محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان

یہ 1952ء کی بات ہے جب بھوپال کے ایک اسکول سے میٹرک کی سند ملنے پر ایک 16 سالہ مسلمان نوجوان کی خوشی کی انتہا نہ رہی، اُسکا دیرینہ خواب پورا ہونے والاتھا، اب ہندوستان میں مزید ٹہرنے کی وجہ باقی نہ رہی تھی، پاکستان ہجرت کرنے کا وقت آچکا تھا جہاں 5 سال سے اسکے ماں باپ اس کی آمد کے منتظر تھے۔اس کم عُمر، تنہا، مگر بہادر نوجوان نے اپنے چند کپڑے، کتابیں اور جمع پُونجی ایک بیگ میں رکھی، پڑوسیوں کو خیرباد کہا، اپنے 5 ہم عمر ساتھیوں کو لیکر بذریعۂ ٹرین بھوپال سے لاہور کیلئے روانہ ہوا۔

آنے والے 15 دن ان نوجوانوں کیلئے دورِ ابتلاء ثابت ہوئے، یہ مختصر قافلہ دورانِ سفر لُوٹ مار اور قتال کا شکار ہوا، دو ساتھیوں کو سِکّھوں نے اغواء کرلیا اور تین ساتھی ہجرت کی پاداش میں ہندو دہشت گردوں کے ہاتھوں اپنی جان سے گئے۔ہمارے 16 سالہ نوجوان نے تنِ تنہا ہوکر بھی ہمّت نہ ہاری، عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹرین کا شہری سفر ترک کرکے راجھستان صحرا کا رُخ کیا، بالآخر تپتے گرم صحرا میں بھوکا پیاسا مِیلُوں کا سفر پیدل کر کے کامیابی سے بارڈرکراس کرلیا اور منزلِ مقصود، پاک سرزمین پر قدم بوس، سجدہ ریز ہوا۔

یہی نوجوان آگے چل کر عالمی شہرت یافتہ سائنسدان بنا، “محسنِ پاکستان” کہلایا، اور پاکستان کو ہی نہیں پوری اُمّتِ محمّدیہ کو “ایٹمی طاقت” سے روشناس کروانے کا سبب بنا۔جی ہاں!! ہمارے اس 16 سالہ ہیرُو کا نام ہے: “ڈاکٹر عبدالقدیر خان”۔

یکُم اپریل 2013 ء کو عزّتِ مآب ڈاکٹر صاحب کی 77 ویں سالگرہ تھی ، آئیے ہم سب ملکر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زندگی میں ان کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور انکی حیاتِ جاوداں کا مختصر جائزہ پیش کرکے نوجوانوں کے خُون کو گرماتے ہیں!

عبدالقدیرخان یکُم اپریل 1936ء کو بھوپال کے ایک متمول، مذہبی خاندان میں چشم افروز ہوئے، والدِماجد کا تعلق درس وتدریس سے تھا، ددھیال، ننھیال کے سارے بڑے بوڑھے آل انڈیا مسلم لیگ کے فعال کارکن کی حیثیت سے مشہور و معرُوف تھے۔

“بن کے رہے گا پاکستان”، “پاکستان کا مطلب کیا، لَااِلٰہ اِلّا اللہ” ان نعروں کی گُونج میں عبدالقدیر خان نے بچپن تا لڑکپن کا سفرطے کیا، ہونہار بروا کے موافق ہمیشہ تعلیم اور کھیل دونوں میں اوّل آیاکرتے تھے، والدہ فخر سے بتایا کرتی تھیں کہ ایک نُجومی نے ننّھے عبدالقدیرخان کو دیکھتے ہی پیشنگوئی کردی تھی کہ “یہ بچّہ جوان ہوکر بڑے بڑے ناممکن کام بخوبی انجام دے گا، ملّتِ اسلامیہ کا نام روشن کرے گا، اور عالمی عزّت و شہرت اس کے قدم چُومے گی۔”
نگاہ بلند،سُخن دلنواز، جاں پُرسوز،
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لئے،
آیئے یہ جانتے ہیں کہ کیسے مندرجہ بالا شعر ڈاکٹر عبدالقدیر خان پرسوفیصد لاگُو ہوتا ہے!

کارنامۂ ہجرت کے بعد 16 سالہ عبدالقدیرخان نے 1952ء کے اواخر میں کراچی کے مشہور زمانہ “D.J سائینس کالج” میں داخلہ لیکر ایک نئی تعلیمی زندگی شروع کی، نامی گرامی معلّم اور سائنسدان ڈاکٹر بشیر سیّدکے زیرِ سایہ علومِ طبعیات اور شماریات میں B.Scکی ڈگری حاصل کی، دل و دماغ مطمئن نہ ہوا، چنانچہ 1956ء میں جامعۂ کراچی کا رُخ کیا اور علُومِ دھات سازی (Metallurgy) میں دوسری B.Scکی ڈگری اعلی نمبروں سے حاصل کی۔

اُنکی خداداد قابلیت کو مانتے ہوئے عالمی انجینئرنگ ادارےSiemens نے انھیں جرمنی جاکراعلٰی تعلیم کیلئے اسکالرشپ عطا کی، چناچہ 25 سالہ نوجوان عبدالقدیرخان نے ٹیکنیکل یونیورسٹی برلن جاکر میٹالرجی انجینئرنگ میںM.Sc کی تعلیم شروع کی، یہاں اُنکی ملاقات ایک ہونہار، محقق، ڈچ خاتون “مس ہینی” سے ہوئی اور دونوں رشتۂ ازدواجی میں بندھ گئے، بیگم کے مشورے سے دونوں نے ہالینڈ آکر ممتاز تحقیقی ادارے ڈیلفٹ یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا، یہاں عبدالقدیر خان نے طبعیات، ریاضی اور میٹالرجی میں چار سال تحقیق کے بعد M.Sc کی ڈگری حاصل کی۔

“کوۂ نور ہیرے “کی پرکھ کرتے ہوئے بیلجئم کی یونیورسٹی آف لیوؤن نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا اور ڈاکٹریٹPh.D کیلئے تحقیقی اسکالرشپ اور اعلٰی درجے کی مراعات عطا کیں، اس ادارے نے عبدالقدیرخان کو ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی ڈگری دی۔یورپی زندگی کی سہُولیات، کامیاب ازدواجی زندگی، اعلٰی تحقیقی اداروں سے وابستگی، انگریز سائنسدانوں کی بالواسطہ تربیت،،،، اس بھٹّی میں ہمارا پیدائیشی سائنس داں “کُندن” بن گیا۔

1972ء میں قُدرت نے 36 سالہ لائق وفائق سائنسداں، قابلِ محقّق، 6 زبانوں کے ماہر ڈاکٹر عبدالقدیرخان کی زندگی میں وہ “اُجالا” کیا جس کی روشنی آگے جاکر دفاعِ امّتِ محمّدیہ کیلئے مشعلِ راہ ثابت ہوئی!!

ایٹمی طاقت بنانے کی مشینCentrifuges کی ڈیزائن میں مہارت رکھنے والی ہالینڈ کی انجیئرنگ کمپنی “FDO” نے 1972ء میں ڈاکٹرعبدالقدیرخان کی اعلیٰ تحقیق اور صلاحیتوں کے مدّنظر انہیں اعلٰی پوزیشن کی ملازمت دی، جلدہی “کُندھم جنس باہم جنس پرواز” کے مصداق ڈاکٹرعبدالقدیرخان دنیا بھر کے نیوکلیائی اداروں اور ایٹمی سائنسدانوں سے متعارف ہوتے گئے، 1972ء تا 1974ء چار سال کے مختصر عرصے میں ڈاکٹرعبدالقدیرخان نے یورینئم کی افزُودگی کے ذریعئے ایٹمی طاقت پیدا کرنے کی تکنیکی مہارت حاصل کرلی!!

یہ وہ نازک زمانہ تھا کہ سقُوطِ مشرقی پاکستان کے تناظر میں شکست سے صدمہ زدہ پاکستانی قوم ما یُوسی کے اندھیروں میں جکڑی تھی، دوسری جانب بنگلہ دیش کی تخلیق میں واضح کردار ادا کرکے دُشمنی کے زعَم میں ہندوستان عالمی سطح پر پاکستان کو نیچا دکھارہا تھا، اپنی طاقت کو بڑھاچڑھا کر دکھانے کے نشے میں 1974ء میں ہندوستان نے “ایٹمی دھماکہ” کرکے اقوامِ عالم کو اور پاکستان کو خصُوصی طور سے خوفزدہ کردیا۔

1972ء تا 1974ء ذوالفقارعلی بھٹّونے پاکستان بھر کے زیرک سائنسدانوں کو جمع کرکے کینیڈا کی معاونت سے “پاکستان ایٹمی توانائی کمیشنPAEC ” کراچی میں ایٹمی توانائی کی دسترس کیلئے پُرزور کوششیں شروع کردیں، جسمیں خاطر خواہ ترقی نہ ہوسکی۔

پاکستان میں نیوکلیائی طاقت حاصل کرنے کے ارتقاء کا ڈاکٹرعبدالقدیرخان بغور مطالعہ کررہے تھے، چنانچہ جولائی 1976ء میں بھٹّو صاحب سے بالواسطہ مُلاقات کرکے ڈاکٹر صاحب نے اپنی خدمات پاکستان کیلئے پیش کردیں اور اس طرح ایک نئی تاریخ رقم کی۔

حکومتِ پاکستان اور افواجِ پاکستان نے ڈاکٹرعبدالقدیرخان کو خوش آمدید کہتے ہوئے سارے دروازے کھول دئیے، شُمالی پاکستان میں پہاڑوں کے درمیان محفوظ شہر “کہوٹہ” میں “خان ریسرچ لیباریٹریزKRL ” کے جھنڈے تلے پاکستانی نیوکلیائی پروگرام نئے عزم سے شروع کیا گیا اور یورینیئم کی افزودگی پر درِ پردہ تحقیق کا انعقاد کیا گیا، “ہمّتِ مرداں، مددِخُدا” پر عمل کرتے ہوئے حبِّ الوطن پاکستانی سائنسدانوں کی تربیت شروع کی ، 250 سے زیادہ سائنس داں ڈاکٹرعبدالقدیرخان کی بے لوث قیادت میں حُصولِ مقصد میں جُت گئے۔

نیوکلیائی طاقت کے وسائل تک رسائی اتنی آسان نہ تھی!! مغرب زدہ میڈیا اور سُراغ رساں اداروں کی جانب سے پوری طاقت سے منفی پروپیگنڈا کیا گیا، اقوامِ عالم نے نت نئے طریقوں سے پاکستان کو مجبور کیا کہ وہ نیوکلیائی پرگرام سے دست بردار ہوجائے۔
تُندئ بادِ مخالِف سے نہ گھبرا اے عُقاب
یہ تو چلتی ہے تُجھے اونچا اڑانے کے لئے

یہاں یہ حقیقت بتانی ضروری ہے کہ ڈاکٹرعبدالقدیرخان پر ہالینڈ کی حکُومت نے اہم معلُومات چُرانے کے الزامات کے تحت مقدمہ بھی دائر کیا، برطانیہ، فرانس، بیلجئم ، جرمنی اور ہالینڈ کے نیوکلیائی پروفیسرز اور سائنسدانوں کی جماعت نے جب ان الزامات کا گہرا تکنیکی جائزہ لیا تو انہوں نے ڈاکٹر صاحب کو بَری کرنے کی سفارش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جن معلومات کو چُرانے کی بناء پر مقدمہ داخل کیا گیا ہے وہ سب معلومات عام کتابوں میں موجود ہیں جس کے بعد ہالینڈ کی عدالتِ عالیہ نے ڈاکٹرعبدالقدیرخان کو باعزّت بری کردیا۔

ڈاکٹرعبدالقدیرخان کی شب و روز محنت، لگن اور دو دہائیوں پر مشتمل کوشش کے بعد KRL نے ایٹمی طاقت بنانے کی تکنیک پر عُبور حاصل کرلیا، اس حقیقت کو صیغۂ راز میں رکھتے ہوئے ” ترقّی ۔در۔ ترقّی ” کے اصول کے تحت ایٹمی پروگرام کے دائرۂ عمل کو وسیع ترکیاگیا۔

مئی 1998ء میں ہندوستان نے اپنے سب سے طاقتور ایٹمی بم کا دھماکہ کرکے “اپنے مُنہ میاں مِٹھّو” کے مصداق دنیا بھر میں اپنی ایٹمی طاقت کا ڈھنڈورا پیٹا، اب وقت آگیا تھا کہ پاکستان اپنی صحیح دفاعی طاقت کا ببانگِ دہل اعلان کردے، چنانچہ مئی 1998ء ہی میں ڈاکٹرعبدالقدیرخان کی قیادت میں بلوچستان کے صحرائی علاقے “چاغی ” میں کامیاب ایٹمی دھماکہ کرکے پاکستان عالمی ایٹمی اقوام کی صف میں شامل ہوگیا!!
اسلامی جمہوریۂ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا سہرا ڈاکٹرعبدالقدیرخان کو جاتا ہے، آج اسلام دشمن اقوام پر پاکستان کا رعب اور دبدبہ قائم ہے!!
نُورِ حق شمع الٰہی کو بجھاسکتا ہے کون،
جس کا حامی ہو خُدا اسکو مٹا سکتا ہے کون،

ہم 77 سالہ “محسنِ پاکستان” ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے ممنُون اور دست بدست احسان مند ہیں، اور انکی صحت اور درازئ عُمر کی دعاء کرتے ہوئے اُن کو پُر زور “خراجِ عقیدت” پیش کرتے ہیں۔

: مضمون : روحیل خان

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں