ماں جیسی ہستی! دنیا میں کہاں؟

آج ماؤں کا علمی دن ہے. ماں مجھے تب سے سمجھتی ہے جب میں نے اس دنیا میں آنکھ کھولی. ماں وہ ہستی ہے جس نے مجھے بولنا سکھایا، مجھے چلنا سکھایا. ناکامی سے کامیابی تک کے سفر کے دوران ماں وہ واحد ہستی ہے جس کے ہاتھ میرے لئے بنا کسی لالچ کے دعا گو ہیں. چاہے میں نے کتنا ہی رولایا کیوں نہ ہو، کتنے ہی درد کیوں نہ دیے ہوں، وہ ہمیشہ میرے لئےدعا کرتی رہتی ہے. جب کبھی میں زندگی کی دھوپ اور تھکن سے اکتا جاتا ہوں تو ماں کے سائے میں آجاتا ہوں. ہاں وہ دنیا کی بے حد انمول ہستی ہے جس کی محبت کے نمونے میرے لئے کبھی سوکھے ہی نہیں.ماں ہی وہ عظیم ہستی ہے جس نے زندگی کے ہر لمحے میں میرا ساتھ دیا، خواہ میں اس کے پاس ہوتا ہوں یا دور وہ ہمیشہ میرے لئے دعا کرتی رہتی ہے.
اسلام نے بھی ماں کو وہ درجہ دیا ہے جو کسی اور کو نہیں ملا. اسلام میں ماں کے حقوق بہت اہمیت کے حامل ہیں. اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بڑی سختی کے ساتھ کہا ہے کہ ماں کی عزت کرو انہیں اف تک نہ کہو بلکہ ان کی مرضی میں اپنی مرضی شامل کرو.
ہمارے لئے پریشان ہونے والی، ہماری فکر میں جاگنے والی، وقت پڑنے پر ماں ایک باپ، بہن، بھائی سب کچھ بن جاتی ہے. اور اپنی اولاد کے لئے ہر دکھ برداشت کرتی ہے. ہمیں ہر دن یاد رہتا ہے اپنے دوستوں کی برتھ ڈے پارٹی کا دن ہو یا پھر ہماری زندگی کا اہم ترین دن ہو یا پھر اہم ترین یونٹ ہم سب کچھ یاد رکھتے ہیں. ویلنٹائین ڈے بھی، لیکن نہیں یاد رہتا تو بس ایک اس کی محبت کے اعتراف کا دن.
ماں وہ ہستی ہے جو خود تو بھوکا رہ لے گی مگر اپنے بچوں کا پیٹ پالے گی. مجھے ماں اور پھول میں کوئی فرق نظر نہیں آتا. اگر دنیا آنکھ ہے تو ماں اس کی بینائی، اگر دنیا پھول ہے تو ماں اس کی خوش بو. سخت سے سخت دل بھی ماں کی پرنم آنکھوں سے موم ہو جاتا ہے. بغیر کسی لالچ کے اگر پیار ملتا ہے تو وہ ماں سے ملتا ہے. ماں کے بغیر گھر قبرستان کی مانند ہے.

~ دکھ دےکر ماں کو، کون سکھ پا سکا ہے صاحب
یہی مرکز ہے سکوں کا، یہیں سے راحت ملتی ہے

تحریر : شاہزیب الحسن

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں