قلم کی حرمت (الیاس بابر محمد)

انسان ہو یا پھر اللہ تعالیٰ کی پیدا کی گئیں دیگر مخلوقات ان سے دوستی اور انکا قرب حاصل کے لیے الله تعالیٰ نے دلوں میں محبت جیسا جذبہ رکھا ہے جو نہ عمر دیکھتا ہے ، نہ وقت ، نہ جنس ، نہ نسل اور نہ ہی ملاقات کا محتاج ہوتاہے بس ایک چیز جو اسکی بنیاد ہوتی ہے وہ بھروسہ ہے جو انسانوں کو انسانوں اور درندوں تک کو انسانوں کے قریب لے آتا ہے۔
سعد الرحمٰن بھائی سے بھی میرا محبت کا یہ تعلق کتاب چہرہ پر بنا اگرچہ ہماری ابھی تک کوئی ملاقات نہیں ہو پائی ۔سعد بھائی نے اپنی اردو ویب سائٹ ” ہم پاکستان ” کے لیے لکھنے کا اور مینجمنٹ میں شامل ہونے کا کہہ کر جو بھروسہ میرے اوپر کیا ہے اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ اسے قائم و دائم رکھے اور میں ” ہم پاکستان ” کی ساری ٹیم کو اس خوبصورت کاوش کے لیے مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔
نئی ویب سائٹ ہے اس لیے حالات حاضرہ پر لکھنے کی طرف جانے سے پہلے میں لکھنے والے کی حیثیت سے اپنے لکھنے کی ذمہ داری کو درست طریقے سے نبھانے پر لکھنے کو ضروری سمجھتا ہوں ۔سورہ القلم یہ آیت مبارکہ ن ۚ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ ( نٓ۔ قلم کی اور جو (اہل قلم) لکھتے ہیں اس کی قسم ) ایسا کچھ بھی لکھتے ہوئے میرے سامنے آ جاتی ہے جسکا اثر معاشرے میں کسی بھی سطح پر پڑنے کا یقین ہو – میرے جیسے دیگر احباب جو میری ہی طرح لکھنے کی کوشش کر رہے ہیں کو قران حکیم کے ان مبارک الفاظ کو کچھ بھی لکھنے سے پہلے مدنظر رکھنا چاہیئے ۔
بحیثیت انسان ہم سب ہی کے اندر عصبیت کا پایا جانا ایک قدرتی امر ہے ، اور میرے خیال میں اگر یہ ایک مخصوص حد سے تجاوز نہ کرے تو اس میں ایسی کوئی برائی بھی نہیں مگر بحثیت ایک قلم کار کے ہمیں عدل کو اپنانا چاہیئے ، عدل کا معنی ہی یہ ہیں کہ جو چیز جس مقام کی مستحق ہے اُسے وہی مقام دیا جائے – حامی ہو یا مخالف ، قلم عدل کے مطابق اور حق سچ کی خاطر اٹھنا چاہیئے جو تحریر میں انسان کی اپنی شخصیت میں انصاف کرنے اوصاف کی عکاسی بھی ہوتی ہے – اسی طرح لکھی گئی تحریر میں ذاتی مفاد کے لیے غلو سے گریز حکم خداوندی کا پالن ہو گا۔
اپنی پسندیدہ سیاسی جماعتوں اور شخصیات کے متعلق لکھتے ہوئے عدل سے کام لینا یقینا حرمت قلم کا تقاضا ہے – قارئین کو بھی چاہیئے کہ ایسے اہل قلم کو مسترد کریں جو عدل و انصاف کے تقاضوں کو مدنظر نہ رکھتے ہوں ، جو غلو کا شکار ہوں اور جو اپنے لکھے کو حرف آخر سمجھتے ہوں۔
قلم کے بارے میں محترم محمد سلیم ندوی بلگامی نے اپنے ایک مضمون جو سہ روزۃ دعوت نئی دہلی شائع ہوا میں کیا ہی خوبصورت لکھا ہے کہ ” میرا نام قلم ہے ۔ مجھے ہر انسان اپنی بولی اور زبان میں جدا جدا الفاظ سے یاد کرتا ہے ۔ میرے خالق نے مجھے اپنی آخری کتاب میں لفظ ” قلم ” سے یاد فرمایا ہے ۔ (القلم ۱ ۔ العلق ۴) میری پیدائش ارشاد رسولؐ کے مطابق اس وقت ہوئی جب کہ ابھی میرے رب نے کائنات کے کسی شئے کو وجود نہیں بخشا تھا ، وجود و ظہور میں سب سے پہلے ” میں ” ہوں پھر مجھے حکم ربی ہوا کہ” لکھ” تو میں نے منشائے الہی کے مطابق ہر وہ چیز لکھ دی جو ازل سے ابد تک ہونے والی ہے (ترمذی 3319)
میرا کام لکھنا ہے آواز کی صورت گری کرنا ہے ، فکر و خیال کی مجسمہ سازی ہے الفاظ کو لباس کا جامہ پہنانا ہے ۔میرا وجود بے جان ہے میں سماعت و بصارت سے خالی ہوں – نطق و بیان میری تحریر ہے ، میں اپنی ذاتی فکر و خیال اور ارادہ سے عاری و خالی ہوں ، میں خود نہیں چلتا ہوں ، حرکت دینے والا مجھے اپنے ارادہ کے مطابق حرکت دیتا ہے – میں اس بات سے بے خبر ہوں کہ یہ میری کمزوری ہے یا خوبی کہ جو جس طرح اور جس نیت سے چلاتا ہے میں چل پڑتا ہوں ۔
نیک لوگ مجھے بھلے اور اچھے کام کیلئے اور بُرے لوگ اپنی برائی کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔ کبھی میں ایمان کی باتیں لکھتا ہوں تو کبھی کفر کی باتیں ۔ مجھ سے کوئی محبت و مودت کی تحریریں لکھتا ہے تو کوئی نفرت و عداوت کی لکیریں کھینچتا ہے – کوئی نوک قلم سے دو جدا دلوں کو محبت کے ٹانکوں سے جوڑتا ہے تو کوئی نوک قلم سے زہریلے سانپ کی طرح ڈس کر دو دلوں کو مسموم کرتا ہے – کبھی میں متقی و خدا ترس کے ہاتھ میں ہوتا ہوں تو کبھی فاسق و فاجر کے ہاتھ میں ، متقی و خداترس لکھنے سے قبل سوچتا ہے ۔ لکھتے ہوئے خدائی استحضار رکھتا ہے لکھ کر لکھی ہوئی عبارت کا بے لاگ جائزہ اور محاسبہ کرتا ہے –
میرا کام زبان کی مانند ہے ، فرق یہ ہے کہ زبان کے الفاظ سنے جاتے ہیں جب کہ میرے الفاظ دیکھے بھی جاتے ہیں۔ زبان سے نکلے الفاظ فضاؤں میں تحلیل ہوجاتے ہیں جب کہ میرے الفاظ منقش پتھر کی طرح محفوظ ہوجاتے ہیں۔

بقول ممتاز گورمانی
قلم کی نوک پہ رکھوں گا اس جہان کو میں
زمیں لپیٹ کے رکھ دوں کہ آسمان کو میں
عزیز جاں ہو جسے مجھ سے وہ گریز کرے
کہ آج آیا ہوا ہوں خود اپنی جان کو میں
ہے موج موج مخالف مرے سفینے کی
اور اس پہ کھولنے والا ہوں بادبان کو میں
فریب ذات سے باہر نکل کے دیکھ مجھے
بتا رہا ہوں زمانے کی آن بان کو میں
ہمیشہ لفظ کی حرمت کا پاس رکھا ہے
بڑا عزیز ہوں لفظوں کے خاندان کو میں
اگر میں چاہوں تو ممتازؔ آسماں میں اڑوں
گماں یقین کو دے دوں یقیں گمان کو میں
………………………………………………………………………………………………………………………….

تعارف مصنف: الیاس بابر محمد سکیورٹی پلاننگ اور سیاسیات کے طالبعلم ہیں۔متحدہ عرب امارت میں مقیم ہونے کے باعث عرب ممالک کی سیاسی و سماجی صورتحال پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں