میں مدرز ڈے کی قائل نہیں ھوں

نئے دور میں بہت سی چیزیں ایجادات تشکیل پائیں جن میں سے ایک نئی ایجاد یہ بھی ھے کہ مختلف دن منانے کا رواج قائم ھو گیا جیسے ویلنٹائن ڈے اور مغرب کی طرز پر چلتے چلتے مشرق کے رنگ نہ جانے کہاں کھو گئے. وہی مشرقیت جہاں ماں باپ کے مرنے کے بعد بھی ان کا ادب کیا جاتا تھا آج زندگی میں ان کی بات سننے کا وقت نہیں بلکہ ایک نئی چیز یہ مدر ڈے کے نام کی ہے .
اس دن ذرا سا مسکرا کر مل لئے, ایک آدھ گفٹ دے دیا , بیچاری ممتا کی محبت سے چور ماں اسی میں ہی خوشی سے پھولے نہیں سماتی , دعائیں دیتے نہیں تھکتی.
پر میں ہاں میں ____ مدر ڈے کی قائل نہیں ، اور میرا خیال ھے جس جس کا میرے نقطہ نظر سے اتفاق ھو گا وہ بھی مدر ڈے کا قائل نہیں ھو گا,
جب ہماری ماں نے ہمارے بچپن سے لے کر ہمارے شعور تک ہر ہر دن ہمارے لئے تکلیف اٹھائی,
قلم پکڑنے کی ابتداء سے لے کر لفظوں کا قرطاس پر اترنے تک مشقت اٹھائی ،
, قدم اٹھانے سے لے کر چال کی روانی تک بلائیں لیں,
پہلا لقمہ کا کھلا نے سے رزق کمانے تک سجدہ ریز رہی, چھوٹی سے چھوٹی, بڑی سے بڑی غلطی چھپانے کیلئے دنیا سے لڑتی رہی, اس عظیم ماں کیلئے, اس انمول جنت کیلئے صرف ایک دن _____ ؟؟؟؟؟؟ جس کی پوری زندگی ہماری پرورش, تعلیم و تربیت میں صرف ھوئی اس ماں کیلئے صرف ایک دن ____؟؟؟
کتنی عجیب بات ھے نہ __؟
ہمارا مسئلہ یہ ھے کہ ہم مغرب کی اندھی تقلید میں اپنی تعلیمات ہی بھول گئے ہیں, مغرب سے ضرورت سے زیادہ متاثر ہیں_
مسلمانوں__ مذہب اسلام نے جو مقام عورت کو دیا کسی مذہب نے نہ دیا خصوصاً ماں کے ادب و احترام و عقیدت و خدمت کے بارے میں جو تعلیم ہمارے مذہب کی ھے کسی مذہب کی نہیں ھے, اسی لئے میں کہتی ھوں کہ میں مدر ڈے کی قائل نہیں ھوں_

میری ماں, میری جنت, میری زندگی جب ہر دم میرے ساتھ ھے تو میرا بھی ہر ہر دن, ہر ہر رات, ہر ہر لمحہ میری ماں کیلئے ھے_ کیونکہ میری ماں میری جنت ھے اور میری جنت کا کوئی نعم البدل نہیں_
کہا جاتا ھے ماں جیسی ہستی دنیا میں ھے کہاں, جب ماں لفظ کا ذکر آتا ھے لوگ بڑے ادب و احترام سے ذکر کرتے ہیں, اپنے اپنے طور پر اپنی کارگزریاں فرمانبرداریاں سناتے ہیں, پر افسوس میرا مشاہدہ ان لوگوں کے بارے میں کچھ اور ہی ھوا ھے. جس ماں سے بولنا سیکھا, اسی ماں کو چلا کر جواب دیا گیا ھے, جس ماں نے دس بار کپڑے بدل کر صاف کئے آج اسی ماں کیلئے ایک دوپٹہ خریدنے کے پیسے نہیں _
میں یہ نہیں کہتی کہ میں بہت اچھی بیٹی ھوں ___ میں بہت فرمانبردار ھوں ___ لیکن ہاں مجھے اعتراف ھے ___ ماں جیسی ہستی دنیا میں کوئی نہیں ___ میری ماں, میری جنت کا نعم البدل دنیا میں کوئی بھی نہیں___
ہاں مجھے اعتراف ھے ___ پوری دنیا میری مخالف ھو جائے گی, مگر میری ماں نہیں_
اور آج اس قلم کے ذریعے ہی میں اپنے جیسی تمام بیٹیوں سمیت تمام بیٹیوں سے بھی یہ اعتراف کروانا چاہتی ھوں اور یہ وعدہ بھی کہ ____
ماں کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں گے جس طرح بھی ھو جیسے بھی ھو, اپنی زبان کی مہارت اپنی ماں پر نہیں آزمائیں گے کیونکہ ماں وہ عظیم رشتہ ھے جس کی وجہ سے ہی آپکو زندگی سے لے کر زندگی گزارنے تک کا ہر رشتہ ملا ھے, ماں ہی وہ عظیم رشتہ ھے جس کی عظمت احادیث میں متعدد بار بیان کی گئی, ماں باپ کے بارے میں قرآن میں ارشاد فرمایا گیا_ اور ماں باپ کو اف تک نہ کہو , اور اس کے علاوہ متعدد احادیث میں ماں باپ کی فضیلت بیان کی گئی ہیں_
احادیث میں ہی بیان کیا گیا کہ ماں کا رتبہ باپ کے حق سے بھی بلند ھے_ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا_ تین اشخاص جنت میں نہیں جائیں گے, ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا, دیوث اور عورتوں کی وضع اختیار کرنے والا (سنائی) ایک اور حدیث میں ارشاد ھے کہ سب گناھوں کی سزا اگر اللہ جاھے تو قیامت کیلئے اٹھا رکھتا ھے مگر ماں باپ کی نافرمانی کی اسکے جیتی جی پہنچاتا ھے_
اعلی حضرت امام اہل سنت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں_ اولاد پر باپ کا حق عظیم ھے اور ماں کا حق عظیم تر, قرآن پاک میں ارشاد ھے کہ, ترجمہ _ اور ہم نے تاکید کی آدمی کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کی_ اسے پیٹ میں رکھے رہی اسکی ماں تکلیف سے اور اسے جنا تکلیف سے اور اس کا پیٹ میں رہنا اور اس کا دودھ چھٹنا تیس ماہ میں ھے (پارہ 26 احقاف)
ایک اور حدیث مبارکہ میں ارشاد ھے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ھے کہ ایک شخص نے خدمت اقدس میں حاضر ھو کر عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ کون اس کا مستحق ھے کہ اس کے ساتھ نیک رفاقت کروں؟ فرمایا تیری ماں, پھر عرض کی تو فرمایا تیری ماں, پھر عرض کی تو یہی فرمایا تیری ماں عرض کی پھر تو فرمایا تیرا باپ (صحیح بخاری) یہاں اس حدیث مبارکہ سے معلوم ھوتا ھے کہ ماں کا حق عظیم تر ھے اگرچہ ماں باپ دونوں ہی قابل احترام و قابل ادب ہستیاں ہیں_ لیکن سب سے بڑی تلخ حقیقت یہ ھے کہ آج کی اولاد کو نہ ماں کے حقوق کی ہرواہ رہی نہ باپ کے حقوق کی فکر __
اور اس سے بھی بڑی اور کڑوی حقیقت ھے کہ آج کی اولاد کا دل ماں باپ پر بات کرنے, خیال رکھنے, وقت دینے سے لے کر خرچ کرنے تک ہر ہر چیز میں انتہائی تنگ ھو گیا ھے_ ہمارا معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ ھے جس میں حقوق العباد کا زیادہ خیال رکھنا چاہیئے, ہماری شریعت نے ہمیں حقوق العباد کا خاص خیال رکھنے کی تاکید کی ھے_ پھر یہ حقوق تو وہ حقوق ہیں جو ہمیں دنیا میں لائے تکلیف سہہ کر, تکلیفوں میں ہمیں ترقی بلند مقام عطا فرمایا, پر آج کی اولاد کی کم ظرفی ھے کہ بلندی ہر جاتے ہی ماں باپ پستی میں نظر آنے لگتے ہیں, ماں بیشک وہ ہستی ھے جو زبان کی تلخ پر جس کے دل میں ممتا کی محبت کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا ھے_ جو دنیا سے لڑ جاتی ھے اپنی اولاد کی غلطی پر بھی_ جو ذرا ذرا سی تکلیف پر تڑپتی اور پھر ڈانٹتی ھے, میری ماں, میری جنت ھے, میری پہلی محبت ھے, مجھے ہی نہیں ہر انسان کو محبت کا قرینہ ماں سے ہی ملا ھے, جینے کا سلیقہ ماں سے ہی ملا ھے, پر افسوس ھے تجھ پر اے انسان کہ تو ایک ماں کو ہی خوش نہ رکھ سکا_ ماں کے قدموں کے نیچے جنت ایسے تو نہیں فرما دیا گیا, مفہوم بھی تو جانیں کہ ماں کی خدمت کے بعد جنت ملتی ھے_
ماں کے قدموں کو پیشانی پر سجاؤ, دنیا کی پیشانی پر تم چاند بن کر نمایاں ھو گے_
ماں کے قدموں تلے جنت کو اپنی پیشانی پر سجا کر آخرت میں جنت پا پالیں گے , اور میں چاھوں گی کہ یہی عہد آج ہر اولاد کرے تاکہ مغرب کو معلوم ھو جائے کہ ہمیں کسی اولڈ ہومز کی ضرورت نہیں ھے اور ہم اپنے ماں باپ کا خیال خود رکھ سکتے ہیں_ ہمارے ماں باپ اولڈ نہیں بلکہ گولڈ ہیں اور گولڈ کو سینے سے لگایا جاتا ھے_
اللہ ہم سب کو ماں باپ جیسی نایاب دولت کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)

تحریر: در صدف ایمان

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں