مصر میں قبطی عیسائیوں سے بھری بس پر فائرنگ ، بچوں سمیت 28 افراد ہلاک ، 22 زخمی –

غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے جنوب میں ڈھائی سو کلومیٹر دور صوبہ المنیا میں قبطی عیسائی بس میں سوار ہوکر گرجا گھر جارہے تھے کہ گاڑیوں میں سوار مسلح افراد کے جتھے نے فائرنگ کردی، فائرنگ کے نتیجے میں 28 افراد ہلاک جب کہ 22 زخمی ہوگئے۔

عینی شاہدین کے مطابق 3 گاڑیوں میں سوار 10 مسلح افراد نے قِبطیوں کو لے جانے والی دو بسوں پر حملہ کر کے فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ پہلی بس میں سوار افراد المنیا میں واقع مذہبی مقام “دیر الانباء صاموئیل” جا رہے تھے جب کہ دوسری بس میں المنیا صوبے کے دو دیہات سے تعلق رکھنے والے 16 مزدور سوار تھے۔

المنیا کے صوبے کے سکیورٹی سربراہ اور دیگر اعلی اہل کاروں نے جائے واقعہ کا دورہ کیا۔ اس دوران ایمبولینس کی گاڑیاں زخمیوں کو منتقل کرنے کے لیے ہنگامی حرکت میں نظر آئیں۔ سکیورٹی فورسز نے مجرموں کی گرفتاری کے لیے علاقے کا گیھراؤ کر لیا۔ بعض زخمیوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ مسلح افراد موٹر سائیکل پر سوار تھے اور انہوں نے قبطیوں کی سواریوں پر اندھادھند فائرنگ کر ڈالی۔

دوسری جانب شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب نے جو اس وقت جرمنی میں ہیں.. اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ کوئی مسلمان اور مسیحی اس کارروائی سے راضی نہیں ہو سکتا جس کا مقصد مصر میں امن و امان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ احمد الطیب نے مصر کے عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بزدلانہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے واسطے مکمل طور پر متحد ہو جائیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں