منشیات کا فروغ….لمحہ فکریہ

میں آج حکام بالا اور عوام کی توجہ ایک بھیانک مسئلہ کی طرف دلانا چاہتا ہوں‌جسے معمولی سمجھ کر نظر انداز کیا جارہا ہے… موجودہ دور میں‌منشیات نے ہماری نوجوان نسل کو بری طرح غرق کر دیااور اب اس کا رجحان ہمارے بچوں میں بھی تیزی سے بڑھنے لگا ہے .یہ بچے ہمارے مستقبل کا سرمایہ ہیں، تلخ‌سوال یہ ہے کہ کیاہمارا یہ سرمایہ ایسے ہی ڈوب جاۓ گا ؟
کچھ دن پہلے میں ملتان فیصل موورز کے ٹرمینل پر دوستوں کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک میری نظر کچھ بچوں پر پڑی جنہوں نے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہاتھوں میں شیشیاں اٹھا رکھی تھیں…میں نے انہیں‌مالشی سمجھ کر ترس بھری نگاہ ڈالی لیکن میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب تھوڑی دیر بعد وہی بچے فٹ پاتھ پر بیٹھ کر سگریٹ میں چرس ملا رہے تھے .بارہ سال کے بچوں کا سرعام یہ عمل کرتے دیکھ کر میں‌بہت دیر صدمے کی حالت میں‌رہا. پھر سوچا کہ منشیات پر تو پابندی ہے لیکن یہ معصوم بچے اس لت میں‌کیسے مبتلا ہوگئے؟ شاید انھیں کبھی کسی نے اچھائی اور برائی کے درمیان تمیز کرنا نہیں‌سکھایا….لیکن منشیات کے سدباب کے لیے قانون تو موجود ہے.پولیس ان منشیات بیچنے والوں کو سزا کیوں نہیں دیتی؟ ان بچوں کو نشہ کون مہیا کرتا ہے ؟انہیں نشہ اتنی آسانی سے کیسے مل جاتا ہے؟جو انہیں‌بیچتے ہیں کیا ان کے بچے نہیں ہونگے اور جو انہیں دیکھ کے بھی ان دیکھا کر دیتے ہیں کیا ان کے بچے نہیں ہونگے ؟کون لگاتا ہے انہیں بے راہ راوی میں.پولیس سمگل کرنے والوں کو گرفتار کیوں نہیں کرتی ،قانون سزا کیوں نہیں دیتا ایسے لوگوں کو؟ یا پھر سمگلرز کے ہاتھ قانون سے بھی لمبے ہیں؟ ایک سرائیکی کی مثال “کتی چوریں نال رل گئی اے” یا پھر یہ معاملہ ہے ؟غرض ہزاروں سوال جنم لیتے ہیں .ایسےحالات دیکھ کرتو لگتا ہے کہ قانون صرف غریبوں کے لئے ہی بنایا گیا ہے ،غنڈہ گرد عناصر،ڈرگز مافیا،قبضہ مافیا اور بڑے لوگوں سے تو کوئی وجہ واسطہ نہیں قانون کا.پاکستان میں 7 ملین نشے کے عادی افراد ہیں،اسلام میں تو نشہ حرام ہے پھر یہ کون لوگ ہیں ؟ 70 لاکھ منشیات کے عادی غیر مسلم تو ہو نہیں ہو سکتے .ہم مسلمان ہیں اور حرام چیز کو اس طرح استعمال کر رہے ہیں .نشے کی اس بیماری کے لئے ہسپتال بھی کھولے گۓ لیکن بے سود،بیماری کے خلاف لڑنا ہے تو اسے جڑ سے ہی ختم کرنا ہوگا کیوں کہ ہسپتالوں میں صرف علاج ہی ہو سکتا ہے ہمیں اس بیماری کو ہی ختم کرنا ہوگا .انسان کے لئے کوئی چیز نا ممکن نہیں تو یہ بھی ختم ہو سکتی ہے ،یونیورسٹی،کالج اور سکولوں میں مہم چلایں اور سیمینارز میں لیکچر ڈلیور کرا کے ان سماج دشمن درندوں کی نا کام کوشش کو ختم کرنے کی کوشش کی جاۓ.جسکی لاٹھی اس کی بھینس قانون کا تو اللّه ہی حافظ ہے.کسی دوسرے کے نی تو اپنے بچوں بھائیوں اور بہنوں کا سوچ لیں ،بدلیں گے سوچ تو بدلے گا پاکستان .پھرمل کے یہ نظام بدلیں.

تحریر: صہیب خان گرمانی

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں