مصباح الحق کے ویسٹ انڈیز کے خلاف نناوے ناٹ آوٹ کا راز سامنے آگیا

ویسٹ‌انڈیز کے خلاف مصباح‌الحق کے نناوے ناٹ‌آوٹ نے جہاں‌شائقین کو مایوس کیا وہیں‌کرکٹ کے ماہرین نے بھی ان کی سست بیٹنگ پر تنقید کرتے ہوئے اسے سنچری نہ کرپانے کی وجہ قرار دیا.صاف معلوم ہورہا تھا کہ مصباح باآسانی سنچری کر سکتے تھے، لیکن وہ سنچری کرنا ہی نہیں چاہتے تھے۔مصباح الحق کے بارے میں‌کہا جاتا ہے کہ وہ اکثر ناقابل فہم پلان بناتے ہیں‌جو ان کی کامیابی کا راز ہیں.ویسٹ‌انڈیز کے خلاف ٹیسٹ میچ میں‌تیسرے روز کے اختتام تک یہ ڈرا کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دیا.پاکستان کی طرف سے محمد عامر پہلی اننگ میں‌فارم میں‌دکھائی دیے لیکن پاکستانی کپتان کو معلوم تھا کہ میچ کا پانچواں‌دن فیصلہ کن ثابت ہوگا جس کے لیے یاسر شاہ ترپ کا پتا ثابت ہوں‌گے.جس رفتار سے سیبائنا پارک کی وکٹ سست ہو رہی تھی، یہ واضح تھا کہ چوتھے دن کے آخری سیشن سے اس پہ سپنرز کا راج شروع ہو جائے گا اور اگر پاکستان کو آخری اننگز میں 150 رنز بھی درکار ہوئے تو یہ میچ بچانا مشکل ہو جائے گا۔
میچ بچانے کا ایک ہی راستہ تھا کہ پاکستان اپنی اننگز کو کھینچ تان کر چوتھے دن کی چائے تک لے جائے اور اس کے بعد معاملہ قسمت اور یاسر شاہ پہ چھوڑ دے۔لیکن یہ بہت مشکل کام تھا۔ اس بیٹنگ لائن میں سے اگر کوئی پارٹنرشپ ایسا کر سکتی تھی تو وہ مصباح اور یونس ہی ہو سکتے تھے مگر اس بار دونوں کو پارٹنرشپ بنانے کا موقع ہی نہ مل سکا اور جب مصباح کریز پہ آئے تو بابر بھی پویلین لوٹ گئے۔
اب دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے، مصباح کو آخری وکٹ تک کریز پہ رہنا تھا۔ سو مصباح نے ایک اینڈ کو سنبھالا اور دوسری جانب جو بھی آیا، اس کے ساتھ حسب توفیق پارٹنرشپ لگائی۔ یہاں تک کہ جب آخری بیٹسمین عباس بیٹنگ کے لیے آئے، تب تک مصباح کا انفرادی سکور68 ہو چکا تھا۔
پاکستان کی برتری 87 رنز کی ہو چکی تھی۔ مصباح کو چاہیے تھا کہ وہ جلد از جلد اپنا گیئر بدلتے اور نہ صرف پاکستان کی لیڈ بڑھاتے بلکہ ساتھ ہی اپنی سینچری بھی مکمل کر لیتے۔ لیکن مصباح سینچری کرنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ وہ صرف یہ میچ جیتنا چاہتے تھے۔ وہ اس وکٹ کو مزید سست ہونے کا موقع دینا چاہتے تھے اس لیے وہ مسلسل تین سیشنز اور 223 گیندیں کھیل کر بھی سینچری کیے بغیر ناٹ آؤٹ واپس آئے۔اس کے بعد یاسر شاہ کا جادو چل گیا اور پاکستان کو فتح حاصل ہوگئی.مصباح الحق اپنی سنچری مکمل نہ کرپائے لیکن پلان کے مطابق ٹیم کو فتح دلانے میں‌اہم کردار ادا کیا.

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں