صوبہ بہاولپور کا قیام ضروری کیوں؟ (ڈاکٹر سید وسیم اختر)

جماعت اسلامی نے بہاولپور صوبہ بحالی ایشو کو غیر معمولی اہمیت کی نظروں سے دیکھا پرکھا، یہ وہ واحد قومی ،مذہبی ، سیاسی جماعت ہے جس نے اس مسئلہ کو 1970ئ کے الیکشن کے منشور کا حصہ بنایا ۔اس وقت جماعت اسلامی کے امیر اور بانی جماعت سید ابوالاعلیٰ مودودی تھے ۔ اس کو منشور کا حصہ سوچ و بچار کے بعد بنایا گیا ،اس لیے بعد ازاں قاضی حسین احمد جب امیر جماعت بنے تو انہوں نے بھی اس کی بھرپور حمایت جاری رکھی ، سید منور حسن امیر بنے تو تسلسل جاری رہا۔ موجودہ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے اس ایشو کو تقویت دیتے ہوئے بہاولپور میں جلسہ عام کا اعلان کیا جس میں بہاولپور صوبہ بحالی کے ایشو کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی۔بلکہ جلسہ کا ماٹو بھی بہاولپور صوبہ بحالی تھا۔ بہاولپور کی عوام نے بھرپور دلچسپی کا مظاہر ہ کیا ۔اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اس گراﺅنڈ میں ہونے والے سیاسی جلسوں میں سب سے بڑا جلسہ تھا۔ بہاولپور صوبہ بحالی ایسا ایشو بن چکا ہے جس کو بہاولپور کے عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے اس کے باوجود بڑی سیاسی جماعتوں نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔البتہ بہاولپور میں الیکشن لڑنے والے تمام امیدواران اس ایشو کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ اگرچہ ان کے انتخابی منشور میں بہاولپور صوبہ بحالی کا نام تک نہیں ہوتا۔ بہاولپور صوبہ بحالی پر مختلف ادوار میں تحریک اٹھی، زور پکڑا ، تاہم منطقی انجام تک نہیں پہنچی ، سب سے بڑی تحریک 1970ئ میں اٹھی جس میں دو نوجوان شہید ہوئے درجنوں زخمی ہوئے ، سینکڑوں گرفتار ہوئے ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1970ئ میں ہونے والے الیکشن میں بہاولپور صوبہ بحالی کے حمایت یافتہ امیدواران بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ لیکن بدقسمتی یہ رہی کہ بہاولپور صوبہ بحالی کے حمایت یافتہ کامیاب ہونے والے ممبران اسمبلی کی اکثریت مفادات کی بھینٹ چڑھ گئی۔ جس کا بہاولپوریوں کو بڑا رنج ہوا۔
اس کے بعد لمبا عرصہ بہاولپور صوبہ بحالی کی تحریک دبی رہی بعد ازاں سابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے بہاولپور صوبہ بحالی کے ایشوپر آواز اٹھائی لیکن یہ توانائی اس وقت صرف ہوئی جب وہ حکومت سے فارغ ہوچکے تھے۔ اگر اپنے دور اقتدار میں کردار ادا کرتے تو زیادہ موثر ہوتا۔ طارق بشیر چیمہ جب ضلعی ناظم تھے انہوں نے بھی ضلع کونسل سے متفقہ قرارداد پاس کروائی۔ اسی ایشوپر بہاولپور ڈویثرن سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل کور کمیٹی بنی جو سابق گورنر مخدوم احمد محمود ، سابق وفاقی وزیر سیدتسنیم نواز گردیزی ،سابق ضلع ناظم بہاولنگر میاں ممتاز متیانہ ،معروف پارلیمنٹرین سید تابش الوری اور راقم کے علاوہ دیگر افراد پر مشتمل تھی۔ راقم نے بطور سیکریٹری جنرل فرائض سرانجام دیے ۔اس دوران رحیم یار خان میں ایک شاندار جلسہ ہوا جس کا سہرا مخدوم احمد محمود کے سر جاتا ہے ۔اس کے ڈویثرن بھر میں درجنوں پروگرام کیے گئے ۔اسی دوران کور کمیٹی نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے ملاقات ان کے گھر پر کی۔ ان کے سامنے راقم نے بہاولپور صوبہ بحالی کا مقدمہ پیش کیااور سید تابش الور ی نے معاونت کی ۔ وہ اسمبلی میں قرار داد لانے پر رضامند ہوئے ۔قرار داد کا متن راقم اور سید تابش الور ی نے تیار کیا جس کو 2008ئ 2013ئ کی صوبائی اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کرلیا ۔بلاشبہ یہ بہت بڑی کامیابی تھی یہ قراردا دمنظور ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بہاولپور تشریف لائے ۔سرکٹ ہاﺅس میں ایک کنونشن رکھا گیا جس میں انہوں نے بہاولپور یوں کو مبارک باد دی ۔بہاولپور صوبہ پر نعرے لگائے ،امید ہوئی کہ بہاولپور صوبہ جلد بحال ہوجائے گا۔ 2013ئ کے الیکشن میں ن لیگ نے نہ صرف پنجاب بلکہ وفاق میں بھی حکومت بنالی اب تو کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہونا چاہیے تھی ۔ لیکن ن لیگ کی حکومت نے خاموشی اختیارکرلی ۔
اس وقت راقم تیسری بار پنجاب اسمبلی کا رکن منتخب ہوا راقم نے پنجاب اسمبلی میں صوبہ بہاولپور بحالی سے متعلق منظور ہونے والی قرارداد کی یاد دہانی کے لیے قراردادتیار کی لیکن پیش نہ کرنے دی گئی۔ یہ قرار داد کم ازکم اسمبلی میں 10مرتبہ جمع کروائی ۔لیکن ہر بار معذرت کرلی گئی۔ یہ عمل قابل افسوس ہے کہ بہاولپور ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی نجی ملاقاتوں میں تو راقم کے موقف کی بھرپور حمایت کرتے لیکن اسمبلی میں آواز اٹھانے کی جرات نہیں کرتے۔ان رویوں سے لگتا کہ ن لیگ اور دیگر سیاسی جماعتوں کی قیادت نے ان کی زبان بندی کی ہوئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف بہاولپور صوبہ بحال ہونا چاہیے بلکہ جنوبی پنجاب بھی الگ صوبہ ہونا چاہیے کیونکہ یہ اس لیے ضروری ہے کہ حکومتیں وسائل کی تقسیم کرتے وقت نا انصافی کرتی ہیں ۔ اعداد و شمار کے مطابق بجٹ کا تقریباً 67%حصہ لاہور پر خرچ ہوتا ہے۔ہم لاہور کی ترقی کے مخالف نہیں لیکن جب ان علاقوں کا استحصال ہوتا ہے تو تکلیف ہوتی ہے ۔لاہور میں جب میٹروبس بنائی گئی تو جنوبی پنجاب کے 116منصوبوں کا فنڈ اس پر خرچ کیا گیا۔ یہ رویہ ناقابل برداشت رہا اس لیے پنجاب اسمبلی کے فلور پر یہ کہنا پڑا کہ ”اساں قیدی تخت لاہوردے“اور اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ بھی کئی بار کرنا پڑا۔ جماعت اسلامی نے اس ایشو کو تقویت دینے کے لیے رابطہ مہم شروع کردی ہے ۔
جماعت اسلامی محسوس کررہی ہے کہ بڑی سیاسی جماعتیں صرف دھوکہ دے رہی ہیں ،جماعت اسلامی کی صوبائی اور مرکزی شوریٰ میں یہ معاملہ زیر بحث آیا اور اس پر جماعت اسلامی میں یکسوئی پائی گئی کہ بہاولپور صوبہ ہر صورت میں بحال ہونا چاہیے۔ جماعت اسلامی نے جس مہم کا آغاز کیا ہے اس میں ان تمام لوگوں کو دعوت دی جارہی ہے جو بہاولپور صوبہ بحالی کی تڑپ رکھتے ہیں ۔ جماعت اسلامی کی مرکزی و صوبائی قیادت نے بہاولپور میں کسان بورڈ کے مرکزی چئیرمین جام حضور بخش کو فوکل پرسن مقررکیا ہے۔ ان کی معاونت بہاولپور ڈویژ ن کے تینوں امرا جماعت اسلامی اور دیگر اہم افراد کریں گے۔جماعت اسلامی یہ ادراک رکھتی ہے کہ نواب سر محمد صادق خان عباسی نے پاکستان کے قیام اور استحکام پاکستان کے لیے لازوال قربانی دی ۔ ان کی قربانیوں کوہمیشہ یاد رکھنا چاہیے ۔جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ نواب سر صادق کی شخصیت سے متعلق مضامین قومی نصاب میں شامل کیے جائیں۔قومی سطح پر خراج تحسین پیش کرنے کے لیے دن منایا جائے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں