عظیم مسلم مفکر ابوریحان البیرونی

ابوریحان محمد ابن احمد البیرونی کی شخصیت کی درست ترجمانی کیلئے ’’ہشت پہلو‘‘ کا لفظ بھی ناکافی ہے کیونکہ اس عظیم مفکر نے جن علوم و فنون کو اپنی تحقیق و جستجو سے چار چاند لگائے ، ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ تاہم اگر انہیں ’’ہر فن مولا‘‘ قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔ انہوں نے جن موضوعات کو اپنی گراں قدر علمی کاوشوں کا محور بنایا ، ان میں طبیعات ، ارضیات، بشریات، تقابلی سماجیات، کیمیا، لسانیات، فلکیات، نجوم، تاریخ، جغرافیہ ، ریاضی، طب ، نفسیات، فلسفہ اور علم الادیان وغیرہ شامل ہیں۔ اہل مغرب بھی البیرونی کو ’’تاریخ انسانی کے عظیم ترین سائنس دانوں میں سے ایک ‘‘ تسلیم کرتے ہیں۔ ابوریحان البیرونی 5ستمبر 973ء کو خوارزم (موجودہ ازبکستان) میں پیدا ہوئے انہیں حکیم بو علی سینا ، ابن الہیشم، ابن مسکوریہ اور عمر خیام کا ہم عصر قرار دیا جاتا ہے۔ البیرونی فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’’باہر والا‘‘ ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی دو عشرے خوارزم شاہی حکومت کی خدمت میں گزارے ۔ جب وہ 23برس کے تھے تو ابوعبداللہ محمد خوارزم اور محمد بن مامون کے مابین لڑائی چھڑ گئی ، جس میں محمد بن مامون کا میاب ہوا اور البیرونی کو نقل مکانی کرکے طبرستان جانا پڑا۔ 997ء میں انہوں نے وہاں کے شاہی دربار میں جگہ حاصل کرلی لیکن اسی سال حاکم وقت کے انتقال کے باعث وہ اپنے نئے وطن کو بھی خیر باد کہنے پر مجبور ہو گئے۔ 998ء میں جب سلطان قابوس بن و شمگیر 17سالہ جلاوطنی کے بعد طبرستان میں اپنی کھوئی ہوئی سلطنت دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا تو البیرونی کو دوبارہ اپنے نئے وطن جانے کا موقع مل گیا لیکن سلطان کی خواہش اور اصرار کے باوجود البیرونی کا قیام طبرستان میں زیادہ عرصہ جاری نہ رہ سکا۔ سات سال کی جلا وطنی کے بعد 1004ء میں اپنے آبائی وطن لوٹ آئے اور علی بن مامون کے دربار سے وابستہ ہو گئے۔ 1006ء میں اس کے انتقال کے بعد اس کے بھائی مامون بن مامون کی صحبت اختیار کرلی۔ 1017ء میں جب یہ شہزادہ اپنی ہی فوج کے سپاہیوں کے ہاتھوں مارا گیا تو البیرونی نے غزنی کا رخ کیا اور سلطان محمود غزنوی کے دربار سے منسلک ہو گئے۔ البیرونی نے عربی اور فارسی زبان و ادب کا گہرا مطالعہ کیا اور اپنی زندگی کے 12-13سال ہندوستان میں گزارے، جہاں انہوں نے نہ صرف سنسکرت زبان سیکھی بلکہ اس زبان اور ہندی علوم کے سمندر کا خطاب دے دیا۔ البیرونی کو یونانی، سریانی اور عبرانی زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا۔ علم و ادب کی دنیا میں ان کا مقام بہت بلند ہے۔ وہ اپنی بے لاگ تحقیق ، بے باک تنقید ، منطقی تجزئیے، ادبی جرأت اور اصابت رائے کی بدولت علمی حلقوں میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔ مشہور طبیب و فلسفی بوعلی سینا سے کئی مرتبہ ان کے مناظرے بھی ہوئے۔ جارج سارٹن ’’فادر آف دی ہسٹری آف سائنس ‘‘ لکھتا ہے ’’چوتھی صدی ہجری کے نصف آخر اور پانچویں صدی ہجری کے نصف اول کو بوعلی سینا کے بجائے البیرونی سے منسوب کیا جانا چاہئیے۔ ‘‘ البیرونی کی سوچ میں خیال آرائی کم تھی، تحقیق ان کا ذوق تھا اور وہ اپنے زمانے کے بہترین سائنسی نظریات پر مکمل گرفت رکھتے تھے۔وہ کشادہ ذہن رکھنے والے انسان تھے لیکن ان کی رواداری غیر سنجیدہ ، بے عقل اور متعصب افراد کیلئے نہیں تھی۔ البیرونی کا خیال تھا کہ علم ایک عالمگیر شے ہے، نئے نظریات اور نئی دریافتوں سے ، خواہ وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں کی گئی ہوں، بالآخر تمام قوموں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ البیرونی کی تصانیف کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔انتقال سے 13سال پہلے انہوں نے ایک دوست کے نام خط میں اپنی 114کتب کے نام لکھے تھے لیکن یہ فہرست بھی ادھوری ہے، اس میں بعض ایسی کتابوں کے نام شامل نہیں ، جن کا ذکر دیگر جگہوں پر ملتا ہے اور نہ ہی اس میں وہ کتب شامل ہیں جو انہوں نے اپنی عمر کے باقی ماندہ 13برسوں میںلکھیں ۔ محققین کے مطابق البیرونی نے کل 146کتابیں لکھیں ، جن میں سے 35فلکیات ، 23علم نجوم ، 16شعروادب اور 15 ریاضی کے موضوع پر تھیں۔ بدقسمتی سے اس انمول خزانے کا بیشتر حصہ گردشِ زمانہ کی نذر ہو گیا، 146کتابوں میں سے صرف 22محفوظ رہ سکیں اور ان میں سے بھی محض 13کوشائع ہونا نصیب ہوا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں