میت یا دعوت؟؟

یوں تو ہمارا معاشرہ بے حس اور بے شمار المیوں سے بھرپور ہے لیکن آج جس المیہ پر الفاظ قلمبند کی جسارت کررہی ہوں وہ المیہ لوئر مڈل کلاس اور مڈل کلاس میں ازحد پریشانی کا باعث ہے اور اگر دیکھا جائے تو یہ المیہ سنگین صورتحال اختیار کر رہا ہے *اگر کہیں کسی خاندان میں موت واقع ہو تی ہے تو میت کی تدفین ہوتے ہی دیگوں کے ڈھکن کھل جاتے ہیں اور وہی احباب جو کچھ دیر پہلے تسلی دیتے ہوئے نظر آرہے تھے انہیں اپنے کھانے کی، بوٹیوں کی، گرم گرم بریانی کی، فکر ہو جاتی ہے* *اس کے بعد اہل خانہ جو غم سے نڈھال ہوتے ہیں اب وہ بے چارے مصروف میزبانی ہونے پر مجبور ہو جاتے ہیں*۔

لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ تعزیت کرنیوالے خود کیوں نہیں سوچتے کہ آیا وہ تعزیت کیلئے آئے ہیں یا پھر دعوت کھانے…؟؟؟؟

! اگر شریعت میں ہے کہ میت کے گھر والوں کو کھانا پہنچایا جائے تو یہ کھانا صرف اور صرف میت کے گھر والوں کے لیے ہوتا ہے یا پھر جو دور دراز کے علاقے سے تعزیت کیلئے آئے ہوئے ہوں ان کیلئے

۔ پوری کمیونٹی برادری کیلئے کھانا بنوانا ، کھانا کھلانا سب باتوں سے قطع نظر خود غور کریں کس پر بار، ہے؟ اور کس پر بوجھ؟

*میت کے گھر والے یا اگر بالفرض جس کے گھر میں انتقال ہوا ہوتا ہے جو اس گھر کا واحد کفیل تھا تو جو تھوڑی بہت بھی جمع پونجی موجود بھی ہوتی ہے وہ اس برادری کی دعوت ِ طعام وسفاکیت کی نظر ہو جا تی ،اور اگر موجود نہ ہو جمع پونجی تو وہ بے چارے اس غم میں اور برادری کی دعوتِ شیراز کرنے میں قرض دار بھی ہوجاتے ہیں

اور اسطرح میت کے اہل ہر طرح سے خالی ہاتھ ہو جاتے ہیں

جبکہ شرعی طور پر تعزیت کا حکم اس سے بالکل جداگانہ ہے۔

🔹میت کے گھر جائیں ،

🔹اہل خانہ کو تسلی و تشفی دیں ،

🔹 خاندان کےقریبی اقارب میں جو مالی طور پر مستحکم ہو میت کے گھر والوں کیلئے کھانے کا انتظام فرمائے۔

🔹دعائے مغفرت و ایصالِ ثواب کا اہتمام کرے.

اوراس کے بعد اپنے گھروں کی راہ لیں نہ کہ جنازہ اٹھنے کے بعد دیگوں کے کھلنے کا انتظار کریں ۔ پھر دسترخوان پر تشریف فرما ہو کر بھرے پیٹ سے دوبارہ ملنے کے اختتامی و رسماً جملے بولیں اور گھر کی طرف جائیں ۔
*یہ طریقہ نہ اخلاقی طور پو ٹھیک ہے نہ شرعی طور پر معتبر ہے بلکہ انسان کی انسانیت پر حرف اٹھانے والی با ت ہے۔*

*_غرض صرف یہ ہے کہ اگر معاشرے کے رسم و رواج کے مطابق دیگیں آہی گئیں اور اہلخانہ کا کھانا کھانے پر اصرار بھی ہے تو سب اپنے اپنے طور پر عہد کر لیں کہ وہ دو لقمے سے زیادہ نہ کھائیں گے انشاءاللہ رفتہ رفتہ کسی نہ کسی دن ان شاء اللہ یہ نظام فرسودہ اخلاقی گرواٹ کا باعث رسم ختم ہو ہی جائیگی۔_*

ہمیں اپنے آپ کوبدلنا ہے جبھی اس بگڑے ہوئے نظام میں تبدیلی آ سکے گی اور ایک مستحکم معاشرہ بھی جلد وجود میں آجائے گا۔

*اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے اصلاح کی توفیق عطا فرمائے اور غلط رسم و رواج سے نجات عطا فرمائے*۔

تحریر:‌درصدف ایمان

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں