مسلک پرستی اور تعصب

ایک مشہور کہاوت ہے کہ جب کوئی آپ سے آپ کا مسلک پوچھتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ مسلک جان کر فیصلہ کرے گا کہ آپ سے محبت کرنی ہے یا نفرت؟

پاکستان میں جہاں علاقائی اور لسانی تعصبات عروج پہ ہیں وہیں پر مسلکی تعصب بھی پوری شدومد سے پھیل چکا ہے۔ اس بنیاد پر آئے روز مناظرے، مناقشے اور جھگڑے ہوتے رہتے ہیں جن میں جانی نقصان کا ہو جانا عام سی بات ہے۔ مذہبی انتہا پسندی اب مسلکی تشدد تک پہنچ چکی ہے۔ آپ چاہے تعلیمی ادارے میں ہوں یا کسی دفتر میں، ہسپتال میں ہوں یا کسی پبلک کی جگہ پہ، آپ کو کسی بھی وقت مسلک کے نام پر ناخوشگوار صورت حال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ آپ کا لباس، آپ کی داڑھی بھی اس سلسلے میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔

اس وبا نے سرکاری اداروں کے ماحول کو بالخصوص اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ایک دوست سے سنا ہے کہ ایک بیوروکریٹ کے متعلق مشہور تھا کہ وہ مخصوص ناموں والے آدمیوں کا کام نہیں کرتے تھے۔ اسی طرح دفتر میں کام کرنے والے ملازمین کو بھی بعض اوقات اپنے نام، داڑھی اور لباس کی وجہ سے ایسی نفرت انگیز صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگ کچھ افراد کا نام سنتے ہی منہ بنا لیتے ہیں یا محفل میں ان کا ذکر چھڑتے ہی وہاں سے اٹھ جاتے ہیں۔ میرے ایک دوست ہیں جو ایک وفاقی سرکاری ادارے میں ملازم ہیں۔ ان کا تعلق ایک اکثریتی فرقے سے ہے اور وہ مسلکی منافرت کے اسباب کو جاننے اور ان کا سدباب کرنے میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔اس بارے میں ان کا علم اتنا ضرور ہے کہ وہ کسی بھی مسلکی مریض کو لاجواب کر سکیں۔انہوں نے ایک بار اپنے دو قریبی دفتری دوستوں کے سامنے خود کو اقلیتی مسلک کا فرد ظاہر کیا۔ آگے کیا ہوا یہ ہم انہی کی زبانی جانتے ہیں۔

” ہم لوگ مختلف مسالک پر بحث کر رہے تھے کہ ایک دوست نے ایک اقلیتی فرقے کے بارے میں Sweeping Statement دیتے ہوئے اسے کافر قرار دیا۔ میں اس معاملے میں بہت حساس واقع ہوا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ کسی کے کفر اور ایمان کا فیصلہ اللہ کی ذات نے کرنا ہے۔ پس میں نے اُسی وقت کہہ دیا کہ میں خود اسی مسلک سے تعلق رکھتا ہوں۔ حالانکہ میں ان لوگوں کے درمیان دو سال سے موجود تھا۔ میں نمازیں ان کے ساتھ پڑھتا تھا اور دیگر عبادات بھی جیسے روزہ افطاری وغیرہ بھی مگر میرے اس بیان سے وہ اچانک خاموش ہو گئے اور موضوع بد ل دیا۔ میرا ارادہ تھا کہ میں ایک دو دن میں ان کو حقیقت بتا دوں گا مگر ان میں سے اک ساتھی کے رویے نے مجھے حیران کر دیا۔ وہ مجھ سے دور دور رہنے لگا اور بول چال کم کر دیا حالانکہ وہ اس سے قبل میرا گرم جوش دوست تھا۔ دوسرے ساتھی جو کہ مولوی صاحب تھے، ان کے رویے میں کچھ زیادہ فرق نہیں آیا مگر میرے لیے یہ حیران کن تھا کہ ظاہری حلیے سے مولوی اور انتہا پسند لگنے والے آدمی کا رویہ بہت مناسب تھا جبکہ ایک داڑھی منڈا آدمی شدید ردعمل کا اظہار کر رہا تھا۔ دفتر میں یہ بات شاید انہوں نے پھیلا دی تھی ا س لیے کچھ اور ساتھیوں نے بھی مجھے طنزاً کچھ باتیں کیں۔ ایک ساتھ کہنے لگا کہ آپ کا فرقہ کوئی اور ہے اور نماز ہم جیسے کیوں پڑھتے ہو؟ میں حیران رہ گیا۔ اب میں اس سے کیا بحث کرتا لیکن مجھے صورت حال کی سنگینی کا احساس ہو رہا تھا۔ اب میں مناسب موقع کی تلاش میں تھاکہ انہیں سچ بتا دوں مگر یہ صورتحال بہت پریشان کُن تھی۔ لوگ مسلک کی وجہ سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ اس میں قصور ہمارے نام نہاد علماء کا ہے جنہوں نے یہ زہر ہمارے اندر بھر دیا ہے۔ دفتری ماحول کی وجہ سے مجھے زیادہ تضحیک کا نشانہ نہیں بنایا گیا لیکن اگر یہ قصہ دفتر سے باہر کا ہوتا تو صورتحال شاید زیادہ سنگین ہوتی۔ اب مجھے جلد سے جلد ان کو اپنا مسلک بتا دینا چاہیے تاکہ وہ مجھ سے دوبارہ محبت کرنا شروع کر دیں۔ ہے نا افسوسناک ؟”

آپ نے اس تن بیتی کی روشنی میں یہ اندازہ لگا لیا ہوگا کہ یہاں مذہب و مسلک کے نام ہر تقسیم گہری ہوتی جا رہی ہے۔ لوگ بجائے انسانیت کے مسلک کو تعلقات کا پیمانہ بنانے لگے ہیں۔ یہ رجحان خطرناک ہے اور پاکستان جیسے معاشرے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے جہاں پہلے ہی درجنوں تعصبات سانپوں کی طرح پھن پھیلائے کھڑے ہیں۔ہمیں جلد از جلد اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں علماء کا کردار اہم ہے۔ محترم علمائے کرام کا معاشرے میں اتنا اثرو رسوخ ہے کہ وہ اس سماج کو مسلکی تعصبات سے پاک کر کے جنت نظیر بنا سکتے ہیں۔ سیاسی اور سماجی رہنماؤں کو بھی اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی اشد ضرورت ہے ورنہ آنے والے زمانے میں قوموں کی داستانوں میں ہماری داستاں بھی نہ ہو گی۔

تحریر: روفی سرکارؔ

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں