فضائل و اعمال میلاد النبی

”میلاد” کا معنیٰ ہے: ولادت کا وقت یا عظیم الشان ولادت۔” مولد کا معنی بھی ولادت کا وقت ہے۔ اہل اسلام کے عرف میں میلاد یا مولد سے مراد سید الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت ہے۔ اور محفل میلاد یا جلسہ میلاد یا میلاد کانفرنس سے مراد ایسا روح پرور اجتماع ہے جس میں سرکارِ مدینہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت طیبہ کے زمانے میں ظاہر ہونے والے عجیب و غریب واقعات کا تذکرہ کرکے برکات حاصل کی جائیں۔

انبیاء کی ولادتِ کا ذکر للہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ مریم میں حضرت عیسیٰ ں اور سورہ قصص میں حضرت موسیٰ ں کی ولادت اور ولادت کے وقت ان انبیاء عظام کی ظاہر ہونے والی عظمتوں اور شانوں کا ذکر کیا ہے۔ اس طرح سنت رسول، سنت صحابہ و اہل بیت اور سنت سلف صالحین سے بھی ذکر میلاد ثابت ہے۔ اور محدثین نے تو کتب احادیث میں مولد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عنوان سے ابواب باندھے ہیں۔

میلاد شریف کے بے شمار فائدے اور برکات ہیں۔ جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
١۔ ذکر انبیاء سے ایمان مضبوط ہوتا ہے اور قلب میں ثبات پیدا ہوتا ہے۔ قرآن مجید پارہ نمبر 12سورہ ہود آیت: 120میں ہے: ”اور یہ سب کچھ انبیا ء کی خبریں ہم آپ پر بیان کرتے ہیں جن کے سبب ہم آپ کے د ل کو مضبوط کرتے ہیں۔” نیز توحید اور تمام عقائد اسلامیہ دعوے ہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے بڑی اور روشن دلیل ہیں۔ دلیل ثابت ہونے سے دعویٰ ثابت ہوتا ہے، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فضائل و کمالات کی بڑی اہمیت ہے، میلاد میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمالات و معجزات کا تذکرہ کر کے ایمان کو مضبوط کیا جاتا ہے۔

٢۔ قرآن مجید کے گیارہویں پارہ سورہ یونس آیت نمبر 58میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”آپ فرمادیں اللہ تعالیٰ کے فضل ورحمت کے ساتھ پس اسی پر وہ (اہل ایمان) خوش ہوں۔ یہ خوشی اس (دولت) سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔ اس آیت میں اللہ کے فضل ورحمت پر خوشی منانے کا حکم دیا گیا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی رحمت و فضل عظیم ہیں آپ کی آمد کی خوشی میں جشن منانا اس آیت مبارکہ کی تعمیل ہے اور شاندار نیکی ہے.

٣۔ صحیح بخاری شریف، کتاب النکاح میں ہے: ”(حضرت ثویبیہ کو ابولہب نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں آزاد کردیا تھا) جب ابو لہب فوت ہوا تو اُسے گھر کے ایک فرد (حضرت عباس رضی اللہ عنہ) نے خواب میں دیکھا تو پوچھا: تم کس طرح ہو۔ ابولہب نے جواب دیا: میں نے تمہاری جدائی کے بعد کوئی بھلائی نہیں دیکھی، سوائے اس کے کہ مجھے ثویبیہ کو آزادکرنے کی وجہ سے مشروب پلایا جاتا ہے۔” شیخ محقق شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمة اللہ تعالیٰ عنہ ”مدارج النبوة” میں فرماتے ہیں: ”اس واقعہ میں میلاد منانے والوں کیلئے اور جو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی شب مسرور ہوتے ہیں اور اپنی دولت خرچ کرتے ہیں، ان کیلئے سند ہے۔ ابو لہب کافر تھا، اسکی مذمت میں قرآن ناز ل ہوا، جب اس نے نبیصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت پر خوشی کا اظہار کیا(باندی آزاد کی) تو اسے بھی جزاء دی گئی، تو ایک مسلمان جس کا دل محبت نبی سے بھرا ہوا ہے اگر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی منائے اور دولت خرچ کرے تو اُس کا کیا حال ہو گا۔

٤۔ قرآن مجید پارہ نمبر 26سورہ فتح آیت: 8اور 9میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”بے شک ہم نے آپ کو حاضر و ناظر اور خوشخبری دینے والا او رڈر سنانے والا بنا کر بھیجاہے، تاکہ (انکی یہ شانیں دیکھ کر) تم اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لائو اور اُس رسول کی عزت کے ساتھ مدد کرو۔ اور انکی تعظیم بجا لائو۔ اور (پھر) اس اللہ کی صبح وشام تسبیح بیان کرو۔” اس آیت مبارکہ میں بعثت نبوی کا ایک مقصد یہ بھی بیا ن کیا ہے کہ اہل ایمان پیارے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم بجا لائیں ، محدث کبیر علامہ جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں: ”میلاد منانا بھی آپکی تعظیم کا حصہ ہے۔” نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی تعظیم کرنا دل کے تقویٰ کی وجہ سے ہے۔”(قرآن مجید” پارہ: 17، سورہ حج، آیت: 32۔) اور یقینا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نشانی ہیں، آپ کی تعظیم و توقیر افضل ترین عبادت ہے۔

٥۔ عمل میلاد میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخلوقات کو اپنی نعمت عظمیٰ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عطا کر نے پر اس کے شکر کا اظہار ہے۔ گویا عمل میلاد اللہ کے ارشاد ”و اشکرولی” یعنی ”میرا شکر ادا کرو” کی تعمیل ہے۔

٦۔ میلاد شریف اشاعت علم کا ایک بہترین ذریعہ ہے، اس میں فضائل نبوی اور سیرت مصطفی کا تذکرہ ہوتا ہے۔ جو کہ علوم میں بڑی فضیلت والا علم ہے۔

٧۔ میلاد شریف سے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت و عقیدت کا اظہار ہوتا ہے۔ ”من احب شیاً اکثر ذکرہ ” یعنی جو کسی چیز سے محبت رکھتا ہو تو اس کا کثرت سے ذکر کرتا ہے۔ لہذا ذکر فضائل ومیلاد شریف محبت نبوی کی علامت ہے۔

٨۔ صدقہ وخیرات اور مہمانوں کی ضیافت، امورِ خیر ہیں۔ جن پر اجر و ثواب ملتا ہے اور برکات حاصل ہوتی ہیں۔

٩۔ صلوة وسلام سے دینی دنیاوی اور اخروی برکات حاصل ہوتی ہیں۔ اور خصوصی طور پر بارگاہِ نبوی میں قرب ملتا ہے۔ حدیث پاک میں ہے: ”تم میں سے قیامت کے روز میرے زیادہ قریب وہ ہو گا جس نے زیا دہ درود شریف پڑھا ہو گا۔ اور میلاد شریف میں کثرت کے ساتھ درود شریف پڑھا جاتا ہے۔

١٠۔ قرآن مجید کی تلاوت، سعادات دارین کے حصول کا ذریعہ ہے۔ محفل میلاد میں قرآن مجید کی تلاوت بھی ہوتی ہے۔

١١۔ نعت خوانی کو حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پسند فرمایا ہے، نعت خوانوں کو اپنی دعاوں سے نوازا ہے، بلکہ ایک نعت گو صحابی حضرت کعب بن زھیر سلمی رضی اللہ عنہ کو اپنی چادر مبارک بھی عطا فرمائی۔ جس سے مسلمان سات صدیوں سے زائد عرصہ تک برکت حاصل کرتے رہے اور بغداد شریف پر ہلاکو خاں کے حملے کے وقت یہ عظیم نشانی ضائع ہو گئی۔ میلا د شریف میں کثر ت کے ساتھ نعت خوانی ہوتی ہے، اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بار گاہ سے انعامات کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔

١٢۔ محفل میلاد میں فضائل و کمالات مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کرنے سے آپ کی اتباع کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جو کہ ثمر ایمان ہے۔

١٣۔ سند المحدثین حضرت ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ ”فیوض الحرمین” صفحہ: 27میں فرماتے ہیں: ‘میں مکہ مکرمہ میں ولادت نبی کے روز مولد مبارک (جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت ہوئی)، میں حاضر ہوا تو لوگ درود شریف پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کا ذکر کر رہے تھے اور وہ معجزات بیان کر رہے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے وقت ظاہر ہوئے۔ تو میں نے اس مجلس میں انوار و برکات کا مشاہد ہ کیا، میں نے غور کیا تو معلو م ہواکہ یہ انوار ملائکہ کے ہیں جو ایسی مجالس میں مقرر کئے جاتے ہیں۔ اور میں نے دیکھا کہ انوار ملائکہ اور انوار رحمت آپس میں ملے ہوئے ہیں۔

چند ضروری وضاحتیں:
٭ 12ربیع الاول ولادت نبوی اور خوشیاں منانے کا دن ہے۔ احادیث صحیحہ سے دو باتیں ثابت ہیں: ١. 10ہجری میں حجتہ الوداع میں یوم عرفہ 9ذوالحج جمعتہ المبارک تھا۔ ٢. رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال سوموار کے روز ماہ ربیع الاو ل میں ہوا۔ اب 9ذوالحج 10 ہجری اور ماہ ربیع الاول کے درمیان ماہ محرم اور ماہ صفر دو ماہ آتے ہیں۔ لہذا ذوالحج محر م اور صفر تینوں ماہ جس طرح بھی شمار کر لیں (تینوں ماہ تیس دن کے، دو ماہ تیس دن کے، ایک ماہ انتیس دن کا ایک ماہ تیس دن کا، دو ماہ انتیس د ن کے اور تینوں ماہ انتیس دن کے) کسی بھی صورت میں 12ربیع الاول سوموار کو نہیں بن سکتا۔ 12ربیع الاول ١١ ہجری میں بالترتیب اتوار، ہفتہ، جمعہ، جمعرات میں سے کوئی ایک بن سکتا ہے۔ لہذا شارح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانی ”فتح الباری شرح صحیح بخاری” میں 12ربیع الاول یوم وفات والی روایت کو عقل و نقل کے خلاف قرار دیا ہے۔ اور 2ربیع الاول یوم وفات والی روایت کو ترجیح دی ہے۔

٭ اور اگر بالفرض 12ربیع الاول ہی یوم وفات ہو تو بھی میلا د منانے اور خوشیاں منانے سے کوئی امر مانع نہیں کیونکہ بخاری و مسلم سمیت متعدد کتب حدیث میں ١٠ کے قریب صحابہ و صحابیات سے مروی ہے کہ : ”ہمیں منع کیا گیا ہے کہ ہم شوہر کے سوا کسی وفات پانے والے پر تین روز کے بعد سوگ (غم) منائیں” اس حدیث سے ثابت ہے کہ سوگ منانا وفات کے بعد صرف تین دن جائز ہے۔ لہذا ہر سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے روز سوگ منا نا شرعاً جائز نہیں البتہ تشریف آوری کی خوشی منانے کی شرعاً کو ئی حد نہیں ہر سال جائز ہے۔ جمعہ کا دن حضرت آدم ں کی خلقت کا دن ہے، اور جمعہ کے روز ہی آپ کا یوم وفات بھی ہے لیکن شرع شریف میں جمعہ کو سوگ منانے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ جمعتہ المبارک کو عیدکا دن قرار دیا گیاہے۔جیسا کہ حدیث نبوی ہے: ”بے شک یہ جمعہ عید کا دن ہے اسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کیلئے عید کا دن بنایا ہے۔” تو جس طرح جمعہ حضرت آدمں کی خلقت اور وفات کا دن ہے، لیکن اب جمعہ کے روز صرف عید منانا مشروع ہے اور سوگ ممنوع ہے اسی طرح 12ربیع الاول کو یوم ولادت کے ساتھ اگر بالفرض یوم وصال مان بھی لیا جائے تو صرف ولادت کی خوشی جائز ہو گی اور سوگ ممنوع ہو گا۔ کیونکہ سوگ کی مدت صرف تین دن ہے۔ نیز ثابت ہوا کہ جمعة المبار ک اگر خلقت آدم ں کی وجہ سے یوم عید ہے تو 12 ربیع الاول ولادت امام الانبیاء حضرت رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے بدرجہ اولیٰ عید ہے۔

٭ امام بخاری و مسلم کے استاذ حافظ ابو بکر ابن ابی شیبہ نے مضبوط سند کے ساتھ روایت کیا: ”حضرت جابر اور حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بے شک دونوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت عام الفیل میں سوموار کے روز ربیع الاول کی 12تاریخ کو ہوئی۔” اس مضمون کی ایک صحیح الاسناد روایت امام شمس الدین محمدالذہبی نے امام حاکم سے تلخیص المستدرک علی االصحیحین الذہبی 603/2 میں، حضرت سعید بن جبیر اور حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ علاوہ ازیں ہمیشہ سے حرمین شریفین سمیت دنیا بھر میں 12 ربیع الاول ہی بطور یوم ولادت نبوی معمول ہے اور محدث ابن جوزی کے مطابق اہل تحقیق کا اس پر اجماع ہے۔ مفتی محمد شفیع دبوبندی نے سیرت خاتم الانبیاء صفحہ 18 اور غیر مقلدین ( اہلحدیثوں) کے شیخ نواب سید صدیق حسن نے الشمامة العنمبریہ صفحہ: 7 میں 12 ربیع الاول کو یوم ولادت کی تصریح کی ہے۔

٭ زمانوں کا آپس میں ربط اور زمانے کے ایک حصے کی کڑیاں دوسرے حصے کے ساتھ ملنا شریعت اسلامیہ میں ثابت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوموار کے دن کے روزہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ (عظیم) دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی۔” ثابت ہوا ولادت کی بار بار خوشی جائز بلکہ سنت نبوی ہے… اس طرح حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت جمعہ کے روز ایک بار ہوئی لیکن ہر جمعہ کے روز بار بار عید منائی جاتی ہے، رمضان المبارک میں نزول قرآن ایک بار ہوا مگر جشن نزول قرآن ہر سال منایا جاتا ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: ”اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے(کھانوں کا) ایک دستر خوان نازل کر جو ہمارے پہلے اور پچھلے (سب کیلئے) عید بن جائے۔ معلوم ہوا کہ نزول نعمت کا دن بار بار منانا بلکہ عید اور جشن کے طور پر منانے کی اصل قرآن مجید میں موجود ہے۔ اسی قرآنی اصول کے تحت اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت اور رحمت حضور سید دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری کے دن عید اور جشن منانا شرعا جائز ومستحب ہے۔

٭ محدث ابن جوزی جن کی وفات شاہ اربل ملک مظفر سے 33سال قبل ہوئی فرماتے ہیں: ” زمانہ قدیم سے اہل حرمین شریف ( مکہ مکرمہ و مدینہ طیبہ) مصر یمن شام اور تمام عرب ممالک اور مشرق و مغرب کے مسلمانوں کا معمول رہا ہے کہ وہ ربیع الاول کا چاند دیکھتے ہی میلاد شریف کی محفلیں منعقد کرتے، خوشیاں مناتے، غسل کرتے، عمدہ لباس زیب تن کرتے، قسم قسم کی زیبائش و آرائش کرتے، خوشبو لگاتے، ان ایام میں خوب خوشی ومسرت کا اظہار کرتے، حسب توفیق نقد وجنس لوگوں پر خرچ کرتے، میلاد، شریف پڑھنے اور سننے کا اہتمام بلیغ کرتے، اور اس کی بدولت بڑا ثواب اور عظیم کامیابیاں حاصل کرتے۔ میلاد کی خوشی منانے کے مجربات سے یہ کہ جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے سال بھر کثرت سے خیر و برکت، سلامتی و عافیت، رزق ومال میں زیادتی، اور شہروں میں امن و امان اور گھر بار میں سکون و قرار رہتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ پوری دنیا میں قدیم زمانہ سے میلاد منانا مروج تھا۔

٭ میلاد کی اصل (شکرخدا تعالیٰ، تعظیم رسول، محبت نبوی کا اظہار، صلوة و سلام، قرآن کی تلاوت، نعت خوانی، ذکر رسول، اشاعت فضائل نبوی، و تبلیغ دین و غیر ھم) شرع شریف میں موجود ہے۔ صرف مخصوص صورت و انداز اور تاریخ کا تعین لوگ اپنی مرضی کے مطابق خود کرتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید کے مختلف زبانوں میں ترجمے، قرآن کے حاشیے اور تفاسیر، مخصوص ترتیب کے ساتھ کتب احادیث، مسجدوں کے مینار، دینی مدارس میں پڑھائے جانے والے نصاب، جدید طریقہ ہائے تعلیم، صرف و نحو و دیگر علوم وفنون اور تبلیغ دین کے جدید طریقے اور تعلیم کیلئے نظام الاوقات، نماز کی جماعت کیلئے گھڑی کے مطابق روزانہ ایک ہی ٹائم، نکاح کا وقت اور تاریخ وغیرہ۔ اور جیسا کہ سعودی عرب میں سالانہ عید الوطنی منائی جاتی ہے جس میں سعودی حکمرانوں کے علاوہ نجدی علماء بھی شامل ہوتے ہیں۔ اور جیسا کہ انڈیا میں علماء دیوبند نے اندرا گاندہی کو مہمان خصوصی بلا کر کچھ عرصہ پہلے دیو بند میں صد سالہ جشن دیو بند منایا۔ اور جیسا کہ پاکستان میں یوم پاکستان منایا جاتا ہے اور عید سے بڑھ کر جشن کی کیفیت ہوتی ہے۔

تحریر: استاذ العلماء پیر محمد افضل قادری

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں