پاناماکیس میں حکومت کو بنائی گئی تحقیقاتی ٹیم کی ابتدائی رپورٹ پر تحفظات

آج سپریم کورٹ میں سماعت کے بعد مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کو جے آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ پر تحفظات سے آگاہ کر دیاہے – ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاناما کیس میں اپنے جن حقوق سے دستبردار ہوئے تھے، جے آئی ٹی کے سامنے وہ سارے حقوق استعمال کریں گے ، شریف خاندان نے پاناما کیس میں کئی قانونی حقوق چھوڑے مگر جے آئی ٹی میں قانونی حقوق لینے کا اختیار رکھتے ہیں اور امید ہے جے آئی ٹی وزیراعظم کو کسی اور قانون سے نہیں جانچے گی، یہ نہیں ہوسکتا کہ حسن اور حسین نواز کے لیے بیرون ملک مقیم دیگر پاکستانیوں سے مختلف قانون ہو ۔

اس سے پہلے آج جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاناما لیکس سے متعلق سماعت کی تو مشترکہ تحققیاتی ٹیم کے سربراہ ایف آئی اے کے ایڈشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کی طرف سے سربمہر رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی۔

مشترکہ تحققیاتی ٹیم کے سربراہ ایف آئی اے کے ایڈشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا –

اس رپورٹ کے بارے میں عدالت کی طرف سے کچھ نہیں کہا گیا تاہم عدالت نے تحققیاتی ٹیم کے سربراہ کو حکم دیا کہ وہ اس رپورٹ کو رجسٹرار کے دفتر میں جمع کروا دیں۔

سپریم کورٹ کے اس تین رکنی بینچ کے سربراہ نے جج جسٹس اعجاز افضل نے تحققیاتی ٹیم پر واضح کیا ہے کہ اگر اُنھیں محسوس ہو کہ اس تحقیقات میں کوئی سرکاری ادارہ اُن سے تعاون نہیں کرر ہا تو اس بارے میں عدالت عظمی کو آگاہ کیا جائے تاکہ سپریم کورٹ اس کے خلاف تادیبی کارروائی کرسکے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں