قیام پاکستان اور مولانا آزاد

آج کل میڈیا خصوصاً سوشل میڈیا پر تقسیم ہند اور قیام پاکستان کو غلط ثابت کرنے کے لیے مولانا آزاد کے فرمودات کا بہت حوالہ دیا جاتا ہے۔ مگر صرف تقسیم کی مخالفت والے بیانات کا۔ حالانکہ اس ضمن میں بھی ان کے تمام خدشات درست ثابت نہیں ہوئے۔ پھر ان کی پیش گوئیوں کے درست یا غلط ثابت ہونے سے قطع نظر، سیدھی سی بات یہ ہے کہ اُس وقت مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی اقلیت نے ہی ان کی حمایت کی۔ جبکہ مسلمانوں کی اکثریت تقسیم کی حامی تھی۔ انہیں مولانا آزاد کی پیشگوئیوں پر یقین نہیں تھا۔ اس میں حالات بھی ایک وجہ ہو سکتے ہیں اور ان کی شخصیت بھی۔ اور اب بھی ان کے چند خدشات نے حقیقت کا روپ دھار لیا تو انہیں نعوذ باللہ کوئی اوتار بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ قیام پاکستان کی حمایت کرنے والوں کو جہالت کے طعنے دیے جاتے ہیں۔
ایسے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ جیسے آج آپ کو سوچنے اور کسی لیڈر کی حمایت اور کسی کی مخالفت کرنے کی آزادی ہے، اسی طرح اُس وقت کے مسلمانوں بھی تھی۔ خود مولانا آزاد کے موجودہ حامیوں کے آبا؍ و اجداد سمیت مسلمانوں کی اکثریت نے انہیں رد کرتے ہوئے قیام پاکستان کی حمایت کی اور اس کے لیے قربانیاں دیں۔
اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہ خدشات تھے کہ انگریز کے جانے کے بعد انگریز سے پہلے والا نظام نہیں چلے گا بلکہ ایک فرد ایک ووٹ کا نظام ہوگا، جس میں معتدل یا انتہاپسند ہر صورت میں ہندوؤں کی اکثریت ہوگی، اور وہاں مسلمان اپنی ذاتی عبادات کے علاوہ کچھ نہیں کر سکیں گے۔ حتیٰ کہ کئی علاقوں میں لوگوں کو مسجد بنانے کی آزادی بھی نہیں ہوگی، اور گائے کے گوشت تو شاید انہیں زندگی بھر نصیب نہیں ہوگا۔
آج کے پاکستان کے مسائل اور ہندوستان کے مسلمانوں کے حالات کا موازنہ کرتے ہوئے اکثر لوگ بھول جاتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمان آج بھی تعصب کا شکار ہیں، اور ان کی جو خوشحالی ہے اس میں بھی پاکستان کا بڑا حصہ ہے۔ آج کے ریاستی تعلقات میں پڑوسی ممالک کی پالیسیوں اور طاقت کی بھی بہت اہمیت ہے۔ آج کا مسائل کا شکار پاکستان کا بھی ہندوستان پر ایک حد تک دباؤ ہے۔ اس کی غیر موجودگی میں ہندوستان کے مسلمانوں کے حالات مزید خراب ہو سکتے تھے۔
یہ تو تقسیم ہند نہ ہونے کی صورت کے خدشات ہیں۔ لیکن جب پاکستان بن چکا ہے، تو اس کی نفی کرنے والوں کو شاد یہ احساس نہیں کہ آج پاکستان اور بنگلہ دیش کے ہندوستان میں ضم ہونے اور عظیم ہندوستان (اخلاقی عظمت نہیں بلکہ سائز کے لحاظ سے) کی تشکیل کی صورت میں چند علاقوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کو وہ مار پڑے گی کہ ان کا جینا مشکل ہوجائے گا۔ آج شائننگ انڈیا یا ‘جگمگاتا ہندوستان‘ صرف چند علاقوں تک محدود ہے، ورنہ وہاں کے حالات کوئی اتنے بہتر بھی نہیں ہیں۔ ایک بڑی منڈی اور جوہری پاکستان پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے انہیں مغرب کی جو حمایت حاصل ہے، وہ متحدہ ہندوستان کی صورت میں مختلف ہوتی۔ یقیناً ایسی صورت میں منڈی زیادہ بڑی ہوتی اور معاشی فوائد حاصل ہوتے، لیکن مغرب کی سیاسی حمایت یا ترجیح حاصل نہیں ہو سکتی۔
آج کے پاکستان کے یقیناً بہت سے مسائل ہیں۔ حکمرانوں کی بدعنوانیاں، فوج کی سول معاملات میں مداخلت، عوام میں لسانی، نسلی اور فرقہ وارانہ تقسیم اور اس کی بنیاد پر جھگڑے، سیکیورٹی کے مسائل وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اس سب کے باوجود جوہری صلاحیت کے حامل پاکستان کے اثرات ہندوستان کو مسلمانوں کی نسل کشی سے روکنے والا ایک بڑا عنصر ہیں۔ اور ہماری اپنی داخلی لڑائیوں کو شہ دینے والے اور مختلف گروہوں کی مختلف انداز میں مدد کرکے لڑانے کی بڑی وجہ پاکستان کو غیر مستحکم رکھنا ہے۔ کیونکہ پاکستان علاقے میں بھارت کی چودھراہٹ کو چیلنج کرنے والا واحد ملک ہے، اور مستحکم ہونے کی صورت میں اس کے اثرات زیادہ ہونے کے خدشات دشمن کو اگر خوفزدہ نہیں کرتے تو بھی تشویش میں مبتلا ضرور رکھتے ہیں۔

تحریر: محمد انور میمن

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں