مخالف فوج پر اس قدر راکٹ برسائے کہ لگتا تھا کہ راکٹ کی بارش ہوگئی ہو۔ انگریزکرنل’’ ولیم کا گریو ‘‘نے ملکہ کو اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ہماری فوج پر لال ہتھیار( راکٹ) کی بارش کی گئی جس سے ہماری فوج تتر بتر ہوگئی آگے انگریزکرنل ’’ولیم کا گریو‘‘ لکھتا ہے کہ اس قدر راکٹ چھوڑنے کی مثال تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ملتی ایک اور انگریز کرنل ’’بیلی ‘‘نے بھی رپورٹ کیا کہ ان راکٹ والوں سے ہم اتنے تنگ آ گئے کہ ہمارے لیے جنگ کا جاری رکھنا مشکل ہوگیا کرنل ’’بیلی‘‘ نے لکھا کہ پہلے نیلی روشنی چمکتی ہے اور پھر راکٹوں کی بارش ہونے لگتی ہے۔
ٹیپو سلطان محض ایک حکمران یا سپہ سالار نہ تھے ہمہ جہت شخصیت بلکہ کرشماتی اور سحر انگیز شخصیت تھے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر لکھا کہ شیر میسور ٹیپو سلطان۔ علم دوست حکمران ، عظیم سپہ سالار تھے ان کی حیات کا مطالعہ کیا جائے تو بات اس سے بھی آگے جانکلتی ہے۔ ٹیپو سلطان کو ہفت زبان حکمران کا خطاب بھی دیا گیا عربی، فارسی، اردو، ہندی، فرانسیسی، انگریزی سمیت کئی زبانوں پر دسترس حاصل تھی۔ یہ مطالعے کا شوق تھا کہ ذاتی کتب خانے میں کم و بیش 5000 کتابوں کا ذکر ملتا ہے۔ جس میں دیگر موضوعات علاوہ سائنسی علوم میں 500 سے زائد کتابیں موجود تھیں یہی وجہ تھی کہ برصغیر میں راکٹ سازی کا موجد قرار پائے۔ ایک پہلو یہ بھی ہے جس کی وجہ سے ٹیپو سلطان جنگی حکمت میں ممتاز قرار پائے اور اس لیے انہیں عظیم سپہ سالار کا نام دیا گیا جنگ میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ ٹیپو سلطان ہمشیہ فرنٹ لائن پر رہتے اپنے زمانے کے تمام فنون سپہ گری سے واقف تھے۔ اپنی افواج کو پیادہ فوج کے بجائے سواروں اور توپ خانے کی شکل میں منظّم کیا۔ اسلحہ سازی، فوجی نظم و نسق اور فوجی اصلاحات میں تاریخ ساز کام کیا۔ ٹیپو سلطان کے راکٹ لوہے کی بڑی نالی کے بنے ہوئے تھے راکٹ کی پشت پر10 فٹ کی بانس یا لوہے کی چادر سے بنے ہوئے پائپ لگے ہوئے ہوتے ۔ راکٹ کی مار ایک سے دو میل تک ہوتی تھی، جو اس وقت کافی حیرت انگیز تھی۔ ٹیپو سلطان کی فوج میں 5000 سپاہی راکٹ چلانے پر مامور تھے۔ انگریزکرنل ولیم کا گریو کا ہم نے ذکر کیا ہے جس نے ملکہ کو ٹیپو سلطان کے حیرت انگیز راکٹ کے بارے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا اس نے آگے چل ٹیپو سلطان کے اس حیرت انگزیز ایجاد پر ریسرچ جاری رکھی اورپھر 1808 میں ٹیپو سلطان کے جدید راکٹ کی بنیاد پر اس کو ترقی دی گئی۔ 1809 میں انگلینڈ نے’’ کوپن ہیگن‘‘ پر اس کا تجربہ کیا اس جنگ میں انگریز فوج نے25000 راکٹوں کا استعمال کرتے ہوئے کوپن ہیگن کو جلا ڈالا تھا۔ انگریزی فوج کے کرنل ولیم کا گریو کے نام پر ہی اس راکٹ کا نام ’’ کا گریو‘‘ راکٹ رکھا گیا۔ اس راکٹ کا استعمال امریکہ میں بھی ہوا اور اس لیے امریکہ کے قومی ترانے میں بھی راکٹ کے سرخ شعلے کا ذکر آتا ہے، جس کا سہرا ہ بھی ٹیپو سلطان کو جاتا ہے۔ راکٹ سازی میں آگے بہت ترقی ہوئی اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ راکٹ کی رفتار میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہوا شیر میسور سلطنت خداداد کے حکمران ٹیپو سلطان کی طرح دنیا کے ایک اور حکمران کی بھی اس میں دلچسپی کا بھی ذکر ملتا ہے جدید امریکہ کے بانی صدر ابراھام لنکن کو بھی راکٹ سازی میں بے انتہا دلچسپی تھی ایک بار صدر لنکن راکٹ بنانے کے تجربہ میں بذات خود شریک تھے اور واشنگٹن کے قریب ایک اسلحہ ساز فیکٹری میں راکٹ ٹیسٹ کے وقت دھماکہ ہوا جس میں وہ زخمی بھی ہوئے وہ اس میں مرتے مرتے بچے تھے۔
راکٹ کی ایجاد کے ساتھ ہی حضرت انسان نے اس کے ذریعے چاند پر اترنے کا خواب بھی دیکھنا شروع کردیا تھا۔ اس خواب کو شرمندہ تعبیر بنانے میں سب سے اہم نام روس سائنس دان ’’آونسٹانٹن ‘‘نے 1895 اور 1903 کے درمیان پہلی بار ثابت کیا کہ راکٹ خلا میں جا سکتے ہیں۔ جس نے اپنے 1903 میں ایک ریسرچ پیپر میں لکھا کہ کہ سیال آکسیجن اور سیال ہائیڈروجن کو گرم کرکے ملانے سے جو ایندھن بنے گا اس سے راکٹ تیز چل سکیں گے۔ آگے چل کر اس کی ریسرچ اور دیئے گئے نسخوں کی روشنی میں برسوں کام ہوا اوراس کی بنیاد پر بعدمیں امریکہ نے اپنے اس راکٹ جو چاند کی سطح پراترا کے لیے اس کو استعمال کیا۔
اس طرح چاند پر اترنے والے راکٹ اورخلائی مسافروں کا ٹیپو سلطان کے ساتھ ایک تعلق بنتا ہے۔ یہ ٹیپو کا راکٹ تھا جس کی حیرت انگیز کرشماتی خوبیوں سے متاثر دنیا نے چاند پر راکٹ اتارا۔4 مئی ٹیپو سلطان کا یوم شہادت ہے جس کے نام اور کام سے دشمن کانپ جاتے تھے ۔

تحریر۔ ریاض جاذب

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں