فیس بک کی محبت کا بھیانک انجام

وہ پانچ بہن بھائی تھے ، اس سے بڑے دو بھائی اور اس سے چھوٹی دو بہنیں اسکے والد سخت مزاج کے حامل تھے اور والدہ کبھی نرم تو کبھی گرم مزاج رکھتیں ۔اس کے والدین کو معاشرے کے اور والدین کی طرح اپنے بیٹوں پر غرور اور مان تھا ۔اور یہ مان اور غرور ہی بیٹوں کے مزاج میں بہنوں سے محبت کی بجائے حکمرانی کا عنصر پیدا کرتا گیا ۔اس کیاماں ابا نے اپنے سپوتوں کے قدموں میں دنیا کی ہر آسائش ڈھیر کر دی جو ان کی پہنچ میں تھی چاہے وہ موبائل ہو کمپیوٹر ہو یا انٹرنیٹ کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو ۔یہ نہیں تھا کہ اسکے والدین کو اپنی بیٹیوں سے محبت نہیں تھی بلکہ محبت تو شدید تھی مگر اس محبت کا اظہار بالکل نہ کرتے ۔کیوں کہ ان خیال تھا کہ بیٹیاں تو پرایادھن ہوتی ہیں لہذا بیٹیوں سے محبت جتا کر انکا دماغ خراب نہیں کرنا چاہیے ۔ان کے خاندان میں تو لڑکی ذات کو تو تعلیم دلوانے کا رواج بھی نہیں تھا۔وہ تو اس کے والد نے اپنی بیٹیوں کو میٹرک تک پڑھنے کی اجازت دی اور یوں اس نے میٹرک کیا۔باقی دونوں بہنیں ابھی زیر تعلیم تھیں ، ایک نہم اور دوسری دہم میں ۔اسے اور باقی دونوں چھوٹیوں کو اسکول چھوڑنے اور واپسی لینے بھی والدہ کی ڈیوٹی تھی ۔ بھائیوں کے کہیں آنے جانے پر کوئی پابندی نہ تھی ۔اسکے گھر میں بھائیوں اور والد صاحب کی چیزوں یعنی موبائل اور کمپیوٹر وغیرہ کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہ تھی ۔انھیں صرف دو گھنٹے ٹیلی ویژن دیکھنے کی اجازت تھی وہ والد صاحب کے سامنے ۔دین اسلام ان کے گھر نماز قرآن پاک کی تلاوت اور روزوں تک ہی محدود تھا ۔اس سے زیادہ ان کے گھر میں دین کی سمجھ بوجھ نہ تھی ۔اگر ہوتی تو وہ اپنی بیٹیوں اور بیٹوں کو یکساں پیار دیتے ۔ بھائی صاحبان سارا سارا دن موبائل فونز پر مصروف رہتے ۔اگر کبھی موبائل فون سے دھیان ہٹا تو کمپیوٹر پر بیٹھ گئے اور وہاں سے اٹھے تو موٹر سائیکل لے کر سڑکیں ناپنے چلے گئے۔بہنوں کی محبت بھائیوں کے دل میں نہ ہونے کے برابر تھی ۔لیکن رعب والد صاحب سے بھی زیادہ تھا ۔وہ اپنی بہنوں کے علاوہ باقی محلے کی سب لڑکیوں کے بھائی تھے۔ اپنی منہ بولی بہنوں سے بات کرتے تو خوش اخلاقی عروج پر ہوتی ۔بھائی صاحبان نے اپنے کمپیوٹر کو پاسورڈ لگایاہوتا۔اچانک اس نے ایک دن بھائی کو کمپیوٹر آپریٹ کرتے وقت پاسورڈ لگاتے دیکھ لیا اور یوں اس نے بھائی صاحب کاپاسورڈ نوٹ کر لیا۔اور پھر کیا تھا جب بھائی صاحبان گھر سے باہر اور والدہ اپنے کمرے میں اور وہ کمپیوٹر کے سامنے ۔ رفتہ رفتہ اسے بھی انٹرنیٹ کے بارے میں کافی جان کاری ہوتی گئی ۔فیس بک کے بارے میں اسے اسکول کے دنوں سے ہی معلوم تھا ۔پھر اس نے پرنسز ڈول کے نام سے اپنی سہیلی سے فیس بک آئی ڈی بنوائی اور یوں وہ فیس بک کی دنیا میں داخل ہوگئی ۔فیس بک انسان کے ہاتھ میں ہو اور وہ خود کو تنہا محسوس کرے یہ ہو نہیں سکتا ۔اور یہی کچھ اس کے ساتھ ہوا ۔اسکی دوستی فیس بک پر علی نامی لڑکے سے ہوئی ۔کچھ عرصہ آپس میں بات چیت ہوتی رہی اور یہ پھر یہ دوستی محبت میں تبدیل ہو گئی ۔اب ان دونوں کا ایک دوسرے کے بغیر گزارہ مشکل ہو گیا ۔ علی صاحب 2بچوں کے باپ بیروزگا اور فارغ انسان تھے ۔ اس نے سوچا کہ کیوں نہ کسی پری وش کو پھنساکر دلپشوری کی جائے اور یہ محترمہ پرنسز ڈول علی صا حب کی چنگل میں پھنس گئی ۔علی اور اس پرنسز ڈول صاحبہ نے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائیں ۔اور گھر سے بھاگ کر شادی کرنیکی پلاننگ کی کہ شادی کب اور کہاں کرنی ہے اور کس دن گھر سے بھاگنا ہے ۔ یوں اس نے گھر سے بھاگ جانے کا فیصلہ کیا۔وہ اپنے تمام زیورات جو اسکی ماں نے اسکی شادی کے لئے اکٹھے کرنا شروع کئے تھے وہ بھی ساتھ لے کر ملتان چلی گئی جہاں اسٹیشن سے اسے علی نے پک کرنا تھا ۔علی اور اس نے ایک دوسرے کی تصاویر دیکھ رکھیں تھیں لہذا نہ پہچاننے کا سوال ہی نہیں تھا ۔ جمعہ کی شام وہ ملتان ریلوے اسٹیشن سے سیدھا علی کے ساتھ اسکے دوست کے گھر چلے گئے جہاں ان کا نکاح ہوا اور اس کے بعد وہ دونوں ہوٹل چلے گئے ۔جس رات کے خواب ہر لڑکی کی طرح اس نے بھی دیکھے تھے ۔وہ رات اس کی زندگی میں آئی، شگنوں والی رات بن کر نہیں بلکہ موت کی رات بن کر آئی ۔اسکے شوہر نے اسے منہ دکھائی میں موت کا تحفہ دیا ۔اور خود اس کا سارا زیور لے کر فرار ہوگیا۔ یوں اسکی فیس بک پر ہونے والی محبت بھیانک ترین انجام کو پہنچ گئی۔

تحریر:مدیحہ ریاض

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں