مادری زبانی میں‌تعلیم کی اہمیت

تعلیم ایک ایسا اوزار ہے جس سے سے کسی بھی انسان کی شخصیت کی تراش خراش کر کے اس کو اس معاشرے میں زندہ رہنے کے قابل بنایا جا رہا ہے ۔ کسی بھی قوم کو اوج ثریا پر پہنچانے والے لوگ ہمیشہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہی ہوتے ہیں اور ان کی تربیت میں کسی نہ کسی ادارے یا اتالیق کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔ ماہرین تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ جب تک بچے کی ذہنی نشوونما کمرہ جماعت میں صحیح طریقے سے پروان نہیں چڑھتی اس میں تخلیق کی صلاحیت پیدا نہیں ہوتی اور بچہ تخلیق اور تحقیق کو چھوڑ کر رٹا لگانا شروع کر دیتا ہے۔ تخلیقی صلاحیت کو بہترین طریقے سے پروان چڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ بچے کے لئے ایک ایسا ماحول بنایا جائے جس میں وہ اپنے دماغ کو سوچنے، سمجھنے ، سوال کرنے اور جانچنے کے لئے زیادہ سے زیادہ استعمال کرے اور معلّم زیادہ سے زیادہ ان مثالوں کی مدد سے اس کو سکھائے جو اس کی اپنی زبان ، ثقافت اور معاشرے سے لی گئی ہوں جس سے تمام بچے واقف ہوں ۔ پاکستان میں اس 79 کے قریب علاقائی زبانیں بولی جاتی ہیں ان سب زبانوں کو ماں بولی (Mother Language)کا درجہ حاصل ہے۔ معاشرے اور انسانی ماحول کے ساتھ کسی بھی نومولود کا پہلا تعلق زبان ہی جوڑتی ہے اور ماں کی گود سے لیکر گور تک اسی زبان کے ذریعے ہی بچہ اپنی زندگی کی منازل طے کرتا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق ایک تندرست بچہ سکول جانے سے پہلے تقریباً 3000 الفاظ سے واقفیت حاصل کر چکا ہوتا ہے اور اس کی نرسری کی تعلیم کا انتخاب کا اگر انہی تین ہزار الفاظ سے کیا جائے تو نہ صرف تعّلم کا عمل آسان ہو جائے گا بلکہ اس کی تخلیقی صلاحیت بھی کھل کر سامنے آجائے گی۔ اس ساری صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے اور ماہرین تعلیم کی تحقیقات کی روشنی میں 2001 ء میں یو این UNکے ذیلی ادارے یونیسکو نے اپنی ایک قرارداد کے ذریعے مادری زبان میں تعلیم کو بچے کا بنیاد حق مانا گیا ہے اور اس قرارداد پر حکومت پاکستان نے بھی دستخط کئے ہیں ۔ محققین کی ریسرچ کے مطابق ماضی قریب میں اکثر بچوں کا ابتدائی کلاسوں میں سکول سے بھاگنے کا رحجان زیادہ تھا جس کی وجہ ان کو ایک ایسی زبان میں تعلیم دینا بتایا گیا جو ان کے لئے نئی ہوتی تھی اور وہ اس کی اصطلاحات اور گرائمر کو سمجھنے سے نا بلد تھے جس کی واضح مثال میرے خیبر پختونخواہ سے آئے ہوئے طالب علم ہیں جو اردو میں ہمیشہ مذکر کو مونث اور مونث کو مذکر ہی لکھتے اور بولتے ہیں اور سب سے کم مارکس ان کے اردو میں ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ مڈل طبقے کے لوگ جو گھر میں اپنی مادری زبان بولتے ہیں اور اپنے بچوں کو مہنگے اور انگلش میڈیم سکولوں میں داخل کرتے ہیں ان کے بچے آگے چل کر تعلیمی میدان میں کوئی بھی کارہائے نمایاں سر انجام نہیں دے سکتے اور تعلیمی دوڑ میں ایک خاص مقام سے آگے نہیں بڑھ سکتے ۔ مجھے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں محترمہ بے نظیر بھٹو بلاول اور آصفہ کو انگریزی سکھا رہی تھی وہ دن ا ور آج کا دن محترم بلاول بھٹو کونہ ہی اردو ٹھیک سے آتی ہے اور نہ ہی موصوف سندھی ٹھیک طریقے سے بول سکتے ہیں جس کی بنیادی وجہ مادری زبان سے دوری ہے( مثال برائے مثال ہے نہ کہ برائے تنقید)
آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق اس وقت پوری دنیا میں 6912 زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے 516 ختم ہونے کے قریب ہیں جبکہ اردو بولی جانے والی زبانوں میں 19ویں نمبر پر ہے اور اسی اردو میں زیادہ تر تعداد پنجابی، سندھی، سرائیکی، پشتو اور ہندکو بولنے والوں کی ہے۔بہت سے لوگوں کے لئے یہ ایک حیران کب بات ہو گی پاکستان میں 69 زبانیں مروج ہیں جو بالواسطہ یا بلا واسطہ اردو سے متاثر ہیں یا پھر اردو ان زبانوں سے متاثر ہے۔ مفکرین کی موجودہ تحقیق کے مطابق بچے کی ابتدائی تعلیم اپنی ماں بولی میں ہی ہونی چاہئے لیکن ہماری المیہ یہ ہے کہ ہم آج تک انگریز کا دیا گیا نظام لے کر پھر رہے ہیں اور اتنے کاہل ہیں کہ انگریزی کو اپنی وراثت سمجھتے ہوئے اس کو ہی اپنے سینے سے لگائے پھر رہے ہیں اور ابھی تک سائنسی اصطلاحات کا ترجمہ ہی نہیں کر سکے ۔ مجھے افسوس اردو کے ان ماہرین پر ہوتا ہے جو بلند بانگ دعویٰ تو کرتے ہیں اور مختلف کانفرنسوں میں زبانی جمع خرچ تو بہت ہوتی ہے لیکن تا حال سائنس جیسے اہم مضمون کی ان تمام اصطلاحات کو بھی انگریزی میں کر دیا گیا ہے جو ہم کبھی اردو میں پڑھتے تھے اور سمجھاتے تھے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نہ صرف طلباء بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ بھی اردو جیسے مضمون کی اہمیت سے نہ صرف انکاری ہیں بلکہ اس کی اہمیت کو کم سے کم کرنے میں بھی مصروف ہیں ۔ ایک طالب علم جو نرسری سے لیکر ہائیر سیکنڈری کلاس تک اردو کی لازمی تعلیم حاصل کرتا ہے وہ اردو کی ابجد سے بھی واقف نہیں ہو پاتا۔ جس کے ذمہ دار صرف اساتذہ ہی نہیں پالیسی ساز ادارے اور نصاب ساز محکمے بھی ہیں کجا یہ کہ ان کی مادری زبان میں ان کو تعلیم دی جائے ۔
اگر دیکھا جائے تو انگلش ایک بین الاقوامی زبان ہے ہی نہیں ۔انگریزی صرف امریکہ، کینیڈا،آسٹریلیا اور برطانیہ کی زبان ہے اور یہ تمام ممالک کبھی ملکہ برطانیہ کے باج گزار رہے ہیں ۔جبکہ صرف یورپ کے ہر ملک کی اپنی زبان ہے اور ان ممالک کی تمام تر تعلیمی سرگرمیاں بھی اپنی ہی زبان میں ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر چین والے چینی زبان ، فرانس والے فرانسیسی ، سپین والے ہسپانوی، جاپان والے جاپانی ہی میں تعلیم حاصل کر کے سائنسی میدان میں آگے آئے ہیں اگر ہمارے طالب علم کو ان ممالک میں جانا پڑے تو اس کی انگریزی کسی کام کی نہیں ۔ اگر پاکستان کے تعلیمی نظام کا جائزہ لیا جائے تو ملک میں بیک وقت کئی نظام تعلیم مختلف زبانوں میں رائج ہیں جو بہت سی جگہوں پر ایک دوسرے سے متصادم نظر آتے ہیں۔ حکومت پنجاب بھی اس وقت ایک لایعنی صورت حال کا شکار نظر آتی ہے ایک سال بچوں میں انگلش میڈیم کی کتابیں تقسیم کر دی جاتی ہیں تو دوسرے سال ان میں اردو میڈیم کی لیکن مادری زبان کو ابھی تک کوئی بھی اہل خرد اہمیت دینے کو تیار نظر نہیں آ رہے۔ جبکہ بڑے اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا نصاب خود بیرون ملک یونیورسٹیوں کا ہے۔ تقسیم پاکستان کے بعد پاکستان مولویوں، فوجیوں ، جاگیرداروں اور بیوروکریٹس میں تقسیم ہو گیا اور ان چاروں حلقوں میں ہماری مادری زبان کہیں بھی دکھائی نہیں دیتی لیکن اٹھارویں ترمیم کے بعد تعلیم حوالے سے تمام اختیارات اب صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں اور اب وہ اپنے نصاب میں مادری زبان کو رائج کر سکتے ہیں صوبہ سندھ میں تو انگریزوں کے دور سے ہی سندھی زبان کو سکولوں میں پرائمری سطح پر رائج کر دیا گیا تھا اب صوبہ پنجاب کو بھی ضرورت اس امر کی ہے وہ تمام علاقہ جات جن کی موجودہ مردم شماری میں مادری زبان سرائیکی ہے ان اکثریتی علاقوں میں سرائیکی اور باقی علاقہ جات میں پنجابی زبان میں جماعت چہارم تک تعلیم دی جائے ۔اگر بات کی جائے سرائیکی کی تو وہ لوگ جن کی آنکھوں پر تعصب کی پٹی چڑھی ہوئی ہے ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ سرائیکی ایک قدیمی زبان ہے جس سے خود براہ راست اردو بھی متاثر ہے اور پنجاب کی 10 کروڑ کی آبادی میں نصف کے قریب صرف سرائیکی بولنے والے لوگوں کی ہے ۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ لسانی ماہرین کی ایک ایسی جماعت بنائی جائے تو تدوین نصاب کے ساتھ ساتھ ان تمام اصطلاحات کا بھی ترجمہ کرے جو ہمیشہ سے ایک مسئلہ آ رہا ہے اور جس کو چھیڑتے ہوئے اہل قلم بھی کتراتے ہیں ۔میرا سوال یہ ہے کہ ہم کب تک تاج برطانیہ کی نو آبادی بنے رہیں گے اور کب تک اس انگریزی کے جا ل سے باہر آئیں گے؟ حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ نے تو آج سے کئی سو سال پہلے فرما دیا تھا کہ
؂ صبح صادق خان تو صاحبی مانڑیں
پا سہرے، گانے ، گاہنڑیں
اپنے ملک کوں آپ وسا توں
پٹ انگریزی تھانڑیں

تحریر:‌محمد اقبال عباسی

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں