فاتح مرزائیت،بانی شیخ الجامعہ (وائس چانسلر ) اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پورکی سوانح حیات

نام کتاب: شخصیت و افکار شیخ الاسلام محدث گھوٹوی رحمتہ اللہ علیہ
مولف: پروفیسر حافظ غلام نصیر الدین شبلی
صفحات: 530
ناشر: حضرت الشیخ الجامع اکیڈمی، 235 جناح سٹریٹ، پیر خورشید کالونی ، ملتان
تبصرہ: ع۔م چوہدری
انتخاب: ڈاکٹر عبدالرحمٰن ناصر

کتاب ایک بہترین دوست ہے۔ کتاب لکھنے والا پوری انسانیت کا محسن ہوتا ہے اور یہ ایک ایسا صدقہ جاریہ ہے جو سینہ بسینہ آنے والی نسلوں کو فیضیاب کرتا ہے ۔جب موضو ع بھی ایک اعلیٰ ہستی کی سیرت و افکار ہو تو کتاب اور زیادہ فیض رسانی کا سبب بنتی ہے۔عالم تو آئے دن پیدا ہوتے رہتے ہیں لیکن کامل کبھی کبھار پیدا ہوتے ہیں ، وجہ یہ ہے کہ قدرت نے سنگریزے زیادہ پیدا کیے ہیں اور ہیرے کم۔

لوگ عام طور پر اہل علم اور اہل کمال میں فرق نہیں کرسکتے اسی لیے بے جا اختلافات کا شکار ہوکر گمراہ ہوجاتے ہیں۔

حضرت شیخ فرید الدین عطار رحمتہ اللہ علیہ نے “تذکرۃالاولیاء” کے دیباچہ میں اس قول کو حدیث پاک سے تعبیر کیا ہے “عند ذکر الصالحین تنزل الرحمۃ” یعنی صالحین کے تذکرے کے وقت رحمت کا نزول ہوتا ہے۔

حضر ت علامہ سخاوی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب “تاریخ التواریخ” میں لکھا ہے کہ اللہ کے رسول حضر ت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو اللہ کی رضا کی خاطر محبت کے ساتھ کسی ولی اللہ کا ذکر تاریخ میں کرے گا وہ قیامت کے دن میں اس ولی اللہ کا ہم درجہ ہوگا اور جو کسی ولی اللہ کے نام اور کارناموں کا محبت کے ساتھ تاریخ میں مطالعہ کرے گا گویا اس نے اللہ کے ولی کی زیار ت کی۔سبحان اللہ!

ایک اور روایت میں ہے کہ جس نے کسی مومن کا تذکرہ کیا (لکھا) گویا اس نے اسے زندہ کیا۔اور جس نے کسی کا تذکرہ پڑھا گویا اس کی زیارت کی۔اور جس نے تذکروں کو زندہ کیا گویا اس نے تمام انسانوں کو زندگی بخشی۔سبحان اللہ!

دنیا میں جس قدر خیر و برکت نازل ہوتی ہے وہ نیک بندوں کی بدولت ہوتی ہے ۔اس جہان میں نیک لوگ ہماری سعادت اور خوش بختی کا ذریعہ بنتے ہیں۔یہ مردانِ خدا ہم تک خیرو برکت پہنچانے کا اسی طرح وسیلہ بنتے ہیں جس طرح پھول ہم تک خوشبو پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہیں ۔جس طرح خوشبو لگانے سے ساتھ والوں کو فائدہ پہنچتا ہے اسی طرح بزرگوں کے تذکرے ان کے علم اور روحانیت سے بھی دوسروں کو فائدہ پہنچتا ہے ااور سب سے اچھا انسان وہ ہے جو دوسروں کو فائدہ پہنچائے۔جناب نصیر الدین نصیر شبلی صاحب خوش قسمت ہیں کہ انہوں نے شیخ الاسلام حضرت مولانا غلام محمد محدث گھوٹوی صاحب کے علم، کردار، افکار اور روحانیت کی خوشبو کو ہم تک پہنچانے کا سبب بنے ہیں۔
شبلی صاحب کی اس کتاب کا ایک ایک لفظ قاری کی روح اور قلب میں سما جانے کی طاقت رکھتا ہے ۔خوبصورت سرورق، مضبوط جلد، اعلیٰ کاغذ، نفیس چھپائی، اس کے ساتھ ساتھ تحریر کی روانی ، شائستگی اور سادگی دل کو بہت بھاتی ہے۔رنگین اور خوبصورت تصاویر نے کتاب کی اہمیت میں دوچند اضافہ کردیا ہے۔حضر ت مولانا غلام محمد گھوٹوی ایک نابغہ روزگار شخصیت ہیں۔میرے خیال سے ان پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر کام ہونا چاہیے۔تاکہ کسی قدر ان کی قدر شناسی کا حق ادا ہوسکے ۔پھر بھی کہیں گے کہ:
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

Comments

comments

فاتح مرزائیت،بانی شیخ الجامعہ (وائس چانسلر ) اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پورکی سوانح حیات” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں