قائد اعظم کی زندگی پر بنائی جانے والی فلمیں اورہماری ذمہ داری

تحریر:‌سعد الرحمٰن ملک

تقسیم ہند کے بعد آزادی، حب الوطنی اور دفاع وطن کے تناظر میں بے شمار فلمیں بنائی گئیں اور ایسی فلموں کو شائقین نے بھی پسند کیا۔گاندھی اور قائداعظم محمد علی جناح تقسیم ہند کی مرکزی شخصیات ہیں جو اپنی قوم کے لیے ہیروز کا درجہ رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ تقسیم ہند کے بعد بالی وڈ میں گاندھی کی زندگی کے حالات و واقعات اور تعلیمات پر مبنی سینکڑوں فلمیں بنائی گئیں جنہیں عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی۔ان ہندی فلموں کا تاریک پہلو یہ تھا کہ فلم میکرز نے گاندھی کو ہیرو قرار دیتے ہوئے محمد علی جناح کو ایک تاریخی ولن کے روپ میں پیش کیا جو عالمی سطح پر بانی پاکستان کی غلط شناخت کا باعث بنا۔ اس موضوع پر ہندی فلموں کے جواب میں “بیداری” پاکستانی سینما کی پہلی فلم تھی جس میں قائد اعظم کی زندگی کو فلمایا گیا ۔لیکن پاکستان فلم انڈسٹری پر آج بھی یہ بدنما داغ ہے کہ بانی پاکستان کی زندگی پر بنائی جانے والی پہلی فلم 1954 ء میں بالی وڈ کی ریلیز ہونے والی فلم” جاگرتی “کا چربہ تھی۔”جاگرتی ” کے ہندی سکرپٹ کو اردو کا لباس پہنایا گیا اور ساتھ ہی جن انڈین قائدین کو”جاگرتی “میں خراج تحسین پیش کیا گیا تھا “بیداری” میں انھیں پاکستانی رہنماؤں سے تبدیل کردیا گیا۔”جاگرتی “میں جہاں گاندھی کو دکھایا گیا تھا “بیداری” میں وہاں قائد اعظم کاکردار ڈال دیاگیا۔ “بیداری” دسمبر1957ء میں جب نمائش کے لئے سنیما گھروں میں پیش ہوئی تو پہلے چند ہفتے اس نے زبر دست بزنس کیا لیکن جونہی فلم بینوں کو یہ معلوم ہوا کہ یہ دراصل بھارتی فلم “جاگرتی “کا ہو بہو چربہ ہے تو ان کا رد عمل بہت شدید تھا۔ بہت سے شہروں میں اس فلم کے خلاف مظاہرے ہوئے جن میں مطالبہ کیا گیا کہ اس پر پابندی عائد کی جائے۔ عوام کے شدید ردعمل کو دیکھتے ہوئے مرکز ی فلم سنسر بورڈ نے اس فلم کی نمائش پر پابندی عائد کر دی تھی۔

1982ء میں بالی وڈ نے فلم” گاندھی” ریلیز کی جس میں قائد اعظم کا کردارالیق پدامسی کے حصے میں آیا۔اس کے گیارہ سال بعد انڈین ڈائریکٹر کیتن مہتا نے فلم “سردار” بنائی اس میں قائد اعظم کے روپ میں شریوالبھ ویاس پیش ہوئے۔یہ فلمیں چونکہ انڈین ڈائریکٹر کی تھی اسی لیے بانی پاکستان کے کردار کو خاصا توڑ موڑ کر دکھایا گیا۔بھارتی فلم میکرز کی قائد اعظم کے خلاف کردار کشی کے مہم کو روکنے کے لیے یہ ضروری ہوچکا تھا کہ ان فلموں کے جواب میں ایسی فلم بنائی جائے جو بانی پاکستان کے متعلق حقیقت پر مبنی حالاتِ زندگی اور افکار کو اجاگر کرے۔اس عظیم کا م کا بیڑا جمیل الدین عالی نے اٹھایا اور انہوں نے اکبر صلاح الدین کے ساتھ مل کر بانی پاکستان کی خدمات کو فلم “جناح”کی صورت میں خراج تحسین پیش کیا۔2ستمبر1998 ء کو ریلیز ہونے والی اس فلم میں نوجوان قائداعظم کا کردار بنیرچرڈ لینٹرن جبکہ بڑھاپے کے روپ میں شہرہ آفاق ہالی وڈ اسٹار کرسٹوفرلی نے اس کردار کو حقیقت کا روپ دیا۔فلم کے دیگر اہم کرداروں میں جمیز فاکس نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن، شیریں شاہ نے فاطمہ جناح، اندرا ورما نے رتی جناح اور سیم ڈیسٹر نے گاندھی کے روپ میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔اس دوران مختلف حلقوں نے اس امر پر بھرپور احتجاج کیا کہ “ڈریکولا” کا کردار ادا کرنے والے کرسٹوفرلی کوقائداعظم کا کردار ادا کرنے کیلئے کیوں منتخب کیا گیا۔ معاملہ جب زیادہ بڑھا تو کرسٹوفرلی خود پاکستان آیا اوراس نے وضاحت کی کہ وہ ایک اداکار ہے اور اس حوالے سے ہرقسم کے کردار ادا کرنا اس کی پیشہ وارانہ زندگی کا حصہ ہے۔ اس نے پاکستانی فلم شائقین سے درخواست کی کہ اسے “خون آشام بھیڑیا” نہ سمجھا جائے بلکہ ایک اداکار تصورکیاجائے جس نے قائداعظم محمد علی جناح کا کردار احسن طریقے سے نبھانے کیلئے سخت محنت کی ہے۔فلم ریلیز ہونے کے بعدناقدین بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے کہ قائد اعظم کے کردار کے لیے کرسٹوفر لی کا متبادل کوئی نہیں ہوسکتا ۔کرسٹوفر نے لارڈ آف دی رنگز،ڈریکولا اور سٹار وارز سمیت 200سے زائد فلموں میں کام کیا تاہم انہیں اپنی فلم جناح سب سے زیادہ پسند تھی جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ جناح کا کردار ان کیلئے سب سے مشکل کردار تھا۔ کیوں کہ انہیں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان کے کندھوں پر کافی بڑی ذمہ داری ڈال دی گئی ہے۔فلم کی دیگر غیرمسلم کاسٹ اور پلاٹ کے بارے میں بھی منفی پروپیگنڈہ کیا گیا لیکن 60لاکھ ڈالرز کے قلیل بجٹ سے تیار ہونے والی فلم کے ذریعے بانی پاکستان کی شخصیت کے کئی رنگ نمایاں ہوئے اور فلم کو پاکستان ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر غیر معمولی شہرت ملی۔لوگوں نے تسلیم کیا کہ درحقیقت قائداعظم بلند اصولوں اور حوصلوں کے حامل انسان تھے،جنہوں نے اپنی اعلیٰ خوبیوں اور غیر معمولی صلاحیتو ں کی بنا پر نہایت عزم و استقلال سے مسلمانوں کے لیے الگ وطن حاصل کیا۔

فلم کی شروعات ا سٹینلے والپرٹ کے اس مشہور قول سے ہوتی ہے کہ “بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا رخ بدل دیں ، اور ایسے لوگ اس سے بھی کم ہوتے ہیں جو تاریخ اور جغرافیہ دونوں بدل دیں جبکہ بہت ہی کم لوگ ہوتے ہیں جو تاریخ اور جغرافیہ بدلنے کے ساتھ ساتھ نیا ملک بھی تخلیق کر دیں اور قائداعظم نے یہ تینوں کام کر دکھائے”۔فلم قائد اعظم کی وفات سے شروع ہوتی ہے جس میں ششی کپور بطور گائیڈ قائد اعظم کی روح سے ان کی زندگی کے متعلق سوالات کرتے ہیں جس کے جوابات دینے کے لیے قائد اعظم کو ماضی کی طرف سفر کرتے دکھایا گیا ہے۔فلم میں قائد اعظم کی گھریلو زندگی، قیام پاکستان کے لیے جدوجہد اور تقسیم کے بعد کے مناظر کو بہترین انداز میں فلمایا گیا ہے۔اپنے مضبوط سکرپٹ اور موثرسکرین پلے کی وجہ سے یہ فلم دیکھنے والوں کو اپنی گرفت میں لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔فلم میں ماؤنٹ بیٹن، قائداعظم اور گاندھی کے درمیان مکالمے فلم کی جان ثابت ہوئے اور مجموعی طور پر یہ فلم عالمی سطح پر قائد اعظم اور قیام پاکستان کامثبت تاثر اجاگر کرنے میں کامیاب رہی۔بدقسمتی سے پاکستان میں یہ فلم ریلیز کے انیس سال گزر جانے کے باوجو د بھی وہ مقام حاصل نہیں کرسکی جس کی یہ حقدار ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں تاریخی موضوعات پر بننے والی فلموں کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔اس کے برعکس بھارتی حکومت کی زیرنگرانی فلم “گاندھی” تیار کی گئی جسے آسکر ایوارڈ دلانے میں بھارتی میڈیا نے اہم کردار ادا کیا ۔

عہدِحاضر کے سینمامیں حب الوطنی اور تاریخی شخصیات سے متعلق فلمیں تخلیق ہو رہی ہیں اور ان کی پسندیدگی کا تناسب بھی کامیابی سے ہمکنار ہے۔ ہر سال بین الاقوامی سطح پر مختلف شخصیات کی حالاتِ زندگی پر بننے والی فلموں کی فہرست طویل ہوتی جارہی ہے جس کے ذریعے نہ صرف حب الوطنی کی ترویج کی جاتی ہے بلکہ یہ عظیم شخصیات کو خراج تحسین پیش کرنے کے علاوہ کاروبار کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔اس تمام منظر نامہ پر پاکستانی فلم انڈسٹری کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے جس کی ذمہ داری وزارتِ ثقافت کے علاوہ میڈیا پر بھی عائد ہوتی ہے جو اپنی سمت تعین کرنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ٹیکنالوجی کے اس دور میں نوجوان نسل تک مشاہیر کے افکار اور نظریہ پاکستان کی ترویج کے لیے ہمیں فلم انڈسٹری کو مثبت ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ہوگا۔ یہ فلمیں ہماری زبان کے فروغ کے علاوہ مشاہیر کے کارناموں کو محفوظ کرنے اور انہیں موثر طور پر نئی نسل تک پہنچانے کا بڑا ذریعہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت او ر فلم انڈسٹری کے تعاون سے قائد اعظم اور دیگر محسنانِ پاکستان پر مبنی فلمیں بنائی جائیں جو عالمی سطح پر ہماری پہچان کا باعث بنیں اور فلم انڈسٹری کو عروج حاصل ہو۔

نوٹ:یہ کالم روزنامہ 92 نیوز اور وائس آف پاکستان میں شائع ہوچکا ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں