میڈا عشق وی تُوں

ضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کا شہرہ آفاق عارفانہ کلام پیشِ خدمت ہے….
سرائیکی سے نابلد اربابِ ذوق کی تسکین کیلئے ساتھ میں اردو ترجمہ بھی کر دیا ہے….

میڈا عشق وی تُوں، میڈا یار وی تُوں
میڈا دین وی تُوں، ایمان وی تُوں

میرا عشق بھی تم ہو، میرے یار بھی تم ہو
میرا دین بھی تم ہو ، میرا ایمان بھی تم ہو

میڈا جسم وی تُوں، میڈا روح وی تُوں
میڈا قلب وی تُوں، جند جان وی تُوں

میرا جسم بھی تم ہو ، میری روح بھی تم ہو
میرا دل بھی تم ہو ، اور جان بھی تم ہو

میڈا کعبہ قبلہ مسجد منبر
مصحف تے قرآن وی تُوں

میرے لیےقبلہ، کعبہ ، مسجد ، منبر
آسمانی صحیفے اور قرآن مجید بھی تم ہو

میڈے فرض فریضے حج زکاتاں
صوم صلات اذان وی تُوں

میرے لیے فرائض اسلامی ، حج، زکوۃ
روزے، نمازیں اور اذان بھی تم ہو

میڈی زہد عبادت طاعت تقویٰ
علم وی تُوں، عرفان وی تُوں

میرا زُہد، عبادتیں ، اطاعتیں، اور تقویٰ
علم بھی تم ہو، اور میری معرفت ، پہچان بھی تم ہو

میڈا ذکر وی تُوں، میڈا فکر وی تُوں
میڈا ذوق وی تُوں وجدان وی تُوں

میرا ذکر بھی تم ہو ، میرا فکر بھی تم ہو
میرا ذوق بھی تم ہو، وجدان بھی تم ہو

میڈا سانول مٹھڑا شام سلوُنا
من موہن جانان وی تُوں

میرے میٹھے اور سلونے محبوب بھی تم ہو
(یہاں رادھا اور شام کے عشق کی مثال دی گئی ہے)
اور میرے من کو موہ لینے والے جانِ جاناں بھی تم ہو

میڈا مرشد ہادی پیر طریقت
شیخ حقایق دان وی تُوں

میرے مرشد، میرے پیرے پیرِ طریقت اور مجھے ہدایت دینے والے
حقیقتوں سے آشنا شیخ کریم بھی تم ہو

میڈا آس امید تے کھٹیا وٹّیا
تکیہ مان تران وی تُوں

میری آس ، امید ، اور دنیا میں کمایا گیا سب کچھ(دھن ، دولت، عزت، شہرت، نام)
میرا بھروسہ، میرا مان، اور میرے پشت پناہ بھی تم ہو

میڈا دھرم وی تُوں میڈا بھرم وی تُوں
میڈا شرم وی تُوں میڈا شان وی تُوں

میرا مذہب بھی تم ہو، میرا بھرم بھی تم ہو
میرا شرم بھی تم ہو، میری شان بھی تم ہو

میڈا دکھ سکھ روون کِھلن وی تُوں
میڈا درد وی تُوں درمان وی تُوں

میرا دکھ سکھ، رونا، ہنسنا بھی تم ہو
میرا درد بھی تم ہو اور ہر درد کی دوا بھی تم ہو

میڈا خوشیاں دا اسباب وی تُوں
میڈے سُولاں دا سامان وی تُوں

میرے خوش ہونے کا سبب بھی تم ہو
میری تکلیفوں کی وجہ بھی تم ہو

میڈا حسن تے بھاگ سہاگ وی تُوں
میڈا بخت تے نام نشان وی تُوں

میرا حسن ، میرا مقدر ، اور میرا سہاگ بھی تم ہو
(یہاں سہاگ کا مطلب زندگی کا مقصد لیا جا سکتا ہے)
میرا بخت اور میری شہرت اور میرا نام و نشان بھی تم ہو

میڈا دیکھن بھالن جاچن جُوچن
سمجھن جان سنجان وی تُوں

میرا دیکھنا ، بھالنا، اور جانچ ، تحقیق
سمجھنے اور پہچاننے کا علم بھی تم ہو

میڈے ٹھڈڑے ساہ تے مُونجھ مُنجھاری
ہنجواں دا طوفان وی تُوں

میری ٹھنڈی سانسیں (ہجر میں انسان ٹھنڈی آہیں ہی بھرتا ہے) اور میری اداسیاں
آنسوؤں کا طوفان بھی تم ہو

میڈے تلک تلولے سیندھاں مانگاں
ناز نہورے تان وی تُوں

میرے ماتھے کے تلک ، اور گالوں کے تِل ، اور مانگ
میرے ناز نخرے ، اور ادائیں بھی تم ہو

میڈی مہندی کجّل مُساگ وی تُوں
میڈی سرخی بیڑا پان وی تُوں

میری مہندی ، کاجل ، دنداسہ بھی تم ہو
میری سرخی (لپ سٹک)اور پان بھی تم ہو

میڈی وحشت جوش جنون وی تُوں
میڈا گریہ آہ فغان وی تُوں

میری وحشت، جوش، جنون بھی تم ہو
میرا رونا دھونا، اور آہ و فغاں بھی تم ہو

میڈا شعر عروض قوافی تُوں
میڈا بحر وی تُوں اوزان وی تُوں

میرے شعر ، علم عروض، اور سب قافیے بھی تم ہو
میری بحر بھی تم ہو، اور اوزان بھی تم ہو

میڈا اوّل آخر اندر باہر
ظاہر تے پنہان وی تُوں

میرا اول، آخر، اندر، باہر
ظاہر اور باطن بھی تم ہو

میڈا فردا تے دیروز وی تُوں
الیوم وی تُوں الآن وی تُوں

میرا مستقبل اور میرا ماضی بھی تم ہو
روز ِ ازل بھی تم ہو، اور قیامت کا دن بھی تم ہو

میڈا بادل برکھا کِھمناں گاجاں
بارش تے باران وی تُوں

میرا بادل، برسات، بجلی کی چمک ، اور بادل کی گرج
بارش اور باران بھی تم ہو

میڈا مُلک ملیر تے مارُو تھلڑا
روہی چولستان وی تُوں

میرا وطن ، ملیر ہویا تھل کا صحرا
روہی اور چولستان بھی تم ہو

جے یار فرید قبول کرے
سرکار وی تُوں، سلطان وی تُوں

اے فرید ! اگر محبوب (اللہ تعالیٰ) قبول کر لے
تو سرکار بھی تم ہو ، سلطان بھی تم ہو

نہ تاں کہتر کمتر احقر ادنیٰ
لاشئے لا امکان وی تُوں

نہیں تو سب سے کم تر، سب سے حقیر، اور ادنیٰ
بے کار شے اور بے ٹھکانہ بھی تم ہو

(آخری دو شعروں میں خواجہ صاحبؒ خود سے مخاطب ہیں)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں