ہم پاکستان، الرحمن رورل ڈویلپنمٹ آرگنائزیشن، لوکل سپورٹ آرگنائزیشن جمرانی کہنہ اور پاکستان سوشل ایسوسی ایشن کے باہمی اشتراک سے مزدوروں کے عالمی دن کے حوالے سے تقریب کا انعقاد

بہاولپور (ویب ڈیسک)ملک میں 72 سے زائد لیبر قوانین موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے مزدور استحصال کا شکار ہیں، غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والوں پر لیبر قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا،انھیں سوشل سیکیورٹی و تنظیم سازی کا حق دینا چاہیے۔مزدور خواتین دہرے استحصال کا شکار ہیں، ان کی حالت بہتر کرنے کے لیے انھیں سرکاری اداروں و ٹریڈ یونینز کی فیصلہ سازی میں شامل کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار معروف سیاسی و سماجی رہنما فاروق احمد چوھدری نے ہم پاکستان، الرحمن رورل ڈویلپنمٹ آرگنائزیشن، لوکل سپورٹ آرگنائزیشن جمرانی کہنہ اور پاکستان سوشل ایسوسی ایشن کے باہمی اشتراک سے مزدوروں کے عالمی دن کے حوالے سے منعقد ہونے والے تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر محمد اسد الرحمن،چیئر مین میاں خالد اویسی، ڈاکٹر منظور حسین ملک نے کہاکہ تنظیم سازی سے مزدور اپنا تحفظ کرسکتے ہیں مگر بدقسمی سے پاکستان کے بے شمار سرکاری اداروں میں ٹریڈ یونینز پر پابندی ہے جبکہ نجی اداروں میں بھی اس کی اجازت نہیں،مزدور کی کم از کم تنخواہ ایک تولہ سونا کے برابر اور پنشن 25 ہزار روپے مقرر کی جائے۔نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں سب سے پہلے مزدوروں کے ان کے اس فنڈ سے گھر بنائے جائیں۔ماسٹر مراد ناصر، طلعت محمود اور ملک قاسم سولنگی نے کہا کہ مہنگائی کے باعث مزدور کی کمر ٹوٹ گئی ہے، سوشل سیکیورٹی کا نظام مضبوط کیا جائے۔ مزدوروں کے لیے اسمبلیوں میں کوٹہ مختص کیا جائے۔مسز آسیہ کامل اور نصرت رحمن نے کہا کہ مزدور خواتین اپنے حقوق سے محروم ہیں، انھیں مردوں کے برابر معاوضہ اور سہولیات دی جائیں، خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ بنایا جائے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں