قانون اندھا ہوتا ہے

ایک دن میرا دل چاہا کہ کسی پرانی دکان پرجاکر چائے پیوں اوربچپن اورلڑکپن کی یادیں تازہ کرواس کے لئے میں نے پہلوان چائے والے کی دکان منتخب کی سامنے ہسپتال اوردائیں بائیں میڈیکل سٹورز ہیں ۔میں نے جیسے ہی موٹربائیک چائے کی دکان کے سامنے ٹھہرائی ،توایک آ وازآئی کہ ’’ موٹرسائیکل آگے لے جائیں یہاں کھڑی نہ کریں ،، یہ ٹریفک پولیس سارجنٹ تھے ۔ میں نے جواب دیا جناب میری بائیک بالکل پارکنگ لائن کے اندرہے یہ سن کر وہ اوراس کا ساتھی تیزی سے میری طرف لپکے ،میری گریبان میں ہاتھ ڈالتے ہوئے بولا ’’تمہیں معلوم نہیں کہ جس سیٹ پرمیں بیٹھا ہواس سیٹ پرہرکوئی بیٹھناچاہتاہے اورسامنے ہسپتال کی جانب اشارہ کیا کہ یہاں کاڈاکٹرکسی کوکہہ دے کہ تومریض ہے تودنیا کی کوئی طاقت اس کو صحت مندثابت نہیں کرسکتا۔اورمیں بھی اتھارٹی ہوں.

میں نے کہاکہ میں ٹیچر ہوں اور صحافت کے شوق کے ساتھ ساتھ کالم نویس بھی ہوں ۔ تواس نے فورامیراگریبان چھوڑااور رفوچکرہوگیا چائے والا چلاتارہاکہ میرے چائے کے پیسے تو دیتے جاؤمگر وہ بہت دورجاچکے تھے میراموڈ بھی خراب ہوگیا کیا چائے پینی تھی. وہاں سے روانہ ہوااور واپس گھرکی طرف رخ کیا واپسی پر قائداعظم میڈیکل کالج بہاول پور کے سامنے ایک ٹریفک پولیس والا رقم جیب میں ڈال رہاتھا اور ساتھ ایک موٹرسائیکل اور تین سوار موجودتھے میں نے وہا ں رکنا مناسب نہ سمجھا اور آگے بڑھ گیا ۔ایک پلازہ کے باہر غیرقانونی موٹرسائیکل سٹینڈ تھا جس کے عین وسط میں جلی حروف میں تحریر تھا کہ ’’نوپارکنگ،، وہاں بھی ٹریفک پولیس اہلکار موجودتھے ہم اساتذہ کوآرمی روکے تو میجر کرنل رینک کے آفیسر کہتے ہیں کہ سر کوجانے دو،مگرٹریفک پولیس والے الحفیظ الامان، اگلے دن صبح کالج روانہ ہواتو دوطالب علم کاٹریفک پولیس والے مکے اورڈھڈے برسارہے ہیں ’’سرعام تشددشرمناک،، کانعرہ میرے ذہن میں ابھرا ، مگر بقول غالب وہ بھلے ہیں تو کیاہوا ہاتھ آئیں تو ہاتھ لگائے نہ بنے.

یہ بھی پڑھیں: برما میں‌ظلم و ستم کی داستان…کیا حقیقت کیا فسانہ

ساتھ ایک گاڑی میں بیٹھے حضرت موبائل فون پرمصروف تھے مگران ٹریفک پولیس والوں نے انہیں نہ روکا یہ سب میرے لئے تکلیف دہ تھا۔ میں جب یہ کالم لکھ رہاتھا میری پانچ سال کی بیٹی آئی اوربولی باباآپ کیاکررہے ہیں ’میں نے کہا کہ اخبار میں پولیس کے خلاف لکھ رہاہوں تومیری بیٹی فورا بولی پولیس نے توکچھ نہیں کیا میں یہ کالم پھاڑ دونگی. مجھے اپنی غلطی کاشدیداحساس ہوا کہ معصوم بچی کے دل میں تلخ حقائق ڈال رہاہوں میں نے فورا پینترا بدلا کہ میں مذاق کررہاتھا وہ بولی اچھا آپ نے اگر پولیس کے خلاف لکھا تو میں آپ کو نہیں چھوڑونگی اس کے لاشعورمیں بھی موجود تھا کہ پولیس خوف ودہشت کی علامت ہے ۔ ہمارے جذبے بغاوتوں کوابھارتے ہیں ہمارے جذبوں میں بس تمہارا نہیں چلے گا رکشے والوں کوان کی سیٹ سے اٹھاکر سڑک پرپٹختے اورگھسیٹے ہوئے ہوئے ٹریفک پولیس کومیں نے خود دیکھا ہے اور ہوٹروالی گاڑیوں کوسیلوٹ پڑتے ہیں چاہے وہ موبائل پرباتیں کررہے ہیں یاپھر ایک ہاتھ سے ڈرائیوکررہے ہیں ٹریفک پولیس کایہ رویہ لمحہ فکریہ ہے ۔

تحریر ۔کامران عزیز خان

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں