غرور جاں کو مرے یار بیچ دیتے ہیں

غرور جاں کو مرے یار بیچ دیتے ہیں
قبا کی حرص میں دستار بیچ دیتے ہیں

یہ لوگ کیا ہیں کہ دو چار خواہشوں کے لیے
تمام عمر کا پندار بیچ دیتے ہیں

جنون زینت آرائش مکاں کے لیے
کئی مکیں در و دیوار بیچ دیتے ہیں

ذرا بھی نرخ ہو بالا تو تاجران حرم
گلیم و جبہ و دستار بیچ دیتے ہیں

بس اتنا فرق ہے یوسف میں اور مجھ میں فرازؔ
کہ اس کو غیر مجھے یار بیچ دیتے ہیں

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں