محسنِ پاکستان سر صادق خاں عباسی خامس

دنیا میں جب سے حیات انسانی کا سلسلہ شروع ہوا ہے اربوں کھربوں انسان اس زمین پر چلے پھرے لیکن وہ اپنی حیات کی آہٹ کیے بغیر موت کی آغوش میں گم ہو گئے مگر ایسے بھی انسان پیدا ہوئے جن کی حیات سے بہت سے لوگوں بلکہ ایک قوم نے حیات پائی ۔یہ وہ شخصیات ہیں جو اپنے زمانہ حیات سے نکل کر آنے والے زمانوں پر بھی اپنے انمٹ نقوش چھوڑ جاتی ہیں۔ایسی ہی یاد گار ہستیوں میں ایک ہستی سر صادق محمد عباسی پنجم کی ہے جن کے دانشمندانہ فیصلے نے پاکستان کے موجودہ نقشے کی سلامتی کی بنیاد رکھی ۔
20 ویں صدی کے ابتداء میں صحرا کی وسیع اور بے کراں فضاء میں نواب صادق محمد خاں 29مئی 1904میں پیدا ہوئے اور صرف تین سال کی عمر میں والد کی وفات کے بعد ریاست بہاول پور کے نواب بن گئے ۔چولستان کا یہ شہزادہ حقیقتاً ذہنی و قلبی طور پر صحرا کی طرح کشادگی اور پیکرانی کا مظہر ثابت ہوا۔نواب سر صادق محمد عباسی پنجم کے دور حکومت پر نظر ڈالیں تو وہ برصغیر کے مسلمانوں کا ایک مشکل ترین دور تھا۔انگریزوں کی غاصبانہ حکمرانی ،سکھوں کی جارحیت اور
ہندؤں کا تعصب عروج پر تھا۔ایسے مشکل حالات میں اپنی ریاست کی بقاء ،داخلی امن و امان اور خارجی معاملات کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ اپنی ریاست کو معاشی طور پر مضبوط بنائے رکھنا بلاشبہ ایک دور اندیش ،معاملہ فہم اور بہترین حکمران کی نشانی ہے۔جدیدتعلیم اور یورپ کی ترقی و خوش حالی سے آشنا ہونے کی وجہ سے نواب صاحب نے اپنی ریاست میں کئی پائیدار اقدامات کیے وہ اقدامات آج بھی اپنے ثمرات دے رہے ہیں۔نواب صاحب نے ذراعت کی ترقی کے لیے آب پاشی کے نظام کو جدت دی جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر زرعی رقبہ کو سیراب کر کے زیرِکاشت لایا گیا۔زراعت سے وابستہ تجربہ کار کسانوں اور زمینداروں کو ریاست میں زرعی رقبے دیے تا کہ زراعت کا شعبہ ترقی کرے۔
نواب سر صادق پنجم نے ہر شعبہ زندگی میں اپنی ریاست کو جدیدیت سے ہم آہنگ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ۔نواب صاحب جانتے تھے کہ قوم کی خوش حالی کے لیےجہاں روزگار کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے وہیں جدید تعلیم سے قوم کو آراستہ کر کے تعمیرو ترقی کے نئے راستے بھی کھلتے ہیں۔قوم کی ترقی میں تعلیم کی اہمیت کی وجہ سے نواب صاحب نے ریاست بہاول پور میں کئی تعلیمی ادارے بنائے ۔لڑکوں کے تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کے تعلیمی ادارے بھی بنائے گئے تا کہ انھیں معاشرے میں فعال اور موئثر کردار نبھانے کے لیے تیار کیا جائے۔لہذاٰ طالبات کے لیے صادق سکول کی بنیاد رکھی ۔نواب صاحب کے ان تعلیمی اقدمات کے ثمرات سے آج بھی نہ صرف مقامی بلکہ ملک اور بیرونِ ملک کے طلباو طالبات مستفید ہو رہے ہیں۔
نواب سر صادق محمد عباسی پنجم نہ صرف ایک کامیاب و خوشحال ریاست کے حکمران تھے اور ان کی حکمرانیت زمینی حدود تک ہی نہ تھی بلکہ وہ رعایا کے دلوں پر بھی حکمرانی کر تےتھے ۔ عوامی رحجان اور اسلام سے محبت کی وجہ سے انھوں نے اپنی ریاست کو پاکستان میں ضم کر دیا۔آج مو جودہ پاکستان کی سر حدوں کے زمینی رابطے میں یہ خطہ ریڑھ کی ہڈی کی
حیثیت رکھتا ہے۔پاکستان کی تعمیر اور بقاء کے حوالے سے نواب صاحب کے پاکستان اور پاکستانی قو م پر بے مثال احسانات ہیں مگر بدلے میں پاکستان سے کچھ نہیں مانگا اور ایک پر وقار خاموشی قائم رکھی۔
نواب صاحب اپنے دور کے دور اندیش عالمی طاقتوں کے با وقار تعلقات قائم رکھنے والی تاریخی ہستی تھے اگر پاکستان کے حکمران احسان فراموش نہ ہوتے تو انھیں قائداعظم کے بعد پاکستان کا گورنر جنرل بناتے یا صدرِپاکستان بناتے مگر ان کی جگہ کم فہم،ذاتی مفاد پرست حکمران پاکستان کی مسندِاقتدار پر براجمان ہوتے رہے۔اگر ملک کی باگ دوڑ نواب سر صادق پنجم کو دے دی جاتی تو غا لباً نہیں بلکہ یقیناًآج پاکستان بھی ریاست بہاولپور کی طرح دنیا کا خوشحال ،تعلیم سے آراستہ ،ترقی یافتہ ملک ہوتا۔
*******
تعارف: مسز آسیہ کامل بہاول پور کی معروف سیاسی و سماجی شخصیت ہیں.بہاول پور کے مسائل اور مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے قلم کا سہارا لیتی ہیں.

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں