محکمہ ٹیلی فون کی تباہی کی داستان

ٹیلی فون کا محکمہ وہ تھا جو تقریباً پورے ملک کے بجٹ کی رقوم کا نصف سے زائد پور ا کررہا تھااس طرح بجٹ خسارہ بھی کم ہوتا تھا۔ اس کو کسی کی نظر لگ گئی۔ کرپشن کنگز نے اور محکمہ ٹیلی فون کے بیوروکریٹوں نے پہلے تو اربوں روپے رشوت وصول کرکے موبائل فون کیلئے بیرونی کمپنیوں کو اپنی لائنیں کرائے پر دیں حالانکہ خود محکمہ والے یہ کام آسانی سے کرسکتے تھے کہ ان کی عمارات سب تحصیلوں کی سطح پر ہر جگہ موجود ہیں، ٹاور بھی لگے ہوئے تھے۔ اب جن بیرونی کمپنیوں نے اس محکمہ سے لائنیں کرائے پر حاصل کیں انہوں نے اپنی علیحدہ عمارات بنائیں ، ٹاور لگائے اور پھر فون سے بھی سستی سہولت کیسے دے ڈالی؟ کہ کروڑوں روپے ٹاورز پر خرچ کے بعد بھی وہ سستا فون کیسے سپلائی کرنے لگے؟ پہلے پہل تو فون کرنے والا اور سننے والا دونوں سے رقم چارج ہوتی رہی بعد میں جب جیز کے مقابلے میں دیگر کمپنیاں یوفون، وارد ، ٹیلی نار،زونگ وغیرہ آئیں تو مقابلہ میں سبھی نے انتہائی کم قیمت کردی۔ پھر بھی ان حالات میں اگر کمپنیاں کما نہیں رہیں تو یہ سراسر جھوٹ ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ سب کچھ آنکھوں میں دھول جھونکنے کی طرح کا دھوکا ہے ۔ ہمارے محکمہ فون کے بیوروکریٹ جن کے پاس ہزاروں ملازمین موجود تھے تو پھر انہوں نے بیرونی ممالک کی کمپنیوں کو یہاں کیوں پنپنے دیا کہ اب یہ ساری بیرونی ممالک کی کمپنیاں ہم غریب پاکستانیوں سے مال لوٹ کر باہر بھیج رہی ہیں ۔ ان کا بعینیہٖ برطانیہ کی سابقہ ایسٹ انڈیا کمپنی والا حال ہے کہ جو کماؤ باہر بھیجتے رہو۔ خیر یہ کہانی تو پرانی ہوچکی ۔ اب محکمہ فون کی وزارت اور کرپٹ بیوروکریسی نے چند سال قبل محکمہ فون ہی بیچ ڈالا۔ متحدہ عرب امارات کی ’’اتصالات‘‘ نامی کمپنی سے انتہائی سستے داموں سودا چکا لیا۔ اس کمپنی کا کمال اور طاقت کا یہ عالم ہے کہ غالباً پہلی قسط کے بعد انہوں نے دوبارہ پاکستان کو دوسری قسط تک بھی ادا نہیں کی۔ فون محکمہ کے کرپٹ بیوروکریٹوں نے اونے پونے داموں سودا کرلیا تھا۔ راوی بتاتا ہے کہ جس قیمت پر اس محکمہ کو بیچا گیا وہ محکمہ فون کی کل قیمت کا دسواں حصہ بھی نہیں بنتا۔ اس طرح باقی نوے حصے بھی جو فروخت ہوگئے ان میں کتنے کِک بیکس موجودہ حکمرانوں، ان کے یاروں، دوستوں نے کمائے ہونگے ۔ اس کا حساب کون دے گا؟اور کیونکر دے گا؟ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ حکمرانی شخصیات بھی اس کمپنی کے ساتھ حصہ دار ہیں۔ یعنی اپنے ملک کا محکمہ بیچا اور خود ہی مفت میں خرید لیا گیا۔ پھر بڑا ظلم یہ کیا گیا کہ عمارات تک بھی معاہدہ فروختگی میں شامل ہیں ۔ اورمحکمہ فون کے دفاتر کے ساتھ موجود تمام زمینیں اور عمارات حتیٰ کہ رہائشی مکانات بھی ساتھ ہی بک گئے۔ اب اتصالات والے سیانے ہیں وہ ان فالتو زمینوں کو بیچ کر کھربوں کما کر باہر ڈمپ کرتے جائیں گے۔ اور ہم ان کا کچھ بھی نہ بگاڑ پائیں گے ۔ معاہدہ جو تحریر کربیٹھے ہیں ۔ کوئی احمق ترین شخص یا کوئی پاگل بھی حکمران ہوتا تو اس محکمہ کو نہ بیچ ڈالتا جو ہمارے ملک کا بجٹ پورا کررہا تھااور ہمارے فون انتہائی حساس دفاترمیں بھی لگے ہوئے ہیں جہاں سے آسانی کے ساتھ گفتگو ٹیپ ہوکر غیر ملکی عناصرکے ذریعے ملک دشمن افراد کو پہنچ سکتی ہے۔حتیٰ کہ اب بیچنے والی بھاری رقوم میں سے جو ایک آدھ قسط ملی ہے وہ بھی کسی حکمران کے پانامہ لیکس یا دوسرے ملکوں کے فلیٹوں کی خریداری میں یقیناًکام آچکی ہونگی۔یہاں حساب کتاب کون رکھتا ہے ؟ اور کون پوچھ سکتا ہے؟ باقی جو کھربوں روپے سودا کرتے وقت بطور رشوت وصول کئے گئے ہونگے وہ کس کس صاحب بہادر کے بیرونی اکاؤنٹس میں جمع ہوگئے ہونگے واللہ علم بالصواب ۔ اب محکمہ فون کو نئے مالکان قسط تو کیا دینگے انہوں نے ملازمین تک کا ناطقہ بند کررکھا ہے۔ بڑے بڑے افسر ویسے ہی ہینڈ شیک کے ذریعے فارغ کئے جاچکے ہیں۔ جن دفاتر میں سینکڑوں ملازم کام کررہے تھے وہاں اب درجنوں کی تعداد موجود ہے۔ ہمارے ہی پاکستانی بھائیوں کو ملازمتوں سے نکال کروہ مال متال اینٹھ رہے ہیں ۔ ہر بجٹ پر حکومت ہمہ قسم ملازمین کو کچھ نہ کچھ تنخواہوں میں اضافہ کرکے ان کے آنسو پونچھنے کا انتظام کرتی ہے مگر جب سے بیرونی کمپنی نے اس محکمہ پر قبضہ کیا ہے ، کسی ملازم کی ایک روپیہ بھی تنخواہ یا ریٹائرڈ ہوجانے والوں کی پنشن نہیں بڑھائی گئی۔ وہ لاکھ چیخیں چلائیں ،بیرونی سود خور سرمایہ داروں کا کچھ نہیں بگڑتا۔ ٹیلی کمیونیکیشن ملازمین کی یونین کہتے ہیں کہ ہے مگر نہیں ہے والی کیفیت ہے۔ جو لیڈر ٹائپ مزدور تھے وہ کبھی کے گھروں کو روانہ کئے جاچکے ہیں۔ اب کوئی روکنے بولنے ٹوکنے والا نہ ہے۔ محکمہ فون کے غریب ملازمین کی حالت زار دیکھ کر روناتو آتا ہے مگر رونے دھونے سے کوئی فائدہ نہ ہوتوبندہ روبھی نہیں سکتا۔ سارے محکمہ کی پراپرٹی خریدار کمپنی اپنے نام ٹرانسفر کراچکی ہے اور دھڑادھڑ بیچ کر کسی وقت حکمرانوں اور محکمہ کے کرتادھرتا لوگوں کو ’’ٹھوٹھا‘‘ دکھا دے تو ہم کیا کرسکتے ہیں؟ اغلب امکان یہی ہے کہ قطری شہزادوں اور موذی مودی سے دوستی کی طرح عرب امارات کی کمپنی سے بھی کوئی ذاتی یاری پال رکھی ہوگی ۔ وگرنہ گھاٹے کا سودا تو کوئی حکمران بھی نہیں کرتا۔ خواہ وہ اندھا ،کانا ہی کیوں نہ ہو۔ دن دھاڑے فوڈ محکمہ کو بیرونی اشخاص کمپنی بناکر لوٹ رہے ہیں اور ہم احتجاج تک بھی نہیں کرسکتے ۔ جو ملازم بولے وہی محکمہ کی عمارت سے باہر اور اس کے گیٹ داخلہ پر پابندی لگ جاتی ہے ۔بے چارا سابقہ تنخواہ پر ہی نوکری کرنے پر مجبور ہے کہ اتنی عمر گزارکر کسی اور محکمہ میں وہ کیسے ایڈجسٹ ہوسکتاہے ۔بچے بھوکے مارنے کو کس کا دل چاہتاہے؟ اس لئے یہ محکمہ عرب امارات کی کمپنی کی کمائیوں اور بیرون ملک رقوم کودفنانے کے لئے کام کر رہا ہے کیا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس پر کوئی سوؤ موٹو لیناپسند کریں گے؟ کہ ملک کا خزانہ لٹ رہاہے ملک کی جائیدادیں لوٹی جارہی ہیں ۔ اور نہ کوئی آنکھ دیکھ رہی ہے نہ کوئی کان سن رہا ہے کہ” رشوتی سرمایہ نے ” سب کو اندھا گونگا کر رکھاہے ۔ جتنی موبائل کمپنیاں ملک میں کام کر رہی ہیں ان سبھی میں ٹیلیفون محکمہ کے بیو رکریٹو ں وزارت اور مقتدرافراد کا حصہ بقدر جسہ موجو دہے ۔ کوئی صرف ان کے منافع میں حصہ دار ہیں اس طرح کروڑوں اربوں کمائے اور دفنائے جارہے ہیں ۔ ملک کے اداروں کو بیچنے اور کم از کم منافع بخش اداروں کی نجکاری کاعمل روکا جانا چاہئے کہ یہ سراسر گھاٹے کے سودے ہیں ۔ چلتے اداروں کو بیچنا تو ملک سے غداری کے ذمرے میں ہی آتاہے نہ؟

تحریر:‌ڈاکٹر محمد احسان باری

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں