غم حسینِِ اور روایتی ماتم

فرقہ پرستی سے ہٹ کے اگر بات کی جائے تو میں روایتی ماتم کے خلاف ہوں ۔۔۔ آپ ماتم کرتے ہیں تو میں آپ کے مذہبی جذبات کے درمیان حائل نہیں ہوتا لیکن یہ عرض ضرور کروں گا کہ ماتم اگر ہو بھی تو یہ غم کی انتہا پر پہنچ کر ہوتا ہے لیکن فی زمانہ محفل کی رونق بڑھانے کی نیت سے مخصوص افراد کو ماتم کے لیے بلوانا محض رسم کی نشاندھی کرتا ہے ۔۔۔۔ کیا کبھی کوئی ماں بیٹے کا ماتم خود کرنے کی بجائے لوگوں کو بلواتی ہے ؟ شاید نہیں کیونکہ ماں اگر کبھی ماتم کرے تو اس کا دکھ خالص ہوتا ہے۔۔ ۔ شاید اسی بنیاد پر اسے چھوٹ مل جائے ۔۔۔ کوئی بیوی اپنے شوہر کا سوگ منانے کے لیے لوگوں کو ماتم کے لیے نہیں بلوا سکتی ؟
ماتم جائز ہے یا نہیں یہ فقہی بحث ہے ۔۔۔ مجھ جیسے کم علم کو تو بس اتنا معلوم ہے کہ ماتم دکھ کی انتہا پر پہنچ کر ہی ممکن ہے۔۔۔ آپ زنجیر چلاتے ہیں تو اس کا مقصد محض خون بہانا ہرگز نہیں ہو سکتا ۔۔۔ آپ دہکتے کوئلے پر چلتے ہیں تو یہ محض دکھاے یا رسم دنیا کے لیے نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔ زنجیر زنی کرتے وقت اگر آپ نیزوں اور تلواروں کے گھائو محسوس نہیں کر سکتے ،اگر دہکتے کوئلوں کے ماتم میں آپ تپتی صحرا پر آبلہ پا چلنے والوں کی تکالیف محسوس نہیں کر سکتے تو پھر یہ ماتم کا دکھاوا نہ کیجئے۔۔ ۔
مجھے لگتا ہے ہم حسین ابن علی کا فلسفہ اور مقصد بھول رہے ہیں اور رسمی ماتم کو فروغ دیتے جا رہے ہیں۔۔ ۔ عاشورہ کے ماتم میں سے اگر فلسفہ حسین ہی نکال دیں تو پھر باقی بچتا ہی کیا ہے ؟ ؟میں فقہہ جعفریہ کے علماء کرام کی محافل میں بیٹھا ہوں ۔۔۔ میں ان کا احترام بھی کرتا ہوں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ شیعہ ذاکروں نے جتنا ہماری تاریخ کو مسخ کیا ہے شاید ہی کسی نے کیا ہو۔۔۔ ۔ میں امام حسین اور اہل بیت کو مظلوم نہیں کہتا ۔۔۔ بالکل ویسے ہی جیسے میں جنگ بدر اور احد کے شہدا کو مظلوم نہیں کہتا ۔ ۔۔میں 1965 کی پاک بھارت جنگ میں شہید ہونے والے پاک فوج کے جوانوں کو بھی مظلوم نہیں کہتا ۔۔۔ میں انہیں بہادر اور جرات مند شہید کہتا ہوں ۔۔۔ شاید میں غلط ہوں لیکن فی الوقت مجھے نہیں لگتا کہ قتل حسین کے وقت اہل بیت نے چیخ و پکار کی ہو گی۔۔ ۔ مجھے نہیں لگتا کہ خاندان نبوت نے سر کٹاتے وقت کوئی شکوہ ، کوئی فریاد ، کوئی واسطہ دیا ہو گا۔۔ ۔ ہاں! مجھے لگتا ہے امام عالی مقام نے آخری وقت تک جنگ کو ٹالا ہو گا لیکن جب جنگ ناگزیر ہو گئی تو پھر شاید علی اصغر کے لبوں پر بھی آخری لمحہ تک مسکراہٹ رہی ہو گی ۔ ۔۔۔شیعہ ذاکر جب مجلس گرمانے کے لیے خاندان نبوت کے ایک ایک فرد ، ایک ایک بی بی کا نام لے لے کر چیخ وپکار کرتے ہیں کہ کس نے کب کہا بابا آخری سلام اور خیموں میں کیسے کہرام مچ گیا تو مجھے لگتا ہے پاک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کو گالی دی گئی ہے ۔۔۔۔۔
دل پر ہاتھ رکھ کر فیصلہ سنائیں۔۔۔۔ کیا نبی کے کندھوں پر کھیل کر جوان ہونے والا امام اتنا کمزور ہو سکتا ہے ؟؟ کیا ممکن ہے کہ جنہیں جنت کی سرداری کی نوید سنائی گئی ہوانہی کی شہادت کے وقت خیموں میں چیخ و پکار ہو۔۔۔ اگر خاندان نبوت نے یونہی رونا ہوتا تو شاید یہاں تک کی نوبت ہی نہ آتی ۔۔۔ صلح ، بیت اور ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ تو آخری لمحوں تک امام اور اہل بیت کے ہاتھ میں تھا ۔۔۔ امام عالی مقام نے حق کا پرچم جھکنے نہیں دیا ۔۔۔۔ خیموں میں بیبیاں چیخ و پکار کر رہی ہوتیں تو یہ یزید کی فتح ہوتی ۔ ۔۔
خدارا!تاریخ مسخ نہ کیجئے ۔۔۔ ہمیں تو برصغیر کے کئی اولیا اللہ کی داستانیں سنا کر جوان کیا گیا ہے کہ کیسے انہوں نے موت کو مسکراتے ہوئے گلے لگایا ۔۔۔ آپ نواسہ رسول کی شہادت کو چیخ و پکار میں تبدیل کر رہے ہیں ؟؟؟ اس شہادت کو کہ جس کی پیشنگوئی خود آقائے دوجہاں نے کر دی تھی ۔۔۔۔ آپ بزدل ہو سکتے ہیں۔۔ ۔ یہ ممکن ہے کہ وقت شہادت آپ جانے کا راستہ مانگتے رہیں لیکن خاندان نبوت بزدل نہیں تھا ۔۔۔۔آپ شہادتوں اور جہاد کو بزدلی کی طرف نہ لیجائیں ۔۔۔۔ حق و باطل کی جنگ میں ایسا کچھ نہیں ہوتا جو خیمہ سادات سے منسوب کر دیا جاتا ہے ۔۔۔ اللہ جب شہادت کا رتبہ دیتا ہے تو پھر ساتھ ہی لواحقین کے دل میں حوصلہ اور برداشت بھی بڑھا دیتا ہے ۔ ۔۔کبھی پاک فوج کے شہید جوانوں کے بوڑھے والدین سے ملیئے گا ۔۔۔ ۔ امام والا مقام اور خاندان نبوت تو ان سے کہیں آگے کی بات ہے ۔۔۔ میں محض ایک ذاتی رائے پیش کر رہا ہوں ۔۔۔ دل کرے تو کافر کافر کے نعرے لگا دیں ۔۔۔ ورنہ دل پر ہاتھ رکھ کر اپنا فیصلہ سنا دیجئے۔۔۔۔۔!!

تحریر:‌سعد الرحمٰن ملک

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں