نیلسن منڈیلا کی آپ بیتی

یہ بات اسی طرح سادہ اور اسی طرح ہی ناقابل فہم تھی جس طرح کوئی چھوٹا بچہ اپنے والد سے پوچھتا ہے: ’’آپ ہمارے ساتھ کیوں نہیں رہ سکتے؟‘‘ اور باپ یہ خوفناک الفاظ کہنے پر مجبور ہوتا ہے: ’’تم جیسے اور بچے بھی ہیں جو بہت سے ہیں…‘‘ اور پھر اس کی آواز بھرا جاتی ہے۔
آزادی کی تمنا میں آزاد ہونے کی بھوک لیے پیدا نہیں ہوا تھا۔ میں بس آزاد پیدا ہوا تھا‘ ہر لحاظ سے آزاد جسے میں جان سکتا تھا۔ میں اپنی ماں کے جھونپڑے کے پاس بھاگنے دوڑنے میں آزاد تھا‘ صاف شفاف ندی میں تیرنے کے لیے آزاد تھا جو میرے گائوں میں بہتی تھی‘ ستاروں کے نیچے مکئی بھوننے میں آزاد تھا اور سست رفتار بھینسوں کی پشت پر سواری کرنے میں آزاد تھا۔ جب تک میں اپنے باپ کا مطیع تھا اور اپنے قبیلے کے رواج کی پابندی کرتا تھا‘ انسان یا خدا کے قوانین نے مجھے کوئی تکلیف نہیں دی تھی۔
یہ صرف اس وقت ہوا جب میں جاننے لگا کہ میرے لڑکپن کی آزادی اب ایک سراب ہے‘ جب ایک نوجوان کی حیثیت سے مجھ پر انکشاف ہوا کہ میری آزادی پہلے ہی مجھ سے چھینی جا چکی ہے۔ تب میں اس کی بھوک محسوس کرنے لگا۔ پہلے پہل میں ایک طالب علم کی حیثیت سے آزادی صرف اپنے لیے چاہتا تھا۔ رات کو باہر رہنے‘ اپنی پسند کا مطالعہ کرنے اور اپنی پسند کی جگہ جانے کی عبوری آزادیاں میرا منشا تھیں۔
بعد میں جوہانسبرگ میں ایک نوجوان آدمی کی حیثیت سے میں اپنے توانا مقاصد حاصل کرنے‘ اپنی روزی کمانے‘ شادی کرنے اور خاندان رکھنے کی بنیادی اور باعزت آزادیوں کی خواہش کرنے لگا اور ایسی آزادی کی تمنا کرنے لگا جس میں قانون کی پابندی زندگی بسر کرنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔
یہی وہ وقت تھا پھر بتدریج میں نے دیکھا کہ نہ صرف میں آزاد نہیں تھا بلکہ میرے بھائی اور بہنیں بھی آزاد نہیں تھے۔ میں نے دیکھا کہ یہ صرف میری آزادی ہی نہیں تھی جس پر بندشیں عائد تھیں بلکہ ہر کسی کی آزادی پابندیوں میں جکڑی ہوئی تھی جو میرے جیسا نقطہ نظر رکھتا ہے۔
یہی وہ وقت تھا جب میں افریقن نیشنل کانگریس میں شامل ہوا اور یہی وہ وقت تھا جب اپنی آزادی کے لیے میری بھوک اپنی قوم کی آزادی کے لیے میری عظیم تر بھوک میں بدل گئی۔ یہ میری قوم کی آزادی کے لیے خواہش ہی تھی کہ وہ وقار اور عزت نفس کے ساتھ اپنی زندگی بسر کریں جس نے میری زندگی میں ایک نئی روح پھونک دی جس نے ایک خوفزدہ نوجوان آدمی کو دلیر بنا دیا‘ جس نے قانون کے پابند وکیل کو مجرم بنا دیا‘ جس نے خاندان سے محبت کرنے والے خاوند کو بے گھر بنا دیا اور جس نے زندگی سے پیار کرنے والے شخص کو ایک راہب کی سی زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیا۔
سب زنجیریں میرے لیے اب میں کوئی دوسروں سے زیادہ نیک پاک اور ذاتی ایثار کرنے والا تو ہوں نہیں لیکن میں نے جان لیا کہ میں ان محدود سی آزادیوں سے بھی لطف نہیں اٹھا سکتا جو مجھے اس وقت حاصل تھیں جب میں نے جانا تھا کہ میری قوم آزاد نہیں۔ آزادی ناقابل تقسیم ہے۔ میری قوم کے کسی ایک فرد کی زنجیریں ان سب کے لیے زنجیریں تھیں اور میری ساری قوم کی زنجیریں میرے لیے زنجیریں تھیں۔
ان طویل اور تنہا برسوں کے دوران ہی میری اپنی قوم کی آزادی کے لیے میری بھوک گورے یا کالے سب لوگوں کی آزادی کے لیے بھوک بن گئی۔ میں کسی بھی اور چیز کی طرح یہ جانتا تھا کہ ظالم کو بھی اسی طرح آزادی دلانی چاہیے جس طرح مظلوم کو یقینی طور پر آزادی ملنی چاہیے۔
ایک آدمی جو کسی اور کی آزادی چھینتا ہے‘ نفرت کا قیدی ہوتا ہے‘ وہ تعصب اور تنگ نظری کی سلاخوں کے پیچھے قفل بند ہوتا ہے۔ میں حقیقی طور پر آزاد نہیں اگر میں کسی اور کی آزادی چھیننے لگوں جیسا کہ میں اس وقت یقینا آزاد نہیں ہوتا جب میری آزادی مجھ سے چھینی جاتی ہے۔ ظالم اور مظلوم دونوں سے یکساں طور پر ان کی انسانیت چھین لی جاتی ہے۔
جب میں جیل سے باہر آیا تو ظالم اور مظلوم دونوں کو آزادی دلانا میرا مشن تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ مقصد حاصل ہو گیا ہے۔ لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ صورت حال یہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم ابھی آزاد نہیں‘ ہم نے صرف آزاد ہونے کی آزادی حاصل کی ہے‘ خود پر ظلم نہ ڈھائے جانے کا حق حاصل کیا ہے۔
ہم نے اپنے سفر کا آخری قدم نہیں بلکہ صرف ایک طویل تر اور مشکل تر شاہراہ پر پہلا قدم اُٹھایا ہے۔ کیونکہ آزاد ہونے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ اپنی زنجیروں کو اتار پھینکا جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح زندگی بسر کی جائے جو دوسروں کی آزای کا احترام کرے اور اس کو وسعت دے۔ آزادی سے ہماری وابستگی کا حقیقی امتحان بس شروع ہو رہا ہے۔
کئی اور پہاڑیاں میں نے آزادی کی اس طویل شاہراہ پر سفر کیا ہے ۔ میں نے کوشش کی ہے کہ لڑکھڑا نہ جائوں اگرچہ اس راہ پر غلط قدم بھی اٹھائے ہیں۔ لیکن میں نے یہ راز پا لیا ہے کہ ایک بڑی پہاڑی پر چڑھنے کے بعد ہی انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ ابھی کئی اور پہاڑیاں سر کرنے والی ہیں۔
میں یہاں آرام کرنے کے لیے ایک لمحے کو رکا ہوں تاکہ اس شاندار منظر کو ایک نظر دیکھ سکوں جو میرے اردگرد پھیلا ہوا ہے اور پیچھے مڑ کر اس فاصلے پر طائرانہ نظر ڈال سکوں جو میں نے طے کیا ہے۔ لیکن میں صرف ایک لمحے کے لیے ٹھہر سکتا ہوں کیونکہ آزادی کے ساتھ ذمے داریاں آتی ہیں اور میں گھسٹتے رہنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔

Comments

comments

نیلسن منڈیلا کی آپ بیتی” ایک تبصرہ

  1. بھاولپور شہر سے پہلی دفعہ ایک ایسی کاوش جس کی عرصہ دراز سے کمی محسوس کی جس رہی تھی آج پوری ہوئی ہے میں آپ کو اور آپ کی ٹیم کو مبارک باد دیتا ہوں سلامت رہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں