عقل وشعورکاقاتل؛عشق (چوہدری بشارت طور)

بچپن میں سنا کرتے تھے کہ جس کوعشق ہوجائے وہ دنیاومافیہاسے بے خبر ہو کر ایسی کیف ومستی میں ڈوب جاتا ہے کہ اس کا نفس ،انا، غروروتکبراور خواہشات فنا ہوجاتی ہیں۔یہ مستی عاشق کی ہستی کو بھسم کردیتی ہے اور وہ معشوق کی یاد میں ایسا غرق ہوجاتا ہے کہ َ نہ اپنا پتہ چلے نہ خبر یار کی ملے َ ۔عاشق اتنا حساس،نرم دل اور نرم خو ہو جاتا ہے کہ وہ پیکروفا اور مجسم محبت کا روپ دھار لیتاہے۔ برداشت کی اس منزل کا مکیں بن جاتا ہے کہ وہ تشدد کی ہر شکل کومسترد کردیتا ہے حتی کہ اپنی جان پرکیاگیاتشددبھی مسکرا کرسہہ لیتاہے۔محبوب کو مجبورگردان کر آنسو ؤں کے سمندر میں ڈوب کربھی بدعا نہیں دیتا۔اگرچہ عشق َ مجازی و حقیقی َ دو اقسام میں تقسیم کیاگیا لیکن بنیادی اجزاء و تراکیب دونوں کے یکساں ہی مانے گئے۔عشق مجازی چونکہ بنیادی طور پر صنف مخالف کی خوبصورتی و دلبری سے متاثرہ شخص کی ایک نئی دنیا بسانے کا نام ہے اس لئے ہماراادب بالخصوص پنجابی ادب ہوشربا عشقیہ داستانوں سے بھرا پڑا ہے۔رانجھے کا سالہا سال تک تارک دنیا ہوکر ہیرکے دیدار کی خاطر بھینسیں چرانے سے لیکر مجنوں میاں کا اپنی لیلی کی گلی کے کتے کے پاؤں چومنے جیسی حرکات تو پڑھنے کو ملتی ہیں لیکن کسی عاشق کا نام آپ کو تشدد کے زمرے میں نظر نہیں آئیگا۔عشقِ مجازجوعشقِ حقیقی کی پہلی سیڑھی گرداناجاتاہے اس مرحلہ کو کامیابی سے سر کرنے والا ہی حقیقی کی منزل تک پہنچ پاتاہے۔
سیدی مرشدی یا نبی یا نبی
غلام ہیں غلام ہیں رسول کے غلام ہیں
جو ہو نہ عشقِ مصطفے تو زندگی فضول ہے
جیسے مسحور کن نعرے زمانہء طالب علمی سے انجمن طلباء اسلام کے پلیٹ فارم سے سنائی دینے لگے۔اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ عملی طورپر بہت زیادہ سرگرم رہا کہ نبی کریمﷺ کی ذات اقدس سے محبت ایمان کا بنیادی تقاضہ ہے۔لیکن بہت دکھ ہوتا ہے کہ میرے سمیت وہ سبھی عاشقان رسولﷺ کوعملی زندگی میں آپ کی تعلیمات و سنت مطہرہ سے کوسوں دورپاتا ہوں۔ افسوس ہوتا ہے کہ اول تو قرآن و سنت کی تعلیمات کا حصول ہماری ترجیحات میں بہت نیچے ہے اور اگر خوش قسمتی سے کوئی بچہ مذہبی تعلیم کی طرف راغب ہو بھی تو مدرس و مدرسہ اس کے ویژن کو وسعت دینے کی بجائے اپنے فرقہ کی عینک پہنا کر ایسے محدود دائرہ میں ایسا مقیدکردیتے ہیں کہ ہر دوسرا نقطہء نظر کافروملحدسمجھنا ہی فرض اولین بن جاتا ہے۔ہم یہ تو مانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے حضرت محمد مصطفےﷺ کو رحمۃ العالمین بنا کر بھیجا لیکن یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ وہ تمام جہانوں،انسانوں،چرند،پرند،درند،نباتات وجمادات کیلئے باعث رحمت و منبعِ رشدوہدایت ہیں۔آپ کی تعلیمات کا مرکزومحور جودوسخا اور نرمی و شفقت ہے نہ کہ جبروتشدد۔ آپﷺ کی حیات طیبہ کی ورق گردانی کرتے ہوئے ہمیں ایسے بیشمار واقعات تو ملتے ہیں کہ بدترین دشمنان و گستاخین کیلئے پیارے نبی نے ہدایت کی دعا فرمائی یا اپنے اعلی اخلاق سے اس قدر متاثر کیا وہی اسلام کے

جانثار اور نبی کریم کے عزیزترین ا صحاب میں شامل ہوگئے لیکن مجھے آپ کی پوری حیاتِ طیبہ (حتی کہ قبل ازاعلان نبوت) بھی تشدد،ظلم اور قتال کی کوئی ایک ادنی مثال بھی ڈھونڈے سے نہیں ملتی(ماسوائے ان ایک دو حد سے بڑھے ہوئے یہود کے قتل کے حکم کی جو آپﷺ نے خودصادر فرمایا جو کسی بھی علمی کسوٹی پر عام ہجوم کے خودساختہ فیصلوں کوجواز فراہم نہیں کرتا)۔مکہ کی کوڑا پھینکنے والی بوڑھی عورت ہو یا طائف کے وہ گستاخ کہ جن کی سنگ باری سے بہنے والا خون مبارک جوتوں سے باہربہہ نکلا۔فرشتے بھیجے گئے کہ ان منکرین پر پہاڑ الٹ کر انکو رہتی دنیا تک نشانِ عبرت بنادیاجائے۔ قربان جائیے تاجدارِکائنات کی عظمت کے فرمایا نہیں اے میرے اللہ انکو معاف فرما دے اور ان کے اور ان کی آنے والی نسلوں کے دل ایمان کی روشنی سے بھر دے۔دشمن کی بیٹی کا ننگا سر دورانِ حرب اپنی چادر مبارک دے کرڈھانپنے کا حکم دینے والا اور فتح مکہ کے طاقورترین لمحہ میں بھی دشمن کے گھر پناہ لینے والوں کے لئے عام معافی کا اعلان کرنے والا حبیبِ خدا کیسے یہ پسند کریگا کہ اسکا چاہنے والا ظلم و بربریت کا ایسا کام کرے جو انسانیت کو لرزا کررکھ دے؟
الحمدللہ عقیدہِ ختمِ نبوت پرمیرا ایمان پختہ وراسخ ہے۔گستاخِ رسول کیلئے موت کی سزا کا حامی ہوں لیکن رات ایک نوجوان مشال کے قتل کی ویڈیو دیکھ کرمیرا دل دہل گیا اور پوری رات بے چینی میں کروٹیں بدلتے گزاردی۔یہ کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہورہاہے اور کیا یہ ٹھیک ہورہا ہے؟ وہ واقعی گستاخی کا مرتکب ہوا تھا یا نہیں لیکن یہ فیصلہ کرنا علماءِ دین اور ریاست کی ذمہ داری ہے یا کہیں بھی ایک ہجوم اکٹھا کر کے جس کو چاہو مارڈالو اور خودکوقاتل کی بجائے ہیرو بنالو؟ اس طرح تو قتل وغارت کا ایک ایسا راستہ کھل جائیگا کہ کل کو جب چاہے کوئی کسی کوکافروگستاخ قراردے کرواصلِ جہنم کردے اورخودکو اس رسول کریم کا عاشق قراردیدے جس کی حیاتِ طیبہ و قرآن باربار اللہ کی زمین پرفسادپھیلانے والوں کو سخت ترین وعید سناتے دکھائی دیتے ہیں۔اکثریتی رائے میں یہ کام دشمن ایجنسیاں اور چند شرپسند اندرونی مذہبی و سیاسی عناصر کچھ مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے ان سادہ لوح نوجوانوں کو مشتعل کرکے کروارہے ہیں جو وطنِ عزیز کی سا لمیت اور امتِ مسلمہ کی یکجہتی کو پارہ پارہ کرنے کے درپے اور دشمن کے آلہِ کارہیں۔یہ دور جدید ترین ٹیکنالوجی سے مزین فتنوں کا ہے لہذا اس کا سدِباب اب روایتی فرسودہ نظام کے تحت ممکن ہی نہیں۔حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ مذہبی ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے فی الفور تمام فرقہ ورانہ مواد۔کتب۔مقررین و تنظیمات پر پابندی عائد کردے اور ساتھ ہی اہم وزارتوں میں ہم آہنگی کیلئے قابل ترین ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے جو ہر پہلو سے جائزہ لیکر نئی قانونی سفارشات تیار کرے ۔سوشل میڈیا اوردیگر تمام ذرائع جو ایسی سازشوں میں کسی طور بھی معاون وسہولت کار ہوں ان کا قلع قمع کیا جائے۔ موجودہ حالات میں مولانا حسرت موہانی کے عشروں قبل ادا کئے گئے الفاظ سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں کہ انڈیا میں ہندو جبکہ پاکستان میں مسلم دہشت پسندومتشدد لوگ آباد ہیں۔پاکستانی مجھے کافر قرار دے کر مارڈالیں اس سے یہ کہیں بہتر ہے کہ ہندو مجھے مسلمان کہہ کر قتل کردیں اور میں شہید پکارا جاؤں؟؟؟؟؟؟؟
آخر میں پیارے پاکستان کی اشرافیہ اور اہل دانش کی خدمت میں ایک جواب طلب معصومانہ سا سوال عرض کرتا چلوں کہ اگر کل کا نوجوان اس معاشرتی طرزِ عمل کے خوف کی بنا پرایسے ہجوم کے ہاتھوں قیمہ بننے کی بجائے خودکش بننے کو ترجیح دینے کی سوچ اپنانے پرمجبورہوگیاتوپھر کیاکروگے اور اسکا ذمہ دار کون ہوگا؟؟؟؟؟

تحریر: چوہدری بشارت طور

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں