معزز اساتذہ یا کولھو کا بیل (محمد اقبال عباسی)

تحریر ۔ محمد اقبال عباسی Iqbal Abbasi Pic
سیدنا حضرت علیؓ کا قول ہے کہ جس نے مجھے ایک لفظ بھی پڑھایا وہ میرا آقاہے۔ ارسطو نے کیا خوب کہا ہے کہ جو لوگ اچھی تعلیم دیتے ہیں ان کی عزت کرو کیونکہ ماں باپ تو تمھیں پیدا کرتے ہیں لیکن استاد تمھیں اچھی زندگی گزارنے کا فن سیکھاتے ہیں لیکن موجودہ پاکستانی معاشرے میں اساتذہ کا مقام اور تکریم دیکھ کر دل کڑھتا ہے وہ استاد جس کے جوتے اٹھانے میں بادشاہ وقت کے بیٹے فخر محسوس کرتے تھے آج وہ گرمیوں کی تپتی دوپہر میں ہر دروازے پر جا کر افراد خانہ کی تفصیل لینے پر مجبور ہے اور اس سے کوئی پانی بھی نہیں پوچھتاگزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی جس میں معلم دوران مردم شماری تھک ہار کر گھر کے دروازے میں فرش پر ہی بیٹھا ہوا ہے دکھ بھی ہوا اور غصہ بھی آیا اور میں سوچنے لگا کہ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ نام نہاد سوشل میڈٖیا کے فلسفی اور بغض معاویہ رکھنے والے فوراً سے بیشتر اس کا ذمہ دار موجودہ حکومت کو ٹہرا دیتے ہیں حالانکہ یہ درست نہیں ہے اس کے ذمہ دار ہم سب ہیں یا پھر ہماری سوچ ہے جس میں ہم روحانی باپ کو وہ حق اور درجہ دینے کو تیار نہیں جس کا وہ مستحق ہے.
گزشتہ دنوں دوستوں کی ایک محفل میں میں نے یہی بات چھیڑی کہ اساتذہ کو کیا ضرورت ہے الیکشن ڈیوٹی ، مردم شماری ، امتحان ڈیوٹی اور پیپر مارکنگ کرنے کی ؟ اساتذہ کیوں اپنا مقام نہیں پہچانتے تو مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ اساتذہ کی تنخواہ اتنی کم ہے کہ اس میں وہ اپنی ضروریات زندگی پورا ہی نہیں کر سکتے نہ وہ رشوت لیتا ہے نہ اس کو کوئی اوور ٹائم دیا جاتا ہے یہاں تک کہ گزشتہ دنوں اتوار کو ایک ضلع کی تمام ہیڈ ٹیچرز میٹنگ کے سلسلے میں اپنے دفاتر میں پابند تھیں ۔ آمد ورفت کے اخراجات اور کھانے پینے کے اخراجات نکالنے کے بعد اس کی محدود تنخواہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر محسوس ہوتی ہے کجا یہ کہ موجودہ حکومت ملک میں موجود تمام برائیوں اور خرابیوں کا ذمہ دار بھی اساتذہ کو ٹھہرانے کے درپے ہے ۔ کبھی ایک مثال پڑھی تھی کہ کسی استاد کا تبادلہ دور دراز کے ایک ایسے گاؤں میں ہو گیا جس کے راستے میں ایک دریا پڑتا تھا ۔ استاد صاحب نے اپنا بستر بوریا سمیٹا اور دریا کنارے پہنچ گیا لیکن بدقسمتی سے دریا کو پار کرنے کے لئے کوئی کشتی نہ تھی ایک بھلے مانس ملاح نے جب ایک سوٹڈ بوٹڈ شخص کو دیکھا تو اسے دریا پار کرانے کی ٹھانی اور کہنے لگا جناب اگر آپ کو برا نہ لگے تو میں تیرنا جانتا ہوں آپ کو دریا پار کروا دوں بیچ منجدھار میں اس نے معلم سے پوچھا کہ جناب لگتا ہے اس علاقے میں نئے تھانیدار لگ کر آئے ہیں لیکن استاد نے نفی میں جواب دیا وہ پھر مخاطب ہوا کہ آپ ہو نہ ہو پٹواری یا ضلعدار ہوں لیکن اس کا بھی جواب نفی میں آیا تو اس بھلے مانس نے پوچھا جناب آپ خود ہی بتا دیں کہ آپ کون ہیں تو استا د نے جواب دیا میں محکمہ تعلیم میں ملازم ہوں اور آپ کے گاؤں کے پرائمری سکول میں بچوں کو پڑھانے آیا ہوں یہ سننا تھا کہ وہ تیراک بولا جناب نیچے اترئیے محکمہ تعلیم کا میرے کندھوں پر کیا کام؟ اور یہی صورت حال اس وقت صوبہ پنجاب میں صادق آتی ہے جہاں پر تعلیمی اداروں کو ایک تجربہ گاہ اور معزز معلم کو اس تجربہ گاہ کی توڑ پھوڑ کو سمیٹنے والا خاکروب بنا دیا گیا ہے۔ جہاں پر سکولوں میں بچوں کو داخل نہ کرنے پر والدین کے لئے تو کوئی سزا نہیں ہے لیکن معزز استاد کو اپنے دفاتر کے باہر کھڑا کر کے ذلیل کرنا افسران کا شیوہ بن چکا ہے ۔خادم اعلیٰ پنجاب جہاں دونوں ہاتھوں سے تعلیم کا تمام فنڈ مختلف پروگرامز میں لگا کر سمیٹنے میں مصروف عمل نظر آتے ہیں وہاں ان کا کسی بھی معلم سے ذاتی اور براہ راست تعلق نہیں ہے اور آج تک کسی بھی معلم کے گھر نہ پرسا دینے گئے ہیں اور نہ ہی ان کو غریب اساتذہ کے بچے بھوک سے بلکتے نظر آتے ہیں۔ کسی بھی پروگرام کی شفافیت کا انحصار نچلے طبقے پر ہوتا ہے اور تعلیم میں ترقی کا مکمل انحصار معلم پر ہے لیکن معلم صرف سزا کا حق دار ٹھہرایا جاتا ہے اور جزا کے حق دار صرف افسران ہوتے ہیں حال ہی میں پنجاب کے مختلف اضلاع کی طرح بہاولپور میں بھی اساتذہ کو ان کی تعلیمی خدمات کے صلے میں وی آئی پی کارڈز کا اجرا ء کیا گیا لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ جن آؤٹ لیٹس سے اساتذہ کو کوئی رعایت ملنی تھی ان کمپنیوں نے سرے سے انکار کر دیا کہ محکمہ تعلیم نے ہمارے ساتھ اس طرح کا کوئی بھی معاہدہ نہیں کیا۔ اور یہی وی آئی پی کارڈز ردی کا ایک کاغذ بن گئے ۔ میرا آپ سب سے یہ سوال ہے کہ جہاں فرانس کی عدالت میں معلم کے علاوہ کسی کو کرسی پیش نہیں کی جاتی ، جاپان میں پولیس کو استاد کی گرفتاری کے لئے خصوصی اجازت نامہ لینا پڑتا ہے اور کوریا میں استاد اپنا کارڈ دکھا کر ان تمام سہولیات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جو ہمارے ملک میں وزراء، ایم پی اے اور ایم این اے کو حاصل ہیں وہاں ہمارے ملک میں Education کی نیم پلیٹ دیکھ کر ناکے پر موجود سپاہی بھی استاد کو کیوں روک لیتا ہے اور پوچھ گچھ شروع کر دیتا ہے؟۔ کبھی ہم سب میں سے کسی نے سوچا ہے کہ ایک استاد سرکاری ڈیوٹی کے پیچھے کیوں بھاگتا ہے؟ الیکشن ڈیوٹی کیوں لگواتا ہے؟ مردم شماری میں اپنی ڈیوٹی لگوانے کے لئے کیوں مارا مارا پھرتا ہے؟ اگر اس کے معاشی حالات اجازت دیں تو اس کو کیا ضرورت ہے یہ تمام سر درد پالنے کی لیکن وائے حسرت آج تک کسی نے بھی اس شخص کے بارے میں نہیں سوچا جو ہمارے بچوں کو ایک اچھا انسان ہی نہیں بناتا بلکہ ان کو ایک جج، ڈاکٹر، انجینئر، سیاستدان بنا کر آپ سب کے سامنے پیش کرتا ہے ۔
کتنے اچھے وقت تھے جب والدین سکول میں بچوں کو داخل کروانے آتے تھے اور کہتے تھے “ماسٹر جی! کھال آپ کی اور ہڈیاں ہماری اس کو جس طرح دل کرے تعلیم دیں آج سے یہ آپ کے حوالے ہے” اور استاد نے بھی جی جان سے اور دل لگا کر بچے کو تعلیم دینا ہوتی تھی اور آج بھی انہی کی تعلیم کے طفیل کچھ لوگوں میں وہ علم و فن منتقل ہوا ہے لیکن جن NGOs نے ہمارے تعلیمی نظام پر فنڈنگ کی ساتھ یہ شرط بھی رکھ دی کہ “مار نہیں پیار” دیہی علاقوں میں جہاں والدین خود دن رات بچے کو مارتے ہیں اور ماں خود کہتی ہے کہ آنے دو اپنے باپ کو تمھاری چمڑی اترواتی ہوں وہاں اساتذہ کتنے پیار سے تعلیم دے لیں بچے کی دلچسپی تعلیم میں نہیں ہوتی جب تک کہ اسے کسی قسم کا خوف نہ ہو ۔ میری نظر سے حال ہی میں ایک لطیفہ گزرا ہے کہ ایک کسٹم کلکٹر ، اور علاقے کا ایس پی کسی تقریب میں اکٹھے بیٹھے تھے اور ساتھ ایک استاد بھی موجود تھا کسٹم کلکٹر کہنے لگا کہ ہم تو علاقے کے مالک ہوتے ہیں جس سے جو چاہے کروا لیں ایس پی صاحب بولے ہم بھی کچھ کم نہیں! جسے چاہے گرفتار کرلیں۔ بہت رعب ہوتا ہے عوام میں ۔ استاد عاجزی سے بولا “ہمارا تو کوئی رعب نہیں سارا دن بچوں کو مرغا بنا کر کوٹتے ہیں آگے ان کی مرضی کلکٹر بنیں یا ایس پی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ استاد جو تمام اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران کو اس منصب پر فائز کرتا ہے اس کا کوئی پرسان حال ہی نہیں ہے ۔ لیکن تعلیمی کانفرنسوں، اجلاسوں اور جلسوں میں رٹے رٹائے بیانات صرف بیانات کی حد تک ہی محدود ہیں ۔ میرا یہ ذاتی مشاہدہ ہے کہ اگر بچے کا ایک دن کا تعلیمی گیپ ہو تو دوسرے دن اس کو سبق کو سمجھنے اور یاد کرنے میں مشکل بھی پیش آتی ہے اور دلچسپی سے سکول بھی نہیں آتا لیکن ہمارے سکولوں میں تو کبھی گھر گھر سروے ، کبھی ڈینگی مکاؤ مہم تو کبھی داخلہ مہم میں استاد کو مصروف عمل رکھا جاتا تو کبھی امتحان ڈیوٹی، پیپر مارکنگ اور الیکشن ڈیوٹی میں الجھا کر بچے سے دور رکھا جا رہا ہے۔داخلہ مہم کے نام پر استاد کی عزت نفس سے کھیلا جا رہا ہے اور افسران بالا اس کو مجبور کرتے ہیں چاہے تم کو والدین کی منت ہی کیوں نہ کرنی پڑے بچے کو سکول میں لے کر آؤ۔ میری تمام افسران بالا اور خادم اعلیٰ پنجاب سے گزارش ہے کہ اگر پیپر مارکنگ ، امتحان ڈیوٹی کے لئے بے روز گار نوجوانوں کو تربیت دی جائے اور ان کو یومیہ مشاہرہ پر ملازم رکھ لیا جائے تو نہ صرف بے روزگاری کی شرح میں کمی ہو گی بلکہ کالج اور یونیورسٹی
میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کی معاشی مشکلاات بھی حل ہو جائیں گی۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہو گا کہ ان اساتذہ کی مانیٹرنگ پر میٹرک پاس ریٹائرڈ آرمی ملازم بھرتی کر لئے گئے جن کا کام صرف اساتذہ کی 100فیصد حاضری کو یقینی بنا نا ہے اور اس عمل کے دوران بھی اکثر تاخیر سے آنے والے اساتذہ کی غیر حاضری رپورٹ لاہور بھیج دی جاتی اور بیچارہ استاد دور دراز کا سفر کر کے اپنے ایک دن کے شو کاز کا جواب دینے پہنچتا ہے مجھے صرف ایک بات کا جواب دیا جائے کہ کیاکالی بھیڑیں کسی اور محکمے میں نہیں ہیں ؟ کیاباقی سب محکمے درست کام کر رہے ہیں ؟ اگر آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے تو خدا را اساتذہ پر اعتماد کریں ان کو شاباشی دیں اور ان کی تنخواہوں میں مناسب اضافہ کیا جائے تا کہ ان کے معاشی مسائل حل ہو سکیں اور وہ محنت سے کام کرسکیں۔ اساتذہ کی نفسیاتی تربیت بھی کی جائے تا کہ ان کا مورال بلند ہو سکے دیکھا یہ گیا ہے کہ طریقہ تدریس کی تربیت کا تو بندوبست کر دیا جاتا ہے لیکن معلمین کی نفسیاتی تربیت نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے وہ بھی اسی نظام کا حصہ بن جاتے ہیں اور اپنی ذمہ داریاں دوسرں پر ڈال کر آرام سے بیٹھ جاتے ہیں ۔

E.mail: abbasi.avisina@gmail.com

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں