عالمی ضمیر کو جھنجوڑنے والی تصاویر کی دردبھری داستان

جنگ وجدل کے عادی، انسانی جذبات سے عاری اور مفادات کے اسیر امن عالم کے عالمی ٹھیکیداروں کی بے حسی اب ضرب المثل بن چکی ہے۔ عالمی بے حسی کی انت گنت زندہ مثالیں نہ صرف موجود ہیں بلکہ آئے روز اس کے مظاہر سامنے آتے ہیں۔ گذشتہ برس ایک شامی پناہ گزین بچے ایلان کردی کی سمندر کے کنارے سے ملنے والی نعش نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا مگر حال ہی میں ایک دوسرے شامی بچے عمران السوری کی شدید زخمی حالت میں ایمبولینس میں لی گئی تصویر نے عالمی بے حسی پر ایک بار پھر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔

عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے والی یہ تصاویر جہاں ایک طرف انسانی بے بسی کا واضح ثبوت ہیں تو بلا شبہ یہ انسانی سفاکیت کا بھی مظہر اور امن عالم کے بین الاقوامی علم برداروں کی مفاد پرستی کے شکار ملکوں کی پیشانی پر بدنما داغ ہیں۔

عمران السوری

پانچ سالہ عمران السوری کا تعلق حلب مشرقی حلب سے ہے۔ حال ہی میں اسے بمباری کا نشانہ بننے والے ایک مکان کے ملبے تلے سے شدید زخمی حالت میں نکالا گیا۔ اسے ایک ایمبولینس میں ڈالا گیا جہاں اس کی تصویر لی گئی۔ ایمبولینس گاڑی کی سیٹ پر بیٹے عمران کے خون اور مٹی میں لت پت چہرےپر کئی معصومانہ سوال ہیں۔

ایلان کردی

ایلان کردی بھی شام کی قیامت کی ہولناکی کا ایک المناک باب ہے۔ چار سالہ ایلان 2015ء میں اپنے والدین کے ہمراہ ترکی پہنچنے کے بعد اس وقت سمندر کی بے رحم موجوں کی نذر ہوا جب اس کے والدین یونان کے لیے ایک کشتی پر سوار ہوئے۔ سمندر میں کشتی حادثے کا شکار ہوئی۔ اس حادثے میں صرف ایلان کا والد زندہ بچا۔ ایلان کی لاش چند دن بعد ترکی کے ایک ساحل سمندر پر اندھے منہ پڑی ملی۔ اس تصویر نے بھی پتھر دلوں کو بھی موم کر دیا تھا۔

ننھا عراقی اپنے والد کے ساتھ دکھ بانٹتے ہوئے
iraq-war
یہ تصویر سنہ 2003ء میں سامنے آئی جو عراق پر مسلط کی گئی امریکی جنگ کی المناکیوں کا مظہر تھی۔ اس تصویر میں ایک قیدی اپنے چار سالہ بچے کو اپنی گود میں اٹھائے اسے سخت دھوپ سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس تصویر نے بھی تہلکہ مچا دیا تھا۔

مردہ ماں سے مدد مانگنے والا بچہ

ایک ننھے بچے کی تصویر سنہ 2009ء میں عالمی ذرائع ابلاغ میں بڑے پیمانے پر شائع ہوئی۔ جس میں نائیجیریا کا ایک بچہ قبائلی لڑائی میں ماری جانے والی اپنی ماں سے مدد کی فریاد کر رہا ہے۔ اس تصویر نے نائیجیریا میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات، قبائلی لڑائیوں، بھوک وافلاس، جنگ وجدل اور بچوں کے بے سہارا ہونے جیسے المناک واقعات کی ترجمانی کی۔

محمد الدرہ فلسطینی
falasteni-kid
معصوم فلسطینی نونہالوں پرغاصب صہیونیوں کے مظالم کی ان گنت تصاویر میں ایک تصویر محمد الدرہ کی ہے جو سنہ 2000ء میں سامنے آئی۔ تصویر میں اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کا شکار بچہ اپنے والد کے ہمراہ ایک دیوار کی اوٹ میں چھپنے کی کوشش میں ہے۔ اس تصویر نے مسئلہ فلسطین کے حل کرنے پرعالمی برادری کو شرمسار کیا مگر ساتھ ہی ساتھ فلسطینیوں کے خلاف صہیونی ریاست کے قبیح چہرے کو بھی بے نقاب کر دیا تھا۔

بھوک سے نڈھال صومالی نونہال
sumali-kid
سنہ 1994ء میں صومالیہ میں بھوک سے نڈھال ایک بچے کی تصویر نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس تصویر میں ایک بچہ بھوک کے باعث زمین پر اوندھے منہ پڑا ہے جس کے قریب ہی ایک گدھ اس کو شکار کرنے کے انتظار میں ہے۔ اس تصویر نے صومالیہ میں قحط، لڑائیوں، عالمی بےحسی اور بین الاقوامی اداروں کے منفی کردار کی قلعی کھول دی تھی۔

ایٹمی حملے کا شکار ننھا جاپانی
japan-war
سنہ 1945ء میں دوسری عالمی جنگ کے موقع پر جاپان میں ایک چھ سالہ بچے کو زخمی حالت میں روتے ہوئے دیکھا گیا۔ جاپان پر گرائے گئے امریکی ایٹم بم کا شکار یہ ننھا جاپانی امریکی توسیع پسندی اور جنگی جنون کا منہ بولتا ثبوت تھا، اس تصویر نے بھی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا اس پر پوری دنیا میں امریکیوں کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

دیوار برلن کا المناک پہلو
german-war
دوسری عالمی جنگ کے نتیجے میں جب جرمنی کو مشرقی اور مغربی حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے دونوں علاقوں میں دیوار برلن کھڑی کی گئی تو اس دیوار نے جرمن خاندانوں کے لیے ناقابل یقین مشکلات پیدا کی تھیں۔ سنہ 1961ء میں ایک جرمن فوجی کی تصویر سامنے آئی جو خاندان سے بچھڑنے والے ایک بچے کو دیوار کے قریب لگائی گئی خار دار تار سے گذارنے اور دیوار پار کرانے میں مدد کر رہا ہے۔ اس وقت دیوار عبور کرنے پر فوری طور پر گولی مارنے کا حکم دیا گیا تھا۔

ویت نام کی شیرخوار
veitnam-war
ویت نام پر امریکی حملے کی خوفناک یادیں انسانی تاریخ کا مکروہ باب ہیں۔ اس ضمن میں سنہ 1973ء کی امریکی جنگ کے بعد ویت نام کی ایک شیرخوار بچی کی تصویر نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا۔ تصویر میں ایک بچہ اپنی شیرخوار بہن کو ایک صندوق میں ڈالے ہوئے ہے۔ ان کے والدین امریکی جنگ کا رزق ہو چکے تھے۔ ویت نام جنگ میں یتیم ہونے والے سیکڑوں بچوں کو علاج اور خوراک کی فراہمی کے لیے امریکا لایا گیا۔ اس تصویر نے امریکیوں کی جنگ پسندی پر دنیا بھرمیں سخت تنقید کی گئی۔

کولمبین بچی
colombian-girl
کولمبیا میں قدرتی آفات کا شکار لاکھوں افراد بے یارو مدد گار زندگی کی بازی ہار گئے۔ ان کی بے بسی کی منہ بولتی ایک تصویر جس میں ایک بچی کیچڑ اور گندے پانی میں ڈوبی دیکھی جا سکتی ہے عالمی برادری کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

بشکریہ: العربیہ ڈاٹ نیٹ

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں