مثبت ذہنی سوچ ہمارے تمام مسائل کا حل

انسان کی پیدائش پریشانی سے پاک ہوتی ہے اور اس کی زندگی کا مقصد پریشان رہنا نہیں ہے۔ پریشانی دنیا میں انسانوں کی تباہی کا سبب بنتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ تمام ذہین افراد کی تباہی کی وجہ ان کی پریشانی ہے۔ آج دنیا میں کینسر، السر وغیرہ جیسی مہلک بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ انسانوں کی پریشانی ہوتی ہے۔ انسان کی پریشان کن حیثیت اسے بیماریوں سے دوچار کر دیتی ہے۔ زیادہ تر جذبات امراض کا سبب پریشانی، گھبراہٹ، بے چینی اور الجھائو جیسی کیفیات ہیں۔ جن کی پیدائش خوف اور احساس کمتری سے ہوتی ہے۔
پریشانی ایک ایسی لعنت ہے جس کا آغاز انسان کے ذہن میں ہوتا ہے اور بالاخر اس بیماری کا انجام ایک جان لیوا مرض کی صورت میں ہوتا ہے۔ ہر مرض کا آغاز انسان کی ذہنی تکالیف سے شروع ہوتا ہے۔ ایک خوفزدہ شخص اپنے ذہن کی الجھنوں میں قید ہوتا ہے۔ ایسے انسان کو ہر وقت انجانے خوف کا خطرہ ہوتا ہے۔ وہ اس قدر بے بس ہوتا ہے کہ اس کیلئے مایوسی کے اندھیروں سے نکلنا ناممکن ہوتا ہے۔ وہ اپنے لاشعور کی طاقت کو کھو دیتا ہے جس کی وجہ سے وہ بہت سے امراض کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کی پریشان سوچ اسے الجھائے رکھتی ہیں۔ واضح رہے کہ ایسی پریشان کن سوچ انسان کو بیماری کا سامنا کرنے سے باز رکھتی ہے۔ انسان کے ذہن کی ایسی مایوس کن حالت اس کی ذہنی اور جسمانی صحت کو زنگ آلودہ کر دیتی ہے۔۔ انسان کی مایوس سوچ کے بارے میں لوتھر بربینک نے کہا تھا کہ ”بہت سے لوگوں کیلئے سب سے بڑا تشدد ان کی ذاتی سوچ ہوتی ہے’۔ جو لوگ سوچنے کے فن سے واقف نہیں ہوتے وہ صرف اپنا نقصان کرتے ہیں۔ ان کی سوچ مسلسل منفی لائحہ عمل کو جنم دیتی ہے ایسے لوگوں کا گزر بسر بڑی مشکل سے ہوتا ہے۔ وہ اپنی جذباتی بیماریوں کو نظر انداز کرنے کیلئے شراب نوشی اور نشہ آور چیزوں کا استعمال کرتے ہیں۔ان کی زندگی ان غیر ضروری ہتھکنڈوں کا شکار ہوجاتی ہے۔
زندگی سے بھاگنا ناممکن ہے۔ آپ کو ہر حال میں اپنی زندگی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔آپ کو ہر قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا ہو گا۔ آپ کی صحت سے بھرپور زندگی کیلئے انتہائی ضروری ہے کہ آپ اپنی زندگی کے معیار کو بلند کرتے ہوئے اپنی منفی سوچ کو تبدیل کریں۔ ہمیشہ یاد رکھئے کہ آپ کو اپنے مسائل کو خود سلجھانا ہے جب آپ اپنے مسائل سے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس وقت وہ تمام الجھنیں آپ کے ساتھ ساتھ سفر کرتی ہیں اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ان مسائل کے حل کی خاطر آپ کو کوئی پرسکون جگہ تلاش کرنا ہو گی تو آپ غلط سوچتے ہیں کیونکہ آپ کا حقیقی سکون آپ کی اپنی ذات میں پوشیدہ ہے جب آپ اپنی ذات میں سکون کو تلاش کریں گے اس وقت آپ کو یہ معلوم ہو گا کہ اپنے مسائل کو حل کرنے کی خاطر شہر چھوڑ کر دور جانا، کسی اندھیرے کونے میں چھپ جانا یا سگریٹ نوشی کرنا آپ کی بہت بڑی بے وقوفی ثابت ہو گی۔
آپ اگر چاہیں تو پریشانی، خوف، بے چینی، گھبراہٹ اور ڈر جیسے مسائل کی قید سے رہائی حاصل کر لیں گے بس اس سلسلے میں آپ اپنی ذہانت، عقل اور سمجھ داری سے کام لیں تو یہ عمل جنم لینے لگے تب آپ سب سے پہلے اپنے ذہن کو اس بات کیلئے تیار کرنا ہے کہ آپ پریشان نہیں ہوں گے اور نہ ہی اداس ہو کر اپنی ذات کو اذیت پہنچائیں گے۔۔ آپ کو اس پریشانی سے نمٹنے کیلئے تمام اہم سوالوں کے جوابات کو اپنے ذہن میں رکھنا ہو گا۔ آپ کو اپنے ذہن کو پہلے سے ان تمام سوالوں کیلئے تیار کرنا ہو گا جو آپ کو منزل کے قریب لے جائیں گے کہ میں اپنے مسائل کو حل کرنے کی خاطر کن تعمیری عوامل پر عمل درآمد کر سکتا ہوں؟ اس سوال کے بہت زیادہ جوابات کے حل کرنے کیلئے مطمئن ہیں۔ کسی بھی معاملے کو حل کرنے کیلئے جلد بازی کرنے پر آپ کے سامنے بہت سے جوابات آئیں گے جن پر عمل کرنا مشکل ہو جائیگا۔ آپ کو بیک وقت ایک ہی مسئلے کے حل کو نکالنا ہو گا۔ ایک لمحے کیلئے اسے ذہن کو پرسکون کر کے اس کے حل کے بارے میں سوچئے۔ ایک بات ذہن نشین کر لیجئے کہ کرہ ارض پر ایسا کوئی انسان نہیں جسے مسائل کا سامنا نہ ہو۔ اس لئے آپ بھی یہ نہ سوچئے کہ آپ کے مسائل دنیا میں سب سے انوکھے ہیں اور صرف آپ کو ہی مسائل کا سامنا ہے لہٰذا اپنے آپ کو وقت سے قبل پریشانی کے حوالے مت کیجئے کیونکہ ایسے معاملات میں جذبات سے کام لینا خطرے سے خالی نہیں ہو گا۔ اپنے ذہن میں صرف اچھی چیزوں کے بارے میں سوچئے اور مثبت لائحہ عمل سے کام لیجئے کیونکہ آپ کی مثبت سوچ آپ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ہمیشہ صحت مند سوچ اور مثبت خیالات پر یقین رکھئے کیونکہ اس کی مدد سے آپ کی کامیابی ممکن ہے۔۔۔۔ ایک بات ذہن میں بٹھا لیجئے کہ اس دنیا میں ایسا کوئی شخص نہیں ہے جیسے بیماری یا مصائب کا سامنا نہ ہو۔ ہر انسان کو اپنے حصے کی جنگ خود لڑنا ہوتی ہے۔ مسائل میں گھر جانا کوئی بات نہیں مگر مسئلے کے خلاف لڑ کر میدان عمل میں آنا سب سے بڑی بہادری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں