صحرائے چولستان کے تاریخی قلعے

تحریر:طاہر فرید پاکپتن

ملک میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے ہزاروں پرکشش اور تاریخی جگہوں میں سے ایک جگہ چولستان کا بھی ہے اورتاریخ بتاتی ہے کہ آج سے پانچ ہزار سال پہلے جب سکندر اعظم دنیا فتح کرنے نکلے تھے توانہوں نے پاکستان کے چولستان میں اوچ قلعہ فتح کیا اورکئی روزقیام بھی کیاتھادنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ قلعے پاکستان کے بہاولپور سر زمین چولستان میں ہیں ویسے تو پاکستان میں سینکڑوں قلعے ہیں لیکن چولستان میں قلعوں کی تعداد 29 ہے اور اس کے علاوہ محلوں اور پرانی عمارتوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہے اورمساجد،خانقاہیں، صحابہ کرام،ؓ ولی اللہؒ کے مزارات بھی ہیں صحرائی چولستان کے راستوں کی مجموعی لمبائی ایک ہزار ایک سو نناوے میل بنتی ہے چولستان بہاولپور کے تین اضلاع بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان کے راستے صحراکی جانب قلعوں تک جاتے ہیں

چولستان میں واقع قلعوں کے نام

1قلعہ پھلڑافورٹ عباس،2 قلعہ مروٹ،3قلعہ جام گڑھ مروٹ،4 قلعہ موج گڑھ مروٹ،5 قلعہ مبارک پور چشتیاں،6قلعہ فتح گڑھ امروکہ بہاولنگر،7قلعہ میر گڑھ مروٹ،8قلعہ خیرگڑھ،9قلعہ بہاول گڑھ،10قلعہ سردار گڑھ ولہر،11قلعہ مچھلی ،12قلعہ قائم پور،13قلعہ مرید والا،14قلعہ دراوڑ،15قلعہ چانڈہ کھانڈہ،16قلعہ خانگڑھ،17قلعہ رکن پور،18قلعہ لیاراصادق آباد،19قلعہ کنڈیراصادق آباد،20قلعہ سیوراہی صادق آباد،21قلعہ صاحب گڑھ رحیم یارخان،22قلعہ ونجھروٹ ،23قلعہ دھویں،24قلعہ دین گڑھ،25قلعہ اوچ،26قلعہ تاج گڑھ رحیم یارخان،27قلعہ اسلام گڑھ رحیم یار خان،28قلعہ مؤمبارک رحیم یار خان(29)قلعہ ٹبہ جیجل حاصل ساڑھو بہاولنگرمیں ہیں۔

اسکے علاوہ بہت سی تاریخی عمارتیں،محلات،مقامات بھی ہیں اوربہت سوں کاوجودہی دنیاسے ختم ہوگیاہے۔ہمارے ملک میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے ہزاروں پرکشش اور تاریخی مقامات میں سے ایک مقام چولستان کابھی ہے اگرچولستان میں موجود مختلف عمارتوں، قدرتی ماحول و کلچر،تاریخی قلعے،پرانی عمارتیں ومحل ہیں کو تھوڑی سی بھی توجہ مل جائے تودنیا کے سیاحوں کارخ پاکستان کے چولستان کی طرف ہوسکتا ہے جس سے پسماندہ چولستانی علاقے میں بے روزگاری کاخاتمہ ہوگا اور زرمبادلہ میں بھی اضافہ ہوگااس کے علاوہ دنیابھرمیں صحرائے چولستان ایک تاریخی خطے کی حثیت اختیار کرجائے گاجس طرح لوگ گرمی کی شدت سے محفوظ رہنے کیلئے ہل اسٹیشنوں پے جاتے ہیں اسی طرح وہی لوگ موسم سرما میں سن باتھ کرنے کیلئے چولستان کے ٹیلوں کا رخ کرنے پر مجبور ہوجائیں گے مزید یہ کہ اس لق ودق صحرا میں ایک بہت بڑا قدرتی دودھلہ جنگل فورٹ عباس ہے اوردودھلہ جنگل میں پنجاب حکومت نے تفریحی پارک کے منصوبے کا بھی آغاز کا اعلان کیا ہے اور لال سنہارا میں مصنوعی جنگل اور تفریحی نیشنل پارک بھی بنایا گیاہے جہاں دور دور سے سیر کرنے کی خاطر لوگ آتے ہیں عربی شہزادے تو اس صحراکے دیوانے ہوکر رہ گئے ہیں ابھی حال ہی میں دوست ملک چین نے یہاں پر سولرپارک بجلی پیداکرنے کی خاطر گراں قدراقدامات کئے ہیں حکومت چولستان کے قلعوں کی اصلی حالت میں بحالی،پرانی تاریخی عمارتوں کی مرمت، ایسے پر کشش ماڈل گاؤں بناناجس میں دیسی گھی،مکھن،پنیر،ساگ،لسی،باجرے کی روٹی سمیت ہر چیز خالص ملے اور مہمان خانے،ہٹی چبوترے،مکان مٹی سے لپیے ہوئے ہوں جو دل کش اورخالصاً دیہاتی طرز کے ہوں،اہرام مصر کی طرزپرمصنوعی مٹی کے ٹیلوں سے اہرام چولستان اورانٹرنیشنل اسٹیڈیم مصنوعی پارکوں اور بڑا جنگل بنانے اور ان کوٹرین وسڑک کے ذریعے آپس میں ملانے جیسے اہم منصوبوں اور شجرکاری مہم میں دلچسپی لے تو چولستان کے ہر بچے تک تعلیم،سکول،ٹی بی ،یرقان ،پولیوں جیسی بیماریوں کے خاتمہ کیلئے فری میڈیکل کیمپ،ہسپتال، صحت،پانی کی کمی دور کرنے کیلئے ٹیویل،ہینڈپمپ،کنووں کھدائی، جیپ وموٹرسائیکل ریلی سمیت مختلف کھیلوں کے سپورٹس ایونٹ،صاف پانی کی فراہمی اورچولستان کی تعمیرو ترقی ،خوشحالی کے دیگرپروجیکٹ کی تکمیل کے عزم میں مصروف ٹیم حکومت،دیگر فلاحی اداروں ،مخیرحضرات اورکمپنیوں کی مکمل معاونت کرنے کوتیارہیں۔

1۔قلعہ پھلڑا۔

یہ ایک قدیم قلعہ ہے اور کسی زمانے میں بیکا نیر کے راجہ بیکانے تعمیر کرایا تھا ۔ ۱۱۶۶ھ ۱۷۵۱ء میں یہ قلعہ بالکل کھنڈر بن چکا تھاکرم خان اربائی جو قائم خاں (قائم پورتحصیل حاصلپور کا بانی)نے اس کی تعمیر کرایا تھا اس قلعہ کی بیرونی دیواریں تمام ترپکی اینٹوں سے بنی ہوئی تھیں اور دونوں دیواروں کے درمیان کا حصہ مٹی سے بھرا ہوا تھااس کو دھوڑا کہتے ہیں تاکہ گولہ باری سے قلعہ کو نقصان نہ پہنچے۔قلعہ کے اندر مغربی حصے میں ایک کنواں ہے جو۱۱۸فٹ گیرا اور چار فٹ قطر میں تھااس کا پانی میٹھا ہے ۔قلعہ کے چاروں کونوں پرمنیاریں ہیں جن کے درمیان میں رہائشی کمرے ہیں شمال مغربی منیار پختہ اینٹوں کی بنی ہوئی ہے جنوبی حصے میں ایک سہ منزلہ عمارت ہے جو بہت خوبصورت اقامات گاہ ہے اس اقامت گاہ کی پیشانی پر لکھا ہوا ہے۔(مالک ایں محمد اکمل خاں داؤدپوترارمضان المبارک ۱۱۴۴ھ)قلعہ کے باہر بھی تین کنویں ہیں مگر ان کا پانی کھاراہے یہ قلعہ بہاولپور سے مشرق میں بیکانیر کی سمت واقع ہے قلعہ کے اوپر تین توپیں بھی تھی ۔۔۔۔

2۔:قلعہ مروٹ۔

یہ قلعہ انتہائی قدیم ہے کسی زمامے میں اس کے دروازے پر ایک کتبہ لکھا تھا۔سمبت ۱۵۴۸پرکھی،پوہ سودی۲۔مروٹ پاتھا۔ملک جام سومرا۔کوٹ پکی کھیل پھیرائی۔اس کتبہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قلعہ جام سومرا کے قبضہ میں رہ چکا تھا اوراس نے ۱۴۹۱ء میں اس کی مرمت کرائی تھی۔اس قلعہ کے اندر ایک مسجد شاہ مردان مشہور ہے اس پر تحریر ہے۔تبا شد ایں مسجد مبارک دردور جلال الدین محمد اکبر بادشاہ غازی ،شاہ محمود الملک،حاکم محمد طاہر،اہل فرمائش سید نصراللہ۹۷۶ھ تمام شد۔مروٹ کا قلعہ چتوڑ کے مہروٹ نے تعمیر کرایا تھا جس نے راجہ چچ سے جنگ لڑی تھی اس کے بعد اس قلعہ کا نام قلعہ مہروٹ رکھا گیا جو بگڑ کر قلعہ مروٹ بن گیا یہ قلعہ چونکہ دہلی اور ملتان کی شاہراہ پر واقع تھا ۔بہت مشہور منڈی اور قصبہ تھا وہاں کے قدیم باشندوں کو وہاں کے کسی عادل حکمران سے بڑی عقیدت تھی قلعہ مروٹ بہت بلند ٹیلہ پر تعمیر کیاگیا تھا جو بہت دور سے نظر آتا ہے۔فصیل کے ساتھ بڑے برج بنے ہوئے ہیں۔مغربی جانب ایک قدیم محل کے آثار ملتے ہیں کہا جاتا ہے کہ یہاں مہاراجہ بیکا نیروالی کی رہائش تھی اب وہاں سوائے ویرانی کے اور کچھ نہیں ہے ورنہ یہ قلعہ اپنے اندر سیاحوں کیلئے خاص کشش اور جازبیت رکھتا ہے۔ ۔۔۔۔

3قلعہ جام گڑھ۔

یہ قلعہ۱۲۰۳ھ /۱۷۸۸ء میں جام خان معرونانی نے تعمیر کروایا تھا۔ یہ قلعہ مروٹ سے میرگڑھ جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے ،اس کی بیرونی فصیل پختہ بنائی گئی تھی اور اندر سے کچہ تھا۔ اس کے چاروں کونوں پر منیار تھیں جام خان کے فوت ہونے کے کچھ عرصے بعد ہی اس قلعہ کی دیواریں اور چھتیں اپنا بوجھ نہ سہارسکیں اور گرپڑیں پھر مرمتیں نہ ہونے کے باعث آہستہ آہستہ منہدم ہوتا چلاگیا۔اس کا پھاٹک جو پختہ تھا بیسویں صدی کے اوائل تک اسہی آب تاب سے کھڑا رہا اس قلعہ میں سوائے پھاٹک کے کسی بھی جگہ لکڑی کا کام نہیں ہوا تھا اس کا پانی کھاری ہوگیا اور یہی اس قلعہ کے ویرانی اسباب تھے۔۔۔۔۔۔

4۔قلعہ موج گڑھ۔

وڈیرہ معروف خان کہرانی نے۱۱۵۷ھ/۱۷۴۳ء میں ایک مقام لودھرا پر قلعہ موج گڑھ کی تعمیر کرائی۔وڈیرہ معروف خاں کہرانی۱۱۷۱ھ/۱۱۵۷ء میں مرگیا پھر اس کے لڑکوں جان محمد،عظمت خان اور حمزہ خان نے اس قلعہ کی تکمیل کرائی اس وڈیرے نے اپنی زندگی میں ہی اپنے لیئے مقبرہ بنوالیا تھا۔یہ مقبرہ بھی قلعہ موج گڑھ سے دو فرلانگ کے فاصلے پر موجود ہے اس کے بیٹے جان محمد نے اپنے باپ کی تعمیر میں کچھ ردوبدل کرکے ڈیزائن پلان تبدیل بھی کیا اور جب یہ فوت ہوگیا تو تیسرے بیٹے حمزہ خان نے قلعہ کی تعمیر کا کام جاری رکھا اور وہاں کا امیر بن گیا جب یہ مرگیا تو اس کے بیٹے معروف خان نمبر۲سردار بن گئے مگر وہ بے اولاد تھے لہذا سرداری معروف خان نمبر1کے تیسرے بیٹے نور محمد خان کے حصے میں آئی اور یہ قلعہ میں مدتوں رہتا رہا۔قلعے کے بڑے دروازے پر آہنی پلیٹ پر لکھا ہوا ہے ۔؛ملک وڈیرہ جان محمد خان ،محمد معروف خان داؤد پوترہ کہرانی۔؛ایں دروازہ ساخت کردہ مسمی سری رام آہنگر ،درماشوال ۱۲۱۲ھ ۔ یہ قلعہ پکی اینٹو ں سے تعمیر کیاگیا تھا اس کی فصیل بہت بلند ہے ۔قلعہ کی خوبصورت مسجد اور معروف خان کا مقبرہ دیکھنے کے قابل ہے۔قلعہ کے مشرق میں تالاب سوکھا پڑا ہے اور یہ قلعہ ضلع بہاولنگر میں واقع قلعہ مروٹ سے ۱۸میل کے فاصلے پر چولستان میں دشوار راستوں سے جانا پڑتا ہے۔

5۔قلعہ مبارک پور۔
نواب مبارک خان نے ۱۱۷۴ھ/۱۱۵۷ء میں شہر فرید کے نزیک(موجودہ چشتیاں) ایک قلعہ تعمیر کرایا تھا اس کا نام قلعہ مبارک پور رکھا تھا، یہ قلعہ کچی مٹی(دھوڑ) کا بنا ہوا تھا۔دیواریں بہت بلند تھیں قلعہ کے شمالی جانب بڑا دروازہ تھا جس کے اوپر ایک پختہ سہ دری اور بنگلہ بناہواتھا اندر رہائشی مکانات تھے اب یہاں صرف مٹی کے ٹیلے ہیں اور قلعہ کھنڈر میں تبدیل ہوچکا ہے۔یہ قلعہ دراصل لکھویرااور جوئیہ ذات کے شورش اور بغاوت کرنے والے درساروں سے مقابلے کیلئے تعمیر کیا گیا تھانواب بہاول خان دوم نے قلعہ کے اوپر تک توپ رکھوادی تھی جو ۱۸۸۰ء تک قلعہ کے دمدہ پر رکھی جس پر ایک پیتل کی تختی پر یہ تحریر کندہ تھے۔سرکار رکن الدولہ ،نصرت جنگ ،سیف الملک محمد بہاول خان بہادر عباسی،۱۲۱۷ھ۔

6۔قلعہ فتح گڑھ۔
۱۲۱۴ھ/۱۷۹۹ء میں نواب محمد بہاول خان دوم نے گوادینا کے مقام پر ایک قلعہ تعمیر کرایا ۔یہ مقام موجودہ بہاولنگر میں امروکا ریلوے اسٹیشن سے۱۵میل شمال مغرب میں واقع تھا اس قلعہ کا نام فتح گڑھ رکھا یہ قلعہ باہر سے پختہ تھا مگر اندر سے دیواریں کچی تھیں اور قلعہ کے اندر ایک گہرا کنواں کھدایا تھا اور قلعہ کے باہر دو پکے کنویں بنوائے جو بارش کے پانی سے بھرتے تھے اٹھارویں صدی کے آخری دنوں تک یہاں فوج رہا کرتی تھی اس کا نگہبان ہمیشہ داودپوترہ ہوتا تھااب یہ قلعہ نابود ہوچکا ہے اس کی ایک چھوٹی سی بستی ہے جہاں عربانی ذات کے لوگ رہتے ہیں۔

7۔قلعہ ٹبہ جیجل ۔
ضلع بہاولنگر میں ایک مقام حاصل ساڑھو ہے اس سے چند میل کے فاصلے پر یہ ٹبہ موجود ہے کہاجاتا ہے کہ قدیم زمانے میں یہاں ایک زبردست دفاعی قلعہ تھا جو وقت کے ہاتھوں اب ایک ٹبہ رہ گیا ہے۔ بیکا نیر کی سرحدپر واقع ہونے کی وجہ سے گمان ہوتا ہے کہ قدیم زمانے میں بھی یہاں سے حملے ہوتے رہے اس قلعہ کے ساتھ دریا بہتا تھا یہ بھی نہیں کہا جا سکتا ہے کہ دریا ستلج تھا یا دریا گھاگرا تھا اب یہاں دور دور تک کچھ آثار نہیں ہیں یہ روائت ہے کہ قلعہ کو راجہ رائے بھاٹیہ نے تعمیر کرایا تھا۔یہ قلعہ پختہ اور خام اینٹوں سے بنایاگیاتھا اور اینٹیں بھی بڑے سائز کی تھیں۔راجہ خصوصاً اس قلعہ میں موسم برسات میں آکر قیام کرتا تھا اب یہاں کچھ بھی نہیں ہے۔

8۔قلعہ میرگڑھ۔
جام خان کے بیٹے نور محمد خان نے۱۲۱۴ھ/۱۷۹۹ء میں ایک قلعہ کی تعمیر شروع کی تھی اور ۱۲۱۸ھ/۱۸۰۳ء میں اس قلعہ کو مکمل کیا اس قلعہ کا بیرونی حصہ پختہ تھا اس کا ایک داخلی دروازہ تھا اور چار میناریں تھیں داخلی دروازے کے دو حصے تھے بیرون دروازے پر لوہے کی سلاخوں کے ساتھ منڈھی ہوئی تھیں پھر اندر ڈیوڑھی تھی اس کے بعد اندر کا دروازہ تھا ۔یہ لکڑی کا تھا ۔قلعہ کے صحن میں رہائشی مکانات تھے صحن میں دو میٹھے پانی کے کنویں تھے جو اب خشک ہوکر بھر گئے ہیں۔یہ قلعہ ضلع بہاولنگر میں قلعہ پھولڑہ سے بجانب غرب ۱۴ میل کے فاصلے پر ہے اس وقت قلعہ کی فصیل بالکل شکست حالت میں ہے اندر کے مکانات مٹی کا ڈھیر بن گئے ہیں اب نہ گھر نہ دروازہ سب ختم۔

9۔قلعہ خیر گڑھ۔
چولستان کی جانب تیس میل کے فاصلے پر ایک قلعہ ہوتا تھا ،اب بھی کچھ آثار نظر آجاتے ہیں یہ قلعہ اختیار خان کے بیٹے حاجی خان نے ۱۱۸۹ھ/۱۷۷۵ء میں تعمیر کرایا تھا اور اس کا نام قلعہ خیر گڑھ رکھا تھا ۔یہ قلعہ دفاعی وجوہات کی بناء پر تعمیر ہوا تمام قلعہ کچی اینٹوں سے بناہوا تھااس قلعہ کے اندر ایک پکا تالاب بھی تھا اور صحن میں رہائشی مکانات تھے ان میں کچھ پکے بھی تھے۔ مراد شاہ کے بموجب قلعہ کی فصیل کے کچھ حصے پکے بھی تھے۔داخلی پختہ دروازہ تھا جس کے اوپر رہائشی حصہ بھی تھا اس بات کے امکانات بھی ہیں کہ یہ امتدادزمانہ کے علاوہ یہ قلعہ پانی کی کم یابی کی وجہ سے ویران ہوا پھر آہستہ آہستہ مرمت نہ ہونے کی وجہ سے منہدم ہوگیا اور اب صرف ایک ڈھیر سے زیادہ نہیں ہے۔

10۔قلعہ بہاول گڑھ۔
نواب محمد بہاول خان دوم اٹھارویں صدی کے آخر میں جب حکمران بنے تو انہوں نے ریاست بیکانیر کی سرحد پر دفاعی لحاظ سے مسافرانوالہ کے مقام پر ایک قلعہ تعمیر کرایا تھا ۔بہاول پور گزیٹر۱۹۰۴ء کے مطابق یہ قلعہ۱۷۹۱ء میں تعمیر کرایا تھا اس قلعہ کے قریب ایک باغ دس بیگھ زمین میں لگایا گیا یہ نہیں معلوم کہ چولستان کے اس باغ میں کس قسم کے پودے لگائے گئے اور ان کے پانی کیلئے پانی کا کیا انتظام رکھا گیا تھا۔ نواب دوم کے زمانے میں پہلے یہ جگہ دفاعی چوکی تھی پھر یہ قلعہ تعمیر ہوا یہ قلعہ انیسویں صدی کے آخری ایام تک منہدم ہوچکا تھا اور اس کا ملبہ کسی دوسری جگہ لے جایا گیا۔۱۸۷۰ء میں جب یہ قلعہ مسمار کیاگیا تو اس میں ہزاروں کی تعداد میں بڑے بڑے توپ کے گولے برآمد ہوئے تھے۔غالباً یہ وہ ذخیرہ تھا جو اس قلعہ میں دفاعی اہمیت کے پیش نظر جمع کیا گیا تھا اب وہاں سوائے مٹی کی ڈھیریوں کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔

11۔قلعہ سردار گڑھ۔
نواب مبارک خان نے۱۱۷۷ھ/۱۷۶۳ء میں ولہر کا علاقہ ریاست بیکانیر سے پٹہ پرلیا تھا اور وہاں ولہر کے قلعہ کے کھنڈرات پر ایک قلعہ کی تعمیر شروع کردی۔ بیکانیر کے راجہ سنگھ نے ان کو منع کیا جب نواب صاحب نے انکار کردیا تو ایک آفیسر بنام سردار مول چند برہیلا کو بھیج کر ولہر کو واپس لے لیا نواب صاحب نے خیر محمد خان مہروخان پرجانی اور اکرم خان اربانی کو ایک فوج لے کربھیجا جنگ ہوئی بیکانیر والے بھاگ گئے تھے اورولہر کا قلعہ نواب صاحب کے پاس مستقل آگیا۔آپ نے اس قلعہ کا نام سردار گڑھ رکھا اور اپنی ریاست میں شامل کرلیا۔یہاں ایک کنواں کھدوایا پھر دوسرا مگر دونوں کا پانی کھاری نکلا یہ قلعہ بہکانیر سرحد سے صرف ڈھائی میل کے فاصلے پر ہے۔۱۸۶۶ء میں وہاں تین توپیں نصب تھیں جن میں ایک پیتل کی تختی پر لکھا تھا۔ ؛مہراجہ دھیرج ،مہراجہ سری زور اور سنگ میو،سمبت ۱۷۹۷
اس کتبہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ توپ بیکا نیر کی تھایہ بہاولپور لے آئی گئی تھی۔

12۔قلعہ مچھکی۔
یہ قلعہ لال خان صوبہ دار نے۱۱۹۱ھ/۱۷۷۷ء میں ایک قدیم ٹیلے پر تعمیر کیا تھا لال خان صوبہ دار ،اختیار خان مندھانی کا بڑا بیٹا تھا۔یہ اختیار خان وہ تھا جس نے گڑھی اختیار خان آبادکی تھی ۔اس قلعہ قدیم کے اندورنی و بیرونی حصے سب کچے تھے یہ قلعہ دراوڑسے تقریباً تیس میل کے فاصلے پر بہ سمت مشرق واقع تھا مگر جلد ہی پانی کی کم یابی کی وجہ سے منہدم ہوگیا اب وہاں سوائے مٹی کی ڈھیروں کے کچھ بھی نہیں ہے۔

13۔ قلعہ قائم پور۔
خیرپور ٹاویں والی سے دس میل شمال کی جانب واقع ہے اس کو قائم خان عربانی نے ۱۷۴۷ء میں آباد کیا تھا اس زمانے میں دریائے ستلج کا رخ یہ نہ تھا بلکہ قائم پور کے ساتھ شمالی جانب تھا۔جب یہ آباد ہوا تو اس کا نام قائم پور نہ تھا بلکہ اس نام گوٹھ قائم خان تھا جہاں اس وقت شہر آباد ہے اس کے مشرقی سمت ایک قلعہ تعمیر کرایا گیا تھا اس قلعہ کی فصیل پختہ اور بلند تھی دمدمے بہت مضبوط تھے چاروں جانب اونچے برج تھے جہاں سپاہی پہرہ دیتے تھے یہ شہر کسی زمانے میں ریاست بہاولپور کا اہم مقام تھا اب قلعہ منہدم ہو چکا ہے اور مختصر آثار باقی رہ گئے تھے۔

14۔قلعہ مرید والا۔
اختیار خان کے دوسرے بیٹے حاجی خان نے بھی ۱۱۹۱ھ/۱۷۷۷ء میں ایک قلعہ مرید والا کے مقام پر تعمیر کرایا تھا یہ قلعہ بھی قلعہ دراوڑ سے چولستان میں بہ سمت جنوب۲۵میل کے فاصلے پر آباد تھا یہ قلعہ تمام تر کچی مٹی کا بناہوا تھا کہا جاتا ہے کہ یہ قلعہ زیادہ عرصہ آباد نہ رہ سکا اور پھر ۱۸۰۵ء میں دریائے ہاکڑہ میں سیلاب آیا تو سیلاب میں گھر گیا اور جلد ہی بالکل نابود ہوگیا اب سوائے مٹی کے ڈھیریوں کے کچھ نظر نہیں آتا۔

15۔ قلعہ دراوڑ۔
یہ چولستان میں ۱۸۳۴ء میں راجہ دیور راول نے تعمیر کرایا تھا یہ انتہائی قدیم قلعہ ہے دریائے ہاکڑہ کے مغربی کنارے پر آباد تھا ۔قلعہ دیورال کہلاتا تھا ۔بگڑکر قلعہ دراوڑ بن گیا۔۱۷۳۵ء تک یہ قلعہ دیوراول کے جانشینوں کی ملکیت رہا پھر ۲۰ذیقعد۱۱۴۶ھ /۱۷۳۳ ء میں نواب صادق محمد خان عباسی اول نے رائے راول سنگھ سے فتح کرلیا رائے راول سنگھ کا شجرہ پچیس اوپر راجہ دیور اول اس قلعہ کے بانی تک پہنچتا ہے قلعہ دراوڑ کے نزیک جیاں ریت کے زبردست ٹیلے تھے نواب محمد بہاول خان سوم نے ۱۲۴۱ھ /۱۸۲۵ء میں عالی شان مسجد تعمیر کرائی تھی یہ مسجد دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے مگر ویران ریتی ہے اس کی ویرانی دیکھ کر دکھ ہوتا ہے دراصل اس جگہ ایک چھوٹی سی مسجد تھی جو غالباً پہلی صدی ہجری میں آنے والے مسلمان صحابیوںؒ یا تاجرو یا کسی بزرگ نے بنوائی ہوگی۔ ممکن ہے کہ ان میں سے کوئی صحابہ کرام یا تابین کرام بھی ہوں اس کے قریب ہی نواب خاندان کا شاہی قبرستان ہے جہاں پہلے نواب صاحب کے علاوہ باقی تمام حکمران دفن ہیں۔

16۔ چانڈہ کھانڈہ۔
قدیم زمانے میں یہ قلعہ دراوڑ سے دو میل کے فاصلے پر ایک ٹیلے پر آباد تھا تاریخ سے صرف یہ معلوم ہو تا ہے کہ یہ قلعہ سکندر اعظم کے حملے کے وقت موجود تھا۔سندھ جاتے ہوئے سکندراعظم نے چانڈہ کھانڈہ کے مقام پر اس زمانے میں دریا سند ھ یا دریائے ہاکڑہ کی مشہور بندر گاہ تھی میں قیام کیا اور یہیں سے دریا عبور کیا تھا۔ کرنل ٹاڈ نے وقائع بیکا نیر پر لکھا ہے کہ سکندر سندھ جاتے وقت دراوڑ کے قریب ایک ایسے مقام پر پہنچا جو بھٹیز سے۲۵میل جنوب میں تھا یہ بھٹیز اس وقت دھا وندوسر بھی کہلاتا تھا یہاں ایک محل بنام رنگ محل تھا جہا ں حکمران رہتا تھا اب تو اس قلعہ کے کھنڈرات بھی موجود نہیں ہیں قیاس ہے کہ اس قلعہ کے ملبہ اور مصالحہ قلعہ دراوڑ کی تعمیر اور مرمتیں ہوتی رہیں۔

17۔قلعہ خان گڑھ۔
نواب محمد بہاول خان دوم نے دفاعی ضروریات کی پیش نظر جو قلعے تعمیر کرائے تھے یہ قلعہ ان میں سے ایک تھا چولستان کے درمیانی قلعہ دراوڑ سے۳۲ میل جنوب مغرب میں ایک انتہا ئی اہم قلعہ ۱۱۹۸ء/۱۷۸۳ء میں تعمیر کرلیا جس کا نام خان گڑھ رکھا یہ قلعہ کچی اینٹوں سے تعمیر کرایا گیا مگر فصیل کے کچھ حصے اور اس کا داخلی دروازہ پختہ تھا اس کے میناروں اور برجیوں میں بھی عمدہ مصالحہ اور پختہ بڑی سائز کی اینٹیں استعمال کی گئی تھیں ۔ اس قلعہ کی تمام دیواریں اور فصیل وغیرہ مسمار ہوچکی ہیں ۔

18۔؛ قلعہ رکن پور۔
اس کے آثاردین گڑھ سے ۳۲ میل کے فاصلے پر مغرب کی جانب موجود ہیں ۔ محمد معروف خان کہرانی نے ۱۱۹۰ھ/۱۷۷۶ء میں تعمیر کرایا تھا یہ قلعہ تمام تر مٹی سے تعمیر کیا گیا تھا۔ اس قلعہ کے اندر رہائشی مکانات تھے میناریں تھیں اب ان کے آثار رہ گئے ہیں۔یہ قلعہ غوث پور بھی کہلاتا ہے۔

19۔ قلعہ کنڈیرا ۔
کسی قدیمی ٹیلے پر ۱۱۷۸ھ /۱۷۴۶ء میں بھکر خان جانی کے بیٹے فضل خان پیر جانی نے موجودہ منٹھار تحصیل صادق آباد سے تھوڑی دور کے فاصلے پر یہ قلعہ تعمیر کرایا تھا اب تو اس قلعہ کے باقیات بھی غائب ہوگئے ہیں۔صرف کھنڈرات باقی ہیں اس قلعہ کی چار دیواری پختہ تھی فصیل اور برجیوں میں پختہ اینٹیں استعمال کی گئی تھیں۔ اس کے چار بڑے بلند منیار تھے، فصیل کے درمیان میں ایک دروازہ تھا ۔۱۸۰۵ء میں نواب محمد بہاول خان دوم نے س قلعہ کو کسی سیاسی نقطہ نظر کے تحت مسمار کردیا تھا اس قلعہ کے اردگرد چولستان کے مہر قبائل آباد ہیں اب یہاں ٹیلوں کے سوا کچھ باقی نہیں ہے۔

20۔قلعہ سیوراہی۔
قصبہ سنجر پور تحصیل صادق آباد قومی شاہراہ پر واقعہ اس سے مشرقی سمت ایک میل کے فاصلے پر نہر کے کنارے سیوراہی آباد ہے یہ ان چھ قلعوں میں سے ایک ہے کو رائے سہاسی نے تعمیر کئے تھے رائے سہاسی کا عہد(ﷺ) چھٹی صدی عیسوی کا ہے اس کی بابت صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاہ حسین ارغون نے ۱۵۴۵ میں اسے تباہ کردیا تھا جنرل کنگھم کے بموجب یہ وہی مقام تھا کہ جسے سکندر اعظم کے عہد کے مورخین نے سو گڈیا کو محل قرار دیا تھا شمالی سندھ کے مشہور رومان کے ہیرو منیندار جو مومل کے عشق میں پھنس گیا تھا مندوہا کے پتن کے حاکم حمیر سومرا کا ہم عصر بیان کیا جاتا ہے جو اس زمانے میں اس علاقے کا درالخلافہ تھا اس قلعہ کے ڈھیروں میں کبھی کھدائی کا کام نہیں ہو ا اس کے باوجود متعددبار وہاں بڑے بڑے توپ کے گولے برآمد ہوئے ہیں۔

21۔قلعہ صاحب گڑھ۔
یہ قلعہ ۱۱۱ھ /۱۷۷۷ء میں فضل علی خان ہلانی نے تعمیر کرایا تھا اور وہی فضل ہلانی رحیمیار خان کا بانی تھا اس قلعہ کے درودیوار کچی مٹی کے بنے ہوئے تھے مگر بیرونی دیواروں کے ساتھ پختہ اینٹیں لگادی گئی تھی اس قلعہ کو نواب بہاول خان دوم نے جو فضل علی خان ہلانی کے داماد صاحب تھے ۱۲۲۰ھ/۱۸۰۵ء میں قلعہ مسمار کرادیا تھا قلعہ کے اندر کوڑے خان ولد خدایار خان کی رہائش تھی وہ بھی مسمار کرادی گئی تھی قلعہ کے باہرایک تالاب میں بارش کا پانی جمع ہوتا تھا جو انسانوں اور جانوروں کے کام آتا تھا یہ قلعہ صاحب گڑھ کے کھنڈرات احیم یار خان سے ۶۷ میل کے فاصلے پر جنوب میں چولستان میں موجود ہیں۔

22۔قلعہ ونجھروٹ۔
یہ قلعہ راجہ ونجھا نے تعمیر کرایا تھا ۔تاریخ مراد کیمطابق ۵۷۴ھ/۱۱۷۸ھ میں اس قلعہ کو شہاب الدین غوری نے مسمار کرادیا تھا لیکن کرنل ٹاڈ کیمطابق یہ قلعہ ۷۵۷ھ میں راجہ کہڑ کے لڑکے تنو نے تعمیر کرایا تھا۔راجہ تنو کو دیوی بیجا سانی نے شہادت دی تھی کہ اس مقام پر خزانہ دفن ہے تنو نے وہاں سے خزانہ حاصل کیا اور یہ قلعہ اس مقام پر تعمیر کرایا اور اس دیوی کے نام پر بیجا نوٹ رکھا جو بعد میں بجنوٹ بن گیا۔یہ قلعہ مدتوں تک کھنڈرات کی حالت میں پڑا رہا پھر۱۱۷۱ھ/۱۷۵۷ء میں موریا داد پوترہ نے اس کی ازسر نوتعمیر کرائی ۔۱۷۵۹ھ میں علی مراد خان نے یہ قلعہ لے کر مرمت کرائی دوسوسال تک یہ قلعہ مرمت کے بغیر پڑا رہا آخر کار منہدم ہوکر تباہ ہوگیا اب وہاں مٹی کے ڈھیر پڑے ہیں۔
23۔ قلعہ دھویں۔ یہ قلعہ دراوڑ سے چولستان میں۳۲ میل کے فاصلہ پر تعمیر کیا گیا تھا یہ ایک دفاعی قلعہ تھا جو کبیر خان اچرانی کے بیٹے فاضل خان نے ۱۱۸۶ھ/۱۷۷۶ء میں تعمیر کیا تھا یہ قلعہ بالکل کچی مٹی کا تھا اس قلعہ کی فصیل کچی دھوڑ کی بنائی گئی تھی تاکہ مورچوں کے گولوں سے فصیل برباد نہ ہوسکے۔انیسویں صدی کے شروع میں یہ قلعہ منہدم ہوچکا تھا اب تو اس کے آثار بھی موجود نہیں ہیں۔

24قلعہ دین گڑھ۔
کسی زمانہ میں یہ مقام ترہاڑ کہلاتا تھا اب دین گڑھ کہلاتا ہے یہ قلعہ بہادر خان ہلانی نے ۱۱۷۱ھ/۱۷۵۷ء میں تعمیر کیا تھا صاد ق آباد تحصیل میں چولستان کی جانب۲۳ میل واقع تھا۔ پتن منارا سے راستہ جاتا تھا دراصل جیسلمیر کا ایک ہندوں راجہ للو نے اس مقام پرقلعہ ترہاڑ بنایا تھا دوسری روائت کے بموجب محمد معروف خان کہرانی کے بیٹے ابراہیم خان نے ۱۱۷۰ھ/۱۷۶۵ء میں اس کی تعمیر شروع کی اور اس کے چچا زاد خدا بخش ولد نورمحمد خان نے اس کو مکمل کیا داخلی دروازے کے اوپر لکڑی پر کلمہ طیبہ کے علاوہ کچھ اور بھی تحریر کیا تھا۔ قلعہ کی فصیل مکانات سب منہدم ہو چکے ہیں مگر اس کی بلند فصیل کے کچھ حصے عمر رفتہ کو آواز دیتے رہتے ہیں۔

25۔قلعہ اوچ ۔
یہ علاقہ قبل مسیح میں بھی آباد تھا یہاں راجہ ہود حکومت کرتا تھا جس کے کام پر یہ جگہ مشہور ہوئی پھر بگڑ کر یہ جگہ ہوچ کہلانے لگی اور اب اوچ کہلاتی ہے کہتے ہیں کہ یہ شہر۷۷ء میں تباہ ہوگیاتھا سکندر نے اپنے حملوں کے دوران اس کو فتح کیا تھا،چچ نامہ میں ہنری ایلیٹ کے بموجب اس کا نام اسکلندہ تھا سکندر کے وقت سے جب تک انگریزوں نے اس ملک میں قدم رکھے ہوئے کوئی نہ کوئی بادشاہ یہاں حملہ کرتا رہا اور اس شہر کو تباہ کرتا رہا اوچ کے مخدوم محمد حامد گنج بخش سے نواب صاحب کی ان بن ہوگئی اور انہوں نے بغاوت کردی نواب محمد بہاول خان دوم نے۱۲۱۹ھ/۱۸۰۴ء میں مخدوم صاحب کو گرفتار کرلیا اور اوچ فتح ہوگیا اور قدیمی قلعہ مسمار کردیا گیا اب وہاں سوائے ٹیلہ کے کچھ باقی نہیں ہے۔

26۔قلعہ تاج گڑھ۔
تاج گڑھ کا ایک قلعہ رحیم یار خان سے ۴ میل کے فاصلہ پر واقع تھا کسی زمانے میں اس کا نام ہرار تھا دسویں صدی ہجری میں یہاں ایک رانی ہران حکومت کرتی تھی جو جیسلمیر کے راجہ کی بیٹی تھی اس نے اپنے نام پر اس کی تعمیر کی تھی ۔ ایک مسلمان بزرگ سعید احمد بلوری نے رانی کو مسلمان کیا۔ قلعہ تاج گڑھ جو قدیمی ہراار تھا مدت تک سمرا خاندان کے راجاؤں کے قبضہ میں رہا پھر جیسلمیر کے راجاؤں کے قبضہ میں آگیا پھر بھاٹیہ خاندان اس میں فرد کش رہے۔۱۸ویں صدی عیسویں کے آخر فصل علی نے اس قلعہ کو مسمار کرادیا اور ۱۷۸۰ء میں اپنے بھائی کے نام تاج محمد خان کے نام پر اس مقام کا نام تاج گڑھ رکھ دیا حالاں کہ تاج گڑھ دراصل داؤدپوتروں نے بنایا اور بسایا تھا مگر گزیٹر بہاولپور۱۹۰۴ کے مطابق یہاں اب کوئی پوترہ نہیں رہتاہے۔

27۔قلعہ اسلام گڑھ۔
یہ قلعہ بھی بہت قدیمی قلعوں میں سے ہے کبھی اس قلعہ کا نام بھیم تھا جو راجہ بھیم سنگھ نے ۱۶۶۵ سمبت تعمیر کرایا تھاجب کہ اس قلعہ کے دروازے پر لکھا ہو اتھا۔( سمبت ۱۶۶۵ء اوج دادی ۲مہراج اول سری بھیم سنگھ جی مہراج)
۱۱۸۰ھ/۱۷۶۶ء میں اختیار خان مندھانی جو گڑی اختیار کا سردار تھا سھوکہ سے اس قلعہ پر قابض ہوگیا اس کا واقعہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ راجہ موج راج جو اول سنگھ آف بیکا نیر کا بیٹا تھا نے دو محافظ جلال خان اور شجاعت خان اس قلعہ کی نگہداشت پر ملازم رکھے ہوئے تھے اور یہ ملازم بہت ہی وفا دار تھے یہ اکثر سودا سلف لینے قریبی شہر گڑی اختیار خان آتے جاتے تھے ۔اختیار خان نے ان ک دولت اور سونے کے کنگنوں کا لالچ دے کر سازش کرلی اور قلعہ پرقبضہ کرلیا اور قبضہ کے بعد ان غریبوں کو کچھ نہ دیا یہ قلعہ بھاگلہ کے مقام سے ۲۸میل کے فاصلے پر موجود ہے اختیار خان مندھانی نے قلعہ پر قبضہ کرلینے کے بعد قلعہ کا نام بھیم در سے تبدیل کرکے اسلام گڑھ رکھ دیا۔دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قلعہ کسی زمانے میں واقعی بہت پر شکوہ ہوگا اس کے اوپر کے برج جو اب شکستہ ہوچکے ہیں ،کبھی ان برجوں میں محافظ پہرہ دیا کرتے تھے قلعہ کے اندر پختہ کنواں تھا قلعہ کے اندر ایک مسجد بھی تھی جو اختیار خان نے قبضہ کرلینے کے بعد تعمیر کرائی تھی۔ قلعہ کے باہر شمال میں منگوال ڈھیڈ نامی بستی ہے اور ویران کھنڈرات ہیں اب تو رحیمیار خان سے پختہ سڑک باغ و بہار سے ہوتی ہوئی بھاگلہ تک جاتی ہے آگے تھوڑی دور پر قلعہ واقعہ ہے۔

28.قلعہ مؤ مبارک۔
رحیمیارخان سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر مؤ مبارک کا قدیم قلعہ موجود ہے۔ شمال مغرب میں اب بھی کئی جگہ پر فصیل کے حصے نمایا ں نظر آتے ہیں اور پچاس ساٹھ فٹ مٹی کے ڈھیر کو اپنے دامن میں سمیٹے پڑے ہیں۔یہ قلعہ راجہ ساہنس نے اپنی ماں کی رہائش کیلئے بنوایا تھا۔اس عہد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہم عصر خیال کیا جاتا ہے۔ اس نے اپنی ماں کے نام پر اس جگہ کا نام ماؤ رکھا تھا ۔کبھی قلعہ کے بیس برج تھے۔اور چار دمدے تھے،فصیل پختہ اور مضبوط تھی۔ مدتوں بعد اسہی خاندان کے ایک راجہ کیلاش نے اس کو مرمت کرایا تھا ۔سلطان محمود غزنوی نے اپنے حملوں کے دوران اس قلعہ کو فتح لرلیا تھا اور اس کو مرمت کراویا تھا۔ سلطان محمود غزنوی نے اپنے حملوں کے دوران اس قلعہ کو فتع کرلیا تھا اور اس کو منہدم کرادیا تھا۔۱۵۶۹ء میں سلطان حسین ارغون نے پھر اس قلعہ کو فتع کرلیا تھا۔چھٹی ہجری میں حضرت شیخ حمید الدین حاکم ؒ جو حضرت شاہ رکن عالم ؒ کے خلیفہ خاص تھے۔ اس جگہ کو اپنی رہائش کیلئے منتخب کرلیا تھا اور یہاں کے ہزاروں خاندانوں کو مسلمان کیا،انتقال کے بعد آپ کے جسد خاکی کو یہیں سپرد کردیا گیا۔ اب قلعہ کے اوپر ایک چبوترے پر کھلے آسمان تلے آپ خوابیدہ ہیں اور روز آسمان آپ پر شبنم افشانی کرتا ہے۔

29۔قلعہ لیارا۔
؛۱۱۹۵ھ/۱۷۸۰ء میں اس قلعہ کی تعمیر سبزل نے کرائی تھی ۔یہ وہی خان تھے جنہوں نے کوٹ سبزل نام کا شہر موجودہ صادق آباد بسایا تھا ایک اور روایت کے بموجب اس قلعہ کی تعمیر سبزل خان کہرانی نے ۱۱۷۰ھ/۱۷۵۶ء میں کرائی تھی اس قلعہ کے باقیات کوٹ سبزل سے چولستان کی جانب ۲۴ میل پر موجود ہیں یہ قلہ بنیادی طور پر کچا تھا اور فصیل کے کچھ حصوں اور قلعہ کے دروازہ پختہ اینٹوں سے بنائے گئے تھے۔ یہ قلعہ ایک قدیمی ٹیلہ پر تعمیر کیا گیا تھا مگر اس کے با وجود ۱۲۲۰ھ/۱۸۰۹ء میں دریائے سندھ یا دریائے ہاکڑہ کے سیلاب میں یہ بری طرح متاثر ہوا ہے اور آہستہ آہستہ مسمار ہوتا چلا گیا۔۔۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں