ماہ رمضان میں الیکٹرک میڈیا اور پیمرا کا کردار

رمضان المبارک کا برکتوں والامہینہ قریب ہے ،وہ مہینہ جس کی تیاری ہم سب کے محبوب ﷺ ماہ رجب سے شروع کرتے تھے ،اور عبادتوں کے اس مہینے میں بھی شائد الیکٹرونک میڈیا اپنی سابقہ روش برقرار رکھے گا ، اور مسلمان پاکستان اس مقدس ماہ میں بھی دین کے نام پر بے حیائی اور فضولیات دیکھنے میں مشغول رہیں گئے ،اور اس کی روک تھام شائد اس لئے بھی نہ ہو ،کیونکہ پیمرا دیگر مصروفیات سے فارغ نہیں ، شروع میں پیمرا کا کام ہوتا تھا لائسنس دینا اور لائسنس کی فیس وصول کرنا ،اب حکومت پر تنقید کرنے والے چینلز کے لائسنس منسوخ کرنا رہ گیا ہے ،خیر بات موضوع سے دوسری طرف نکل جائے گی،رمضا ن ٹرانسمیشن کے نام پر مختلف قسم کے لوگوں کو اپنی اسکرین پرجمع کرنے کے لئے چینلز میں دوڑ شروع ہوچکی ہے ، ریٹنیگ حاصل کرنے کے لئے نظرین کے لئے بڑے بڑے انعامات کے اعلانات جاری ہیں ، کسی نے کیا نام دیا ہے، اور کسی نے کیا ، اللہ نہ کرے کہ وہ دن بھی اس ملک میں آئے کہ لوگ دین بھول جائیں اور ٹی وی پروگراموں میں ہونی والی گفتگو او ر ان لوگو کو دین کا عالم سمجھنے لگیں۔
الیکٹرونک میڈیا کو آئے سولہ سال سے زیادہ ہوچکے ہیں۔اتنا عرصہ کافی ہوتا ہے کسی بھی ادارے کے مضبوط نظام کے لئے کافی ہوتے ہیں،خبر ناموں ، ٹاک شوز، بریکنگ نیوز اور مباحثوں کی نوعیت کیا رہی ہے ؟ کیا میڈیا نے عوامی رائے سازی میں کوئی مثبت کردار ادا کیا؟ یا محض بے ترتیب رپورٹنگ اور کاروبار کا ذریعہ بن کر رہ گیا؟شام ،برما،کشمیر میں معصوم لوگوں کا خون بہہ رہا ہے، مگر اس خبر کوجگہ نہیں ملتی اور بریکنگ نیوز نہیں بنتی۔ ہو، ملک میں تعلیم نظام تباہی کے دہانے پرپہنچ گیا ہے مگر میڈیا کے اداروں کو سیاست سے فرصت، ہی نہیں ملتی۔ ایسا لگتا ہے میڈیا کا کام آگہی دینا نہیں ، فیصلے سناناہے، پاکستانی بریکنگ نیوز جس نے پوری دنیا میں پاکستان کا مذاق بنا دیا ہے، دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ہر جگہ ،ہر ادارے میں اپنے مخصوص مقاصد اور مفادات کی تکمیل کیلئے لابیاں سرگرم ہیں۔کسی کو یہ پرواہ نہیں کہ پاکستان کے حق میں کیا بہتر ہے۔یہ لابیاں اور افراداپنے مخصوص ایجنڈے کے فروغ کیلئے ہر طرح کے حربے استعمال کرتے ہیں ۔ خبر دینے والے کا کام خبر دینا ہے نہ کہ تجزیے کرنا، اپنے ذہنی کہانیوں کو عوام میں پھیلانا ،عوام کو خبر کے دونوں پہلو سے آگا ہ کرنا اور ٖفریق نہ بنانا ،لیکن اس وقت جو کچھ ہوا اور جاری ہے یہ انتہائی خطرناک ہے،اوراس نے پیمرا کے ضابط اخلاق کی کھلی دھجیاں بکھیر دی۔
۔ اگرچہ میڈیا کا ضابطہ اخلاق حکومتی اداروں اور صحافتی کمیونٹی کے باہمی طور پر متعین کردہ اصولوں ، قوانین اور ضوابطہ پر مبنی ہوتا ہے مگر حقیقتاً اس پر صرف رضا کارانہ طور پر ہی عمل در آمد کیا جاتا ہے ۔میڈیا اخلاقیات کودو طریقوں سے سمجھا جا سکتا ہے ۔ آمرانہ نظریہ Authoritarian Theoryکی رو سے پریس اور میڈیا ایک موثر ہتھیار کے طور پر صاحب اقتدار لوگوں کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے جو اپنی مرضی کی معلومات عوام تک پہنچاتے ہیں ۔اس نظریے کے مطابق میڈیا سے توقع کی جا تی ہے کہ حکومت اور مقتدر اداروں کے مفادات کا تحفظ کرے گا اور حکومتی اجازت کے بغیر کسی قسم کی سیاسی اور سماجی حد بندی سے انحراف نہیں کرے گا۔ سماجی ذمہ داری نظریہ Social Responsibility Theoryکے مطابق میڈیا اپنے فیصلوں میں خود مختار ہوتا ہے لیکن وہ جمہوری اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے جہاں عوام تک درست اور اہم معلومات فراہم کرے گا وہیں اسے متوازن قوانین بھی قائم کرنا ہوں گے ۔ پاکستانی میڈیا کی دنیاکے میڈیا سے ایک الگ پہچان بن چکی ہے۔ایک سروے کے مطابق پاکستان میں لوگ زیادہ طرح ٹاک شوز لطف اندوز ہونے کے لئے دیکھتے ہیں، ۔ان ٹاک شوز میں منتخب نمائندوں کو خود لڑوا کرآ خر میں یہ ریمارکس دیئے جاتے ہیں کہ یہ عوامی نمائندے آپس میں ہی لڑتے رہینگے، عوام کے لئے کیا کریں گے۔ ریٹینگ کے چکر میں میڈیا معاشرے کو سدھارنے کے بجائے بگاڑ پیدا کر رہا ہے۔ پا۔ ایک طرف ملک مسائل میں گھرا ہوا ہے اور دوسری طرف میڈیا عوام کو کرائم کے نت نئے طریقے سیکھا رہا ہے ،کرائم شوز کے نام پر بے حیائی کو فروغ دے رہا ہے چوری ڈکیتی کے بعد اب انٹرٹیمنٹ کے نام پرغیر ملکی ڈراموں کے زریعے عریانیت گمراہی اور انتشار کو معاشرے میں فروغ دیا جانے خطرے کا الارم ہے ۔ پتہ نہیں پیمرا بے حیا ئی کی تعریف کب کرے گا ،ایسا لگتا ہے کہ پیمرا جان بوجھ کر اس میں شامل ہے ۔لیکن پاکستانی میڈیا بھی حکومتوں کے اس کھیل میں برابر کا شریک ہے ۔ ایک طرف صحافی برادری ہے جو ہر پابندی پر شور مچانے ، کالی پٹیاں باندھنے اور آزادیِ صحافت پر تقریریں کرنے میں آگے آگے ہوتی ہے لیکن آج تک اپنے لیے ایک ضابطہ اخلاق پر متفق نہیں ہو سکی۔ اور دوسری جانب میڈیا مالکان ہیں جن کا پہلا اور آخری مقصد منافع کمانا ہے اور جنہوں نے ہر موقع پر صحافت کی آزادی پر نفع کمانے کی آزادی کو ترجیح دی ہے ۔ایڈیٹرکی کردار کو ختم کر کے نیوز پالیسی کا اختیار بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے ۔دوسری طرف پیمرا اور حکومت ہے ،پاکستان مسلم لیگ نواز سمیت گذشتہ دونوں حکومتوں کے میڈیا مخالف اقدامات میں یہ قدر مشترک ہے کہ پیشہ وارانہ معیار کو بہتر بنانے کی بجائے ان کا زور حکومت پر ہونے والی تنقید کو بند کروانا اور چند افراد کی ذاتی پسند ناپسند کو پورے میڈیا پر ٹھونسنا ہے ۔یوں بھی نفرت انگیزی، نظریہ پاکستان، اسلامی روایات، قومی سلامتی، اور اخلاقی اقدار ایسی اصطلاحات ہیں جن کی تشریح اپنی مرضی سے کر کے کسی کو بھی کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکتا ہے ۔ اور مبہم اصطلاحات کو قانون کا حصہ بنانے کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے۔
اصلاح آگاہی اور تعلیم جو کہ اس کے بنیادی فرائض میں شامل ہے کو فروغ دینا ہوگا۔ورنہ میڈیا کی ساکھ ختم ہو جائے گی۔ اس نازک موڑ پر جہاں آزاد صحافت کی ضرورت پہلے سے بڑھ گئی ہے وہی آزادی کی حفاظت احسن طریقے سے بچانا ضروری ہے صحافتی تنظیموں کو آگے آکر اس معاملے کو حل کرنے میں کردار ادا کرنا ہوگا اور ایسے فیصلے کرنے ہونگے کہ ان کے نافذ سے آئندہ ضابط اخلاق کی پابندی ہونا ممکن ہو ورنہ ملکی سالمیت کی ا ہمیت بھی بنیادی ضرورت ہے۔حکومت،پیمرا اور صحافتی تنظیمں سب کے لئے یہ ایک چیلنج ہے اوروقت کم ہے۔

تحریر :‌بادشاہ خان

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں